جنازوں کا بیان

Sunan Abu Dawood · Chapter 18 · 152 hadiths · Page 2 of 8

3110Sunan Abu Dawood

ناگہانی موت کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ سَلَمَةَ، أَوْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ خَالِدٍ السُّلَمِيِّ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ ِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ مَرَّةً عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ مَرَّةً عَنْ عُبَيْدٍ، قَالَ: مَوْتُ الْفَجْأَةِ أَخْذَةُ أَسِفٍ.

صحابی رسول عبید بن خالد سلمی ؓ سے روایت ہے (راوی نے ایک بار نبی اکرم ﷺ سے مرفوعاً، پھر ایک بار عبید سے موقوفاً روایت کیا) : اچانک موت افسوس کی پکڑ ہے ١ ؎۔

Narrated Ubayd ibn Khalid as-Sulami,: A man from the Companions of the Prophet ﷺ , said: The narrator Saad ibn Ubaydah narrated sometimes from the Prophet ﷺ and sometimes as a statement of Ubayd (ibn Khalid): The Prophet ﷺ said: Sudden death is a wrathful catching.

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اللہ کے غضب کی علامت ہے، کیونکہ اس میں بندے کو مہلت نہیں ملتی کہ وہ اپنے سفر آخرت کا سامان درست کرسکے، یعنی توبہ و استغفار، وصیت یا کوئی عمل صالح کرسکے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٩٧٤٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٢٤، ٤/٢١٩) (صحیح )
3111Sunan Abu Dawood

جو شخص طاعون سے مرجائے اس کی فضیلت کا بیان

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَابِرِ بْنِ عَتِيكٍ، عَنْ عَتِيكِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَتِيكٍ وَهُوَ جَدُّ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَبُو أُمِّهِ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَمَّهُ جَابِرَ بْنَ عَتِيكٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ يَعُودُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ ثَابِتٍ، فَوَجَدَهُ قَدْ غُلِبَ، فَصَاحَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ يُجِبْهُ، فَاسْتَرْجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: غُلِبْنَا عَلَيْكَ يَا أَبَا الرَّبِيعِ، فَصَاحَ النِّسْوَةُ وَبَكَيْنَ، فَجَعَلَ ابْنُ عَتِيكٍ يُسَكِّتُهُنَّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: دَعْهُنَّ، فَإِذَا وَجَبَ فَلَا تَبْكِيَنَّ بَاكِيَةٌ، قَالُوا: وَمَا الْوُجُوبُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ: الْمَوْتُ، قَالَتِ ابْنَتُهُ: وَاللَّهِ إِنْ كُنْتُ لَأَرْجُو أَنْ تَكُونَ شَهِيدًا، فَإِنَّكَ كُنْتَ قَدْ قَضَيْتَ جِهَازَكَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَوْقَعَ أَجْرَهُ عَلَى قَدْرِ نِيَّتِهِ، وَمَا تَعُدُّونَ الشَّهَادَةَ ؟ قَالُوا: الْقَتْلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الشَّهَادَةُ سَبْعٌ، سِوَى الْقَتْلِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ: الْمَطْعُونُ شَهِيدٌ، وَالْغَرِقُ شَهِيدٌ، وَصَاحِبُ ذَاتِ الْجَنْبِ شَهِيدٌ، وَالْمَبْطُونُ شَهِيدٌ، وَصَاحِبُ الْحَرِيقِ شَهِيدٌ، وَالَّذِي يَمُوتُ تَحْتَ الْهَدْمِ شَهِيدٌ، وَالْمَرْأَةُ تَمُوتُ بِجُمْعٍ شَهِيدٌ.

جابر بن عتیک ؓ نے خبر دی کہ رسول اللہ ﷺ عبداللہ بن ثابت ؓ کے پاس بیمار پرسی کے لیے آئے تو ان کو بیہوش پایا، آپ ﷺ نے انہیں پکارا تو انہوں نے آپ کو جواب نہیں دیا، تو آپ ﷺ نے إنا لله وإنا إليه راجعون پڑھا، اور فرمایا: اے ابوربیع! تمہارے معاملے میں قضاء ہمیں مغلوب کرگئی ، یہ سن کر عورتیں چیخ پڑیں، اور رونے لگیں تو ابن عتیک ؓ انہیں خاموش کرانے لگے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: چھوڑ دو (رونے دو انہیں) جب واجب ہوجائے تو کوئی رونے والی نہ روئے ، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول: واجب ہونے سے کیا مراد ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: موت ، عبداللہ بن ثابت کی بیٹی کہنے لگیں: میں پوری امید رکھتی تھی کہ آپ شہید ہوں گے کیونکہ آپ نے جہاد میں حصہ لینے کی پوری تیاری کرلی تھی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ انہیں ان کی نیت کے موافق اجر و ثواب دے چکا، تم لوگ شہادت کسے سمجھتے ہو؟ لوگوں نے کہا: اللہ کی راہ میں قتل ہوجانا شہادت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قتل فی سبیل اللہ کے علاوہ بھی سات شہادتیں ہیں: طاعون میں مرجانے والا شہید ہے، ڈوب کر مرجانے والا شہید ہے، ذات الجنب (نمونیہ) سے مرجانے والا شہید ہے، پیٹ کی بیماری (دستوں وغیرہ) سے مرجانے والا شہید ہے، جل کر مرجانے والا شہید ہے، جو دیوار گرنے سے مرجائے شہید ہے، اور عورت جو حالت حمل میں ہو اور مرجائے تو وہ بھی شہید ہے ۔

