ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تین چیزیں ایسی ہیں کہ انہیں چاہے سنجیدگی سے کیا جائے یا ہنسی مذاق میں ان کا اعتبار ہوگا، وہ یہ ہیں: نکاح، طلاق اور رجعت ۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: There are three things which, whether undertaken seriously or in jest, are treated as serious: Marriage, divorce and taking back a wife (after a divorce which is not final)
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الطلاق ٩(١١٨٤)، سنن ابن ماجہ/الطلاق ١٣(٢٠٣٩)، (تحفة الأشراف: ١٤٨٥٤) (حسن) (شواہد اور آثار صحابہ سے تقویت پاکر یہ حدیث حسن ہے، ورنہ عبدالرحمن بن حبیب کو نسائی نے منکرالحدیث کہا ہے اور حافظ ابن حجرنے لین الحدیث، ملاحظہ ہو: ارواء الغلیل ١٨٢٥ )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رکانہ اور اس کے بھائیوں کے والد عبد یزید نے رکانہ کی ماں کو طلاق دے دی، اور قبیلہ مزینہ کی ایک عورت سے نکاح کرلیا، وہ عورت رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اپنے سر سے ایک بال لے کر کہنے لگی کہ وہ میرے کام کا نہیں مگر اس بال برابر لہٰذا میرے اور اس کے درمیان جدائی کرا دیجئیے، یہ سن کر آپ ﷺ کو غصہ آگیا، آپ نے رکانہ اور اس کے بھائیوں کو بلوا لیا، پھر پاس بیٹھے ہوئے لوگوں سے پوچھا کہ: کیا فلاں کی شکل اس اس طرح اور فلاں کی اس اس طرح عبد یزید سے نہیں ملتی؟ ، لوگوں نے کہا: ہاں (ملتی ہے) ، نبی اکرم ﷺ نے عبد یزید سے فرمایا: اسے طلاق دے دو ، چناچہ انہوں نے طلاق دے دی، پھر فرمایا: اپنی بیوی یعنی رکانہ اور اس کے بھائیوں کی ماں سے رجوع کرلو ، عبد یزید نے کہا: اللہ کے رسول میں تو اسے تین طلاق دے چکا ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: مجھے معلوم ہے، تم اس سے رجوع کرلو ، اور آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی يا أيها النبي إذا طلقتم النساء فطلقوهن لعدتهن (سورۃ الطلاق: ١) اے نبی! جب تم عورتوں کو طلاق دو تو ان کی عدت میں طلاق دو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: نافع بن عجیر اور عبداللہ بن علی بن یزید بن رکانہ کی حدیث جسے انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے اپنے دادا سے روایت (حدیث نمبر: ٢٢٠٦) کیا ہے کہ رکانہ نے اپنی بیوی کو طلاق بتہ دے دی، پھر بھی نبی اکرم ﷺ نے اس سے رجوع کرا دیا، زیادہ صحیح ہے کیونکہ رکانہ کے لڑکے اور ان کے گھر والے اس بات کو اچھی طرح جانتے تھے کہ رکانہ نے اپنی بیوی کو طلاق بتہ دی تھی تو نبی اکرم ﷺ نے اسے ایک ہی شمار کیا ١ ؎۔
Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : Abd Yazid, the father of Rukanah and his brothers, divorced Umm Rukanah and married a woman of the tribe of Muzaynah. She went to the Prophet ﷺ and said: He is of no use to me except that he is as useful to me as a hair; and she took a hair from her head. So separate me from him. The Prophet ﷺ became furious. He called on Rukanah and his brothers. He then said to those who were sitting beside him. Do you see so-and-so who resembles Abdu Yazid in respect of so-and-so; and so-and-so who resembles him in respect of so-and-so? They replied: Yes. The Prophet ﷺ said to Abdu Yazid: Divorce her. Then he did so. He said: Take your wife, the mother of Rukanah and his brothers, back in marriage. He said: I have divorced her by three pronouncements, Messenger of Allah. He said: I know: take her back. He then recited the verse: O Prophet, when you divorce women, divorce them at their appointed periods. Abu Dawud said: The tradition narrated by Nafi bin Ujair and Abdullah bin Yazid bin Rukanah from his father on the authority of his grandfather reads: Rukanah divorced his wife absolutely (i. e. irrevocable divorce). The Prophet ﷺ restored her to him. This version is sounder (than other versions), for they (i. e. these narrators) are the children of his man, and the members of the family are more aware of his case. Rukanah divorced his wife absolutely (i. e. three divorces in one pronouncement) and the Prophet ﷺ made it a single divorce.
