ابومصعب ہی کی سند سے ربیعہ سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے۔ سلیمان کہتے ہیں میں نے سہیل سے ملاقات کی اور اس حدیث کے متعلق ان سے پوچھا: تو انہوں نے کہا: میں اسے نہیں جانتا تو میں نے ان سے کہا: ربیعہ نے مجھے آپ کے واسطہ سے اس حدیث کی خبر دی ہے تو انہوں نے کہا: اگر ربیعہ نے تمہیں میرے واسطہ سے خبر دی ہے تو تم اسے بواسطہ ربیعہ مجھ سے روایت کرو۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by Rabiah through the chain of Abu Musab and to the same effect. Sulaiman said: I then met Suhail and asked him about this tradition. He said: I do not know it. I said to him: Rabiah transmitted it to me from you. He said: If Rabiah transmitted it to you from me, then retransmit it from Rabiah on my authority.
زبیب عنبری کہتے ہیں کہ اللہ کے نبی کریم ﷺ نے بنی عنبر کی طرف ایک لشکر بھیجا، تو لشکر کے لوگوں نے انہیں مقام رکبہ ١ ؎ میں گرفتار کرلیا، اور انہیں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں پکڑ لائے، میں سوار ہو کر ان سے آگے نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، اور کہا: السلام علیک یا نبی اللہ ورحمۃ اللہ وبرکاتہ آپ کا لشکر ہمارے پاس آیا اور ہمیں گرفتار کرلیا، حالانکہ ہم مسلمان ہوچکے تھے اور ہم نے جانوروں کے کان کاٹ ڈالے تھے ٢ ؎، جب بنو عنبر کے لوگ آئے تو مجھ سے اللہ کے نبی کریم ﷺ نے فرمایا: تمہارے پاس اس بات کی گواہی ہے کہ تم گرفتار ہونے سے پہلے مسلمان ہوگئے تھے؟ میں نے کہا: ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا: کون تمہارا گواہ ہے؟ میں نے کہا: بنی عنبر کا سمرہ نامی شخص اور ایک دوسرا آدمی جس کا انہوں نے نام لیا، تو اس شخص نے گواہی دی اور سمرہ نے گواہی دینے سے انکار کردیا، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: سمرہ نے تو گواہی دینے سے انکار کردیا، تم اپنے ایک گواہ کے ساتھ قسم کھاؤ گے؟ میں نے کہا: ہاں، چناچہ آپ ﷺ نے مجھے قسم دلائی، پس میں نے اللہ کی قسم کھائی کہ بیشک ہم لوگ فلاں اور فلاں روز مسلمان ہوچکے تھے اور جانوروں کے کان چیر دیئے تھے، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جاؤ اور ان کا آدھا مال تقسیم کرلو اور ان کی اولاد کو ہاتھ نہ لگانا، اگر اللہ تعالیٰ مجاہدین کی کوششیں بیکار ہونا برا نہ جانتا تو ہم تمہارے مال سے ایک رسی بھی نہ لیتے ۔ زبیب کہتے ہیں: مجھے میری والدہ نے بلایا اور کہا: اس شخص نے تو میرا تو شک چھین لیا ہے میں نبی اکرم ﷺ کے پاس گیا اور آپ سے (صورت حال) بیان کی، آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: اسے پکڑ لاؤ میں نے اسے اس کے گلے میں کپڑا ڈال کر پکڑا اور اس کے ساتھ اپنی جگہ پر کھڑا ہوگیا، پھر نبی کریم ﷺ نے ہم دونوں کو کھڑا دیکھ کر فرمایا: تم اپنے قیدی سے کیا چاہتے ہو؟ تو میں نے اسے چھوڑ دیا، نبی اکرم ﷺ کھڑے ہوئے اور اس آدمی سے فرمایا: تو اس کی والدہ کا تو شک واپس کرو جسے تم نے اس سے لے لیا ہے اس شخص نے کہا: اللہ کے نبی! وہ میرے ہاتھ سے نکل چکا ہے، وہ کہتے ہیں: تو اللہ کے نبی نے اس آدمی کی تلوار لے لی اور مجھے دے دی اور اس آدمی سے کہا: جاؤ اور اس تلوار کے علاوہ کھانے کی چیزوں سے چند صاع اور اسے دے دو وہ کہتے ہیں: اس نے مجھے (تلوار کے علاوہ) جو کے چند صاع مزید دئیے۔
Narrated Zubayb ibn Thalabah al-Anbari (RA) : The Messenger of Allah ﷺ sent an army to Banu al-Anbar. They captured them at Rukbah in the suburbs of at-Taif and drove them to the Holy Prophet ﷺ . I rode hurriedly to the Holy Prophet ﷺ and said: Peace be on you, Messenger of Allah, and the mercy of Allah and His blessings. Your contingent came to us and arrested us, but we had already embraced Islam and cut the sides of the ears of our cattle. When Banu al-Anbar arrived, the Holy Prophet ﷺ said to me: Have you any evidence that you had embraced Islam before you were captured today? I said: Yes. He said: Who is your witness? I said: Samurah, a man from Banu al-Anbar, and another man whom he named. The man testified but Samurah refused to testify. The Holy Prophet ﷺ said: He (Samurah) has refused to testify for you, so take an oath with your other witness. I said: Yes. He then dictated an oath to me and I swore to the effect that we had embraced Islam on a certain day, and that we had cut the sides of the ears of the cattle. The Holy Prophet ﷺ said: Go and divide half of their property, but do not touch their children. Had Allah not disliked the wastage of action, we should not have taxed you even a rope. Zubayb said: My mother called me and said: This man has taken my mattress. I then went to the Holy Prophet ﷺ and informed him. He said to me: Detain him. So I caught him with a garment around his neck, and stood there with him. Then the Holy Prophet ﷺ looked at us standing there. He asked: What do you intend (doing) with your captive? I said: I shall let him go free if he returns to this (man) the mattress of his mother which he has taken from her. He said: Prophet of Allah ﷺ , I no longer have it. He said: The Holy Prophet ﷺ took the sword of the man and gave it to me, and said to him: Go and give him some sas of cereal. So he gave me some sas of barley.
Notes · وضاحت
١ ؎: ” ركبة “: طائف کے نواح میں ایک جگہ ہے۔ ٢ ؎: خطابی کہتے ہیں: شاید پہلے زمانہ میں مسلمانوں کے جانوروں کی یہ علامت رہی ہوگی کہ ان کے کان پھٹے ہوں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٣٦١٩) (ضعیف) (اس کے رواة ” عمار “ اور ” شعیث “ دونوں لین الحدیث ہیں )
ابوموسیٰ اشعری ؓ کہتے ہیں کہ دو شخصوں نے ایک اونٹ یا چوپائے کا رسول اللہ ﷺ کے پاس دعویٰ کیا اور ان دونوں میں سے کسی کے پاس کوئی گواہ نہیں تھا تو نبی اکرم ﷺ نے اس چوپائے کو ان کے درمیان تقسیم فرما دیا۔
Narrated Abu Musa al-Ashari (RA) : Two men claimed a camel or an animal and brought the case to the Holy Prophet ﷺ . But as neither of them produced any proof, the Holy Prophet ﷺ declared that they should share it equally.
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/آداب القضاة ٣٤ (٥٤٢٦)، سنن ابن ماجہ/الأحکام ١١ (٢٣٣٠)، (تحفة الأشراف والإرواء: ٢٦٥٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٤٠٢) (ضعیف) (قتادة سے مروی ان احادیث میں روایت ابو موسیٰ اشعری سے ہے، اور بعض رواة اسے سعید بن ابی بردہ عن ابیہ مرسلاً روایت کیا ہے، اور بعض حفاظ نے اسے حرب سے مرسلاً صحیح مانا ہے )
اس سند سے بھی قتادہ سے اسی طریق سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے اس میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ کے زمانے میں دو آدمیوں نے کسی ایک اونٹ کا دعویٰ کیا، اور دونوں نے دو دو گواہ پیش کئے، تو نبی اکرم ﷺ نے اسے دونوں کے درمیان آدھا آدھا تقسیم کردیا۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by Qatadah through a different chain of narrators to the effect that two men laid claim camel and both of them produced witness so the prophet ﷺ divided it in halves between them.
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ دو آدمی ایک سامان کے متعلق نبی اکرم ﷺ کے پاس جھگڑا لے کر گئے اور دونوں میں سے کسی کے پاس کوئی گواہ نہیں تھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: تم دونوں قسم پر قرعہ اندازی کرو ١ ؎ خواہ تم اسے پسند کرو یا ناپسند ۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : Two men disputed about some property and brought the case to the Holy Prophet ﷺ , but neither of them could produce any proof. So the Holy Prophet ﷺ said: Cast lots about the oath whatever it may be, whether they like it or dislike it.
