ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنے لونڈی غلام کے ایک جوڑے کو آزاد کرنا چاہا تو نبی اکرم ﷺ سے اس کے متعلق دریافت کیا تو آپ نے حکم دیا کہ وہ عورت سے پہلے مرد کو آزاد کریں۔
Aishah said “Barirah’s husband was a free man when she was emancipated. She was given choice. She said “I do not like to remain with him. I have such and such (grievances)”
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الطلاق ٢٨ (٣٤٧٦)، سنن ابن ماجہ/العتق ١٠ (٢٥٣٢)، (تحفة الأشراف: ١٧٥٣٤) (ضعیف) (اس کے راوی ” عبید اللہ بن عبد الرحمن “ ضعیف ہیں )
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ایک شخص مسلمان ہو کر آیا پھر اس کے بعد اس کی بیوی بھی مسلمان ہو کر آگئی، تو اس نے کہا: اللہ کے رسول! یہ میرے ساتھ ہی مسلمان ہوئی ہے تو آپ اسے میرے پاس لوٹا دیجئیے۔
Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : Barirah was emancipated, and she was the wife of Mughith, a slave of Aal Abu Ahmad. The Messenger of Allah ﷺ gave her choice, and said to her: If he has intercourse with you, then there is no choice for you.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/النکاح ٤٢ (١١٤٤)، سنن ابن ماجہ/النکاح ٦٠ (٢٠٠٨)، (تحفة الأشراف: ٦١٠٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٣٢، ٣٢٣) (ضعیف) (سماک کی عکرمہ سے روایت میں شدید اضطراب پایا جاتا ہے، اور یہاں بھی دونوں روایتوں میں اضطراب ظاہر ہے )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ایک عورت مسلمان ہوگئی اور اس نے نکاح بھی کرلیا، اس کے بعد اس کا شوہر رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! میں اسلام لے آیا تھا اور اسے میرے اسلام لانے کا علم تھا چناچہ رسول اللہ ﷺ نے دوسرے شوہر سے اسے چھین کر اس کے پہلے شوہر کو لوٹا دیا۔
Al-Qasim said: Aisha (RA) intended to set free two slaves of her who were spouses. She, therefore, asked the Prophet ﷺ about this matter. He commanded to begin with the man before the woman. The narrator Nasr said: Abu Ali al-Hanafi reported it to me on the authority of Ubaydullah.
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ٦١٠٧) (ضعیف) (سابقہ حدیث دیکھئے )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی صاحبزادی زینب ؓ کو ابوالعاص کے پاس پہلے نکاح پر واپس بھیج دیا اور نئے سرے سے کوئی نکاح نہیں پڑھایا۔ محمد بن عمرو کی روایت میں ہے چھ سال کے بعد ایسا کیا اور حسن بن علی نے کہا: دو سال کے بعد۔
Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : A man came after embracing Islam during the time of the Messenger of Allah ﷺ . Afterwards his wife came after embracing Islam. He said: Messenger of Allah, she embraced Islam along with me; so restore her to me.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/النکاح ٤٢ (١١٤٣)، سنن ابن ماجہ/النکاح ٦٠ (٢٠٠٩)، (تحفة الأشراف: ٦٠٧٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢١٧، ٢٦١، ٣٥١) (صحیح )
حارث بن قیس اسدی ؓ کہتے ہیں میں نے اسلام قبول کیا، میرے پاس آٹھ بیویاں تھیں تو میں نے اس کا ذکر نبی اکرم ﷺ سے کیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ان میں سے چار کا انتخاب کرلو (اور باقی کو طلاق دے دو ) ۔
Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : A woman embraced Islam during the time of the Messenger of Allah ﷺ ; she then married. Her (former) husband then came to the Prophet ﷺ and said: Messenger of Allah, I have already embraced Islam, and she had the knowledge about my Islam. The Messenger of Allah ﷺ took her away from her latter husband and restored her to her former husband.
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/النکاح ٤٠ (١٩٥٢)، (تحفة الأشراف: ١١٠٨٩) (صحیح )
اس سند سے بھی قیس بن حارث ؓ سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے۔
Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : The Messenger of Allah ﷺ restored his daughter Zaynab to Abul As on the basis of the previous marriage, and he did not do anything afresh. Muhammad bin Amr said in his version: After six years. Al-Hasan bin Ali said: After two years.