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ حدیث حسن ہے، اور مؤلف نے جس حدیث (نمبر: ٢٢٠٦) کی طرف اشارہ کیا ہے وہ ضعیف ہے، نیز اولاد رکانہ واقعہ کے بیان میں خود مضطرب ہیں، یاد رہے کہ عہد نبوی میں ” تین طلاق “ اور ” طلاقہ بتہ “ ہم معنی الفاظ تھے، عہد نبوی و عہد صحابہ کے بعد لوگوں نے ” طلاق بتہ “ کا یہ معنی بنادیا کہ جس میں ایک دو، تین طلاق دہندہ کی نیت کے مطابق طے کیا جائیگا (تفصیل کے لے دیکھئے تنویر الآفاق )
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٦٢٨١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٦٥) (عندہ ” داود بن حصین “ مکان ” بعض بنی أبی رافع “ (حسن )
مجاہد کہتے ہیں: میں ابن عباس ؓ کے پاس تھا کہ ایک آدمی آیا اور ان سے کہنے لگا کہ اس نے اپنی بیوی کو تین طلاق دے دی ہے، ابن عباس ؓ خاموش رہے، یہاں تک کہ میں نے سمجھا کہ وہ اسے اس کی طرف لوٹا دیں گے، پھر انہوں نے کہا: تم لوگ بیوقوفی تو خود کرتے ہو پھر آ کر کہتے ہو: اے ابن عباس! اے ابن عباس! حالانکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ومن يتق الله يجعل له مخرجا ١ ؎ اور تو اللہ سے نہیں ڈرا لہٰذا میں تیرے لیے کوئی راستہ بھی نہیں پاتا، تو نے اپنے پروردگار کی نافرمانی کی لہٰذا تیری بیوی تیرے لیے بائنہ ہوگئی، اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے يا أيها النبي إذا طلقتم النساء فطلقوهن ، في قبل عدتهن ٢ ؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کو حمید اعرج وغیرہ نے مجاہد سے، مجاہد نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے۔ اور اسے شعبہ نے عمرو بن مرہ سے عمرو نے سعید بن جبیر سے سعید نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے۔ اور ایوب و ابن جریج نے عکرمہ بن خالد سے عکرمہ نے سعید بن جبیر سے سعید نے ابن عباس ؓ سے، اور ابن جریج نے عبدالحمید بن رافع سے ابن رافع نے عطاء سے عطاء نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے۔ نیز اسے اعمش نے مالک بن حارث سے مالک نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے اور ابن جریج نے عمرو بن دینار سے عمرو نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے۔ ان سبھوں نے تین طلاق کے بارے میں کہا ہے کہ ابن عباس ؓ نے ان کو تین ہی مانا اور کہا کہ وہ تمہارے لیے بائنہ ہوگئی جیسے اسماعیل کی روایت میں ہے جسے انہوں نے ایوب سے ایوب نے عبداللہ بن کثیر سے روایت کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور حماد بن زید نے ایوب سے ایوب نے عکرمہ سے عکرمہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ جب ایک ہی منہ سے (یکبارگی یوں کہے کہ تجھے تین طلاق دی) تو وہ ایک شمار ہوگی۔ اور اسے اسماعیل بن ابراہیم نے ایوب سے ایوب نے عکرمہ سے روایت کیا ہے اور یہ ان کا اپنا قول ہے البتہ انہوں نے ابن عباس کا ذکر نہیں کیا بلکہ اسے عکرمہ کا قول بتایا ہے۔
Mujahid said “I was with Ibn Abbas”. A man came to him and said that he divorced his wife by three pronouncements. I kept silence and thought that he was going to restore het to him. He then said “A man goes and commits a foolish act and then says “O, Ibn Abbas! Alaah has said “And for those who fear Allaah, He (ever) prepares a way out. ” Since you did not keep duty to Allaah I do not find a way out for you. You disobeyed your Lord and your wife was separated from you. Allaah has said “O Prophet! When you divorce women divorce them in the beginning of their waiting period. ” Abu Dawud said “This tradition has been transmitted by Humaid Al A’raj and by others from Mujahid on the authority of Ibn Abbas. Shu’bjh narrated it from Amr bin Murrah from Saeed bin Jubair on the authority of Ibn Abbas. Ayyub and Ibn ‘Jubair both narrated it from “’Ikrimah bin Khalid from Saeed bin Jubair on the authority of Ibn Abbas. Ibn Juraij narrated it from Abd Al Hamid bin Rafi from Ata from Ibn Abbas. Al Amash narrated it from Malik bin Al Harith on the authority of Ibn Abbas. They all said about the divorce by three pronouncements. He allowed it and said” (Your wife) has been separated from you similar to the tradition narrated by Ismail from Ayub from Abd Allaah bin Kathir. ” Abu Dawud said “Hammad bin Zaid narrated it from Ayyub from Ikrimah on the authority of Ibn Abbas. This version adds If he said “You are divorced three times saying in one pronouncement, it constitutes a single (divorce). Ismail bin Ibrahim narrated it from Ayyub from Ikrimah. This is his (Ikrimah’s) statement. He did not mention the name of Ibn Abbas. He narrated it as a statement of Ikrimah. ”
Notes · وضاحت
١ ؎: جو شخص اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے، وہ اس کے لئے راستہ نکال دیتا ہے۔ ٢ ؎: اے نبی! جب تم عورتوں کو طلاق دو تو انہیں ان کی عدت کے شروع میں دو۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داودٔ (تحفة الأشراف: ٦٤٠١)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الکبری/ التفسیر (١١٦٠٢) (صحیح )
