عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں جب یہ آیت فإن جاءوک فاحکم بينهم أو أعرض عنهم جب کافر آپ کے پاس آئیں تو آپ ان کا فیصلہ کریں یا نہ کریں (سورۃ المائدہ: ٤٢) وإن حکمت فاحکم بينهم بالقسط اور اگر تم ان کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل و انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو (سورۃ المائدہ: ٤٢) نازل ہوئی تو دستور یہ تھا کہ جب بنو نضیر کے لوگ قریظہ کے کسی شخص کو قتل کردیتے تو وہ آدھی دیت دیتے، اور جب بنو قریظہ کے لوگ بنو نضیر کے کسی شخص کو قتل کردیتے تو وہ پوری دیت دیتے، تو اس آیت کے نازل ہوتے ہی رسول اللہ ﷺ نے دیت برابر کردی۔
Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : When this verse was revealed: If they do come to thee, either judge between them, or decline to interfere. . . . If thou judge, judge in equity between them. Banu an-Nadir used to pay half blood-money if they killed any-one from Banu Qurayzah. When Banu Qurayzah killed anyone from Banu an-Nadir, they would pay full blood-money. So the Messenger of Allah ﷺ made it equal between them.
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/القسامة ٥ (٤٧٣٧)، (تحفة الأشراف: ٦٠٧٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٣٦٣) (حسن )
معاذ بن جبل ؓ کے اصحاب میں سے حمص کے کچھ لوگ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے معاذ ؓ کو جب یمن (کا گورنر) بنا کرب بھیجنے کا ارادہ کیا تو آپ ﷺ نے ان سے پوچھا: جب تمہارے پاس کوئی مقدمہ آئے گا تو تم کیسے فیصلہ کرو گے؟ معاذ ؓ نے عرض کیا: اللہ کی کتاب کے موافق فیصلہ کروں گا، آپ ﷺ نے فرمایا: اگر اللہ کی کتاب میں تم نہ پا سکو؟ تو معاذ ؓ نے عرض کیا: رسول اللہ ﷺ کی سنت کے موافق، آپ ﷺ نے فرمایا: اگر سنت رسول اور کتاب اللہ دونوں میں نہ پاس کو تو کیا کرو گے؟ انہوں نے عرض کیا: پھر میں اپنی رائے سے اجتہاد کروں گا، اور اس میں کوئی کوتاہی نہ کروں گا، تو رسول اللہ ﷺ نے معاذ ؓ کا سینہ تھپتھپایا، نیز آپ ﷺ نے فرمایا: تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے رسول اللہ ﷺ کے قاصد کو اس چیز کی توفیق دی جو اللہ کے رسول کو راضی اور خوش کرتی ہے ۔
Some companions of Muadh ibn Jabal said: When the Messenger of Allah ﷺ intended to send Muadh ibn Jabal to the Yemen, he asked: How will you judge when the occasion of deciding a case arises? He replied: I shall judge in accordance with Allahs Book. He asked: (What will you do) if you do not find any guidance in Allahs Book? He replied: (I shall act) in accordance with the Sunnah of the Messenger of Allah ﷺ . He asked: (What will you do) if you do not find any guidance in the Sunnah of the Messenger of Allah ﷺ and in Allahs Book? He replied: I shall do my best to form an opinion and I shall spare no effort. The Messenger of Allah ﷺ then patted him on the breast and said: Praise be to Allah Who has helped the messenger of the Messenger of Allah to find something which pleases the Messenger of Allah.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الأحکام ٣ (١٣٢٧)، (تحفة الأشراف: ١١٣٧٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٢٣٠، ٢٣٦، ٢٤٢)، سنن الدارمی/المقدمة ٢٠ (١٧٠) (ضعیف) (اس کی سند میں حارث اور حمص کے کچھ لوگ مبہم ہیں )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مسلمانوں کے درمیان مصالحت جائز ہے ۔ احمد بن عبدالواحد نے اتنا اضافہ کیا ہے: سوائے اس صلح کے جو کسی حرام شے کو حلال یا کسی حلال شے کو حرام کر دے ۔ اور سلیمان بن داود نے اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مسلمان اپنی شرطوں پر قائم رہیں گے ١ ؎۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: Conciliation between Muslims is permissible. The narrator Ahmad added in his version: except the conciliation which makes lawful unlawful and unlawful lawful. Sulayman ibn Dawud added: The Messenger of Allah ﷺ said: Muslims are on (i. e. stick to) their conditions.
