جو باندی کسی آزاد مرد یا غلام کے نکاح میں ہو اور وہ آزاد کردی جائے تو کیا اس کو فسخ نکاح کا اختیار ہے؟
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ زَوْجَ بَرِيرَةَ كَانَ عَبْدًا أَسْوَدَ يُسَمَّى مُغِيثًا، فَخَيَّرَهَا يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَمَرَهَا أَنْ تَعْتَدَّ.
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ بریرہ ؓ کے شوہر ایک کالے کلوٹے غلام تھے جن کا نام مغیث ؓ تھا، تو نبی اکرم ﷺ نے انہیں (مغیث کے ساتھ رہنے یا نہ رہنے کا) اختیار دیا اور (نہ رہنے کی صورت میں) انہیں عدت گزارنے کا حکم فرمایا۔
Ibn Umar said “The waiting period of a woman who separates herself from her husband for compensation is a menstrual period. ”