ابوداؤد کہتے ہیں: ابن عباس ؓ کا قول اگلی والی حدیث میں ہے جسے محمد بن ایاس نے روایت کیا ہے کہ ابن عباس، ابوہریرہ اور عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ سے باکرہ (کنواری) کے بارے میں جسے اس کے شوہر نے تین طلاق دے دی ہو، دریافت کیا گیا تو ان سب نے کہا کہ وہ اپنے اس شوہر کے لیے اس وقت تک حلال نہیں ہوسکتی، جب تک کہ وہ کسی اور سے نکاح نہ کرلے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور مالک نے یحییٰ بن سعید سے یحییٰ نے بکیر بن اشبح سے بکیر نے معاویہ بن ابی عیاش سے روایت کیا ہے کہ وہ اس واقعہ میں موجود تھے جس وقت محمد بن ایاس بن بکیر، ابن زبیر اور عاصم بن عمر کے پاس آئے، اور ان دونوں سے اس کے بارے میں دریافت کیا تو ان دونوں نے ہی کہا کہ تم ابن عباس اور ابوہریرہ ؓ کے پاس جاؤ میں انہیں ام المؤمنین عائشہ ؓ کے پاس چھوڑ کر آیا ہوں، پھر انہوں نے یہ پوری حدیث بیان کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور ابن عباس ؓ کا یہ قول کہ تین طلاق سے عورت اپنے شوہر کے لیے بائنہ ہوجائے گی، چاہے وہ اس کا دخول ہوچکا ہو، یا ابھی دخول نہ ہوا ہو، اور وہ اس کے لیے اس وقت تک حلال نہ ہوگی، جب تک کہ کسی اور سے نکاح نہ کرلے اس کی مثال صَرْف والی حدیث کی طرح ہے ١ ؎ اس میں ہے کہ پھر انہوں یعنی ابن عباس نے اس سے رجوع کرلیا۔
Abu Dawud said “The opinion of Ibn Abbas has been mentioned in the following tradition. “Ahmad bin Salih and Muhammad bin Yahya narrated this is the version of Ahmad (bin Salih)” from Abd Ar Razzaq from Mamar from Al Zuhri from Abu Salamah din Abd Al Rahman bin Awf and Muhammad bin Abd Al Rahman bin Thawban from Muhammad bin Iyas that Ibn Abbas, Abu Hurairah and Abd Alah bin Amr bin Al ‘As were asked about a virgin who is divorced three times by her husband. They all said “She is not lawful for him until she marries a man other than her former husband. ”Abu Dawud said “Malik narrated from Yahya bin Saeed from Bukair bin Al Ashajj from Muawiyah bin Abi Ayyash who was present on this occasion when Muhammad bin Iyas bin Al Bukair came to Ibn Al Zubair and Asim in Umar. He asked them about this matter. They replied “Go to Ibn Abbas and Abu Hurairah, I have left them with Aisha (RA) (may Allaah be pleased with her). He then narrated the rest of the tradition. ” Abu Dawud said “The statement of Ibn Abbas goes “The divorce by three pronouncements separates the wife from husband whether the marriage has been consummated or not, the previous husband is not lawful for her until she marries a man other than her husband”. This statement is like the tradition which deals with the exchange of money. In this tradition the narrator said “Ibn Abbas withdrew his opinion. ”
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی جس طرح وہ نقدی کو نقدی سے بیچنے کے متعلق کہتے تھے کہ اس میں ربا صرف ادھار کی صورت میں ہے نقد کی صورت میں نہیں پھر انہوں نے اس سے رجوع کرلیا تھا اسی طرح یہ معاملہ بھی ہے اس سے بھی انہوں نے بعد میں رجوع کرلیا تھا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٦٤٣٤)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/المغازی ١٠ (٣٩٩١ تعلیقًا) (صحیح )
طاؤس سے روایت ہے کہ ایک صاحب جنہیں ابوصہبا کہا جاتا تھا ابن عباس ؓ سے کثرت سے سوال کرتے تھے انہوں نے پوچھا: کیا آپ کو معلوم ہے کہ جب آدمی اپنی بیوی کو دخول سے پہلے ہی تین طلاق دے دیتا، تو رسول اللہ ﷺ اور ابوبکر ؓ کے زمانے نیز عمر ؓ کے ابتدائی دور خلافت میں اسے ایک طلاق مانا جاتا تھا؟ ابن عباس ؓ نے جواب دیا: ہاں کیوں نہیں؟ جب آدمی اپنی بیوی کو دخول سے پہلے ہی تین طلاق دے دیتا تھا، تو اسے رسول اللہ ﷺ اور ابوبکر ؓ کے زمانے میں نیز عمر ؓ کے ابتدائی دور خلافت میں ایک ہی طلاق مانا جاتا تھا، لیکن جب عمر ؓ نے دیکھا کہ لوگ بہت زیادہ ایسا کرنے لگے ہیں تو کہا کہ میں انہیں تین ہی نافذ کروں گا ١ ؎۔
Tawus said A man called Abu Al Sahba used to ask Ibn Abbas questions frequently. He asked “Do you know that when a man divorced his wife by three pronouncement before sexual intercourse with her, they (the people) made it a single divorce during the time of the Messenger of Allah ﷺ , of Abu Bakr and in the early phase of the caliphate of Umar?” Ibn “Abbas said “Yes, when a man divorced his wife by three pronouncement before sexual intercourse they made it a single divorce during the time of the Messenger of Allah ﷺ , of Abu Bakr and in the early phase of the caliphate of Umar. When he saw that the people frequently divorced (by three pronouncements) he said “Make them operative on them (i. e., on women)”.
Notes · وضاحت
١ ؎: مگر عمر ؓ کا یہ حکم واجب العمل نہیں ہوسکتا، کیونکہ حدیث صحیح سے رسول اکرم ﷺ کے عہد مبارک میں تین طلاق کا ایک طلاق ہونا ثابت ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٥٧٦٣) (ضعیف) (اس سند میں غیر واحد مبہم رواة ہیں، مگر اس میں غیرمدخول بہا کا لفظ ہی منکر ہے باقی باتیں اگلی روایت سے ثابت ہیں )
طاؤس سے روایت ہے کہ ابوصہباء نے ابن عباس ؓ سے پوچھا: کیا آپ کو معلوم ہے کہ رسول اللہ ﷺ اور ابوبکر ؓ کے زمانے میں نیز عمر ؓ کے دور خلافت کے ابتدائی تین سالوں میں تین طلاقوں کو ایک ہی مانا جاتا تھا؟ ابن عباس ؓ نے جواب دیا: ہاں ١ ؎۔
Tawus said: Abu al-Sahba said to Ibn Abbas (RA) : Do you know that a divorce by three pronouncements was made a single one during the time of the Prophet ﷺ , and of Abu Bakr and in the early days of the caliphate of Umar? He replied: Yes.