فیروز ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے اسلام قبول کرلیا ہے اور میرے نکاح میں دو بہنیں ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ان دونوں میں سے جس کو چاہو طلاق دے دو ۔
Narrated Al-Harith ibn Qays al-Asadi: I embraced Islam while I had eight wives. So I mentioned it to the Prophet ﷺ . The Prophet (said) said: Select four of them. Abu Dawud said: This tradition has also been narrated to us by Ahmad bin Ibrahim from Hushaim. He said: Qais bin al-Harith instead of al-Harith bin Qais. Ahmad bin Ibrahim said: This is correct, i. e. Qais bin al-Harith.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/النکاح ٣٣ (١١٢٩)، سنن ابن ماجہ/النکاح ٣٩ (١٩٥١)، (تحفة الأشراف: ١١٠٦١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢٣٢) (حسن )
رافع بن سنان ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے اسلام قبول کرلیا، لیکن ان کی بیوی نے اسلام قبول کرنے سے انکار کردیا، اور آپ کے پاس آ کر کہنے لگی: بیٹی میری ہے (اسے میں اپنے پاس رکھوں گی) اس کا دودھ چھوٹ چکا تھا، یا چھوٹنے والا تھا، اور رافع نے کہا کہ بیٹی میری ہے (اسے میں اپنے پاس رکھوں گا) تو رسول اللہ ﷺ نے رافع کو ایک طرف اور عورت کو دوسری طرف بیٹھنے کے لیے فرمایا، اور بچی کو درمیان میں بٹھا دیا، پھر دونوں کو اپنی اپنی جانب بلانے کے لیے کہا بچی ماں کی طرف مائل ہوئی، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اللہ اسے ہدایت دے ، چناچہ بچی اپنے باپ کی طرف مائل ہوگئی تو انہوں نے اسے لے لیا ١ ؎۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by Qais bin Al Harith through a different chain of narrators to the same effect.
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے یہ مستنبط ہوتا ہے کہ باشعور بچے کو اختیار دیا جائیگا کہ ماں باپ میں سے جس کو چاہے اختیار کرلے، اور دودھ پیتا بچہ ماں کے تابع ہوگا۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الطلاق ٥٢ (٣٤٩٥)، سنن ابن ماجہ/الأحکام ٢٢ (٢٣٥٢)، (تحفة الأشراف: ٣٥٩٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٤٤٦، ٤٤٧) (صحیح )
سہل بن سعد ساعدی ؓ سے روایت ہے کہ عویمر بن اشقر عجلانی، عاصم بن عدی ؓ سے آ کر کہنے لگے: عاصم! ذرا بتاؤ، اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے پاس کسی (اجنبی) شخص کو پالے تو کیا وہ اسے قتل کر دے پھر اس کے بدلے میں تم اسے بھی قتل کر دو گے، یا وہ کیا کرے؟ میرے لیے رسول اللہ ﷺ سے یہ مسئلہ پوچھو، چناچہ عاصم ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے اس سلسلہ میں سوال کیا تو آپ ﷺ نے (بغیر ضرورت) اس طرح کے سوالات کو ناپسند فرمایا اور اس کی اس قدر برائی کی کہ عاصم ؓ پر رسول اللہ ﷺ کی بات گراں گزری، جب عاصم ؓ گھر لوٹے تو عویمر ؓ نے ان کے پاس آ کر پوچھا کہ رسول اللہ ﷺ نے تم سے کیا فرمایا؟ تو عاصم ؓ نے کہا: مجھے تم سے کوئی بھلائی نہیں ملی جس مسئلہ کے بارے میں، میں نے سوال کیا اسے رسول ﷺ نے ناپسند فرمایا۔ عویمر ؓ نے کہا: اللہ کی قسم میں نبی اکرم ﷺ سے یہ مسئلہ پوچھ کر رہوں گا، وہ سیدھے آپ کے پاس پہنچ گئے اس وقت آپ لوگوں کے بیچ تشریف فرما تھے، عویمر ؓ نے کہا: اللہ کے رسول! بتائیے اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ (اجنبی) آدمی کو پالے تو کیا وہ اسے قتل کر دے پھر آپ لوگ اسے اس کے بدلے میں قتل کردیں گے، یا وہ کیا کرے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تمہارے اور تمہاری بیوی کے متعلق قرآن نازل ہوا ہے لہٰذا اسے لے کر آؤ ، سہل کا بیان ہے کہ ان دونوں نے لعان ١ ؎ کیا، اس وقت میں لوگوں کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کے پاس موجود تھا، جب وہ (لعان سے) فارغ ہوگئے تو عویمر ؓ نے کہا: اگر میں اسے اپنے پاس رکھوں تو (گویا) میں نے جھوٹ کہا ہے چناچہ عویمر ؓ نے رسول اللہ ﷺ کے حکم سے پہلے ہی اسے تین طلاق دے دی۔ ابن شہاب زہری کہتے ہیں: تو یہی (ان دونوں) لعان کرنے والوں کا طریقہ بن گیا۔
Al-Dahhak bin Firuz reported on the authority of his father: I said: Messenger of Allah, I have embraced Islam and two sisters are my wives. He said: Divorce any one of them you wish.
