Sunan Abu Dawood 2232

طلاق کا بیان

2232Sunan Abu Dawood

جو باندی کسی آزاد مرد یا غلام کے نکاح میں ہو اور وہ آزاد کردی جائے تو کیا اس کو فسخ نکاح کا اختیار ہے؟

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ زَوْجَ بَرِيرَةَ كَانَ عَبْدًا أَسْوَدَ يُسَمَّى مُغِيثًا، فَخَيَّرَهَا يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَمَرَهَا أَنْ تَعْتَدَّ.

عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ بریرہ ؓ کے شوہر ایک کالے کلوٹے غلام تھے جن کا نام مغیث ؓ تھا، تو نبی اکرم ﷺ نے انہیں (مغیث کے ساتھ رہنے یا نہ رہنے کا) اختیار دیا اور (نہ رہنے کی صورت میں) انہیں عدت گزارنے کا حکم فرمایا۔

Ibn Umar said “The waiting period of a woman who separates herself from her husband for compensation is a menstrual period. ”

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الطلاق ١٥ (٥٢٨٠)، (تحفة الأشراف: ٦١٨٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٨١، ٣٦١) (صحیح )