Narrated Jabir ibn Atik: The Messenger of Allah ﷺ came to visit Abdullah ibn Thabit who was ill. He found that he was dominated (by the divine decree). The Messenger of Allah ﷺ called him loudly, but he did not respond. He uttered the Quranic verse We belong to Allah and to Him do we return and he said: We have been dominated against you, AburRabi. Then the women cried and wept, and Ibn Atik began to silence them. The Messenger of Allah ﷺ said: Leave them, when the divine decree is made, no woman should weep. They (the people) asked: What is necessary happening, Messenger of Allah? He replied: Death. His daughter said: I hope you will be a martyr, for you have completed your preparations for jihad. The Messenger of Allah ﷺ said: Allah Most High gave him a reward according to his intentions. What do you consider martyrdom? They said: Being killed in the cause of Allah. The Messenger of Allah ﷺ said: There are seven types of martyrdom in addition to being killed in Allahs cause: one who dies of plague is a martyr; one who is drowned is a martyr; one who dies of pleurisy is a martyr; one who dies of an internal complaint is a martyr; one who is burnt to death is a martyr; who one is killed by a building falling on him is a martyr; and a woman who dies while pregnant is a martyr.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الجنائز ١٤ (١٨٤٧)، الجہاد ٤٨ (٣١٩٦)، سنن ابن ماجہ/الجھاد ١٧ (٢٨٠٣)، (تحفة الأشراف: ٣١٧٣)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الجنائز ١٢ (٣٦)، مسند احمد (٥/٤٤٦) (صحیح )
3112Sunan Abu Dawood

موت کے قریب مریض کے ناخن اور زیر ناف کے بال کاٹنا

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ جَارِيَةَ الثَّقَفِيُّ حَلِيفُ بَنِي زُهْرَةَ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: ابْتَاعَ بَنُو الْحَارِثِ بْنِ عَامِرِ بْنِ نَوْفَلٍ خُبَيْبًا، وَكَانَ خُبَيْبٌ هُوَ قَتَلَ الْحَارِثَ بْنَ عَامِرٍ يَوْمَ بَدْرٍ، فَلَبِثَ خُبَيْبٌ عِنْدَهُمْ أَسِيرًا. حتَّى أَجْمَعُوا لِقَتْلِهِ، فَاسْتَعَارَ مِنَ ابْنَةِ الْحَارِثِ مُوسًى يَسْتَحِدُّ بِهَا، فَأَعَارَتْهُ، فَدَرَجَ بُنَيٌّ لَهَا وَهِيَ غَافِلَةٌ. حتَّى أَتَتْهُ، فَوَجَدَتْهُ مُخْلِيًا وَهُوَ عَلَى فَخْذِهِ، وَالْمُوسَى بِيَدِهِ، فَفَزِعَتْ فَزْعَةً عَرَفَهَا فِيهَا، فَقَالَ: أَتَخْشَيْنَ أَنْ أَقْتُلَهُ ؟ مَا كُنْتُ لِأَفْعَلَ ذَلِكَ. قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَى هَذِهِ الْقِصَّةَ شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عِيَاضٍ، أَنَّ ابْنَةَ الْحَارِثِ أَخْبَرَتْهُ، أَنَّهُمْ حِينَ اجْتَمَعُوا يَعْنِي لِقَتْلِهِ اسْتَعَارَ مِنْهَا مُوسًى يَسْتَحِدُّ بِهَا، فَأَعَارَتْهُ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ حارث بن عامر بن نوفل کے بیٹوں نے خبیب ؓ کو خریدا ١ ؎ اور خبیب ہی تھے جنہوں نے حارث بن عامر کو جنگ بدر میں قتل کیا تھا، تو خبیب ان کے پاس قید رہے (جب حرمت کے مہینے ختم ہوگئے) تو وہ سب ان کے قتل کے لیے جمع ہوئے، خبیب بن عدی نے حارث کی بیٹی سے استرہ طلب کیا جس سے وہ ناف کے نیچے کے بال کی صفائی کرلیں، اس نے انہیں استرہ دے دیا، اسی حالت میں اس کا ایک چھوٹا بچہ خبیب کے پاس جا پہنچا وہ بیخبر تھی یہاں تک کہ وہ ان کے پاس آئی تو دیکھا کہ وہ اکیلے ہیں، بچہ ان کی ران پر بیٹھا ہوا ہے، اور استرہ ان کے ہاتھ میں ہے، یہ دیکھ کر وہ سہم گئی اور ایسی گھبرائی کہ خبیب بھانپ گئے اور کہنے لگے: کیا تم ڈر رہی ہو کہ میں اسے قتل کر دوں گا، میں ایسا ہرگز نہیں کرسکتا ٢ ؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس قصہ کو شعیب بن ابوحمزہ نے زہری سے روایت کیا ہے، وہ کہتے ہیں کہ مجھے عبیداللہ بن عیاض نے خبر دی ہے کہ حارث کی بیٹی نے انہیں بتایا کہ جب لوگوں نے خبیب کے قتل کا متفقہ فیصلہ کرلیا تو انہوں نے موئے زیر ناف صاف کرنے کے لیے اس سے استرہ مانگا تو اس نے انہیں دے دیا ٣ ؎۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : Banu al-Harith bin Amir bin Nawfal bought Khubaib. Khubaib killed al-Harith bin Amir on the day of Badr. Khubaib remained with them as a prisoner until they agreed on his killing. He borrowed razor form the daughter of al-Harith to shave his pubes. She let it to him. A small child of her crept to him while she was inattentive. When she same, she found him alone and the child was on this thigh and the razor was in his hand. She was terrified and he realized its effect on her. He said: Do you fear that I shall kill him ? I am not going to do that. Abu Dawud said: Shuaib bin Abi Hamzah transmitted this narrative from al-Zuhri. He said: Ubaid Allah bin Ayyash told me that the daughter of al-Harith told him that when they gathered for killing him, he borrowed a razor from her to shave (his pubes). She lent it to him.

