Sunan Abu Dawood 3647

علم کا بیان

3647Sunan Abu Dawood

علم کی کتابت کا بیان

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ، قَالَ: دَخَلَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ عَلَى مُعَاوِيَةَ، فَسَأَلَهُ عَنْ حَدِيثٍ، فَأَمَرَ إِنْسَانًا يَكْتُبُهُ، فَقَالَ لَهُ زَيْدٌ: إِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَأَمَرَنَا أَنْ لَا نَكْتُبَ شَيْئًا مِنْ حَدِيثِهِ، فَمَحَاهُ.

مطلب بن عبداللہ بن حنطب کہتے ہیں کہ زید بن ثابت ؓ معاویہ ؓ کے پاس آئے اور ان سے ایک حدیث کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے ایک شخص کو اس حدیث کے لکھنے کا حکم دیا، تو زید ؓ نے ان سے کہا: رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم آپ کی حدیثوں میں سے کچھ نہ لکھیں تو انہوں نے اسے مٹا دیا ١ ؎۔

Narrated Al-Muttalib bin Abdullah bin Hantab (RA) : Al-Muttalib ibn Abdullah ibn Hantab said: Zayd ibn Thabit entered upon Muawiyah and asked him about a tradition. He ordered a man to write it. Zayd said: The Messenger of Allah ﷺ ordered us not to write any of his traditions. So he erased it.

Notes · وضاحت
١ ؎: یہ ممانعت پہلے تھی جب احادیث کے قرآن کے ساتھ خلط ملط ہوجانے کا اندیشہ تھا، بعد میں کتابت حدیث کی اجازت دے دی گئی جیسا کہ پہلی روایت سے واضح ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٣٧٤٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/١٨٢) (ضعیف الإسناد) (اس کے راواة کثیر اور مطلب متکلم فیہ ہیں )