Notes · وضاحت
١ ؎: ائمہ حدیث اور علما ظاہر کا اسی پر عمل ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الطلاق ٢ (١٤٧٢)، سنن النسائی/الطلاق ٨ (٣٤٣٥)، (تحفة الأشراف: ٥٧١٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٣١٤) (صحیح )
علقمہ بن وقاص لیثی کہتے ہیں کہ میں نے عمر بن خطاب ؓ کو کہتے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے، ہر آدمی کو وہی ملے گا جس کی اس نے نیت کی چناچہ جس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہوگی تو اسی کی ہجرت اللہ اور رسول کے لیے مانی جائے گی، اور جس نے دنیا حاصل کرنے یا کسی عورت سے نکاح کرنے کی غرض سے ہجرت کی ہوگی تو اس کی ہجرت اسی چیز کے لیے مانی جائے گی جس کے لیے اس نے ہجرت کی ۔
Umar bin Al Khattab reported the Messenger of Allah ﷺ as saying “Actions are to be judged only by intentions and a man will have only what he intended. When one’s emigration is to Allaah and His Messenger, his emigration is to Allaah and His Messenger but his emigration is to a worldly end at which he aims or to a woman whom he marries, his emigration is to that for which he emigrated.
عبداللہ بن کعب بن مالک (جو کہ اپنے والد کعب ؓ کے نابینا ہوجانے کے بعد ان کے قائد تھے) کہتے ہیں کہ میں نے (اپنے والد) کعب بن مالک سے سنا، پھر انہوں نے جنگ تبوک والا اپنا قصہ سنایا اس میں انہوں نے بیان کیا کہ جب پچاس دنوں میں سے چالیس دن گزر گئے تو رسول اللہ ﷺ کا قاصد آیا اور کہنے لگا کہ رسول اللہ ﷺ تمہیں حکم دیتے ہیں کہ تم اپنی بیوی سے علیحدہ رہو، میں نے پوچھا: کیا میں اسے طلاق دے دوں یا کیا کروں؟ اس نے کہا: نہیں بلکہ اس سے علیحدہ رہو اس کے قریب نہ جاؤ، چناچہ میں نے اپنی بیوی سے کہہ دیا: تم اپنے میکے چلی جاؤ ١ ؎ اور جب تک اللہ تعالیٰ اس معاملہ کا فیصلہ نہ فرما دے وہیں رہنا۔
Abdullah bin Kaab reported “I heard Kaab bin Malik. He then narrated his story about the battle of Tabuk. (Narrating the story) he added “When forty out of fifty days passed”, the messenger of the Messenger of Allah ﷺ came and said “The Messenger of Allah ﷺ has commanded you to keep away from your wife. He said “So, I (Kaab bin Malik)” said “Should I divorce her or what should I do? He said “No, but only keep away from her and do not go near her”. So, I said to my wife “Go to your people and live with them until Allaah, the exalted makes a decision in this matter. ”
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی انہوں نے اپنے اس قول سے طلاق کی نیت نہیں کی تو اس سے طلاق نہیں مراد لی گئی، اگر وہ طلاق کی نیت کرتے تو طلاق واقع ہوجاتی، کنائی الفاظ سے اسی وقت طلاق واقع ہوتی ہے جب اس کی نیت کی ہو۔
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں (اپنے عقد میں رہنے یا نہ رہنے کا) اختیار دیا تو ہم نے آپ ﷺ ہی کو اختیار کیا، پھر آپ نے اسے کچھ بھی شمار نہیں کیا ١ ؎۔
Aishah said The Messenger of Allah ﷺ gave us our choice and we chose him so that was not reckoned anything (i. e., divorce)
Notes · وضاحت
١ ؎ : یعنی اسے طلاق قرار نہیں دیا، اکثر علماء کی یہی رائے ہے کہ جب شوہر بیوی کو اختیار دے اور وہ شوہر ہی کو اختیار کرلے تو کوئی طلاق واقع نہ ہوگی اور زید بن ثابت اور امام ابوحنیفہ کے نزدیک ایک طلاق پڑجائے گی، مگر پہلی بات ہی ثابت ہے۔
حماد بن زید کہتے ہیں کہ میں نے ایوب سے پوچھا: کیا آپ کو معلوم ہے کہ کسی اور نے بھی أمرک بيدك کے سلسلہ میں وہی بات کہی ہے جو حسن نے کہی تو انہوں نے کہا: نہیں، مگر وہی روایت ہے جسے ہم سے قتادہ نے بیان کیا، قتادہ نے کثیر مولی ابن سبرہ سے کثیر نے ابوسلمہ سے ابوسلمہ نے ابوہریرہ ؓ سے ابوہریرہ ؓ نے نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ ایوب کہتے ہیں: تو کثیر ہمارے پاس آئے تو میں نے ان سے دریافت کیا، وہ بولے: میں نے تو کبھی یہ حدیث بیان نہیں کی، پھر میں نے قتادہ سے اس کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا: ہاں کیوں نہیں انہوں نے اسے بیان کیا تھا لیکن وہ بھول گئے۔
Hammad ibn Zayd said: I asked Ayyub (RA) : Do you know anyone who narrates the tradition narrated by Al-Hasan about uttering the words (addressing wife). Your matter is in your hand? He replied: No, except something similar transmitted by Qatadah from Kathir, the client of Samurah, from Abu Salamah on the authority of Abu Hurairah from the Prophet ﷺ . Ayyub said: Kathir then came to us; so I asked him (about this matter). He replied: I never narrated it. I mentioned it to Qatadah who said: Yes (he narrated it) but he forgot.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الطلاق ٣ (١١٧٨)، سنن النسائی/الطلاق ١١(٣٤٣٩)، (تحفة الأشراف: ١٤٩٩٢) (ضعیف) (اس کے راوی کثیر لین الحدیث ہیں )
حسن سے أمرک بيدك کے سلسلہ میں مروی ہے کہ اس سے تین طلاق واقع ہوگی ١ ؎۔
Qatadah reported on the authority of Al Hasan the uttering of the words “Your matter is in your hand” amounts to three pronouncements of divorce.