Notes · وضاحت
١ ؎: لیکن ایسی شرط سے بچیں جو شریعت میں ناجائز ہے، اور جس سے آئندہ خرابی واقع ہوگی۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١٤٨٠٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣٦٦) (حسن صحیح )
کعب بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے عہد میں ابن ابی حدرد سے اپنے اس قرض کا جو ان کے ذمہ تھا مسجد کے اندر تقاضا کیا تو ان دونوں کی آوازیں بلند ہوئیں یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ نے اسے سنا آپ اپنے گھر میں تھے تو آپ ﷺ ان دونوں کی طرف نکلے یہاں تک کہ اپنے کمرے کا پردہ اٹھا دیا، آپ ﷺ نے کعب بن مالک ؓ کو پکارا اور کہا: اے کعب! تو انہوں نے کہا: حاضر ہوں، اللہ کے رسول! پھر آپ نے اپنے ہاتھ کے اشارے سے فرمایا کہ آدھا قرضہ معاف کر دو، کعب نے کہا: میں نے معاف کردیا اللہ کے رسول! تب نبی کریم ﷺ نے (ابن حدرد) سے فرمایا: اٹھو اور اسے ادا کرو ۔
Kab bin Malik said that in the time of the Messenger of Allah ﷺ he made demand in the mosque for payment of a debt due to him from Ibn Abi Hadrad, and their voices rose till the Messenger of Allah ﷺ , who was in his house, heard them. The Messenger of Allah ﷺ then went out to them and, removing the curtain of his apartment, he called to Kab bin Malik, addressing: Kab! He said: At your service, Messenger of Allah. Thereupon he made a gesture with is hand indicating: Remit half the debt due to you. Kab said: I shall do so, Messenger of Allah. The Prophet ﷺ then said: Get up and discharge
زید بن خالد جہنی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا میں تمہیں سب سے بہتر گواہ نہ بتاؤں؟ جو اپنی گواہی لے کر حاضر ہو یا فرمایا: اپنی گواہی پیش کرے قبل اس کے کہ اس سے پوچھا جائے ١ ؎۔ عبداللہ بن ابی بکر نے شک ظاہر کیا ہے کہ آپ ﷺ نے الذي يأتي بشهادته فرمایا، یا يخبر بشهادته کے الفاظ فرمائے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مالک کہتے ہیں: ایسا گواہ مراد ہے جو اپنی شہادت پیش کر دے اور اسے یہ علم نہ ہو کہ کس کے حق میں مفید ہے اور کس کے حق میں غیر مفید۔ ہمدانی کی روایت میں ہے: اسے بادشاہ کے پاس لے جائے، اور ابن السرح کی روایت میں ہے: اسے امام کے پاس لائے۔ لفظ اخبار ہمدانی کی روایت میں ہے۔ ابن سرح نے اپنی روایت میں صرف ابن ابی عمر ۃ کہا ہے، عبدالرحمٰن نہیں کہا ہے۔
Zaid bin Khalid al-Juhani reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: Shall I not tell you of the best witnesses ? He is the one who produces his deposition or gives his evidence (the narrator is doubtful) before he is asked for it. Abdullah bin Abi Bakr dobted which of them he said. Abu Dawud said: Malis said: This refers to a man gives his evidence, but he does not know for whom it is meant. Al-Hamdani said: He should inform the authorities. Ibn al-Sarh said: He should give it to the ruler. The work ikhbar (inform) occurs in the version of al-Hamdani. Ibn al-Sarh said: Ibn Abi Amrah and not Abdur-Rahman.