Notes · وضاحت
١ ؎: قسم (حلف) پر قرعہ اندازی کا مطلب یہ ہے کہ جس کے نام قرعہ نکلے وہ قسم کھا کر سامان لے لے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الأحکام ١١ (٢٣٢٩)، (تحفة الأشراف: ١٤٦٦٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٤٨٩، ٥٢٤) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب دونوں آدمی قسم کھانے کو برا جانیں، یا دونوں قسم کھانا چاہیں تو قسم کھانے پر قرعہ اندازی کریں (اور جس کے نام قرعہ نکلے وہ قسم کھا کر اس چیز کو لے لے) ۔ سلمہ کہتے ہیں: عبدالرزاق کی روایت میں حدثنا معمر کے بجائے أخبرنا معمر اور إذا كَرِهَ الاثنان اليمين کے بجائے إذا أكره الاثنان على اليمين ہے۔
Abu Hurairah reported the holy prophet ﷺ as saying: When two men dislike the oath or like it, lots will be cost about it. Salamah said on the authority of Mamar who said: when the two are compelled to take an oath.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/ الشہادات ٢٤ (٢٦٧٤)، (تحفة الأشراف: ١٤٦٩٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣١٧)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/ الکبری (٦٠٠١) (صحیح )
سعید بن ابی عروبہ سے ابن منہال کی سند سے اسی کے مثل مروی ہے اس میں في متاع کے بجائے في دابة کے الفاظ ہیں یعنی دو شخصوں نے ایک چوپائے کے سلسلہ میں جھگڑا کیا اور ان کے پاس کوئی گواہ نہیں تھا، تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں قسم پر قرعہ اندازی کا حکم دیا۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by Saeed bin ‘Urubah through the chain as narrated by Ibn Minhal. This version has: About an animal and they had no proof. So the Messenger of Allah ﷺ ordered to cast lots about the oath.
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (٣٦١٦)، (تحفة الأشراف: ١٤٦٦٢) (صحیح) بما قبلہ
ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں کہ ابن عباس ؓ نے میرے پاس لکھا کہ رسول اللہ ﷺ نے مدعی علیہ پر قسم کا فیصلہ کیا ہے (یعنی جب وہ منکر ہو اور مدعی کے پاس گواہ نہ ہو تو وہ قسم کھائے) ۔
Ibn Abi Mulaikah said: Ibn Abbas wrote to me that the Messenger of Allah ﷺ had defendant should take an oath.
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک شخص سے قسم کھلائی تو یوں فرمایا: اس اللہ کی قسم کھاؤ جس کے سوا کوئی بندگی کے لائق نہیں کہ تیرے پاس اس (یعنی مدعی کی) کی کوئی چیز نہیں ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابویحییٰ کا نام زیاد کوفی ہے اور وہ ثقہ ہیں۔
Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : The Holy Prophet ﷺ said to a man whom he asked to take an oath: Swear by Allah except whom there is no god that you have nothing belonging to him, i. e. the plaintiff.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٥٤٣١)، وقد أخرجہ: مسند احمد ١/٢٨٨) (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی عطاء اخیر عمر میں مختلط ہوگئے تھے )
اشعث ؓ کہتے ہیں کہ میرے اور ایک یہودی کے درمیان کچھ (مشترک) زمین تھی، یہودی نے میرے حصہ کا انکار کیا، میں اسے نبی اکرم ﷺ کے پاس لے گیا تو نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے فرمایا: کیا تمہارے پاس کوئی گواہ ہے؟ میں نے کہا: نہیں، آپ ﷺ نے یہودی سے فرمایا: تم قسم کھاؤ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! تب تو یہ قسم کھا کر میرا مال ہڑپ لے گا، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: إن الذين يشترون بعهد الله وأيمانهم جو لوگ اللہ کا عہد و پیمان دے کر اور اپنی قسمیں کھا کر تھوڑا مال خریدتے ہیں آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہیں (سورة آل عمران: ٧٧) ۔
Al-Ashath bin Qais said: A Jew and I shared some land and he denied my right, so I took him to the holy prophet ﷺ . The holy prophet ﷺ said to me: Have you have proof. I said: No. He then said to the Jew: Swear an oath I said Messenger of Allah, he will swear an oath and go off my property. So Allah sent down: “Those who barter for a small price Allah’s covenant and their oaths. . . . to the end of the verse.