Notes · وضاحت
١ ؎: أمرک بيدك کے معنی ہیں: تمہارا معاملہ تمہارے ہاتھ میں ہے، یعنی تمہیں اختیار ہے، بعض کے نزدیک اس سے ایک طلاق واقع ہوتی ہے، اور حسن بصری سے مروی ہے کہ اس سے تین طلاق واقع ہوگی، لیکن ام المومنین عائشہ ؓ کی مذکورہ حدیث نمبر (٢٢٠٣) سے معلوم ہوا کہ کچھ واقع نہیں ہوگا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود وانظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ١٤٩٩٢، ١٨٥٣٧) (صحیح )
نافع بن عجیر بن عبد یزید بن رکانہ سے روایت ہے کہ رکانہ بن عبد یزید نے اپنی بیوی سہیمہ کو طلاق بتہ ١ ؎ (قطعی طلاق) دے دی، پھر نبی اکرم ﷺ کو اس کی خبر دی اور کہا: اللہ کی قسم! میں نے تو ایک ہی طلاق کی نیت کی تھی، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قسم اللہ کی تم نے صرف ایک کی نیت کی تھی؟ رکانہ نے کہا: قسم اللہ کی میں نے صرف ایک کی نیت کی تھی، چناچہ رسول اللہ ﷺ نے ان کی بیوی انہیں واپس لوٹا دی، پھر انہوں نے اسے دوسری طلاق عمر ؓ کے دور خلافت میں دی اور تیسری عثمان ؓ کے دور خلافت میں۔
Nafi bun Ujair bin Abd Yazid bin Ruknah reported Ruknah bin Abd Yazid divorced his wife Suhaimah absolutely. The Prophet ﷺ was informed about this matter. He said to him (the Prophet) I swear by Allaah that I meant it to be only a single utterance of divorce. The Messenger of Allah ﷺ said “I swear by Allaah that I meant it to be only a single divorce. The Messenger of Allah ﷺ restored her to him, Then he divorced her the second time in the time of Umar and the third time of Uthman. Abu Dawud said “This tradition contains the words of Ibrahim in its beginning and the words of Ibn Al Sarh in the end
Notes · وضاحت
١ ؎: البتہ: بتّ کا اسم مرہ ہے، البتہ اور بتات کے معنی یقیناً اور قطعاً کے ہیں، طلاق بتہ یا البتہ ایسی طلاق جو یقینی اور قطعی طور پر پڑچکی ہے، اور صحیح احادیث کی روشنی میں تین طلاق سنت کے مطابق تین طہر میں دی جائے، تو اس کے بعد یہ طلاق قطعی اور بتہ ہوگی، واضح رہے کہ یزید بن رکانہ کی یہ حدیث ضعیف ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الطلاق ٢ (١١٧٧)، ق / الطلاق ١٩ (٢٠٥١)، (تحفة الأشراف: ٣٦١٣)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/ الطلاق ٨ (٢٣١٨) (ضعیف) (اس کے راوی نافع مجہول ہیں، نیز اس حدیث میں بہت ہی اضطراب ہے اس لئے بروایت امام ترمذی امام بخاری نے بھی اس کو ضعیف قرارد یا ہے )
رکانہ بن عبد یزید ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنی بیوی کو طلاق بتہ دے دی پھر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے پوچھا: تم نے کیا نیت کی تھی؟ انہوں نے کہا: ایک کی، آپ ﷺ نے فرمایا: کیا اللہ کی قسم کھا کر کہہ رہے ہو؟ انہوں نے کہا: ہاں اللہ کی قسم کھا کر کہہ رہا ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: جس کا تم نے ارادہ کیا ہے وہی ہوگا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ روایت ابن جریج والی روایت سے زیادہ صحیح ہے جس میں ہے کہ رکانہ نے اپنی بیوی کو تین طلاق دی تھی کیونکہ یہ روایت ان کے اہل خانہ کی بیان کردہ ہے اور وہ حقیقت حال سے زیادہ واقف ہیں اور ابن جریج والی روایت بعض بنی رافع (جو ایک مجہول ہے) سے منقول ہے جسے وہ عکرمہ سے روایت کرتے ہیں اور وہ ابن عباس ؓ سے، (دیکھئیے حدیث نمبر: ٢٠٩٦)
Ali bin Yazid bin Rukanah reported on the authority of his father from his grandfather that he (Rukanah) divorced his wife absolutely; so he came to the Messenger of Allah ﷺ . He asked (him): What did you intend? He said: A single utterance of divorce. He said: Do you swear by Allah? He replied: I swear by Allah. He said: It stands as you intended. Abu Dawud said: This tradition is sounder than that of Ibn Juraij that Rukanah divorced his wife by three pronouncements, for they are the members of his family and they are more aware for him. The tradition of Ibn Juraij has been narrated by some children of Abu Rafi from Ikrimah on the authority of Ibn Abbas.