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی حقوق اللہ جیسے طلاق، عتق (غلام کی آزادی) اور وقف وغیرہ میں، یا جب مدعی سچا اور برحق ہو اور اسے گواہ نہ ملتا ہو اور کسی شخص کو اس کے حق کا حال معلوم ہو تو وہ شخص خود بخود جا کر حاکم اور قاضی کے پاس گواہی دے تاکہ صاحب معاملہ کی حق تلفی نہ ہو، اس قسم کی گواہی باعث اجر و ثواب ہے، زیر نظر حدیث اس حدیث کے خلاف نہیں کہ ایک قوم ایسی پیدا ہوگی جو پوچھے جانے سے پہلے گواہی دے گی کیونکہ اس سے مراد جھوٹی گواہی ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الأقضیة ٩ (١٧١٩)، سنن الترمذی/الشھادات ١ (٢٢٩٦)، سنن ابن ماجہ/الأحکام ٢٨ (٢٣٦٤)، (تحفة الأشراف: ٣٧٥٤)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الأقضیة ٢(٣) (صحیح )
یحییٰ بن راشد کہتے ہیں کہ ہم عبداللہ بن عمر ؓ کے انتظار میں بیٹھے تھے، وہ ہمارے پاس آ کر بیٹھے پھر کہنے لگے: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: جس نے اللہ کے حدود میں سے کسی حد کو روکنے کی سفارش کی تو گویا اس نے اللہ کی مخالفت کی، اور جو جانتے ہوئے کسی باطل امر کے لیے جھگڑے تو وہ برابر اللہ کی ناراضگی میں رہے گا یہاں تک کہ اس جھگڑے سے دستبردار ہوجائے، اور جس نے کسی مؤمن کے بارے میں کوئی ایسی بات کہی جو اس میں نہیں تھی تو اللہ اس کا ٹھکانہ جہنمیوں میں بنائے گا یہاں تک کہ اپنی کہی ہوئی بات سے توبہ کرلے ۔
Yahya ibn Rashid said: We were sitting waiting for Abdullah ibn Umar who came out to us and sat. He then said: I heard the Messenger of Allah ﷺ as saying: If anyones intercession intervenes as an obstacle to one of the punishments prescribed by Allah, he has opposed Allah; if anyone disputes knowingly about something which is false, he remains in the displeasure of Allah till he desists, and if anyone makes an untruthful accusation against a Muslim, he will be made by Allah to dwell in the corrupt fluid flowing from the inhabitants of Hell till he retracts his statement.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٨٥٦٢)، وقد أخرجہ: سلسلة الاحادیث الصحیحہ، للالبانی (٤٣٧)، مسند احمد (٢/٧٠، ٨٢، ٢/٧٠) (صحیح )
اس سند سے بھی ابن عمر ؓ نے نبی اکرم ﷺ سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے اس میں ہے آپ نے فرمایا: اور جو شخص کسی مقدمے کی ناحق پیروی کرے گا، وہ اللہ کا غیظ و غضب لے کر واپس ہوگا ۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by Ibn Umar from the Prophet ﷺ through different chain of narrators to the same effect. In this version he also said: He who assits in a dispute unjustly deserves the anger of Allah, Most High.
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الأحکام ٦ (٢٣٢٠)، (تحفة الأشراف: ٨٤٤٥) (حسن) (اس کے راوی مثنیٰ مجہول، اور مطر ضعیف ہیں، لیکن حدیث متابعات کی وجہ سے حسن ہے، الإرواء ٧/٣٥٠، سلسلة الاحادیث الصحیحہ، للالبانی ٤٣٧، ١٠٢١ )
خریم بن فاتک ؓ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فجر پڑھائی، جب نماز سے فارغ ہوئے تو کھڑے ہو کر آپ نے فرمایا: جھوٹی گواہی اللہ کے ساتھ شرک کرنے کے برابر ہے یہ جملہ آپ ﷺ نے تین بار دہرایا پھر یہ آیت پڑھی:فاجتنبوا الرجس من الأوثان واجتنبوا قول الزور * حنفاء لله غير مشرکين به بتوں کی گندگی اور جھوٹی باتوں سے بچتے رہو خالص اللہ کی طرف ایک ہو کر اس کے ساتھ شرک کرنے والوں میں سے ہوئے بغیر (سورۃ الحج: ٣٠) ۔
Narrated Khuraym Ibn Fatik: The Messenger of Allah ﷺ offered the morning prayer. When he finished it, he stood up and said three times: False witness has been made equivalent to attributing a partner to Allah. He then recited: So avoid the abomination of idols and avoid speaking falsehood as people pure of faith to Allah, not associating anything with Him.