Notes · وضاحت
١ ؎: لعان کا مطلب کسی عدالت میں یا کسی حاکم مجاز کے سامنے چار مرتبہ اللہ کی قسم کھا کر یہ کہنا ہے کہ وہ اپنی بیوی پر زنا کی تہمت لگانے میں سچا ہے یا یہ بچہ یا حمل اس کا نہیں ہے اور پانچویں مرتبہ کہے کہ اگر وہ جھوٹا ہو تو اللہ کی اس پر لعنت ہو، اب خاوند کے جواب میں بیوی بھی چار مرتبہ قسم کھا کر یہ کہے کہ وہ جھوٹا ہے اور پانچویں مرتبہ یہ کہے کہ اگر اس کا خاوند سچا ہے اور میں جھوٹی ہوں تو مجھ پر اللہ کا غضب نازل ہو، ایسا کہنے سے خاوند حد قذف سے بچ جائے گا اور بیوی زنا کی سزا سے بچ جائے گی اور دونوں کے درمیان ہمیشہ کے لئے جدائی ہوجائے گی۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلاة ٤٤ (٤٢٣)، تفسیر سورة النور ١ (٤٧٤٥)، ٢ (٤٧٤٦)، الطلاق ٤ (٥٢٥٩)، ٢٩ (٥٣٠٨)، ٣٠ (٥٣٠٩)، الحدود ٤٣ (٦٨٥٤)، الأحکام ١٨ (٧١٦٦)، الاعتصام ٥ (٧٣٠٤)، صحیح مسلم/اللعان ١(١٤٩٢)، سنن النسائی/الطلاق ٣٥ (٣٤٩٦)، سنن ابن ماجہ/الطلاق ٢٧ (٢٠٦٦)، (تحفة الأشراف: ٤٨٠٥)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الطلاق ١٣(٣٤)، مسند احمد (٥/٣٣٠، ٣٣٤، ٣٣٦، ٣٣٧) (صحیح )
سہل ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے عاصم بن عدی ؓ سے فرمایا: بچے کی ولادت تک عورت کو اپنے پاس روکے رکھو ۔
Abd al-Hamid ibn Jafar reported from his father on the authority of his grandfather Rafi ibn Sinan that he (Rafi ibn Sinan) embraced Islam and his wife refused to embrace Islam. She came to the Prophet ﷺ and said: My daughter; she is weaned or about to wean. Rafi said: My daughter. The Prophet ﷺ said to him: Be seated on a side. And he said to her: Be seated on a side. He then seated the girl between them, and said to them: Call her. The girl inclined to her mother. The Prophet ﷺ said: O Allah! guide her. The daughter then inclined to her father, and he took her.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٤٧٩٦)، وقد أخرجہ: (حم ٥/٣٣٥) (حسن )
سہل بن سعد ساعدی ؓ کہتے ہیں کہ میں ان دونوں کے لعان میں نبی اکرم ﷺ کے پاس موجود رہا اور میں پندرہ سال کا تھا، پھر انہوں نے پوری حدیث بیان کی لیکن اس میں اتنا اضافہ کیا کہ پھر وہ عورت حاملہ نکلی چناچہ لڑکے کو اس کی ماں کی جانب منسوب کر کے پکارا جاتا تھا ۔
Sahl bin Saad Al Saeedi said that ‘Uwaimir bin Ashqar Al Ajilani came to Asim bin Adl and said to him “Asim tell me about a man who finds a man along with his wife. Should he kill him and then be killed by you, or how should he act? Ask the Messenger of Allah ﷺ Asim, for me about it. Asim then asked the Messenger of Allah ﷺ about it. The Messenger of Allah ﷺ disliked the question and denounced it. What Asim heard from the Messenger of Allah ﷺ fell heavy on him. When Asim returned to his family ‘Uwaimr came to him and asked Asim “What did the Messenger of Allah ﷺ say to you”? Asim replied “You did not do good to me”. The Messenger of Allah ﷺ disliked the question that I asked him. Thereupon ‘Uwaimir said “I swear by Allaah, I shall not leave until I ask him about it. So, ‘Uwaimir came to the Messenger of Allah ﷺ while he was sitting in the midst of the people. ” He said “Messenger of Allah ﷺ tell me about a man who finds a man along with his wife. Should he kill him and then be killed by you, or how should he act?” The Messenger of Allah ﷺ said “A revelation has been sent down about you and your wife so go away and bring her. Sahl said “So we cursed one another while I was along with the people who were with the Messenger of Allah ﷺ . Then when they finished, ‘Umamir said “I shall have lied against her, Messenger of Allah ﷺ if I keep her. He pronounced her divorce three times before the Messenger of Allah ﷺ commanded him (to do so). Ibn Shihab said “Then this became the method of invoking curses. ”
