تیز گفتگو کی صحیح نہیں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ الطُّوسِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، قَالَ: جَلَسَ أَبُو هُرَيْرَةَ إِلَى جَنْبِ حُجْرَةِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَهِيَ تُصَلِّي، فَجَعَلَ يَقُولُ: اسْمَعِي يَا رَبَّةَ الْحُجْرَةِ مَرَّتَيْنِ، فَلَمَّا قَضَتْ صَلَاتَهَا، قَالَتْ: أَلَا تَعْجَبُ إِلَى هَذَا وَحَدِيثِهِ ؟ إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُحَدِّثُ الْحَدِيثَ لَوْ شَاءَ الْعَادُّ أَنْ يُحْصِيَهُ أَحْصَاهُ.
عروہ کہتے ہیں ابوہریرہ ؓ ام المؤمنین عائشہ ؓ کے حجرے کے بغل میں بیٹھے تھے اور وہ نماز پڑھ رہی تھیں تو وہ کہنے لگے: سن اے حجرے والی! دو بار یہ جملہ کہا، جب ام المؤمنین عائشہ ؓ نماز سے فارغ ہوئیں تو کہنے لگیں: کیا تمہیں اس پر اور اس کی حدیث پر تعجب نہیں کہ وہ کیسے جلدی جلدی بیان کر رہا ہے، رسول اللہ ﷺ جب کلام کرتے تو اگر شمار کرنے والا اسے شمار کرنا چاہتا تو شمار کرلیتا (یعنی آپ ﷺ صاف صاف اور بالکل واضح انداز میں بات کرتے تھے) ۔
Urwah said: Abu Hurairah sat beside the apartment of Aisha (RA) while she was praying. He then began to say: Listen, O lady of the apartment, saying twice. When she finish her prayer, she said: Are you not surprised at him and his narrate traditions from the Messenger of the Allah ﷺ gave a talk, a man could count it if he wished to count.