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الأحکام ٣٢ (٢٣٧٢)، (تحفة الأشراف: ٣٥٢٥)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الشھادات ٣ (٢٢٩٩)، مسند احمد (٤/٢٣١) (ضعیف) (اس کے راواة سفیان کے والد اور حبیب دونوں مجہول ہیں )
عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے خیانت کرنے والے مرد، خیانت کرنے والی عورت اور اپنے بھائی سے بغض و کینہ رکھنے والے شخص کی شہادت رد فرما دی ہے، اور خادم کی گواہی کو جو اس کے گھر والوں (مالکوں) کے حق میں ہو رد کردیا ہے اور دوسروں کے لیے جائز رکھا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: غمر کے معنیٰ: کینہ اور بغض کے ہیں، اور قانع سے مراد پرانا ملازم مثلاً خادم خاص ہے۔
Amr bin Shuaib on his fathers authority told that his grandfather said: The Messenger of Allah ﷺ rejected the testimony of a deceitful man and woman, of one who harbours rancour against his brother, and he rejected the testimony of one who is dependent on a family, and he allowed his testimony for other. Abu Dawud said: Ghimr means malice and enimity ; qani (dependant), a subordinate servant like a special servant.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٨٧١١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٨١، ٢٠٣، ٢٠٤، ٢٢٥) (حسن )
اس سند سے بھی عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: خیانت کرنے والے مرد اور خیانت کرنے والی عورت کی، زانی مرد اور زانیہ عورت کی اور اپنے بھائی سے کینہ رکھنے والے شخص کی گواہی جائز نہیں ۔
The tradition mentioned above (No. 3593) has also been transmitted by Sulayman ibn Musa through a different chain of narrators. This version has: The Messenger of Allah ﷺ said: The testimony of a deceitful man or woman, of an adulterer and adulteress, and of one who harbours rancour against his brother is not allowable.
ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں کہ مجھ سے عقبہ بن حارث نے اور میرے ایک دوست نے انہیں کے واسطہ سے بیان کیا اور مجھے اپنے دوست کی روایت زیادہ یاد ہے وہ (عقبہ) کہتے ہیں: میں نے ام یحییٰ بنت ابی اہاب سے شادی کی، پھر ہمارے پاس ایک کالی عورت آ کر بولی: میں نے تم دونوں (میاں، بیوی) کو دودھ پلایا ہے ١ ؎، میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے اس واقعہ کا ذکر کیا تو آپ ﷺ نے مجھ سے چہرہ پھیرلیا، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! وہ عورت جھوٹی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: تمہیں کیا معلوم؟ اسے جو کہنا تھا اس نے کہہ دیا، تم اسے اپنے سے علیحدہ کر دو ۔
Uqbah bin al-Harith said: I married Umm Yahya daughter of Abu Ihab. A black woman entered upon us. She said that she had suckled both of us. So I came to the Prophet ﷺ , and amentioned it to him. He turned away from me. I said (to him): Messenger of Allah! she is a liar. He said: What do you know? She has said what she has said. Separate yourself from her (wife).
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رضاعت کے ثبوت کے لیے ایک مرضعہ (دودھ پلانے والی) کی گواہی کافی ہے۔
اس سند سے بھی ابن ابی ملیکہ سے روایت ہے، وہ عبید بن ابی مریم سے روایت کرتے ہیں اور وہ عقبہ بن حارث سے، ابن ابی ملیکہ کا کہنا ہے کہ میں نے اسے براہ راست عقبہ سے بھی سنا ہے لیکن عبید کی روایت مجھے زیادہ اچھی طرح یاد ہے، پھر انہوں نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حماد بن زید نے حارث بن عمیر کو دیکھا تو انہوں نے کہا: یہ ایوب کے ثقہ تلامذہ میں سے ہیں۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by Uqbah bin al-Harith to the same effect through a different chain of narrators. Abu Dawud said: Hammad bin Zaid looked at al-Harith bin Umair and said: He is from reliable narrators from Ayyub.
