Sunan Abu Dawood 2201

طلاق کا بیان

2201Sunan Abu Dawood

طلاق کنایہ کا بیان اور یہ کہ احکام نیت پر مرتب ہوتے ہیں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ اللَّيْثِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ، وَإِنَّمَا لِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى، فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ فَهِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ، وَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ لِدُنْيَا يُصِيبُهَا أَوِ امْرَأَةٍ يَتَزَوَّجُهَا فَهِجْرَتُهُ إِلَى مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ.

علقمہ بن وقاص لیثی کہتے ہیں کہ میں نے عمر بن خطاب ؓ کو کہتے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے، ہر آدمی کو وہی ملے گا جس کی اس نے نیت کی چناچہ جس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہوگی تو اسی کی ہجرت اللہ اور رسول کے لیے مانی جائے گی، اور جس نے دنیا حاصل کرنے یا کسی عورت سے نکاح کرنے کی غرض سے ہجرت کی ہوگی تو اس کی ہجرت اسی چیز کے لیے مانی جائے گی جس کے لیے اس نے ہجرت کی ۔

Umar bin Al Khattab reported the Messenger of Allah ﷺ as saying “Actions are to be judged only by intentions and a man will have only what he intended. When one’s emigration is to Allaah and His Messenger, his emigration is to Allaah and His Messenger but his emigration is to a worldly end at which he aims or to a woman whom he marries, his emigration is to that for which he emigrated.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/بدء الوحي ١ (١)، الایمان ٤١ (٥٤)، العتق ٦ (٢٥٢٩)، مناقب الأنصار ٤٥ (٣٨٩٨)، النکاح ٥ (٥٠٧٠)، النذور ٢٣ (٦٦٨٩)، الحیل ١ (٦٩٥٣)، صحیح مسلم/الإمارة ٤٥ (١٩٠٧)، سنن الترمذی/فضائل الجھاد ١٦ (١٦٤٧)، سنن النسائی/الطھارة ٦٠ (٧٥)، الطلاق ٢٤ (٣٤٦٧)، الأیمان والنذور ١٩ (٣٨٢٥)، سنن ابن ماجہ/الزھد ٢٦ (٤٢٢٧)، (تحفة الأشراف: ١٠٦١٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٥، ٤٣) (صحیح )