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، وانظر حدیث رقم (٢٢٤٥)، (تحفة الأشراف: ٤٨٠٥) (صحیح )
لعان والی حدیث میں سہل بن سعد ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس عورت پر نظر رکھو اگر بچہ سیاہ آنکھوں والا، بڑی سرینوں والا ہو تو میں یہی سمجھتا ہوں کہ اس (شوہر) نے سچ کہا ہے، اور اگر سرخ رنگ گیرو کی طرح ہو تو میں سمجھتا ہوں کی وہ جھوٹا ہے ، چناچہ اس کا بچہ ناپسندیدہ صفت پر پیدا ہوا۔
Abbas bin Sahl reported on the authority of his father “The Prophet ﷺ said to Asim bin ‘Adl. Keep the woman with you till she begets the child.
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم (٢٢٤٥)، (تحفة الأشراف: ٤٨٠٥) (صحیح )
اس سند سے بھی سہل بن سعد ساعدی ؓ سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے: تو اسے یعنی لڑکے کو اس کی ماں کی جانب منسوب کر کے پکارا جاتا تھا۔
Sahl bin Saad Al Saeedi said “I attended the invoking of the curses with the Messenger of Allah ﷺ when I was fifteen. He then narrated the rest of the tradition. In this version he said “She then came out pregnant and the child was ascribed to its mother.
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم (٢٢٤٥)، (تحفة الأشراف: ٤٨٠٥) (صحیح )
اس سند سے بھی سہل بن سعد ؓ سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے: انہوں (عاصم بن عدی) نے رسول اللہ ﷺ کی موجودگی میں اسے تین طلاق دے دی تو رسول ﷺ نے اسے نافذ فرما دیا، اور جو کام آپ کی موجودگی میں کیا گیا ہو وہ سنت ہے۔ سہل ؓ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس اس وقت میں موجود تھا، اس کے بعد لعان کرنے والے مرد اور عورت کے سلسلہ میں طریقہ ہی یہ ہوگیا کہ انہیں جدا کردیا جائے، اور وہ دونوں پھر کبھی اکٹھے نہ ہوں۔
Sahl bin Saad reported the Messenger of Allah ﷺ as saying - in the tradition of spouses who invoked curses to each other “Look if she bears a child which has very black eyes, large buttocks, I cannot but imagine that he (i. e., ‘Uwaimir) has spoken the truth. But, if she bears a reddish child like the lizard with red spots (waharah), I cannot imagine that ‘Uwaimir has lied against her. She gave birth to a child (like that described the Prophet ﷺ ) in a detestable manner.
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم (٢٢٤٥)، (تحفة الأشراف: ٤٨٠٥) (صحیح )
سہل بن سعد ؓ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے عہد میں دونوں لعان کرنے والوں کے پاس موجود تھا، اور میں پندرہ سال کا تھا، آپ ﷺ نے ان دونوں کے درمیان لعان کے بعد جدائی کرا دی، یہاں مسدد کی روایت پوری ہوگئی، دیگر لوگوں کی روایت میں ہے کہ: وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس موجود تھے آپ نے دونوں لعان کرنے والے مرد اور عورت کے درمیان جدائی کرا دی تو مرد کہنے لگا: اللہ کے رسول! اگر میں اسے رکھوں تو میں نے اس پر بہتان لگایا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں کہ سفیان ابن عیینہ کی کسی نے اس بات پر متابعت نہیں کی کہ: آپ ﷺ نے دونوں لعان کرنے والوں کے درمیان تفریق کرا دی ۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by Sahl bin Saad Al Saeedi through a different chain of narrators. This version adds the child was attributed to its mother.