شعبی کہتے ہیں کہ ایک مسلمان شخص مقام دقوقاء میں مرنے کے قریب ہوگیا اور اسے کوئی مسلمان نہیں مل سکا جسے وہ اپنی وصیت پر گواہ بنائے تو اس نے اہل کتاب کے دو شخصوں کو گواہ بنایا، وہ دونوں کوفہ آئے اور ابوموسیٰ ؓ سے اسے بیان کیا اور اس کا ترکہ بھی لے کر آئے اور وصیت بھی بیان کی، تو اشعری ؓ نے کہا: یہ تو ایسا معاملہ ہے جو عہد نبوی ﷺ میں صرف ایک مرتبہ ہوا اور اس کے بعد ایسا واقعہ پیش نہیں آیا، پھر ابوموسیٰ ؓ نے ان دونوں کو عصر کے بعد قسم دلائی کہ: قسم اللہ کی، ہم نے نہ خیانت کی ہے اور نہ جھوٹ کہا ہے، اور نہ ہی کوئی بات بدلی ہے نہ کوئی بات چھپائی ہے اور نہ ہی کوئی ہیرا پھیری کی، اور بیشک اس شخص کی یہی وصیت تھی اور یہی ترکہ تھا۔ پھر ابوموسیٰ ؓ نے ان دونوں کی شہادتیں قبول کرلیں (اور اسی کے مطابق فیصلہ کردیا) ۔
Ash-Shabi said: A Muslim was about to die at Daquqa, but he did not find any Muslim to call him for witness to his will. So he called two men of the people of the Book for witness. Then they came to Kufah, and approaching Abu Musa al-Ashari they informed him (about his) will. They brought his inheritance and will. Al-Ashari said: This is an incident (like) which happened in the time of the Messenger of Allah ﷺ and never occurred after him. So he made them to swear by Allah after the afternoon prayer to the effect that they had not misappropriated, nor told a lie, nor changed, nor concealed, nor altered, and that it was the will of the man and his inheritance. He then executed their witness.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٩٠١٣) (صحیح الإسناد )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ بنو سہم کا ایک شخص تمیم داری اور عدی بن بداء کے ساتھ نکلا تو سہمی ایک ایسی سر زمین میں مرگیا جہاں کوئی مسلمان نہ تھا، جب وہ دونوں اس کا ترکہ لے کر آئے تو لوگوں نے اس میں چاندی کا وہ گلاس نہیں پایا جس پر سونے کا پتر چڑھا ہوا تھا تو رسول اللہ ﷺ نے ان دونوں کو قسم دلائی، پھر وہ گلاس مکہ میں ملا تو ان لوگوں نے کہا: ہم نے اسے تمیم اور عدی سے خریدا ہے تو اس سہمی کے اولیاء میں سے دو شخص کھڑے ہوئے اور ان دونوں نے قسم کھا کر کہا کہ ہماری گواہی ان دونوں کی گواہی سے زیادہ معتبر ہے اور گلاس ان کے ساتھی کا ہے۔ راوی کہتے ہیں: یہ آیت: يا أيها الذين آمنوا شهادة بينكم إذا حضر أحدکم الموت سورة المائدة: (١٠٦) انہی کی شان میں اتری ١ ؎۔
Narrated Abdullah Ibn Abbas (RA) : A man from Banu Sahm went out with Tamim ad-Dari and Adi ibn BAdda. The man of Banu Sahm died in the land where no Muslim was present. When they returned with his inheritance, they (the heirs) did not find a silver cup with lines of gold (in his property). The Messenger of Allah ﷺ administered on oath to them. The cup was then found (with someone) at Makkah. They said: We have bought it from Tamim and Adi. Then two men from the heirs of the man of Banu Sahm got up and swore saying: Our witness is more reliable than their witness. They said that the cup belonged to their man. He (Ibn Abbas) said: The following verse was revealed about them: O ye who believe! when death approaches any of you. . . . .
