پاکی کا بیان

Sunan Abu Dawood · Chapter 1 · 389 hadiths · Page 20 of 20

382Sunan Abu Dawood

زمین خشک ہوجانے کے بعد پاک ہوجاتی ہے

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عُمَرَ: كُنْتُ أَبِيتُ فِي الْمَسْجِدِ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكُنْتُ فَتًى شَابًّا عَزَبًا، وَكَانَتْ الْكِلَابُ تَبُولُ وَتُقْبِلُ وَتُدْبِرُ فِي الْمَسْجِدِ، فَلَمْ يَكُونُوا يَرُشُّونَ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں رات کو مسجد میں سوتا تھا، میں ایک نوجوان کنوارا (غیر شادی شدہ) تھا، اور کتے مسجد میں آتے جاتے اور پیشاب کرتے، کوئی اس پر پانی نہ بہاتا تھا ١ ؎۔

Ibn Umar said: I used to sleep in the mosque in the lifetime of the Messenger of Allah ﷺ when I was young and bachelor. The dogs would urinate frequently visit the mosque, and no one would sprinkle over it.

Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ زمین میں اگر پیشاب وغیرہ پڑجائے پھر وہ زمین خشک ہوجائے تو وہ پاک ہوجاتی ہے، نیز مسجد میں سونا درست اور جائز ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوضوء ٣٣ (١٧٤)، تعلیقًا (تحفة الأشراف: ٦٧٠٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٧١) (صحیح )
383Sunan Abu Dawood

دامن میں نجاست لگ جانے کا بیان

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَارَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أُمِّ وَلَدٍ لِإِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، أَنَّهَا سَأَلَتْ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: إِنِّي امْرَأَةٌ أُطِيلُ ذَيْلِي وَأَمْشِي فِي الْمَكَانِ الْقَذِرِ، فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يُطَهِّرُهُ مَا بَعْدَهُ.

ابراہیم بن عبدالرحمٰن بن عوف کی ام ولد (حمیدہ) سے روایت ہے کہ انہوں نے ام المؤمنین ام سلمہ ؓ سے پوچھا کہ میں اپنا دامن لمبا رکھتی ہوں (جو زمین پر گھسٹتا ہے) اور میں نجس جگہ میں بھی چلتی ہوں؟ تو ام سلمہ ؓ نے کہا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: اس کے بعد کی زمین (جس پر وہ گھسٹتا ہے) اس کو پاک کردیتی ہے ۔

Narrated Umm Salamah, Ummul Muminin (RA) : The slave-mother of Ibrahim ibn Abdur Rahman ibn Awf asked Umm Salamah, the wife of the Prophet ﷺ : I am a woman having a long border of clothe and I walk in filthy place; (then what should I do?). Umm Salamah replied: The Messenger of Allah ﷺ said: What comes after it cleanses it.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الطھارة ١٠٩ (١٤٣)، سنن ابن ماجہ/الطھارة ٧٩ (٥٣١)، (تحفة الأشراف: ١٨٢٩٦)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الطھارة ٤(١٦)، سنن الدارمی/الطھارة ٦٣ (٧٦٩) (صحیح )
384Sunan Abu Dawood

دامن میں نجاست لگ جانے کا بیان

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، قَالَا: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِيسَى، عَنْ مُوسَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ،عَنْ امْرَأَةٍ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لَنَا طَرِيقًا إِلَى الْمَسْجِدِ مُنْتِنَةً، فَكَيْفَ نَفْعَلُ إِذَا مُطِرْنَا ؟ قَالَ: أَلَيْسَ بَعْدَهَا طَرِيقٌ هِيَ أَطْيَبُ مِنْهَا ؟. قَالَتْ: قُلْتُ: بَلَى، قَالَ: فَهَذِهِ بِهَذِهِ.