Notes · وضاحت
١ ؎: سو اونٹ کے بدلہ میں خریدا تاکہ انہیں قتل کر کے اپنے باپ کے قتل کا بدلہ لیں۔ ٢ ؎: کیونکہ اسلام میں کسی بےگناہ بچے کا قتل جائز نہیں۔ ٣ ؎: پھر ان کافروں نے خبیب ؓ کو تنعیم میں سولی دے دی، جو حدود حرم سے باہر ہے، خبیب نے اتنی مہلت مانگی کہ وہ دو رکعت ادا کرسکیں تو کافروں نے انہیں مہلت دے دی، آپ نے دو رکعت ادا کی پھر یہ شعر پڑھے: فلست أبالي حين أقتل مسلمًا على أي جنب کان في الله مصرعي وذلک في ذات الإله وإن يشأ يبارک على أوصال شلو ممزع (جب میں مسلمان ہونے کی حالت میں مارا جاؤں تو مجھے اس کی پرواہ نہیں کہ کس پہلو پر ہوں۔ میرا یہ قتل اللہ کے لئے ہے، اگر اللہ چاہے تو پارہ پارہ عضو کے جوڑ جوڑ میں برکت دے دے۔ )
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (٢٦٦٠)، (تحفة الأشراف: ١٤٢٧١) (صحیح )
3113Sunan Abu Dawood

مرتے وقت اللہ سے نیک گمان رکھنا اچھا ہے (یعنی یہ گمان رکھنا کہ وہ میری مغفرت فرمائے گا)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ قَبْلَ مَوْتِهِ بِثَلَاثٍ: قَالَ: لَا يَمُوتُ أَحَدُكُمْ، إِلَّا وَهُوَ يُحْسِنُ الظَّنَّ بِاللَّهِ.

جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ کو آپ کی وفات سے تین دن پہلے فرماتے ہوئے سنا: تم میں سے ہر شخص اس حال میں مرے کہ وہ اللہ سے اچھی امید رکھتا ہو ١ ؎۔

Narrated Jabir bin Abdullah (RA) : I heard the Messenger of Allah ﷺ say three days before his death: No one of you dies but he had good faith in Allah.

Notes · وضاحت
١ ؎: کہ اللہ اس کی غلطیوں کو معاف کرے گا اور اسے اپنی رحمت سے نوازے گا۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الجنة وصفة نعیمھا ١٩ (٢٨٧٧)، سنن ابن ماجہ/الزھد ١٤ (٤١٦٧)، (تحفة الأشراف: ٢٢٩٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣١٥، ٣٢٥، ٣٣٠، ٣٣٤، ٣٩٠) (صحیح )
3114Sunan Abu Dawood

مرتے وقت صاف ستھرے کپڑے پہننا مستحب ہے

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّهُ لَمَّا حَضَرَهُ الْمَوْتُ دَعَا بِثِيَابٍ جُدُدٍ، فَلَبِسَهَا، ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: إِنَّ الْمَيِّتَ يُبْعَثُ فِي ثِيَابِهِ الَّتِي يَمُوتُ فِيهَا.

ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ جب ان کی موت کا وقت قریب آیا تو انہوں نے نئے کپڑے منگوا کر پہنے اور کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: مردہ اپنے انہیں کپڑوں میں (قیامت میں) اٹھایا جائے گا جن میں وہ مرے گا ١ ؎۔

Narrated Abu Saeed al-Khudri (RA) : When the time of his death came, he called for new clothes and put on them. He then said: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: A deceased will be raised in the clothes in which he died.

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی مرتے وقت اس کے بدن پر جو کپڑے ہوتے ہیں، بعض لوگوں نے کہا کہ ثیاب سے اعمال مراد ہیں نہ کہ کپڑے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٤٤٢٨) (صحیح )
3115Sunan Abu Dawood

جب کوئی آدمی مرے لگے تو اس کے آس پاس والوں کو کیا کہنا چاہئے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا حَضَرْتُمُ الْمَيِّتَ، فَقُولُوا خَيْرًا، فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ يُؤَمِّنُونَ عَلَى مَا تَقُولُونَ، فَلَمَّا مَاتَ أَبُو سَلَمَةَ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا أَقُولُ ؟ قَالَ: قُولِي: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ، وَأَعْقِبْنَا عُقْبَى صَالِحَةً. قَالَتْ: فَأَعْقَبَنِي اللَّهُ تَعَالَى بِهِ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کہتی ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم کسی مرنے والے شخص کے پاس جاؤ تو بھلی بات کہو ١ ؎ اس لیے کہ فرشتے تمہارے کہے پر آمین کہتے ہیں ، تو جب ابوسلمہ ؓ (ام سلمہ ؓ کے شوہر) انتقال کر گئے تو میں نے رسول اللہ ﷺ سے کہا کہ میں کیا کہوں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: تم کہو: اللهم اغفر له وأعقبنا عقبى صالحة اے اللہ! ان کو بخش دے اور مجھے ان کا نعم البدل عطا فرما ۔ ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کہتی ہیں: تو مجھے اللہ تعالیٰ نے ان کے بدلے میں محمد ﷺ کو عنایت فرمایا۔

Narrated Umm Salamah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ : When you attend dying man, you should say good words, for the angels say Amin to what you say. When Abu Salamah died, I said: What should I say, Messenger of Allah? He said: O Allah forgive him, and give us something good in exchange. She said: So Allah gave me Muhammad ﷺ in exchange for him.

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی دعائے مغفرت وغیرہ کرو۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الجنائز ٣ (٩١٩)، سنن الترمذی/الجنائز ٧ (٩٧٧)، سنن النسائی/الجنائز ٣ (١٨٢٤)، سنن ابن ماجہ/الجنائز ٤ (١٤٤٧)، ٥٥ (١٥٩٨)، (تحفة الأشراف: ١٨١٦٢، ١٨٢٤٧)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الجنائز ١٤ (٤٢)، مسند احمد (٦/٢٩١، ٣٠٦) (صحیح )
3116Sunan Abu Dawood

مرتے وقت کلمہ توحید کی تلقین کرنا

حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ الْمِسْمَعِيُّ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنِي صَالِحُ بْنُ أَبِي عَرِيبٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ كَانَ آخِرُ كَلَامِهِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، دَخَلَ الْجَنَّةَ.