اشعث بن قیس ؓ کہتے ہیں ایک کندی اور ایک حضرمی یمن کی ایک زمین کے سلسلے میں جھگڑتے ہوئے نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے، حضرمی نے کہا: اللہ کے رسول! اس (کندی) کے باپ نے مجھ سے میری زمین غصب کرلی ہے اور وہ زمین اس کے قبضے میں ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: کیا تمہارے پاس کوئی گواہ ہے حضرمی نے کہا: نہیں لیکن میں اس کو اس بات پر قسم دلاؤں گا کہ وہ نہیں جانتا کہ میری زمین کو اس کے باپ نے مجھ سے غصب کرلیا ہے؟ تو وہ کندی قسم کے لیے آمادہ ہوگیا، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی (جو گزر چکی نمبر: ٣٢٤٤) ۔
Al-Ashath bin Qais said: A men from Kindah and a men from Hadramawt came to the Holy Prophet ﷺ with their dispute about a land in the Yemen. The Hadrami said: Messenger of Allah, the this (man)had usurped land belonging to me, and it is his possession. He asked: Have you any proof ?He replied: No, but I can have him swear on oath. Allah knows that it is my land, and father seized it from me. The Kindi was prepared to take oath. He then narrated the rest of the tradition.
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (٣٢٤٤)، (تحفة الأشراف: ١٥٩) (صحیح )
وائل بن حجر حضرمی ؓ کہتے ہیں ایک حضرمی اور ایک کندی رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے تو حضرمی نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اس شخص نے میرے والد کی زمین مجھ سے چھین لی ہے، کندی نے کہا: یہ تو میری زمین ہے میں اسے جوتتا ہوں اس میں اس کا حق نہیں ہے، نبی اکرم ﷺ نے حضرمی سے فرمایا: کیا تیرے پاس کوئی گواہ ہے؟ اس نے کہا: نہیں، تب آپ ﷺ نے (کندی سے) فرمایا: تو تیرے لیے قسم ہے تو حضرمی نے کہا: اللہ کے رسول! یہ تو ایک فاجر شخص ہے اسے قسم کی کیا پرواہ؟ وہ کسی چیز سے پرہیز نہیں کرتا، آپ ﷺ نے فرمایا: سوائے اس کے اس پر تیرا کوئی حق نہیں ۔
Alqamah bin Wail bin Hujr al-Hadrami said on the authority of the father: A man from Hadramaw and a man from kindah came to the Messenger of Allah ﷺ . The hadrami said: Messenger of Allah, this (man) has seized land which belonged to my father. Al-Kindi said: That is my land in my possession and I cultivate it; he has no right to it. The Holy prophet (may be peace upon him) said to the Hadrami: Have you any proof? We said: No. he (the Prophet)said: Then he will swear an oath for you. He said: Messenger of Allah, he is a reprobate and he would not care to swear to anything and stick at nothing. He said: That is only your recourse
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (٣٢٤٥)، (تحفة الأشراف: ١١٧٦٨) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے یہودیوں سے فرمایا: میں تمہیں اس اللہ کی قسم دیتا ہوں جس نے موسیٰ (علیہ السلام) پر تورات نازل کی کہ تم لوگ زانی کے متعلق تورات میں کیا حکم پاتے ہو ۔ اور راوی نے واقعہ رجم سے متعلق پوری حدیث بیان کی۔
Abu Hurairah said: The holy Prophet ﷺ said to the Jew: I adjure you by Allah Who sent down the Torah to Moses! do you not find in the Torah (a rule about a man) who commits adultery. He then narrated the rest of the tradition relating to the stoning.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، وانظر حدیث رقم (٤٨٨)، (تحفة الأشراف: ١٥٤٩٢) (ضعیف) (اس کا راوی رجل من مزینة مبہم ہے )
اس سند سے بھی زہری سے یہی حدیث اسی طریق سے مروی ہے اس میں ہے کہ مجھ سے مزینہ کے ایک آدمی نے جو علم کا شیدائی تھا اور اسے یاد رکھتا تھا بیان کیا ہے وہ سعید بن مسیب سے بیان کر رہا تھا، پھر راوی نے پوری حدیث اسی مفہوم کی ذکر کی۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by al-Zuhri through a different chain of narrator. This version has: A man from Muzainah who followed the knowledge and memorized it to me that Saeed bin al-Musayyab transmitted it. He then mentioned the rest of the tradition to the same effect.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، وانظر حدیث رقم (٤٨٨)، (تحفة الأشراف: ١٥٤٩٢) (ضعیف) (اس کی سند میں بھی وہی مجہول راوی ہے )
عکرمہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے اس سے یعنی ابن صوریا ١ ؎ سے فرمایا: میں تمہیں اس اللہ کی یاد دلاتا ہوں جس نے تمہیں آل فرعون سے نجات دی، تمہارے لیے سمندر میں راستہ بنایا، تمہارے اوپر ابر کا سایہ کیا، اور تمہارے اوپر من وسلوی نازل کیا، اور تمہاری کتاب تورات کو موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل کیا، کیا تمہاری کتاب میں رجم (زانی کو پتھر مارنے) کا حکم ہے؟ ابن صوریا نے کہا: آپ نے بہت بڑی چیز کا ذکر کیا ہے لہٰذا میرے لیے آپ سے جھوٹ بولنے کی کوئی گنجائش نہیں رہی اور راوی نے پوری حدیث بیان کی۔
Narrated Ikrimah (RA) : The Holy Prophet ﷺ said to Ibn Suriya: I remind you by Allah Who saved you from the people of Pharaoh, made you cover the sea, gave you the shade of clouds, sent down to you manna and quails, sent down you Torah to Moses, do you find stoning (for adultery) in your Book? He said: You have reminded me by the Great. It is not possible for me to belie you. He then transmitted the rest of the tradition.
Notes · وضاحت
١ ؎: ایک یہودی عالم کا نام ہے۔
Takhrij · تخریج
تفر بہ أبو داود (صحیح) (شواہد اور متابعات سے تقویت پاکر یہ روایت صحیح ہے، ورنہ خود یہ مرسل ہے )
عوف بن مالک ؓ کہتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے دو شخصوں کے درمیان فیصلہ کیا، تو جس کے خلاف فیصلہ دیا گیا واپس ہوتے ہوئے کہنے لگا: مجھے بس اللہ کافی ہے اور وہ بہتر کار ساز ہے، اس پر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ بیوقوفی پر ملامت کرتا ہے لہٰذا زیر کی و دانائی کو لازم پکڑو، پھر جب تم مغلوب ہوجاؤ تو کہو: میرے لیے بس اللہ کافی ہے اور وہ بہترین کار ساز ہے ۔
Narrated Awf ibn Malik: The Holy Prophet ﷺ gave a decision between two men, and the one against whom the decision was given turned away and said: For me Allah sufficeth, and He is the best dispenser of affairs. The Holy Prophet ﷺ said: Allah, Most High, blames for falling short, but apply intelligence, and when the matter gets the better of you, say; For me Allah sufficeth, and He is the best disposer of affairs.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١٠٩١٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٢٥) (ضعیف) (اس کے راوی بقیہ ضعیف ہیں )
شرید ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مالدار آدمی کا ٹال مٹول کرنا اس کی ہتک عزتی اور سزا کو جائز کردیتا ہے ۔ ابن مبارک کہتے ہیں: ہتک عزتی سے مراد اسے سخت سست کہنا ہے، اور سزا سے مراد اسے قید کرنا ہے۔
Narrated Ash-Sharid: The Prophet ﷺ said: Delay in payment on the part of one who possesses means makes it lawful to dishonour and punish him. Ibn al-Mubarak said that dishonour means that he may be spoken to roughly and punish means he may be imprisoned for it.
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/البیوع ٩٨ (٤٦٩٣)، سنن ابن ماجہ/الصدقات ١٨ (٢٤٢٧)، (تحفة الأشراف: ٤٨٣٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢٢٢، ٣٨٨، ٣٨٩) (حسن )
حبیب تمیمی عنبری سے روایت ہے کہ ان کے والد نے کہا: میں رسول اللہ ﷺ کے پاس اپنے ایک قرض دار کو لایا تو آپ نے مجھ سے فرمایا: اس کو پکڑے رہو پھر آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: اے بنو تمیم کے بھائی تم اپنے قیدی کو کیا کرنا چاہتے ہو؟ ۔
Narrated Grandfather of Hirmas ibn Habib: I brought my debtor to the Holy Prophet ﷺ . He said to me: Stick to him. He again said to me: O brother of Banu Tamim, what do you want to do with your prisoner.
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الصدقات ١٨ (٢٤٢٨)، (تحفة الأشراف: ١٥٥٤٤) (ضعیف) (اس کے راوی ہر م اس اور حبیب دونوں مجہول ہیں )