قبیلہ بنو عبدالاشھل کی ایک عورت کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہمارا مسجد تک جانے کا راستہ غلیظ اور گندگیوں والا ہے تو جب بارش ہوجائے تو ہم کیا کریں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: کیا اس کے آگے پھر کوئی اس سے بہتر اور پاک راستہ نہیں ہے؟ ، میں نے کہا: ہاں ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: تو یہ اس کا جواب ہے ١ ؎۔

Narrated A woman of the Banu AbdulAshhal (RA) : She reported: I said Messenger of Allah, our road to the mosque has an unpleasant stench; what should we do when it is raining? He asked: Is there not a cleaner part after the filthy part of the road? She replied: Why not (there is one)! He said: It makes up for the other.

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی پاک و صاف راستے میں چلنے سے کپڑا پاک ہوجائے گا جیسے پہلے گندے راستہ سے ناپاک ہوگیا تھا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الطھارة ٧٩ (٥٣٣)،(تحفة الأشراف: ١٨٣٨٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٤٣٥) (صحیح )
385Sunan Abu Dawood

جوتہ میں نجاست لگ جانے کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ. ح وحَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ، أَخْبَرَنِي أَبِي. ح وحَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْوَاحِدِ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ الْمَعْنَى، قَالَ: أُنْبِئْتُ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيَّحَدَّثَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا وَطِئَ أَحَدُكُمْ بِنَعْلِهِ الْأَذَى، فَإِنَّ التُّرَابَ لَهُ طَهُورٌ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص اپنے جوتے سے نجاست روندے تو (اس کے بعد کی) مٹی اس کو پاک کر دے گی ١ ؎۔

Abu Hurairah reported: The Messenger of Allah ﷺ said: When any one of you treads with his sandal upon an unclean place, the earth will render it purified.

Notes · وضاحت
١ ؎: جوتوں میں گندگی لگ جانے کی صورت میں اس کو زمین پر رگڑ دینے سے وہ پاک ہوجاتے ہیں، ان کو پہن کر نماز ادا کرنا صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٤٣٢٩) (صحیح )
386Sunan Abu Dawood

جوتہ میں نجاست لگ جانے کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ يَعْنِي الصَّنْعَانِيَّ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ،عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمَعْنَاهُ، قَالَ: إِذَا وَطِئَ الْأَذَى بِخُفَّيْهِ، فَطَهُورُهُمَا التُّرَابُ.

اس طریق سے بھی ابوہریرہ ؓ سے اسی مفہوم کی حدیث مرفوعاً مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی اپنے خف (موزوں) سے نجاست کو روندے تو ان کی پاکی مٹی ہے (یعنی بعد والی زمین جس پر وہ چلے گا وہ اسے پاک کر دے گی) ۔

Abu Hurairah reported the tradition to the same effect from the Prophet ﷺ : When any of you treads with his shoes upon something unclean, they will be purified with the earth.

Takhrij · تخریج
تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٤٣٢٩) (صحیح )
387Sunan Abu Dawood

جوتہ میں نجاست لگ جانے کا بیان

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ عَائِذٍ، حَدَّثَنِي يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ حَمْزَةَ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْوَلِيدِ، أَخْبَرَنِي أَيْضًا سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمَعْنَاهُ.

اس طریق سے ام المؤمنین عائشہ ؓ اسی مفہوم کی حدیث رسول اللہ ﷺ سے مرفوعاً روایت کرتی ہیں۔

Aishah reported a similar tradition from the Messenger of Allah ﷺ .

Takhrij · تخریج
تفرد به أبو داود (تحفة الأشراف: ١٧٥٦٨) (صحیح )
388Sunan Abu Dawood