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم (٢٢٠٦)، (تحفة الأشراف: ٣٦١٣) (اس کے تین رواة ضعیف ہیں، دیکھئے: إرواء الغلیل: ٢٠٦٣) (ضعیف )
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے میری امت سے ان چیزوں کو معاف کردیا ہے جنہیں وہ زبان پر نہ لائے یا ان پر عمل نہ کرے، اور ان چیزوں کو بھی جو اس کے دل میں گزرے ١ ؎۔
Abu Hurairah reported the Prophet ﷺ as saying “Allah has ignored for my community what comes to their mind, so long as they do not act or pronounce words to that effect. ”
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی دل میں طلاق کا صرف خیال کرنے سے طلاق واقع نہیں ہوگی۔
ابوتمیمہ ہجیمی سے روایت ہے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو اے چھوٹی بہن! کہہ کر پکارا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا یہ تیری بہن ہے؟ آپ ﷺ نے اسے ناپسند فرمایا اور اس سے منع کیا ١ ؎۔
Narrated Tamimah al-Hujayni (RA) : A man said to his wife: O my younger sister! The Messenger of Allah ﷺ said: Is she your sister? He (the Prophet disliked it and prohibited saying so.
Notes · وضاحت
١ ؎: اگرچہ اس کے کہنے سے وہ اس کی بہن نہیں ہوجائے گی مگر نامناسب بات زبان سے نکالنی مناسب نہیں، گو وہ اس کی دینی بہن ہو یا رشتہ میں بھی بہن کے مرتبہ کی ہو جیسے چچا یا پھوپھی یا خالہ کی بیٹی۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٥٥٩٩، ١٨٨٤٦) (اس کے راوی ابوتمیمة تابعی ہیں اس لئے مرسل ہے) (ضعیف )
ابو تمیمہ سے روایت ہے، وہ اپنی قوم کے ایک شخص سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک شخص کو اپنی بیوی کو اے چھوٹی بہن! کہہ کر پکارتے ہوئے سنا تو آپ نے اس سے منع فرمایا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے عبدالعزیز بن مختار نے خالد سے خالد نے ابوعثمان سے اور ابوعثمان نے ابو تمیمہ سے اور ابوتمیمہ نے نبی اکرم ﷺ سے مرسلاً روایت کیا ہے، نیز اسے شعبہ نے خالد سے خالد نے ایک شخص سے اس نے ابو تمیمہ سے اور ابو تمیمہ نے نبی اکرم ﷺ سے مرسلاً روایت کیا ہے۔
Abu Tamimah reported from a man of his tribe “The Prophet ﷺ heard a man say his wife “O my younger sister! So he prohibited him (addressing his wife in this manner) Abu Dawud said “This tradition has also been transmitted by Abd Al Aziz bin Al Mukhtar from Khalid from Abu Uthman from Abu Thamimah from the Prophet ﷺ . This has also been narrated by Shubah from Khalid from a man on the authority of Abu Thamimah from the Prophet ﷺ .
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٥٥٩٩، ١٨٨٤٦) (ضعیف) (اس کی سند میں سخت اضطراب ہے جیسا کہ مؤلف نے بیان کردیا ہے )
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ابراہیم (علیہ السلام) نے صرف تین جھوٹ بولے ١ ؎ جن میں سے دو اللہ تعالیٰ کی ذات کے لیے تھے، پہلا جب انہوں نے کہا کہ میں بیمار ہوں ٢ ؎، دوسرا جب انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا تھا: بلکہ یہ تو ان کے اس بڑے کی کارستانی ہے، تیسرا اس موقعہ پر جب کہ وہ ایک سرکش بادشاہ کے ملک سے گزر رہے تھے ایک مقام پر انہوں نے قیام فرمایا تو اس سرکش تک یہ بات پہنچی، اور اسے بتایا گیا کہ یہاں ایک شخص ٹھہرا ہوا ہے اور اس کے ساتھ ایک انتہائی خوبصورت عورت ہے، چناچہ اس نے ابراہیم (علیہ السلام) کو بلوایا اور عورت کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے کہا: یہ تو میری بہن ہے ، جب وہ لوٹ کر بیوی کے پاس آئے تو انہوں نے بتایا کہ اس نے مجھ سے تمہارے بارے میں دریافت کیا تو میں نے اسے یہ بتایا ہے کہ تم میری بہن ہو کیونکہ آج میرے اور تمہارے علاوہ کوئی بھی مسلمان نہیں ہے لہٰذا تم میری دینی بہن ہو، تو تم اس کے پاس جا کر مجھے جھٹلا نہ دینا ، اور پھر پوری حدیث بیان کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: شعیب بن ابی حمزہ نے ابوالزناد سے ابوالزناد نے اعرج سے، اعرج نے ابوہریرہ ؓ سے، ابوہریرہ نے نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح کی روایت کی ہے۔
Abu Hurairah reported the Prophet ﷺ as saying Abraham ﷺ never told a lie except on three occasions twice for the sake of Allaah. Allaah quoted his words (in the Quran) “I am indeed sick” and “Nay, this was done by - this is their biggest one”. Once he was passing through the land of a tyrant (king). He stayed there in a place. People went to the tyrant and informed him saying “A man has come down here; he has a most beautiful woman with him. ” So he sent for him (Abraham) and asked about her. He said she is my sister. When he returned to her, he said “he asked me about you and I informed him that you were my sister. Today there is no believer except me and you. You are my sister in the Book of Allaah (i. e., sister in faith). So do not belie me before him. The narrator then narrated the rest of the tradition. Abu Dawud said “A similar tradition has also been narrated by Shuaib bin Abi Hamza from Abi Al Zinad from Al A’raj on the authority of Abu Hurairah from the Prophet ﷺ .
