Sunan Abu Dawood 2209

طلاق کا بیان

2209Sunan Abu Dawood

محض طلاق کے خیال سے طلاق واقع نہیں ہوتی

حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّ اللَّهَ تَجَاوَزَ لِأُمَّتِي عَمَّا لَمْ تَتَكَلَّمْ بِهِ أَوْ تَعْمَلْ بِهِ، وَبِمَا حَدَّثَتْ بِهِ أَنْفُسَهَا.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے میری امت سے ان چیزوں کو معاف کردیا ہے جنہیں وہ زبان پر نہ لائے یا ان پر عمل نہ کرے، اور ان چیزوں کو بھی جو اس کے دل میں گزرے ١ ؎۔

Abu Hurairah reported the Prophet ﷺ as saying “Allah has ignored for my community what comes to their mind, so long as they do not act or pronounce words to that effect. ”

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی دل میں طلاق کا صرف خیال کرنے سے طلاق واقع نہیں ہوگی۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/العتق ٦ (٢٥٢٨)، والطلاق ١١ (٥٢٦٩)، والأیمان والنذور ١٥ (٦٦٦٤)، صحیح مسلم/الإیمان ٥٨ (١٢٧)، سنن الترمذی/الطلاق ٨ (١١٨٣)، سنن النسائی/الطلاق ٢٢ (٣٤٦٤، ٣٤٦٥)، سنن ابن ماجہ/الطلاق ١٤ (٢٠٤٠)، (تحفة الأشراف: ١٢٨٩٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣٩٣، ٣٩٨، ٤٢٥، ٤٧٤، ٤٨١، ٤٩١) (صحیح )