اس میں کوئی عنوان نہیں ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ الْمُخْتَارِ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، قَالَ: سَأَلْتُ أُمَّ سَلَمَةَكَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ هَذِهِ الْآيَةَ: إِنَّهُ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ سورة هود آية 46، فَقَالَتْ: قَرَأَهَا: 0 إِنَّهُ عَمِلَ غَيْرَ صَالِحٍ 0، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرَوَاهُ هَارُونُ النَّحْوِيُّ، وَمُوسَى بْنُ خَلَفٍ، عَنْ ثَابِتٍ، كَمَا قَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ.
شہر بن حوشب کہتے ہیں میں نے ام المؤمنین ام سلمہ ؓ سے پوچھا کہ رسول اللہ ﷺ آیت کریمہ إنه عمل غير صالح کیسے پڑھتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: آپ اسے إنه عمل غير صالح (فعل ماضی کے ساتھ) پڑھتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: نیز اسے ہارون نحوی اور موسیٰ بن خلف نے ثابت سے ایسے ہی روایت کیا ہے جیسے عبدالعزیز نے کہا ہے۔
Narrated Umm Salamah, Ummul Muminin (RA) : Shahr ibn Hawshab said: I asked Umm Salamah (RA) : How did the Messenger of Allah ﷺ read this verse: For his conduct is unrighteous (innahu amalun ghayru salih. She replied: He read it: He acted unrighteously (innahu amila ghayra salih). Abu Dawud said: This tradition has been transmitted by Harun al-Nahwi and Musa bin Khalaf from Thabit as reported by the narrator Abd al-Aziz.