معاذ بن جبل ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس کا آخری کلام لا إله إلا الله ہوگا وہ جنت میں داخل ہوگا ١ ؎۔

Narrated Muadh bin Jabal (RA) : The Messenger of Allah ﷺ as saying: If anyones last words are There is no god but Allah he will enter Paradise.

Notes · وضاحت
١ ؎: اس لئے مرتے وقت مرنے والے کے قریب لا إله إلا الله کہنا چاہیے تاکہ اس کی زبان پر بھی یہ کلمہ جاری ہوجائے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١١٣٥٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٢٣٣، ٢٤٧) (صحیح )
3117Sunan Abu Dawood

مرتے وقت کلمہ توحید کی تلقین کرنا

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُمَارَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَقِّنُوا مَوْتَاكُمْ قَوْلَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اپنے مرنے والے لوگوں کو کلمہ لا إله إلا الله کی تلقین کرو ١ ؎۔

Narrated Abu Saeed Al Khudri (RA) : The Messenger of Allah ﷺ as saying: Recite to those of you who are dying There is no god but Allah.

Notes · وضاحت
١ ؎: اس کے پاس یہ کلمہ پڑھ کر اسے یاد دلاؤ کہ وہ بھی اپنی زبان پر اسے جاری کرلے اور دخول جنت کا مستحق بن جائے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الجنائز ١ (٩١٦)، سنن الترمذی/الجنائز ٧ (٩٧٦)، سنن النسائی/الجنائز ٤ (١٨٢٧)، سنن ابن ماجہ/الجنائز ٣ (١٤٤٥)، (تحفة الأشراف: ٤٤٠٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣) (صحیح )
3118Sunan Abu Dawood

میت کی آنکھیں بند کرنا

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ حَبِيبٍ أَبُو مَرْوَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاق يَعْنِي الْفَزَارِيَّ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْقَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَبِي سَلَمَةَ، وَقَدْ شَقَّ بَصَرَهُ، فَأَغْمَضَهُ، فَصَيَّحَ نَاسٌ مِنْ أَهْلِهِ، فَقَالَ: لَا تَدْعُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ إِلَّا بِخَيْرٍ، فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ يُؤَمِّنُونَ عَلَى مَا تَقُولُونَ، ثُمَّ قَالَ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِأَبِي سَلَمَةَ، وَارْفَعْ دَرَجَتَهُ فِي الْمَهْدِيِّينَ، وَاخْلُفْهُ فِي عَقِبِهِ فِي الْغَابِرِينَ، وَاغْفِرْ لَنَا وَلَهُ رَبَّ الْعَالَمِينَ، اللَّهُمَّ افْسَحْ لَهُ فِي قَبْرِهِ، وَنَوِّرْ لَهُ فِيهِ. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَتَغْمِيضُ الْمَيِّتِ بَعْدَ خُرُوجِ الرُّوحِ، سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ النُّعْمَانِ الْمُقْرِيَّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا مَيْسَرَةَ رَجُلًا عَابِدًا، يَقُولُ: غَمَّضْتُ جَعْفَرًا الْمُعَلِّمَ، وَكَانَ رَجُلًا عَابِدًا فِي حَالَةِ الْمَوْتِ، فَرَأَيْتُهُ فِي مَنَامِي لَيْلَةَ مَاتَ، يَقُولُ: أَعْظَمُ مَا كَانَ عَلَيَّ، تَغْمِيضُكَ لِي قَبْلَ أَنْ أَمُوتَ.

ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کہتی ہیں رسول اللہ ﷺ ابوسلمہ ؓ کے پاس آئے ان کی آنکھیں کھلی رہ گئی تھیں آپ ﷺ نے انہیں بند کردیا (یہ دیکھ کر) ان کے خاندان کے کچھ لوگ رونے پیٹنے لگے، آپ ﷺ نے فرمایا: تم سب اپنے حق میں صرف خیر کی دعا کرو کیونکہ جو کچھ تم کہتے ہو، فرشتے اس پر آمین کہتے ہیں ، پھر آپ ﷺ نے فرمایا اللهم اغفر لأبي سلمة وارفع درجته في المهديين واخلفه في عقبه في الغابرين واغفر لنا وله رب العالمين اللهم افسح له في قبره ونور له فيه اے اللہ! ابوسلمہ کو بخش دے، انہیں ہدایت یافتہ لوگوں میں شامل فرما کر ان کے درجات بلند فرما اور باقی ماندہ لوگوں میں ان کا اچھا جانشین بنا، اے سارے جہان کے پالنہار! ہمیں اور انہیں (سبھی کو) بخش دے، ان کے لیے قبر میں کشادگی فرما اور ان کی قبر میں روشنی کر دے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: تغميض الميت (آنکھ بند کرنے کا عمل) روح نکلنے کے بعد ہوگا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے محمد بن محمد بن نعمان مقری سے سنا وہ کہتے ہیں: میں نے ابومیسرہ سے جو ایک عابد شخص تھے سنا، وہ کہتے ہیں کہ میں نے جعفر معلم کی آنکھ جو ایک عابد آدمی تھے مرتے وقت ڈھانپ دی تو ان کے انتقال والی رات میں خواب میں دیکھا وہ کہہ رہے تھے کہ تمہارا میرے مرنے سے پہلے میری آنکھ کو بند کردینا میرے لیے باعث مشقت و تکلیف رہی (یعنی آنکھ مرنے سے پہلے بند نہیں کرنی چاہیئے) ۔