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم (٢٢٤٥)، (تحفة الأشراف: ٤٨٠٥) (صحیح )
اس سند سے سہل بن سعد ؓ سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے کہ: وہ عورت حاملہ تھی اور اس نے اس کے حمل کا انکار کیا، چناچہ اس عورت کا بیٹا اسی طرف منسوب کر کے پکارا جاتا تھا، اس کے بعد میراث میں بھی یہی طریقہ رہا کہ اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ حصہ میں ماں لڑکے کی وارث ہوتی اور لڑکا ماں کا وارث ہوتا ۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by Sahl bin Saad Al Saeedi through a different chain of narrators. This version has “He divorced her three times before the Messenger of Allah ﷺ . The Messenger of Allah ﷺ implemented it and what is done before the Prophet ﷺ is sunnah (model behavior of the Prophet). Sahl said “I attended this before the Messenger of Allah ﷺ . Afterwards the sunnah about those who invoked curses on each other was established that they (the spouses) were separated from each other and they would never be united. ”
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم (٢٢٤٥)، (تحفة الأشراف: ٤٨٠٥) (صحیح )
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ میں (ایک دفعہ) جمعہ کی رات مسجد میں تھا کہ اچانک انصار کا ایک شخص مسجد میں آیا، اور کہنے لگا: اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی (اجنبی) آدمی کو پالے اور (حقیقت حال) بیان کرے تو تم لوگ اسے کوڑے لگاؤ گے، یا وہ قتل کر دے تو اس کے بدلے میں تم لوگ اسے قتل کر دو گے، اور اگر وہ چپ رہے تو اندر ہی اندر غصہ میں جلے بھنے، اللہ کی قسم، میں اس سلسلہ میں رسول اللہ ﷺ سے ضرور دریافت کروں گا، چناچہ جب دوسرا دن ہوا تو وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور اس نے عرض کیا کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی (اجنبی) آدمی کو پالے اور حقیقت حال بیان کرے تو (تہمت کی حد کے طور پر) آپ اسے کوڑے لگائیں گے، یا وہ قتل کر دے تو اسے قتل کردیں گے، یا وہ خاموشی اختیار کر کے اندر ہی غصہ سے جلے بھنے، یہ سن کر آپ ﷺ دعا کرنے لگے: اے اللہ! معاملے کی وضاحت فرما دے ، چناچہ لعان کی آیت والذين يرمون أزواجهم ولم يكن لهم شهداء إلا أنفسهم اور جو لوگ اپنی بیویوں کو تہمت لگاتے ہیں اور ان کے پاس گواہ نہ ہوں (سورۃ النور: ٦) آخر تک نازل ہوئی تو لوگوں میں یہی شخص اس مصیبت میں مبتلا ہوا چناچہ وہ دونوں میاں بیوی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان دونوں نے لعان کیا، اس آدمی نے چار بار اللہ کا نام لے کر اپنے سچے ہونے کی گواہی دی، اور پانچویں بار کہا کہ اگر وہ جھوٹا ہو تو اس پر اللہ کی لعنت ہو، پھر عورت لعان کرنے چلی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ٹھہرو ، لیکن وہ نہیں مانی اور لعان کر ہی لیا، تو جب وہ دونوں جانے لگے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: شاید یہ عورت کالا گھنگرالے بالوں والا بچہ جنم دے چناچہ اس نے وہ کالا اور گھنگرالے بالوں والا بچہ ہی جنم دیا۔
Sahl bin Saad said “The version of Musaddad has “I witnessed the invoking of curses by the two spouses during the life time of the Messenger of Allah ﷺ when I was fifteen years old. When they finished invoking curses, the Messenger of Allah ﷺ separated them from each other. Here ends the version of Musaddad. Others said “He was present when the Prophet ﷺ separated the spouses who invoked curses on each other. The man (Sahl) said “I shall have lied against her, Messenger of Allah ﷺ if I keep her. Abu Dawud said “Some narrators did not mention the word ‘alaiha (against her). ” Abu Dawud said “No one supported Ibn ‘Uyainah that he separated the spouses who invoked curses. ”