نجاست لگے کپڑے سے نماز پڑھ لینے بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَتْنَا أُمُّ يُونُسَ بِنْتُ شَدَّادٍ، قَالَتْ: حَدَّثَتْنِي حَمَاتِي أُمُّ جَحْدَرٍ الْعَامِرِيَّةُ، أَنَّهَا سَأَلَتْ عَائِشَةَ عَنْ دَمِ الْحَيْضِ يُصِيبُ الثَّوْبَ، فَقَالَتْ: كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْنَا شِعَارُنَا وَقَدْ أَلْقَيْنَا فَوْقَهُ كِسَاءً، فَلَمَّا أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ الْكِسَاءَ فَلَبِسَهُ، ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى الْغَدَاةَ ثُمَّ جَلَسَ، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذِهِ لُمْعَةٌ مِنْ دَمٍ، فَقَبَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مَا يَلِيهَا فَبَعَثَ بِهَا إِلَيَّ مَصْرُورَةً فِي يَدِ الْغُلَامِ، فَقَالَ: اغْسِلِي هَذِهِ وَأَجِفِّيهَا ثُمَّ أَرْسِلِي بِهَا إِلَيَّ، فَدَعَوْتُ بِقَصْعَتِي فَغَسَلْتُهَا ثُمَّ أَجْفَفْتُهَا فَأَحَرْتُهَا إِلَيْهِ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنِصْفِ النَّهَارِ وَهِيَ عَلَيْهِ.

ام یونس بنت شداد کہتی ہیں کہ میری ساس ام جحدر عامریہ نے مجھ سے بیان کیا کہ انہوں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے کپڑے میں لگ جانے والے حیض کے خون کے بارے میں پوچھا تو آپ نے کہا: میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھی اور ہم اپنا شعار (اندر کا کپڑا) پہنے ہوئے تھے، اس کے اوپر سے ہم نے ایک کمبل ڈال لیا تھا، جب صبح ہوئی تو رسول اللہ ﷺ کمبل کو اوڑھ کر (نماز کے لیے) چلے گئے اور صبح کی نماز پڑھی، پھر آپ ﷺ بیٹھے تو ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! یہ خون کا نشان ہے، آپ ﷺ نے اس کے آس پاس کے حصہ کو مٹھی سے پکڑ کر غلام کے ہاتھ میں دے کر اسی طرح میرے پاس بھیجا اور فرمایا : اسے دھو کر اور سکھا کر میرے پاس بھیج دو ، چناچہ میں نے پانی کا اپنا پیالہ منگا کر اس کو دھویا پھر سکھایا، اس کے بعد آپ کے پاس واپس بھجوا دیا، پھر رسول اللہ ﷺ دوپہر کے وقت وہی کمبل اوڑھے تشریف لائے۔

Umm Jahdar al-Amiriyyah said that she asked Aisha (RA) about the blood of menses which drops on the clothe. She replied: I was (lying) with the Messenger of Allah ﷺ and we had our garment over us, and we had put a blanket over it. When the day broke, the Messenger of Allah ﷺ took the blanket, wore it and went out and offered the dawn prayer. He then sat (in the mosque among the people). A man said: Messenger of Allah, this is a spot of blood. The Messenger of Allah ﷺ caught hold of it from around and sent it to me folded in the hand of a slave and said: Wash it and dry it and then send it to me. I sent for my vessel and washed it. I then dried it and returned it to him. The Messenger of Allah ﷺ came at noon while he had the blanket over him.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٧٩٧٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٢٥٠) (ضعیف) (اس کی دو راویہ ام جحدر اور ام یونس مجہول ہیں )
389Sunan Abu Dawood

کپڑے میں تھوک لگ جانے کا بیان

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ قَالَ بَزَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثَوْبِهِ وَحَكَّ بَعْضَهُ بِبَعْضٍ.

ابونضرہ (منذر بن مالک) ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے کپڑے میں تھوکا اور اسی میں مل لیا۔

Narrated Abu Nadrah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ spat on his clothe and scrubbed with a part of it.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود (تحفة الأشراف: ٦١٨، ١٩٤٩٢)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصلاة ٣٣ (٤٠٥)، ٣٩ (٤١٧)، سنن النسائی/الطھارة ١٩٣ (٣٠٩)، سنن ابن ماجہ/الصلاة ٦١ (١٠٢٤) (صحیح )
390Sunan Abu Dawood

کپڑے میں تھوک لگ جانے کا بیان

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ.

