اس سند سے بھی ابن اسحاق سے اسی طرح کی روایت منقول ہے لیکن اس میں ہے کہ عرق ایسی زنبیل ہے جس میں تیس صاع کے بقدر کھجور آتی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث یحییٰ بن آدم کی روایت کے مقابلے میں زیادہ صحیح ہے۔
A similar tradition has been transmitted by Ibn Ishaq with a different chain of narrators. But in this version he said ‘Araq is a date-basket holding thirty sa’s. Abu Dawud said “This version is sounder than that of Yahya bin Adam. ”
سلیمان بن یسار سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے: آپ ﷺ کے پاس کھجوریں آئیں تو آپ نے وہ انہیں دے دیں، وہ تقریباً پندرہ صاع تھیں، آپ ﷺ نے فرمایا: انہیں صدقہ کر دو ، انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! مجھ سے اور میرے گھر والوں سے زیادہ کوئی ضرورت مند نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: تم اور تمہارے گھر والے ہی انہیں کھالو ۔
The tradition mentioned above has been transmitted by Sulaiman bin Yasar. This version has “Then some dates were brought to the Messenger of Allah ﷺ and he gave it him. They measured about fifteen sa’s “. He said “Give them in alms”. He said “Is there anyone needier than I and my family. Messenger of Allah ﷺ ?” The Messenger of Allah ﷺ said “Eat them, you and your family. ”
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم (٢٢١٣)، (تحفة الأشراف: ١٨٧٩٠) (حسن )
عبادہ بن صامت ؓ کے بھائی اوس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے انہیں پندرہ صاع جو دی تاکہ ساٹھ مسکینوں کو کھلا دیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عطا نے اوس کو نہیں پایا ہے اور وہ بدری صحابی ہیں ان کا انتقال بہت پہلے ہوگیا تھا، لہٰذا یہ حدیث مرسل ہے، اور لوگوں نے اسے اوزاعی سے اوزاعی نے عطاء سے روایت کیا اس میں عن أوس کے بجائے أوسا ہے۔
Abu Dawud said “I recited to Muhammad bin Wazir Al Misri and said to him Bishr bin Bakr narrated it to you and Al Auzai narrated it to us. And he said “At’a narrated it to us on the authority of Aus brother of Ubadah bin Al Samit. The Prophet ﷺ gave him fifteen sa’s of wheat to feed sixty poor people. Abu Dawud said At’a did not meet Aws (bin Al Samit) who was one of the people of Badr and died in the early days of Islam. This version is therefore, mursal (i. e., a successor narrated it directly from the Prophet ﷺ , the link of the Companions is missing). This has been narrated by Al Auzai from At’a from Aus.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٧٤٣) (صحیح) (دیگر شواہد اور متابعات سے تقویت پا کر یہ روایت بھی صحیح ہے ورنہ خود یہ منقطع ہے )
ہشام بن عروہ سے روایت ہے کہ جمیلہ ؓ اوس بن صامت ؓ کے نکاح میں تھیں، اور وہ عورتوں کے دیوانے تھے جب ان کی دیوانگی بڑھ جاتی تو وہ اپنی عورت سے ظہار کرلیتے، اللہ تعالیٰ نے انہیں کے متعلق ظہار کے کفارے کا حکم نازل فرمایا۔
Narrated Hisham bin Urwah (RA) : Khawlah was the wife of Aws ibn as-Samit; he was a man immensely given to sexual intercourse. When his desire for intercourse was intensified, he made his wife like his mothers back. So Allah, the Exalted, sent down Quranic verses relating to expiation for zihar.
عکرمہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی سے ظہار کرلیا، پھر کفارہ ادا کرنے سے پہلے ہی وہ اس سے صحبت کر بیٹھا چناچہ وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور آپ کو اس کی خبر دی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: تمہیں اس فعل پر کس چیز نے آمادہ کیا؟ اس نے کہا: چاندنی رات میں میں نے اس کی پنڈلی کی سفیدی دیکھی، آپ ﷺ نے فرمایا: پھر تم اس سے اس وقت تک الگ رہو جب تک کہ تم اپنی طرف سے کفارہ ادا نہ کر دو ۔
Narrated Ikrimah (RA) : A man made his wife like the back of his mother. He then had intercourse with her before he atoned for it. He came to the Prophet ﷺ and informed him of this matter. He asked (him): What moved you to the action you have committed? He replied: I saw the whiteness of her shins in moon light. He said: Keep away from her until you expiate for your deed.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الطلاق ١٩ (١١٩٩)، سنن النسائی/الطلاق ٣٣ (٣٤٨٧)، سنن ابن ماجہ/الطلاق ٢٦ (٢٠٦٥)، (تحفة الأشراف: ٦٠٣٦) (صحیح) (دیگر شواہد اور متابعات سے تقویت پاکر روایت بھی صحیح ہے ورنہ خود یہ روایت مرسل ہے )
اس سند سے ابن عباس ؓ سے مرفوعاً اسی طرح روایت ہے لیکن اس میں پنڈلی کا ذکر نہیں ہے۔
Ikrimah said “A man made his wife like the back of his mother. When he saw the illumination of her shin in the moonlight, he had intercourse with her. He came to the Prophet ﷺ . He ordered him to atone for it.