Narrated Umm Salamah (RA) : When the Messenger of Allah ﷺ entered upon Abu Salamah, his eyes were fixedly open. So he closed them. The members of his family cried. He said: Do not pray for yourself anything but good, for the angels utter Amin to what you say. He then said: O Allah, forgive Abu Salamah, raise his rank among those who are guided, and grant him a succession in his descendants who remain. Forgive both us and him, Lord of the universe. O Allah, make his grave spacious for him, and grant him light in it. Abu Dawud said: The eyes of the deceased should be closed after his expiry. I heard Muhammad bin al-Numan al-Muqri say: I heard a man who was devoted to Allah say: I closed the eyes of Jafar al-Muallim when he was dying. He was a man devoted to Allah. I saw him in a dream on the night he died. He said: The biggest thing for me was closing the eyes by you before I died.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/ الجنائز ٤ (٩٢٠)، سنن ابن ماجہ/ الجنائز ٦ (١٤٥٤)، (تحفة الأشراف: ١٨٢٠٥، ١٩٦٠١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٢٩٧) (صحیح )
3119Sunan Abu Dawood

انا للہ وانا الیہ راجعون کہنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا أَصَابَتْ أَحَدَكُمْ مُصِيبَةٌ، فَلْيَقُلْ: إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، اللَّهُمَّ عِنْدَكَ أَحْتَسِبُ مُصِيبَتِي، فَآجِرْنِي فِيهَا، وَأَبْدِلْ لِي خَيْرًا مِنْهَا.

ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو کوئی مصیبت پہنچے (تھوڑی ہو یا زیادہ) تو اسے چاہیئے کہ: إنا لله وإنا إليه راجعون، اللهم عندک أحتسب مصيبتي فآجرني فيها وأبدل لي خيرا منها بیشک ہم اللہ کے ہیں اور لوٹ کر بھی اسی کے پاس جانے والے ہیں، اے اللہ! میں تیرے ہی پاس اپنی مصیبت کو پیش کرتا ہوں تو مجھے اس مصیبت کے بدلے جو مجھے پہنچ چکی ہے ثواب عطا کر اور اس مصیبت کو خیر سے بدل دے، کہے ۔

Narrated Umm Salamah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ as saying: When one of you is afflicted with a calamity, he should say: We belong to Allah, and to Him we do return. O Allah, I expect reward from Thee from this affliction, so give me reward for it, and give me a better compensation.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٨٢٠٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٣١٧) (ضعیف) (ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعيفة، للالبانی ٢٣٨٢ )
3120Sunan Abu Dawood

مرنے کے بعد میت پر کپڑا ڈال دینا

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ: أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَسُجِّيَ فِي ثَوْبِ حِبَرَةٍ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کو (وفات کے بعد) یمنی کپڑے سے ڈھانپ دیا گیا۔

Narrated Aisha (RA) : The Prophet ﷺ was covered with striped Yemen garment (after his death).

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/اللباس ١٨(٥٨١٤)، صحیح مسلم/الجنائز ١٤ (٩٤٢)، (تحفة الأشراف: ١٧٧٦٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٨٩، ٢٦٩) (صحیح)
3121Sunan Abu Dawood

مرنے کے وقت سورت یٰسین پڑھنا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مَكِّيٍّ الْمَرْوَزِيُّ، المعنى قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ وَلَيْسَ بِالنَّهْدِيِّ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اقْرَءُوا يس عَلَى مَوْتَاكُمْ. وَهَذَا لَفْظُ ابْنِ الْعَلَاءِ.

معقل بن یسار ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم اپنے مردوں پر سورۃ، يس، پڑھو ١ ؎۔

Narrated Maqil ibn Yasar (RA) : The Prophet ﷺ said: Recite Surah Ya-Sin over your dying men. This is the version of Ibn al-Ala

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی مرنے کے قریب لوگوں پر۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الجنائز ٤ (١٤٤٨)، (تحفة الأشراف: ١١٤٧٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٢٦، ٢٧) (ضعیف) (اس کے راوی ابو عثمان اور ان کے والد دونوں مجہول ہیں )
3122Sunan Abu Dawood

مصیبت کے وقت بیٹھ جانے کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: لَمَّا قُتِلَ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ، وَجَعْفَرٌ،وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ، جَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ، يُعْرَفُ فِي وَجْهِهِ الْحُزْنُ، وَذَكَرَ الْقِصَّةَ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں جب زید بن حارثہ، جعفر بن ابوطالب اور عبداللہ بن رواحہ ؓ قتل کر دئیے گئے (اور آپ ﷺ کو اطلاع ملی) تو رسول ﷺ مسجد نبوی میں بیٹھ گئے، آپ کے چہرے سے غم ٹپک رہا تھا، اور واقعہ کی تفصیل بتائی۔

Narrated Aisha (RA) : When Zaid bin Harithah, Jafar and Abdullah bin Rawahah were killed, the Messenger of Allah ﷺ sat down in the mosque and grief was visible in his face. Then he (the narrator) mentioned the rest of the tradition.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجنائز ٤٠ (١٢٩٩)، ٤٥ (١٣٠٥)، والمغازي ٤٤ (٤٢٦٣)، صحیح مسلم/الجنائز ١٠ (٩٣٥)، سنن النسائی/الجنائز ١٤ (١٨٤٨)، (تحفة الأشراف: ١٧٩٣٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٥٩، ٢٧٧) (صحیح )
3123Sunan Abu Dawood

میت کے وارثوں سے تعزیت کرنا

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ سَيْفٍ الْمَعَافِرِيِّ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ،عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: قَبَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْنِي مَيِّتًا، فَلَمَّا فَرَغْنَا، انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَانْصَرَفْنَا مَعَهُ، فَلَمَّا حَاذَى بَابَهُ وَقَفَ، فَإِذَا نَحْنُ بِامْرَأَةٍ مُقْبِلَةٍ، قَالَ: أَظُنُّهُ عَرَفَهَا، فَلَمَّا ذَهَبَتْ، إِذَا هِيَ فَاطِمَةُ عَلَيْهَا السَّلَام، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا أَخْرَجَكِ يَا فَاطِمَةُ مِنْ بَيْتِكِ ؟ فَقَالَتْ: أَتَيْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَهْلَ هَذَا الْبَيْتِ، فَرَحَّمْتُ إِلَيْهِمْ مَيِّتَهُمْ، أَوْ عَزَّيْتُهُمْ بِهِ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَلَعَلَّكِ بَلَغْتِ مَعَهُمُ الْكُدَى، قَالَتْ: مَعَاذَ اللَّهِ، وَقَدْ سَمِعْتُكَ تَذْكُرُ فِيهَا مَا تَذْكُرُ، قَالَ: لَوْ بَلَغْتِ مَعَهُمُ الْكُدَىفَذَكَرَ تَشْدِيدًا فِي ذَلِكَ، فَسَأَلْتُ رَبِيعَةَ عَنِ الْكُدَى، فَقَالَ: الْقُبُورُ فِيمَا أَحْسَبُ.

عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کی موجودگی میں ایک میت کو دفنایا، جب ہم تدفین سے فارغ ہوئے تو آپ ﷺ لوٹے، ہم بھی آپ کے ساتھ لوٹے، جب آپ ﷺ میت کے دروازے کے سامنے آئے تو رک گئے، اچانک ہم نے دیکھا کہ ایک عورت چلی آرہی ہے۔ میرا خیال ہے کہ آپ ﷺ نے اس عورت کو پہچان لیا، جب وہ چلی گئیں تو معلوم ہوا کہ وہ فاطمہ ؓ ہیں، رسول اللہ ﷺ نے ان سے پوچھا: فاطمہ! تم اپنے گھر سے کیوں نکلی؟ ، انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! میں اس گھر والوں کے پاس آئی تھی تاکہ میں ان کی میت کے لیے اللہ سے رحم کی دعا کروں یا ان کی تعزیت کروں، رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: شاید تم ان کے ساتھ کدی (مکہ میں ایک جگہ ہے) گئی تھی ، انہوں نے کہا: معاذاللہ! میں تو اس بارے میں آپ کا بیان سن چکی ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: اگر تم ان کے ساتھ کدی گئی ہوتی تو میں ایسا ایسا کرتا ، (اس سلسلہ میں رسول اللہ ﷺ نے سخت رویے کا اظہار فرمایا) ۔ راوی کہتے ہیں: میں نے ربیعہ سے کدی کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: جیسا کہ میں سمجھ رہا ہوں اس سے قبریں مراد ہے۔

Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-As: We buried a deceased person in the company of the Messenger of Allah ﷺ . When we had finished, the Messenger of Allah ﷺ returned and we also returned with him. When he approached his door, he stopped, and we saw a woman coming towards him. He (the narrator) said: I think he recognized her. When she went away, we came to know that she was Fatimah. The Messenger of Allah ﷺ said to her: What brought you out of your house, Fatimah? She replied: I came to the people of this house, Messenger of Allah, and I showed pity and expressed my condolences to them for their deceased relation. The Messenger of Allah ﷺ said: You might have gone to the graveyard with them. She replied: I seek refuge in Allah! I heard you referring to what you mentioned. He said: If you had gone to the graveyard. . . He then mentioned severe words about it. I then asked Rabiah (a narrator of this tradition) about al-kuda (stony land). He replied: I think it means the graves.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الجنائز ٢٧ (١٨٨١)، (تحفة الأشراف: ٨٨٥٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٦٩، ٢٢٣) (ضعیف) (اس کے راوی ربیعہ کی ثقاہت میں بہت کلام ہے )
3124Sunan Abu Dawood

مصیبت کے وقت صبر کرنا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: أَتَى نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى امْرَأَةٍ تَبْكِي عَلَى صَبِيٍّ لَهَا، فَقَالَ لَهَااتَّقِي اللَّهَ، وَاصْبِرِي، فَقَالَتْ: وَمَا تُبَالِي أَنْتَ بِمُصِيبَتِي ؟ فَقِيلَ لَهَا: هَذَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَتْهُ، فَلَمْ تَجِدْ عَلَى بَابِهِ بَوَّابِينَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَمْ أَعْرِفْكَ. فَقَالَ: إِنَّمَا الصَّبْرُ عِنْدَ الصَّدْمَةِ الْأُولَى، أَوْ عِنْدَ أَوَّلِ صَدْمَةٍ.

انس ؓ کہتے ہیں نبی اکرم ﷺ ایک ایسی عورت کے پاس سے گزرے جو اپنے بچے کی موت کے غم میں (بآواز) رو رہی تھی، آپ ﷺ نے اس سے فرمایا: اللہ سے ڈرو اور صبر کرو ١ ؎، اس عورت نے کہا: آپ کو میری مصیبت کا کیا پتا ٢ ؎؟، تو اس سے کہا گیا: یہ نبی اکرم ﷺ ہیں (جب اس کو اس بات کی خبر ہوئی) تو وہ آپ ﷺ کے پاس آئی، آپ کے دروازے پہ اسے کوئی دربان نہیں ملا، اس نے آپ ﷺ سے کہا: اللہ کے رسول! میں نے آپ کو پہچانا نہ تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: صبر وہی ہے جو پہلے صدمہ کے وقت ہو یا فرمایا: صبر وہی ہے جو صدمہ کے شروع میں ہو ۔

Narrated Anas (RA) : The Prophet ﷺ came upon a woman who was weeping for her child. He said to her: Fear Allah and have patience. She said: What have you to do with my calamity ? She was then told that he was the Prophet ﷺ . She, therefore, came to him. She did not find doorkeepers at his gate. She said: I did not recognize you, Messenger of Allah. He said: Endurance is shown only at a first blow.

