Sunan Abu Dawood 3598

فیصلوں کا بیان

3598Sunan Abu Dawood

گواہیوں کا بیان

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ الْعُمَرِيُّ، حَدَّثَنِي الْمُثَنَّى بْنُ يَزِيدٍ، عَنْ مَطَرٍ الْوَرَّاقِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَاهُ، قَالَ: وَمَنْ أَعَانَ عَلَى خُصُومَةٍ بِظُلْمٍ، فَقَدْ بَاءَ بِغَضَبٍ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ.

اس سند سے بھی ابن عمر ؓ نے نبی اکرم ﷺ سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے اس میں ہے آپ نے فرمایا: اور جو شخص کسی مقدمے کی ناحق پیروی کرے گا، وہ اللہ کا غیظ و غضب لے کر واپس ہوگا ۔

The tradition mentioned above has also been transmitted by Ibn Umar from the Prophet ﷺ through different chain of narrators to the same effect. In this version he also said: He who assits in a dispute unjustly deserves the anger of Allah, Most High.

Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الأحکام ٦ (٢٣٢٠)، (تحفة الأشراف: ٨٤٤٥) (حسن) (اس کے راوی مثنیٰ مجہول، اور مطر ضعیف ہیں، لیکن حدیث متابعات کی وجہ سے حسن ہے، الإرواء ٧/٣٥٠، سلسلة الاحادیث الصحیحہ، للالبانی ٤٣٧، ١٠٢١ )