Sunan Abu Dawood 2157

نکاح کا بیان

2157Sunan Abu Dawood

کیا جنگ میں پکڑی ہوئی کافر قیدی عورتوں سے جماع جائز ہے

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ، عَنْ قَيْسِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ أَبِي الْوَدَّاكِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، وَرَفَعَهُ، أَنَّهُ قَالَ فِي سَبَايَا أَوْطَاسَ: لَا تُوطَأُ حَامِلٌ حَتَّى تَضَعَ، وَلَا غَيْرُ ذَاتِ حَمْلٍ حَتَّى تَحِيضَ حَيْضَةً.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے جنگ اوطاس کی قیدی عورتوں کے متعلق فرمایا: کسی بھی حاملہ سے وضع حمل سے قبل جماع نہ کیا جائے اسی طرح کسی بھی غیر حاملہ سے جماع نہ کیا جائے، یہاں تک کہ اسے ایک حیض آجائے ۔

Abu Saeed Al Khudri traced to Prophet ﷺ the following statement regarding the captives taken at Atwas. There must be no intercourse with pregnant woman till she gives birth to her child or with the one who is not pregnant till she has had one menstrual period.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ٣٩٩٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٢٨، ٦٢، ٨٧) (صحیح )