جو باندی کسی آزاد مرد یا غلام کے نکاح میں ہو اور وہ آزاد کردی جائے تو کیا اس کو فسخ نکاح کا اختیار ہے؟
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ فِي قِصَّةِ بَرِيرَةَ، قَالَتْ: كَانَ زَوْجُهَا عَبْدًا فَخَيَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا، وَلَوْ كَانَ حُرًّا لَمْ يُخَيِّرْهَا.
ام المؤمنین عائشہ ؓ سے بریرہ کے قصہ میں روایت ہے کہ اس کا شوہر غلام تھا، رسول اللہ ﷺ نے بریرہ کو (آزاد ہونے کے بعد) اختیار دے دیا تو انہوں نے اپنے آپ کو اختیار کیا، اگر وہ آزاد ہوتا تو آپ اسے (بریرہ کو) اختیار نہ دیتے۔
Ibn Abbas said “Mughith was a slave. ” He said “Messenger of Allah ﷺ make intercession for me to her (Barirah)”. The Messenger of Allah ﷺ said “O Barirah fear Allaah. He is your husband and father of your child”. She said “Messenger of Allah ﷺ do you command me for that? He said No, I am only interceding. Then tears were falling down on his (her husband’s) cheeks. The Messenger of Allah ﷺ said to Abbas “Are you not surprised with the love of Mughith for Barirah and her hatred for him. ”