Notes · وضاحت
١ ؎: انہیں جھوٹ اس لئے کہا گیا ہے کہ ظاہر میں تینوں باتیں جھوٹ تھیں، لیکن حقیقت میں ابراہیم (علیہ السلام) نے یہ تینوں باتیں بطور تعریض و توریہ کہی تھیں، توریہ کا مطلب یہ ہے کہ آدمی ذومعنی گفتگو کرے، جس کا ایک ظاہری مفہوم ہو اور ایک باطنی، وہ اپنی گفتگو سے صحیح مقصود کی نیت کرے اور اس کی طرف نسبت کرنے میں جھوٹا نہ ہو، اگرچہ ظاہری الفاظ میں اور اس کی چیز کی طرف نسبت کرنے میں جسے مخاطب سمجھ رہا ہو جھوٹا ہو۔ ٢ ؎: یہ بات ابراہیم (علیہ السلام) نے اس وقت کہی تھی جب ان کے شہر کے لوگ باہر میلے کے لئے جارہے تھے، ان سے بھی لوگوں نے چلنے کے لئے کہا، تو انہوں نے بہانہ کیا کہ میں بیمار ہوں، یہ بہانہ بتوں کو توڑنے کے لئے کیا تھا، پھر جب لوگ میلہ سے واپس آئے تو پوچھا بتوں کو کس نے توڑا؟ ابراہیم وضاحت نے جواب دیا: ” بڑے بت نے توڑا “، اگرچہ یہ دونوں قول خلاف واقعہ تھے لیکن حکمت سے خالی نہ تھے، اللہ کی رضامندی کے واسطے تھے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٤٥٣٩)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/أحادیث الأنبیاء ٨ (٣٣٥٧)، والنکاح ١٢(٥٠١٢)، صحیح مسلم/الفضائل ٤١ (٢٣٧١)، سنن الترمذی/تفسیر سورة الأنبیاء (٣١٦٥)، مسند احمد (٢/٤٠٣) (صحیح )
سلمہ بن صخر بیاضی ؓ کہتے ہیں کہ لوگوں کے مقابلے میں میں کچھ زیادہ ہی عورتوں کا شوقین تھا، جب ماہ رمضان آیا تو مجھے ڈر ہوا کہ اپنی بیوی کے ساتھ کوئی ایسی حرکت نہ کر بیٹھوں جس کی برائی صبح تک پیچھا نہ چھوڑے چناچہ میں نے ماہ رمضان کے ختم ہونے تک کے لیے اس سے ظہار کرلیا۔ ایک رات کی بات ہے وہ میری خدمت کر رہی تھی کہ اچانک اس کے جسم کا کوئی حصہ نظر آگیا تو میں اس سے صحبت کئے بغیر نہیں رہ سکا، پھر جب میں نے صبح کی تو میں اپنی قوم کے پاس آیا اور انہیں سارا ماجرا سنایا، نیز ان سے درخواست کی کہ وہ میرے ساتھ رسول اللہ ﷺ کے پاس چلیں، وہ کہنے لگے: اللہ کی قسم یہ نہیں ہوسکتا تو میں خود ہی آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، اور آپ ﷺ کو پوری بات بتائی، آپ ﷺ نے فرمایا: سلمہ! تم نے ایسا کیا؟ میں نے جواب دیا: ہاں اللہ کے رسول، مجھ سے یہ حرکت ہوگئی، دو بار اس طرح کہا، میں اللہ کا حکم بجا لانے کے لیے تیار ہوں، تو آپ میرے بارے میں حکم کیجئے جو اللہ آپ کو سجھائے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ایک گردن آزاد کرو ، میں نے اپنی گردن پر ہاتھ مار کر کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے اس کے علاوہ میرے پاس کوئی گردن نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: تو دو مہینے کے مسلسل روزے رکھو ، میں نے کہا: میں تو روزے ہی کے سبب اس صورت حال سے دوچار ہوا ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: تو پھر ساٹھ صاع کھجور ساٹھ مسکینوں کو کھلاؤ ، میں نے جواب دیا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہم دونوں تو رات بھی بھوکے سوئے، ہمارے پاس کھانا ہی نہیں تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: بنی زریق کے صدقے والے کے پاس جاؤ، وہ تمہیں اسے دے دیں گے اور ساٹھ صاع کھجور ساٹھ مسکینوں کو کھلا دینا اور جو بچے اسے تم خود کھا لینا، اور اپنے اہل و عیال کو کھلا دینا ، اس کے بعد میں نے اپنی قوم کے پاس آ کر کہا: مجھے تمہارے پاس تنگی اور غلط رائے ملی جب کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس گنجائش اور اچھی رائے ملی، آپ ﷺ نے مجھے یا میرے لیے تمہارے صدقے کا حکم فرمایا ہے۔
Narrated Salamah ibn Sakhr al-Bayadi: I was a man who was more given than others to sexual intercourse with women. When the month of Ramadan came, I feared lest I should have intercourse with my wife, and this evil should remain with me till the morning. So I made my wife like my mothers back to me till the end of Ramadan. But one night when she was waiting upon me, something of her was revealed. Suddenly I jumped upon her. When the morning came I went to my people and informed them about this matter. I said: Go along with me to the Messenger of Allah ﷺ . They said: No, by Allah. So I went to the Prophet (peace be upon him and informed him of the matter. He said: Have you really committed it, Salamah? I said: I committed it twice, Messenger of Allah. I am content with the Commandment of Allah, the Exalted; so take a decision about me according to what Allah has shown you. He said: Free a slave. I said: By Him Who sent you with truth, I do not possess a neck other than this: and I struck the surface of my neck. He said: Then fast two consecutive months. I said: Whatever I suffered is due to fasting. He said: Feed sixty poor people with a wasq of dates. I said: By Him Who sent you with truth, we passed the night hungry; there was no food in our house. He said: Then go to the collector of sadaqah of Banu Zurayq; he must give it to you. Then feed sixty poor people with a wasq of dates; and you and your family eat the remaining dates. Then I came back to my people, and said (to them): I found with you poverty and bad opinion; and I found with the Prophet ﷺ prosperity and good opinion. He has commanded me to give alms to you. Ibn al-Ala added: Ibn Idris said: Bayadah is a sub-clan of Banu Zurayq.