اس سند سے بھی عکرمہ سے سفیان کی حدیث (نمبر: ٢٢٢١) کی طرح روایت ہے۔
A similar tradition has been transmitted by Ibn Abbas from the Prophet ﷺ through a different chain of narrators. This version does not mention the word “shin”.
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٢٢١، (تحفة الأشراف: ٦٠٣٦) (صحیح ) ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے محمد بن عیسیٰ کو اسے بیان کرتے سنا ہے، وہ کہتے ہیں ہم سے معتمر نے بیان کیا وہ کہتے ہیں: میں نے حکم بن ابان کو یہی حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ہے وہ اسے عکرمہ سے روایت کر رہے تھے اس میں انہوں نے ابن عباس ؓ کا ذکر نہیں کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مجھے حسین بن حریث نے لکھا وہ کہتے ہیں کہ مجھے فضل بن موسیٰ نے خبر دی ہے وہ معمر سے وہ حکم بن ابان سے وہ عکرمہ سے وہ ابن عباس ؓ سے وہ نبی اکرم ﷺ سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کرتے ہیں۔
انظر حدیث رقم: ٢٢٢١، (تحفة الأشراف: ٦٠٣٦) (صحیح )
ثوبان ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس عورت نے اپنے شوہر سے بغیر کسی ایسی تکلیف کے جو اسے طلاق لینے پر مجبور کرے طلاق کا مطالبہ کیا تو اس پر جنت کی خوشبو حرام ہے ۔
A tradition similar to that of Sufyan has been transmitted by Ikrimah from the Prophet ﷺ through a different chain of narrators.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الطلاق ١١(١١٨٧)، سنن ابن ماجہ/الطلاق ٢١ (٢٠٥٥)، (تحفة الأشراف: ٢١٠٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٢٧٧، ٢٨٣)، سنن الدارمی/الطلاق ٦ (٢٣١٦) (صحیح )
حبیبہ بنت سہل انصاریہ ؓ سے روایت ہے کہ وہ ثابت بن قیس بن شماس ؓ کے نکاح میں تھیں، ایک بار کیا ہوا کہ رسول اللہ ﷺ فجر پڑھنے کے لیے نکلے تو آپ نے حبیبہ بنت سہل کو اندھیرے میں اپنے دروازے پر پایا، آپ ﷺ نے پوچھا: کون ہے؟ بولیں: میں حبیبہ بنت سہل ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: کیا بات ہے؟ وہ اپنے شوہر ثابت بن قیس کے متعلق بولیں کہ میرا ان کے ساتھ گزارا نہیں ہوسکتا، پھر جب ثابت بن قیس آئے تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: یہ حبیبہ بنت سہل ہیں انہوں نے مجھ سے بہت سی باتیں جنہیں اللہ نے چاہا ذکر کی ہیں ، حبیبہ کہنے لگیں: اللہ کے رسول! انہوں نے جو کچھ مجھے (مہر وغیرہ) دیا تھا وہ سب میرے پاس ہے، چناچہ آپ ﷺ نے ثابت بن قیس سے کہا: اس (مال) میں سے لے لو ، تو انہوں نے اس میں سے لے لیا اور وہ اپنے گھر والوں کے پاس بیٹھی رہیں ١ ؎۔
Abu Dawud said “I heard Muhammad bin Isa narrating this tradition who said Mu’tamar narrated it to us. And he (Mu’tamar) said “ I heard Al Hakam bin Aban narrating this tradition. He did not mention the name of Ibn Abbas. Abu Dawud said “Al Hussain bin Huraith wrote to me saying “Al Fadl bin Musa narrated from Ibn Abbas to the same effect from the Prophet ﷺ .
