عیادت کے وقت مریض کے لئے دعا کرنا
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدٍ الرَّمْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ حُيَيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ، عَنِ ابْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا جَاءَ الرَّجُلُ يَعُودُ مَرِيضًا، فَلْيَقُلْ: اللَّهُمَّ اشْفِ عَبْدَكَ، يَنْكَأُ لَكَ عَدُوًّا، أَوْ يَمْشِي لَكَ إِلَى جَنَازَةٍ. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَقَالَ ابْنُ السَّرْحِ: إِلَى صَلَاةٍ.
عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب کوئی بیمار کے پاس عیادت کے لیے جائے تو اسے چاہیئے کہ وہ کہے: اللهم اشف عبدک ينكأ لک عدوا أو يمشي لك إلى جنازة اے اللہ! اپنے بندے کو شفاء دے تاکہ تیری راہ میں دشمن سے قتال و خوں ریزی کرے یا تیری خوشی کی خاطر جنازے کے ساتھ جائے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابن سرح نے اپنی روایت میں إلى جنازة کے بجائے إلى صلاة کہا ہے یعنی نماز جنازہ پڑھنے جائے۔
Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-As: The Prophet ﷺ said: When a man comes to visit a sick person, he should say: O Allah, cure Thy servant, who may then wreak havoc on an enemy for your sake, or walk at a funeral for your sake. Abu Dawud said: Ibn As-Sarh (one of the narrators) said: Ilas-salat (To the Salat).