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی نوحہ مت کر ورنہ اسے عذاب دیا جائے گا۔ ٢ ؎: کہ یہ میرے لئے کتنی بڑی مصیبت ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجنائز ٣١ (١٢٨٣)، ٤٢ (١٣٠٢)، الأحکام ١١ (٧١٥٤)، صحیح مسلم/الجنائز ٨ (٩٢٦)، سنن النسائی/الجنائز ٢٢ (١٨٧٠)، سنن الترمذی/ الجنائز ١٣ (٩٨٨)، سنن ابن ماجہ/الجنائز ٥٥ (١٥٩٦)، (تحفة الأشراف: ٤٣٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١٣٠، ١٤٣، ٢١٧) (صحیح )
3125Sunan Abu Dawood

میت پر رونے کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عُثْمَانَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ: أَنَّ ابْنَةً لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْسَلَتْ إِلَيْهِ، وَأَنَا مَعَهُ، وَسَعْدٌ، وَأَحْسَبُ أُبَيًّا أَنَّ ابْنِي أَوْ بِنْتِي قَدْ حُضِرَ، فَاشْهَدْنَا، فَأَرْسَلَ يُقْرِئُ السَّلَامَ، فَقَالَ: قُلْلِلَّهِ مَا أَخَذَ وَمَا أَعْطَى، وَكُلُّ شَيْءٍ عِنْدَهُ إِلَى أَجَلٍ، فَأَرْسَلَتْ تُقْسِمُ عَلَيْهِ، فَأَتَاهَا، فَوُضِعَ الصَّبِيُّ فِي حِجْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَنَفْسُهُ تَقَعْقَعُ، فَفَاضَتْ عَيْنَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ سَعْدٌ: مَا هَذَا ؟ قَالَ: إِنَّهَا رَحْمَةٌ وَضَعَهَا اللَّهُ فِي قُلُوبِ مَنْ يَشَاءُ، وَإِنَّمَا يَرْحَمُ اللَّهُ مِنْ عِبَادِهِ الرُّحَمَاءَ.

اسامہ بن زید ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی ایک بیٹی (زینب ؓ) نے آپ کو یہ پیغام دے کر بلا بھیجا کہ میرے بیٹے یا بیٹی کے موت کا وقت قریب ہے، آپ ﷺ تشریف لے آئے، اس وقت میں اور سعد اور میرا خیال ہے کہ ابی بھی آپ کے ساتھ تھے، آپ ﷺ نے (جواباً ) سلام کہلا بھیجا، اور فرمایا: ان سے (جا کر) کہو کہ اللہ ہی کے لیے ہے جو چیز کہ وہ لے، اور اسی کی ہے جو چیز کہ وہ دے، ہر چیز کا ایک وقت مقرر ہے ۔ پھر زینب ؓ نے دوبارہ بلا بھیجا اور قسم دے کر کہلایا کہ آپ ضرور تشریف لائیں، چناچہ آپ ﷺ ان کے پاس تشریف لائے، بچہ آپ کی گود میں رکھا گیا، اس کی سانس تیز تیز چل رہی تھی تو رسول ﷺ کی دونوں آنکھیں بہ پڑیں، سعد نے آپ ﷺ سے کہا: یہ کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: یہ رحمت ہے، اللہ جس کے دل میں چاہتا ہے اسے ڈال دیتا ہے، اور اللہ انہیں بندوں پر رحم کرتا ہے جو دوسروں کے لیے رحم دل ہوتے ہیں ۔

Narrated Usamah bin Zaid: A daughter of Messenger of Allah ﷺ sent him message while I and Saad were with him and I think Ubayy was also there: My son or daughter (the narrator is doubtful) is dying, so come to us. He sent her greeting, saying at the same time: Say! What Allah has been taken belongs to Him, what He has given (belongs to Him), and He has appointed time for everything. She then sent a message adjuring him (to come to her). So he came to her and the child who was on the point of death was placed in the hearts of those whom He wished. Allah shows compassion only to those of His servants who are compassionate.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجنائز ٣٢ (١٢٨٤)، والمرضی ٩ (٥٦٥٥)، و القدر ٤ (٦٦٠٢)، والأیمان والنذور ٩ (٦٦٥٥)، والتوحید ٢ (٧٣٧٧)، ٢٥ (٧٤٤٨)، صحیح مسلم/الجنائز ٦ (٩٢٣)، سنن النسائی/الکبري الجنائز ٢٢ (١٩٦٩)، سنن ابن ماجہ/الجنائز ٥٣ (١٥٨٨)، (تحفة الأشراف: ٩٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٢٠٤، ٢٠٦، ٢٠٧) (صحیح )
3126Sunan Abu Dawood

میت پر رونے کا بیان

حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وُلِدَ لِي اللَّيْلَةَ غُلَامٌ، فَسَمَّيْتُهُ بِاسْمِ أَبِي إِبْرَاهِيمَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ أَنَسٌ: لَقَدْ رَأَيْتُهُ يَكِيدُ بِنَفْسِهِ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَمَعَتْ عَيْنَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: تَدْمَعُ الْعَيْنُ، وَيَحْزَنُ الْقَلْبُ، وَلَا نَقُولُ إِلَّا مَا يَرْضَى رَبُّنَا، إِنَّا بِكَ يَا إِبْرَاهِيمُ لَمَحْزُونُونَ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: آج رات میرے یہاں بچہ پیدا ہوا، میں نے اس کا نام اپنے والد ابراہیم کے نام پر رکھا ، اس کے بعد راوی نے پوری حدیث بیان کی، انس ؓ کہتے ہیں: میں نے اس بچے کو رسول اللہ ﷺ کی گود میں موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا دیکھا، تو آپ ﷺ کی آنکھوں سے آنسو بہہ پڑے، آپ نے فرمایا: آنکھ آنسو بہا رہی ہے، دل غمگین ہے ١ ؎، اور ہم وہی کہہ رہے ہیں جو ہمارے رب کو پسند آئے، اے ابراہیم! ہم تمہاری جدائی سے غمگین ہیں ٢ ؎۔

Narrated Anas bin Malik (RA): The Messenger of Allah ﷺ as saying: A child was born to me at night and I named him Ibrahim after his. He then narrated the rest of the tradition. Anas said: I saw it at the point of the death before the Messenger of Allah ﷺ . Tears began to fall from the eyes of the Messenger of Allah ﷺ . He said: The eye weeps and the heart grieves, but we say only what our Lord is pleased with, and we are grieved for you, Ibrahim.

Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے معلوم ہوا کہ آنکھ سے آنسو کا نکلنا اور غمزدہ ہونا صبر کے منافی نہیں بلکہ یہ رحم دلی کی نشانی ہے، البتہ نوحہ اور شکوہ کرنا صبر کے منافی اور حرام ہے۔ ٢ ؎: ابراہیم ماریہ قبطیہ کے بطن سے پیدا ہوئے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجنائز ٤٣ (١٣٠٣)، صحیح مسلم/الفضائل ١٥ (٢٣١٥)، (تحفة الأشراف: ٤٠٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١٩٤) (صحیح )
3127Sunan Abu Dawood

نوحہ کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ حَفْصَةَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَنَهَانَا عَنِ النِّيَاحَةِ.

ام عطیہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں نوحہ کرنے سے منع فرمایا ہے ١ ؎۔

Narrated Umm Atiyyah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ prohibited us to wail.

Notes · وضاحت
١ ؎: میت پر آواز کے ساتھ رونے کو نوحہ کہتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٨١٢٢)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجنائز ٤٥ (١٣٠٦)، والأحکام ٤٩ (٧٢١٥)، صحیح مسلم/الجنائز ١٠ (٩٣٦)، سنن النسائی/البیعة ١٨ (٤١٥٨)، مسند احمد (٦/٤٠٧، ٤٠٨) (صحیح )
3128Sunan Abu Dawood

نوحہ کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّائِحَةَ وَالْمُسْتَمِعَةَ.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے نوحہ کرنے والی اور نوحہ (دلچسپی سے) سننے والی پر لعنت فرمائی ہے۔

Narrated Abu Saeed al-Khudri (RA) : The Messenger of Allah ﷺ cursed the wailing woman and the woman who listens to her.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٤١٩٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٦٥) (ضعیف الإسناد) (اس کے راوة: محمد، ان کے والد اور دادا سب ضعیف ہیں )
3129Sunan Abu Dawood

نوحہ کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ عَبْدَةَ، وأبي معاوية، المعني عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِعَائِشَةَ، فَقَالَتْ: وَهِلَ تَعْنِي ابْنَ عُمَرَ ؟ إِنَّمَا مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَبْرٍ، فَقَالَ: إِنَّ صَاحِبَ هَذَا لَيُعَذَّبُ، وَأَهْلُهُ يَبْكُونَ عَلَيْهِ. ثُمَّ قَرَأَتْ: وَلا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى سورة الأنعام آية 164. قَالَ عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ: عَلَى قَبْرِ يَهُودِيٍّ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میت کو اس کے گھر والوں کے رونے سے عذاب دیا جاتا ہے ١ ؎، ابن عمر ؓ کی اس بات کا ذکر ام المؤمنین عائشہ ؓ سے کیا گیا تو انہوں نے کہا: ان سے یعنی ابن عمر ؓ سے بھول ہوئی ہے، سچ یہ ہے کہ نبی اکرم ﷺ کا ایک قبر کے پاس سے گزر ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا: اس قبر والے کو تو عذاب ہو رہا ہے اور اس کے گھر والے ہیں کہ اس پر رو رہے ہیں ، پھر ام المؤمنین عائشہ ؓ نے آیت ولا تزر وازرة وزر أخرى کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا (سورۃ الإسراء: ١٥) پڑھی۔ ابومعاویہ کی روایت میں على قبر کے بجائے على قبر يهودي ہے، یعنی ایک یہودی کے قبر کے پاس سے گزر ہوا۔

Narrated Ibn Umar (RA) : The Messenger of Allah ﷺ as saying: The dead is punished because of his familys weeping for him. When this was mentioned to Aisha (RA) , she said: Ibn Umar forgot and made a mistake. The Prophet ﷺ passed by grave and he said: The man in the grave is being punished while his family is weeping for him. She then recited: No bearer of burdens can bear the burden of another. The narrator Abu Muawiyyah said: (The Prophet passed) by the grave of a Jew.

Notes · وضاحت
١ ؎: إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ میت کو اس کے گھر والوں کے رونے سے عذاب دیا جاتا ہے، حالاں کہ رونا یا نوحہ کرنا بذات خود میت کا عمل نہیں ہے، پھر غیر کے عمل پر اسے عذاب دیا جانا باعث تعجب ہے، جب کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ولا تزر وازرة وزر أخرى کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا اس سلسلہ میں علماء کا کہنا ہے کہ مرنے والے کو اگر یہ معلوم ہے کہ میرے مرنے کے بعد میرے گھر والے مجھ پر نوحہ کریں گے اور اس نے قدرت رکھنے کے باوجود قبل از موت اس سے منع نہیں کیا تو نہ روکنا اس کے لئے باعث سزا ہوگا، اور اس کے گھر والے اگر آہ و بکا کئے بغیر آنسو بہا رہے ہیں تو یہ جائز ہے جیسا کہ ابراہیم اور ام کلثوم کے انتقال پر خود رسول اللہ ﷺ کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے، پوچھے جانے پر آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ تو رحمت ہے اللہ نے جس کے دل میں چاہا رکھا۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الجنائز ٩ (٩٣١)، سنن النسائی/الجنائز ١٥ (١٨٥٦)، (تحفة الأشراف: ٧٣٢٤، ١٧٠٦٩، ١٧٢٢٦)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/المغازي ٨ (٣٩٧٨)، مسند احمد (٢/٣٨، ٦/٣٩، ٥٧، ٩٥، ٢٠٩) (صحیح )