Notes · وضاحت
١ ؎: ظہار ی ہے کہ آدمی اپنی بیوی سے کہے أنت علي كظهر أمي یعنی تو مجھ پر میری ماں کی پیٹھ کی طرح ہے، زمانہ جاہلیت میں ظہار کو طلاق سمجھا جاتا تھا، شریعت اسلامیہ میں ایسا کہنے والا گنہگار ہوگا اور اس پر کفارہ لازم ہوگا، جب تک کفارہ ادا نہ کر دے وہ بیوی کے قریب نہیں جاسکتا۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الطلاق ٢٠ (١١٩٨)، سنن ابن ماجہ/الطلاق ٢٥ (٢٠٦٢)، (تحفة الأشراف: ٤٥٥٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٧، ٥/٤٣٦)، سنن الدارمی/الطلاق ٩ (٢٣١٩) (حسن صحیح) (ملاحظہ ہو الإرواء: ٢٠٩١) ویأتی ہذا الحدیث برقم (٢٢١٣ )
خویلہ بنت مالک بن ثعلبہ ؓ کہتی ہیں کہ میرے شوہر اوس بن صامت نے مجھ سے ظہار کرلیا تو میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی، میں آپ سے شکایت کر رہی تھی اور رسول اللہ ﷺ مجھ سے ان کے بارے میں جھگڑ رہے تھے اور آپ ﷺ فرما رہے تھے: اللہ سے ڈر، وہ تیرا چچا زاد بھائی ہے ، میں وہاں سے ہٹی بھی نہ تھی کہ یہ آیت نازل ہوئی: قد سمع الله قول التي تجادلک في زوجها اللہ تعالیٰ نے اس عورت کی گفتگو سن لی ہے جو آپ سے اپنے شوہر کے متعلق جھگڑ رہی تھی (سورۃ المجادلہ: ١) ، تو آپ ﷺ نے فرمایا: وہ ایک گردن آزاد کریں ، کہنے لگیں: ان کے پاس نہیں ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: پھر وہ دو مہینے کے پے در پے روزے رکھیں ، کہنے لگیں: اللہ کے رسول! وہ بوڑھے کھوسٹ ہیں انہیں روزے کی طاقت نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: تو پھر وہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائیں ، کہنے لگیں: ان کے پاس صدقہ کرنے کے لیے کچھ بھی نہیں۔ کہتی ہیں: اسی وقت آپ ﷺ کے پاس کھجوروں کی ایک زنبیل آگئی، میں نے کہا: اللہ کے رسول (آپ یہ دے دیجئیے) ایک اور زنبیل میں دے دوں گی، آپ ﷺ نے فرمایا: تم نے ٹھیک ہی کہا ہے، لے جاؤ اور ان کی جانب سے ساٹھ مسکینوں کو کھلا دو، اور اپنے چچا زاد بھائی (یعنی شوہر) کے پاس لوٹ جاؤ ۔ راوی کا بیان ہے کہ زنبیل ساٹھ صاع کی تھی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: کہ اس عورت نے اپنے شوہر سے مشورہ کئے بغیر اس کی جانب سے کفارہ ادا کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ عبادہ بن صامت کے بھائی ہیں۔
Narrated Khuwaylah, daughter of Malik ibn Thalabah (RA) : My husband, Aws ibn as-Samit, pronounced the words: You are like my mother. So I came to the Messenger of Allah ﷺ , complaining to him about my husband. The Messenger of Allah ﷺ disputed with me and said: Remain dutiful to Allah; he is your cousin. I continued (complaining) until the Quranic verse came down: Certainly has Allah heard the speech of the one who argues with you, [O Muhammad], concerning her husband. . . [58: 1] till the prescription of expiation. He then said: He should set free a slave. She said: He cannot afford it. He said: He should fast for two consecutive months. She said: Messenger of Allah, he is an old man; he cannot keep fasts. He said: He should feed sixty poor people. She said: He has nothing which he may give in alms. At that moment an araq (i. e. date-basket holding fifteen or sixteen sas) was brought to him. I said: I shall help him with another date-basked (araq). He said: You have done well. Go and feed sixty poor people on his behalf, and return to your cousin. The narrator said: An araq holds sixty sas of dates. Abu Dawud said: She atoned on his behalf without seeking his permission. Abu Dawud said: This man (Aws bin al-Samit) is the brother of Ubadah bin al-Samit.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١٥٨٢٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٤١٠) (حسن )