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/اللعان ١٠ (١٤٩٥)، سنن ابن ماجہ/الطلاق ٢٧ (٢٠٦٨)، (تحفة الأشراف: ٩٤٢٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٤٢١، ٤٤٨) (صحیح )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ ہلال بن امیہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ کے پاس اپنی بیوی پر شریک بن سحماء کے ساتھ (زنا کی) تہمت لگائی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ثبوت لاؤ ورنہ پیٹھ پر کوڑے لگیں گے ، تو ہلال نے کہا کہ: اللہ کے رسول! جب ہم میں سے کوئی شخص کسی آدمی کو اپنی بیوی کے ساتھ دیکھے تو وہ گواہ ڈھونڈنے جائے؟ اس پر بھی نبی اکرم ﷺ یہی فرمائے جا رہے تھے کہ: گواہ لاؤ، ورنہ تمہاری پیٹھ پر کوڑے پڑیں گے ، تو ہلال نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ نبی بنا کر بھیجا ہے میں بالکل سچا ہوں اور اللہ تعالیٰ ضرور میرے بارے میں وحی نازل کر کے میری پیٹھ کو حد سے بری کرے گا، چناچہ والذين يرمون أزواجهم ولم يكن لهم شهداء إلا أنفسهم کی آیت نازل ہوئی، آپ ﷺ نے اسے پڑھا یہاں تک کہ آپ پڑھتے پڑھتے من الصادقين ١ ؎ تک پہنچے، پھر آپ ﷺ پلٹے اور آپ نے ان دونوں کو بلوایا، وہ دونوں آئے، پہلے ہلال بن امیہ کھڑے ہوئے اور گواہی دینے لگے، نبی اکرم ﷺ فرما رہے تھے: اللہ خوب جانتا ہے کہ تم میں سے ایک جھوٹا ہے، تو کیا تم دونوں میں سے کوئی توبہ کرنے والا ہے؟ پھر عورت کھڑی ہوئی اور گواہی دینے لگی، پانچویں بار میں جب ان الفاظ کے کہنے کی باری آئی کہ اگر وہ سچا ہے تو مجھ پر اللہ کا غضب نازل ہو تو لوگ اس سے کہنے لگے: یہ عذاب کو واجب کردینے والا ہے۔ عبداللہ بن عباس ؓ کا بیان ہے: تو وہ ہچکچائی اور ہٹ گئی اور ہمیں یہ گمان ہوا کہ وہ باز آجائے گی، لیکن پھر کہنے لگی: ہمیشہ کے لیے میں اپنی قوم پر رسوائی کا داغ نہ لگاؤں گی (یہ کہہ کر) اس نے آخری جملہ کو بھی ادا کردیا۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: دیکھو اس کا ہونے والا بچہ اگر سرمگیں آنکھوں، بڑی سرینوں اور موٹی پنڈلیوں والا ہوا تو وہ شریک بن سحماء کا ہے ، چناچہ انہیں صفات کا بچہ پیدا ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا: اگر اللہ کی کتاب کا فیصلہ نہ آگیا ہوتا تو میرا اور اس کا معاملہ کچھ اور ہوتا ، یعنی میں اس پر حد جاری کرتا۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by Sahl bin Saad through a different chain of narrators. This version has “She was pregnant, he denied pregnancy from him. So her son was attributed to her. In the law of succession the practice (sunnah) was established that the son gets a share in the inheritance of his mother and the mother gets the share in the inheritance of her son according to the shares prescribed by Allaah the Exalted.
Notes · وضاحت
وضاحت ١ ؎: سورة النور: (٩-٦ )
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/تفسیر سورة النور (٣١٧٩)، سنن ابن ماجہ/الطلاق ٢٧ (٢٠٦٧)، مسند احمد (١/٢٧٣)، (تحفة الأشراف: ٦٢٢٥)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/تفسیر سورة النور ٢ (٤٧٤٦)، الطلاق ٢٩ (٥٣٠٨) (صحیح )
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے جس وقت دونوں کو لعان کا حکم فرمایا تو ایک شخص کو حکم دیا کہ پانچویں بار میں اپنا ہاتھ مرد کے منہ پر رکھ دے اور کہے: یہ (عذاب کو) واجب کرنے والا ہے۔
Abdullah (bin Masud) said “We were in the mosque on the night of a Friday, suddenly a man from the Ansar entered the mosque”. And said “If a man finds a man along with wife and declares (about her adultery) you will flog him. Or if he kills you, you will kill him or if keeps silence he will keep silence in anger. I swear by Allaah, I shall ask the Messenger of Allah ﷺ about it”. On the next day he came to the Messenger of Allah ﷺ and said “If a man finds a man along with wife and declares (about her adultery) you will flog him. Or if he kills you, you will kill him or if keeps silence he will keep silence in anger. ” He said “O Allaah, disclose”. He kept on praying until the verses regarding invoking curses (li’an) came down “As for those who accuse their wives but have no witnesses except themselves. ” So, the man was first involved in this trial among the people. He and his wife came to the Messenger of Allah ﷺ . They invoked curses on each other. The man bore witness before Allaah four times that the thing he said was indeed true. He then invoked curse of Allaah on him for the fifth time if he was a liar. She then wanted to invoke curses of Allaah on him. The Prophet ﷺ said “Do not do that. Bust she refused and did so (i. e., invoked curses). When they returned he said “Perhaps she will give birth to a black child with curly hair.