Notes · وضاحت
١ ؎: یہی اسلام میں پہلا خلع تھا، خلع سے نکاح منسوخ ہوجاتا ہے، خلع کی عدت ایک حیض ہے، بعض علماء کے نزدیک خلع سے ایک طلاق پڑجاتی ہے، اس لئے ان لوگوں کے نزدیک اس کی عدت طلاق کی عدت کی طرح ہے، یعنی تین حیض ہے، پہلا قول راجح ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الطلاق ٣٤ (٣٤٩٢)، (تحفة الأشراف: ١٥٧٩٢)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الطلاق ١١(٣١)، مسند احمد (٦/٤٣٤)، سنن الدارمی/الطلاق ٧ (٢٣١٧) (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ حبیبہ بنت سہل ؓ ثابت بن قیس بن شماس ؓ کے نکاح میں تھیں تو ان کو ان کے شوہر نے اتنا مارا کہ کوئی عضو ٹوٹ گیا، وہ فجر کے بعد رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں اور آپ سے ان کی شکایت کی تو نبی اکرم ﷺ نے ثابت کو بلوایا، اور کہا کہ تم اس سے کچھ مال لے کر اس سے الگ ہوجاؤ، ثابت نے کہا: اللہ کے رسول! کیا ایسا کرنا درست ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں ، وہ بولے، میں نے اسے دو باغ مہر میں دیئے ہیں یہ ابھی بھی اس کے پاس موجود ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: انہیں لے لو اور اس سے جدا ہوجاؤ ، چناچہ انہوں نے ایسا ہی کیا۔
Narrated Thawban (RA) : The Prophet ﷺ said: If any woman asks her husband for divorce without some strong reason, the odour of Paradise will be forbidden to her.
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ثابت بن قیس ؓ کی بیوی نے ان سے خلع کرلیا تو نبی اکرم ﷺ نے اس کی عدت ایک حیض مقرر فرمائی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کو عبدالرزاق نے معمر سے معمر نے عمرو بن مسلم سے عمرو نے عکرمہ سے اور عکرمہ نے نبی اکرم ﷺ سے مرسلاً روایت کیا۔
Amrah, daughter of Abdur-Rahman ibn Saad ibn Zurarah, reported on the authority of Habibah, daughter of Sahl al-Ansariyyah: She (Habibah) was the wife of Thabit ibn Qays ibn Shimmas. The Messenger of Allah ﷺ came out one morning and found Habibah by his door. The Messenger of Allah ﷺ said: Who is this? She replied: I am Habibah, daughter of Sahl. He asked: What is your case? She replied: I and Thabit ibn Qays, referring to her husband, cannot live together. When Thabit ibn Qays came, the Messenger of Allah ﷺ said to him: This is Habibah, daughter of Sahl, and she has mentioned (about you) what Allah wished to mention. Habibah said: Messenger of Allah, all that he gave me is with me. The Messenger of Allah ﷺ said to Thabit ibn Qays: Take it from her. So he took it from her, and she lived among her people (relatives).
عبداللہ بن عمر ؓ سے مروی ہے کہ خلع کرانے والی عورت کی عدت ایک حیض ہے۔
Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : Habibah daughter of Sahl was the wife of Thabit ibn Qays Shimmas He beat her and broke some of her part. So she came to the Prophet ﷺ after morning, and complained to him against her husband. The Prophet ﷺ called on Thabit ibn Qays and said (to him): Take a part of her property and separate yourself from her. He asked: Is that right, Messenger of Allah? He said: Yes. He said: I have given her two gardens of mine as a dower, and they are already in her possession. The Prophet ﷺ said: Take them and separate yourself from her.
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ مغیث ؓ ایک غلام تھے وہ کہنے لگے: اللہ کے رسول! اس سے میری سفارش کر دیجئیے، آپ ﷺ نے فرمایا: بریرہ! اللہ سے ڈرو، وہ تمہارا شوہر ہے اور تمہارے لڑکے کا باپ ہے کہنے لگیں: اللہ کے رسول! کیا آپ مجھے ایسا کرنے کا حکم فرما رہے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں بلکہ میں تو سفارشی ہوں مغیث کے آنسو گالوں پر بہہ رہے تھے تو رسول اللہ ﷺ نے عباس ؓ سے کہا: کیا آپ کو مغیث کی بریرہ کے تئیں محبت اور بریرہ کی مغیث کے تئیں نفرت سے تعجب نہیں ہو رہا ہے؟ ۔
Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : The wife of Thabit ibn Qays separated herself from him for a compensation. The Prophet ﷺ made her waiting period a menstrual course. Abu Dawud said: This tradition has been transmitted by Abd al-Razzaq from Mamar from Amr bin Muslim from Ikrimah from the Prophet ﷺ in a mursal form (i. e. missing the link of the Companion).