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ دونوں اس واقعہ کے وقت نصرانی تھے، یہی باب سے مطابقت ہے۔
عمارہ بن خزیمہ کہتے ہیں: ان کے چچا نے ان سے بیان کیا اور وہ نبی اکرم ﷺ کے اصحاب میں سے تھے کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک اعرابی سے ایک گھوڑا خریدا، آپ اسے اپنے ساتھ لے آئے تاکہ گھوڑے کی قیمت ادا کردیں، آپ ﷺ جلدی جلدی چلنے لگے، دیہاتی نے تاخیر کردی، پس کچھ لوگ دیہاتی کے پاس آنا شروع ہوئے اور گھوڑے کا مول بھاؤ کرنے لگے اور وہ لوگ یہ نہ سمجھ سکے کہ نبی اکرم ﷺ نے اسے خرید لیا ہے، چناچہ دیہاتی نے رسول اللہ ﷺ کو پکارا اور کہا: اگر آپ اسے خریدتے ہیں تو خرید لیجئے ورنہ میں نے اسے بیچ دیا، دیہاتی کی آواز سن کر نبی اکرم ﷺ کھڑے ہوگئے اور فرمایا: کیا میں تجھ سے اس گھوڑے کو خرید نہیں چکا؟ دیہاتی نے کہا: نہیں، قسم اللہ کی، میں نے اسے آپ سے فروخت نہیں کیا ہے، پھر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: کیوں نہیں؟ میں اسے تم سے خرید چکا ہوں پھر دیہاتی یہ کہنے لگا کہ گواہ پیش کیجئے، تو خزیمہ بن ثابت ؓ بول پڑے کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ تم اسے نبی اکرم ﷺ کو فروخت کرچکے ہو، نبی اکرم ﷺ خزیمہ ؓ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: تم کیسے گواہی دے رہے ہو؟ خزیمہ بن ثابت ؓ نے کہا: آپ کی تصدیق کی وجہ سے، اللہ کے رسول! تو رسول اللہ ﷺ نے خزیمہ ؓ کی گواہی کو دو آدمیوں کی گواہی کے برابر قرار دے دیا۔
Narrated Uncle of Umarah ibn Khuzaymah (RA) : The Prophet ﷺ bought a horse from a Bedouin. The Prophet ﷺ took him with him to pay him the price of his horse. The Messenger of Allah ﷺ walked quickly and the Bedouin walked slowly. The people stopped the Bedouin and began to bargain with him for the horse as and they did not know that the Prophet ﷺ had bought it. The Bedouin called the Messenger of Allah ﷺ saying: If you want this horse, (then buy it), otherwise I shall sell it. The Prophet ﷺ stopped when he heard the call of the Bedouin, and said: Have I not bought it from you? The Bedouin said: I swear by Allah, I have not sold it to you. The Prophet ﷺ said: Yes, I have bought it from you. The Bedouin began to say: Bring a witness. Khuzaymah ibn Thabit then said: I bear witness that you have bought it. The Prophet ﷺ turned to Khuzaymah and said: On what (grounds) do you bear witness? He said: By considering you trustworthy, Messenger of Allah ﷺ ! The Prophet ﷺ made the witness of Khuzaymah equivalent to the witness of two people.
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/البیوع ٧٩ (٤٦٥١)، (تحفة الأشراف: ١٥٦٤٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٢١٥) (صحیح )
اس سند سے بھی ابن عباس ؓ سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے سلمہ نے اپنی حدیث میں یوں کہا کہ: عمرو نے کہا ہے کہ یہ فیصلہ حقوق میں تھا (نہ کہ حدود میں) ۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by Amr bin Dinar through a different chain of narrators and to the same effect. Salamah has in his version: Amr said: In the rights (of the people).
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے گواہ کے ساتھ قسم پر فیصلہ کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ربیع بن سلیمان مؤذن نے مجھ سے اس حدیث میں قال: أخبرني الشافعي عن عبدالعزيز کا اضافہ کیا عبدالعزیز دراوردی کہتے ہیں: میں نے اسے سہیل سے ذکر کیا تو انہوں نے کہا: مجھے ربیعہ نے خبر دی ہے اور وہ میرے نزدیک ثقہ ہیں کہ میں نے یہ حدیث ان سے بیان کی ہے لیکن مجھے یاد نہیں۔ عبدالعزیز دراوردی کہتے ہیں: سہیل کو ایسا مرض ہوگیا تھا جس سے ان کی عقل میں کچھ فتور آگیا تھا اور وہ کچھ احادیث بھول گئے تھے، تو سہیل بعد میں اسے عن ربیعہ عن أبیہ کے واسطے سے روایت کرتے تھے۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ gave a decision on the basis of an oath and a single witness. Abu Dawud said: Al-Rabi bin Sulaiman al-muadhdhin told me some additional words in this tradition: Al-Shafii told me from Abd al-Aziz. I then mentioned it fo Suhail who said: Rabiah told me - and he is reliable in my opinion - that I told him this (tradition) and I do not remember it. Abd al-Aziz said: Suhail suffered from some disease which caused him to lose a little of his intelligence, and he forgot some of his traditions. Thereafter Suhail would narrate traditions from Rabiah on the authority of his father.