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ ہلال بن امیہ ؓ (جو کہ ان تین اشخاص میں سے ایک تھے جن کی اللہ تعالیٰ نے (ایک غزوہ میں پچھڑ جانے کی وجہ سے سرزنش کے بعد) توبہ قبول فرمائی تھی، وہ) اپنی زمین سے رات کو آئے تو اپنی بیوی کے پاس ایک آدمی کو پایا، اپنی آنکھوں سے سارا منظر دیکھا، اور کانوں سے پوری گفتگو سنی، لیکن صبح تک اس معاملہ کو دبا کر رکھا، صبح ہوئی تو رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! رات کو میں گھر آیا تو اپنی بیوی کے پاس ایک مرد کو پایا، اپنی آنکھوں سے (سب کچھ) دیکھا، اور کانوں سے (سب) سنا، ان کی ان باتوں کو آپ نے ناپسند کیا اور ان پر ناگواری کا اظہار فرمایا، تو یہ دونوں آیتیں نازل ہوئیں والذين يرمون أزواجهم ولم يكن لهم شهداء إلا أنفسهم فشهادة أحدهم اور جو لوگ اپنی بیویوں پر بدکاری کی تہمت لگائیں اور ان کے پاس کوئی گواہ بجز ان کی ذات کے نہ ہو تو ایسے لوگوں میں سے ہر ایک کا ثبوت یہ ہے کہ چار مرتبہ اللہ کی قسم کھا کر کہیں کہ وہ سچوں میں سے ہیں اور پانچویں مرتبہ کہے کہ اس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو اگر وہ جھوٹوں میں سے ہو (سورۃ النور: ٧، ٦) پھر رسول اللہ ﷺ سے جب وحی کی کیفیت دور ہوئی تو آپ نے فرمایا: ہلال! خوش ہوجاؤ، اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے کشادگی کا راستہ نکال دیا ہے ، ہلال ؓ نے کہا: مجھے اپنے پروردگار سے اسی کی امید تھی۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اسے بلواؤ ، تو وہ آئی تو آپ نے دونوں پر یہ آیتیں تلاوت فرمائیں، اور نصیحت کی نیز بتایا کہ: آخرت کا عذاب دنیا کے عذاب سے بہت سخت ہے ۔ ہلال ؓ نے کہا: قسم اللہ کی میں نے اس کے متعلق جو کہا ہے سچ کہا ہے، وہ کہنے لگی: یہ جھوٹے ہیں، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ان کے درمیان لعان کراؤ ، چناچہ ہلال ؓ سے کہا گیا کہ وہ گواہی دیں تو انہوں نے چار بار اللہ کا نام لے کر گواہی دی کہ وہ سچے ہیں، پانچویں کے وقت کہا گیا: ہلال! اللہ سے ڈرو کیونکہ دنیا کا عذاب آخرت کے عذاب کے مقابلے میں بہت آسان ہے، اور اس بار کی گواہی تمہارے لیے عذاب کو واجب کر دے گی، وہ بولے: اللہ کی قسم! جس طرح اللہ تعالیٰ نے مجھے کوڑوں سے بچایا ہے اسی طرح عذاب سے بھی بچائے گا، چناچہ پانچویں گواہی بھی دے دی کہ اگر وہ جھوٹے ہوں تو ان پر اللہ کی لعنت ہو۔ پھر عورت سے گواہی دینے کے لیے کہا گیا، تو اس نے بھی چار بار گواہی دی کہ وہ جھوٹے ہیں، پانچویں بار اس سے بھی کہا گیا کہ اللہ سے ڈر جا کیونکہ دنیا کا عذاب آخرت کے عذاب کے مقابلے میں بہت آسان ہے، اور اس دفعہ کی گواہی عذاب کو واجب کر دے گی، یہ سن کر وہ ایک لمحہ کے لیے ہچکچائی پھر بولی: اللہ کی قسم میں اپنی قوم کو رسوا نہ کروں گی، چناچہ پانچویں بار بھی گواہی دے دی کہ اگر وہ سچے ہوں تو مجھ پر اللہ کی لعنت ہو۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے ان کے درمیان تفریق کرا دی، اور فیصلہ فرمایا کہ اس کا لڑکا باپ کی طرف نہ منسوب کیا جائے، اور لڑکے اور عورت کو تہمت نہ لگائی جائے جو اس پر یا اس کے لڑکے پر اب تہمت لگائے گا تو اس پر تہمت کی حد جاری کی جائے گی، نیز آپ ﷺ نے فیصلہ فرمایا کہ اسے نان نفقہ اور رہائش نہیں ملے گی، کیونکہ ان کی جدائی