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الطلاق ١٥ (٥٢٨٢)، ١٦ (٥٢٨٣)، سنن النسائی/ آداب القضاء ٢٧ (٥٤١٩) سنن ابن ماجہ/الطلاق ٢٩ (٢٠٧٥)، (تحفة الأشراف: ٦٠٤٨)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الرضاع ٧ (١١٥٤)، مسند احمد (١/٢١٥)، سنن الدارمی/الطلاق ١٥ (٢٣٣٨) (صحیح )
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ بریرہ ؓ کے شوہر ایک کالے کلوٹے غلام تھے جن کا نام مغیث ؓ تھا، تو نبی اکرم ﷺ نے انہیں (مغیث کے ساتھ رہنے یا نہ رہنے کا) اختیار دیا اور (نہ رہنے کی صورت میں) انہیں عدت گزارنے کا حکم فرمایا۔
Ibn Umar said “The waiting period of a woman who separates herself from her husband for compensation is a menstrual period. ”
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الطلاق ١٥ (٥٢٨٠)، (تحفة الأشراف: ٦١٨٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٨١، ٣٦١) (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ ؓ سے بریرہ کے قصہ میں روایت ہے کہ اس کا شوہر غلام تھا، رسول اللہ ﷺ نے بریرہ کو (آزاد ہونے کے بعد) اختیار دے دیا تو انہوں نے اپنے آپ کو اختیار کیا، اگر وہ آزاد ہوتا تو آپ اسے (بریرہ کو) اختیار نہ دیتے۔
Ibn Abbas said “Mughith was a slave. ” He said “Messenger of Allah ﷺ make intercession for me to her (Barirah)”. The Messenger of Allah ﷺ said “O Barirah fear Allaah. He is your husband and father of your child”. She said “Messenger of Allah ﷺ do you command me for that? He said No, I am only interceding. Then tears were falling down on his (her husband’s) cheeks. The Messenger of Allah ﷺ said to Abbas “Are you not surprised with the love of Mughith for Barirah and her hatred for him. ”
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/العتق ٢ (١٥٠٤)، سنن الترمذی/الرضاع ٧ (١١٥٤)، والبیوع ٣٣ (١٢٥٦)، والوصایا ا ٧ (٢١٢٤)، والولاء ١ (٢١٢٥)، سنن النسائی/الزکاة ٩٩ (٢٦١٥)، والطلاق ٢٩ (٣٤٧٧)، ٣٠ (٣٤٨٠)، ٣١ (٣٤٨٣، ٣٤٨٤)، والبیوع ٧٨ (٤٦٤٦، ٧٤٦٤)، سنن ابن ماجہ/الطلاق ٢٩ (٢٠٧٤)، والأحکام ٣ (٢٣٢٤)، (تحفة الأشراف: ١٦٧٧٠)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/العتق ١٠ (٢٥٣٦)، والھبة ٧ (٢٥٨٧)، والنکاح ١٨ (٥٠٩٧)، والطلاق ١٤ (٥٢٧٩)، ١٧ (٥٢٨٤)، والأطعمة ٣١ (٥٠٣٠)، والأیمان ٨ (٦٧١٧)، والفرائض ٢٢ (٦٧٥١)، ٢٣ (٦٧٥٤)، موطا امام مالک/الطلاق ١٠(٢٥)، مسند احمد (٦/٤٦، ١١٥، ١٢٣، ١٧٢، ١٧٥، ١٧٨، ١٩١، ٢٠٧)، سنن الدارمی/الطلاق ١٥ (٢٣٣٧) (صحیح) (لیکن ” اگر وہ آزاد ہوتا تو… “ کا جملہ عروة کا اپنا قول ہے )
ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بریرہ کو اختیار دیا اس کا شوہر غلام تھا۔
Ibn Abbas said “The husband of Barirah was a black slave called Mughith. The Prophet ﷺ gave her choice and commanded her to observe the waiting period. ”
ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ جس وقت بریرہ ؓ آزاد ہوئی اس وقت اس کا شوہر آزاد ١ ؎ تھا، اسے اختیار دیا گیا، تو اس نے کہا کہ اگر مجھے اتنا اتنا مال بھی مل جائے تب بھی میں اس کے ساتھ رہنا پسند نہ کروں گی۔
While relating the tradition about Barirah Aisha (RA) said “her husband was a slave, so the Prophet ﷺ gave her choice. She chose herself. Had he been a free man, he would not given her choice. ”
Notes · وضاحت
١ ؎: صحیح یہ ہے کہ وہ اس وقت غلام تھے جیسا کہ متعدد صحیح روایتیں اوپر گزریں۔
ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ بریرہ ؓ آزاد کی گئی اس وقت وہ آل ابواحمد کے غلام مغیث ؓ کے نکاح میں تھی تو رسول اللہ ﷺ نے اسے اختیار دیا اور اس سے کہا: اگر اس نے تجھ سے صحبت کرلی تو پھر تجھے اختیار حاصل نہیں رہے گا ۔
Aishah said “The Prophet ﷺ gave her choice. Her husband was a slave. ”
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٧١٨٤، ١٩٢٦٠) (حسن )