انس ؓ نے اسی طرح نبی اکرم ﷺ سے مرفوعاً بیان کیا ہے۔

A similar tradition has also been narrated by Anas from the Prophet ﷺ through a different chain of narrators.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٦١٨) (صحیح )
58Sunan Abu Dawood

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا حُصَيْنٌ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِيهِ،عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: بِتُّ لَيْلَةً عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ مِنْ مَنَامِهِ، أَتَى طَهُورَهُ، فَأَخَذَ سِوَاكَهُ فَاسْتَاكَ، ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَاتِ: إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ وَاخْتِلافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لآيَاتٍ لأُولِي الأَلْبَابِ سورة آل عمران آية 190 حَتَّى قَارَبَ أَنْ يَخْتِمَ السُّورَةَ أَوْ خَتَمَهَا، ثُمَّ تَوَضَّأَ فَأَتَى مُصَلَّاهُ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى فِرَاشِهِ فَنَامَ مَا شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ اسْتَيْقَظَ فَفَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى فِرَاشِهِ فَنَامَ، ثُمَّ اسْتَيْقَظَ فَفَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى فِرَاشِهِ فَنَامَ، ثُمَّ اسْتَيْقَظَ فَفَعَلَ مِثْل ذَلِكَ، كُلُّ ذَلِكَ يَسْتَاكُ وَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ أَوْتَرَ ، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ حُصَيْنٍ، قَالَ: فَتَسَوَّكَ وَتَوَضَّأَ وَهُوَ يَقُولُ: إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ سورة آل عمران آية 190 حَتَّى خَتَمَ السُّورَةَ

میں نے ایک رات نبی اکرم ﷺ کے ساتھ گزاری، جب آپ نیند سے بیدار ہوئے تو اپنے وضو کے پانی کے پاس آئے، اپنی مسواک لے کر مسواک کی، پھر آپ ﷺ نے آیت کریمہ «إن في خلق السموات والأرض واختلاف الليل والنهار لآيات لأولي الألباب» ۱؎ کی تلاوت کی یہاں تک کہ سورۃ ختم کے قریب ہو گئی، یا ختم ہو گئی، اس کے بعد آپ ﷺ نے وضو کیا پھر اپنے مصلی پر آئے اور دو رکعت نماز پڑھی، پھر واپس اپنے بستر پر جب تک اللہ نے چاہا جا کر سوئے رہے، پھر نیند سے بیدار ہوئے اور اسی طرح کیا ( یعنی مسواک کر کے وضو کیا اور دو رکعت نماز پڑھی ) پھر اپنے بستر پر جا کر سوئے رہے، پھر نیند سے بیدار ہوئے، اور اسی طرح کیا، پھر اپنے بستر پر جا کر سوئے رہے اس کے بعد نیند سے بیدار ہوئے اور اسی طرح کیا، ہر بار آپ ﷺ مسواک کرتے، دو رکعت نماز پڑھتے تھے، اس کے بعد آپ ﷺ نے وتر پڑھی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابن فضیل نے حصین سے روایت کی ہے، اس میں اس طرح ہے کہ آپ ﷺ نے مسواک کی اور وضو کیا، آپ ﷺ آیت کریمہ «إن في خلق السموات والأرض» پڑھ رہے تھے، یہاں تک کہ پوری سورۃ ختم کر دی۔

Narrated Ibn Abbas: I spent a night with the Prophet صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم. When he woke up from his sleep (in the latter part of the night for prayer) he came to his ablution water. He took the tooth-stick and used it. He then recited the verse: Verily in the creation of the heavens and the earth and the alternation of the night and the day are tokens (of His Sovereignty) for men of understanding (iii-190). He recited these verses up to the end of the chapter or he finished the whole chapter. He then performed ablution and came to the place of prayer. He then said two rak'ahs of prayer. He then lay down on the bed and slept as much as Allaah wished. He then got up and did the same. He then lay down and slept. He then got up and did the same. Every time he used the tooth-stick and offered two rak'ah of prayer. He then offered the prayer known as witr. Abu Dawud said: Fudail on the authority if Husain reported the wording: He then used the tooth-stick and performed ablution while he was reciting the verses: Verily in the creation of the heaves and the earth. . . until he finished the chapter.