نہ تو طلاق کی بنا پر ہوئی ہے اور نہ شوہر کے انتقال کی وجہ سے، اور آپ ﷺ نے فرمایا: اگر وہ بھورے بالوں والا، پتلی سرین والا، چوڑی پیٹھ والا اور پتلی پنڈلیوں والا بچہ جنے تو وہ ہلال کا (نطفہ) ہے، اور اگر مٹیالے رنگ والا، گھنگرالے بالوں والا، موٹی پنڈلیوں والا، اور بھاری سرین والا جنے تو اس کا جس کے نام کی تہمت لگائی گئی ہے ، چناچہ اس عورت کا بچہ مٹیالے رنگ کا گھنگرالے بالوں والا، موٹی پنڈلیوں والا اور بھاری سرین والا پیدا ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر قسمیں نہ ہوتیں تو میرا اور اس کا معاملہ کچھ اور ہوتا ۔ عکرمہ کہتے ہیں: یہی بچہ آگے چل کر مضر کا امیر بنا، اسے باپ کی جانب منسوب نہیں کیا جاتا تھا۔
Ibn Abbas said “Hilal bin Umayyah accused his wife in the presence of Prophet ﷺ of having committed adultery with Sharik bin Sahma’”. The Prophet ﷺ said “Produce evidence or you must receive punishment on your back. ” He said “Messenger of Allah ﷺ when one of us sees a man having intercourse with his wife should he go and seek evidence?” But the Prophet ﷺ merely said “You must produce evidence or you must receive punishment on your back. ” Hilal then said “By Him Who sent you with the Truth, I am speaking Truly. May Allaah send down something which will free my back from punishment. Then the following Quranic verses were revealed “And those who make charges against their spouses but have no witnesses except themselves” reciting till he reached “one of those who speak the truth”. The Prophet ﷺ then returned and sent for them and they came (to him). Hilal bin Umayyah stood up and testified and the Prophet ﷺ was saying “Allaah knows that one of you is lying. Will one of you repent?” Then the woman got up and testified, but when she was about to do it a fifth time saying that Allaah’s anger be upon her if he was one of those who spoke the truth, they said to her “this is the deciding one”. Ibn Abbas said “She then hesitated and drew back so that we thought the she would withdraw (what she said) “Look and see whether she gives birth to a child with eyes looking as if they have antimony in them, wide buttocks and fat legs, if she did. Sharik bin Sahma’ will be its father. She then gave birth to a child of a similar description. The Prophet ﷺ thereupon said “If it were not for what has already been stated in Allaah’s book I would have dealt severely with her. ” Abu Dawud said “This tradition has been transmitted by the people of Madina alone. They narrated the tradition of Hilal on the authority of Ibn Bashshar. ”
Takhrij · تخریج
وانظر حدیث رقم (٢٢٥٤)، (تحفة الأشراف: ٦١٣٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٣٨، ٢٤٥) (ضعیف) (اس کے راوی عباد بن منصور کی اکثر ائمہ نے تضعیف کی ہے اس لئے ان کی اس روایت کے جن بیانات کی متابعت سابقہ حدیث سے ہوجاتی ہے انہیں کو لیا جائیگا اور باقی منفرد بیانات سے قطع نظر کیا جائے گا )