یزید بن اوس کہتے ہیں کہ ابوموسیٰ ؓ بیمار تھے میں ان کے پاس (عیادت کے لیے) گیا تو ان کی اہلیہ رونے لگیں یا رونا چاہا، تو ابوموسیٰ ؓ نے ان سے کہا: کیا تم نے رسول اللہ ﷺ کا فرمان نہیں سنا ہے؟ وہ بولیں: کیوں نہیں، ضرور سنا ہے، تو وہ چپ ہوگئیں، یزید کہتے ہیں: جب ابوموسیٰ ؓ وفات پا گئے تو میں ان کی اہلیہ سے ملا اور ان سے پوچھا کہ ابوموسیٰ ؓ کے قول: کیا تم نے رسول ﷺ کا فرمان نہیں سنا ہے پھر آپ چپ ہوگئیں کا کیا مطلب تھا؟ تو انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: جو (میت کے غم میں) اپنا سر منڈوائے، جو چلا کر روئے پیٹے، اور جو کپڑے پھاڑے وہ ہم میں سے نہیں ١ ؎۔
Yazid ibn Aws said: I entered upon Abu Musa while he was at the point of death. His wife began to weep or was going to weep. Abu Musa said to her: Did you not hear what the Messenger of Allah ﷺ said? She said: Yes. The narrator said: She then kept silence. When Abu Musa died, Yazid said: I met the woman and asked her: What did Abu Musa mean when he said to you: Did you not hear what the Messenger of Allah ﷺ and the you kept silence? She replied: The Messenger of Allah ﷺ said: He who shaves (his head), shouts and tears his clothing does not belong to us.
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ کفر کی رسم تھی جب کوئی مرجاتا تو اس کے غم میں یہ سب کام کئے جاتے تھے، جس طرح ہندؤوں میں بال منڈوانے کی رسم ہے، اس سے معلوم ہوا کہ مصیبت میں صبر کرنا لازم ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الجنائز ٢٠ (١٨٦٦)، (تحفة الأشراف: ١٨٣٣٤)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الإیمان ٤٤ (١٠٤)، سنن ابن ماجہ/الجنائز ٥٢ (١٥٨٦)، مسند احمد (٤/٣٩٦، ٤٠٤، ٤٠٥، ٤١١، ٤١٦) (صحیح )
رسول اللہ ﷺ سے بیعت کرنے والی عورتوں میں سے ایک عورت کہتی ہے رسول اللہ ﷺ نے جن بھلی باتوں کا ہم سے عہد لیا تھا کہ ان میں ہم آپ کی نافرمانی نہیں کریں گے وہ یہ تھیں کہ ہم (کسی کے مرنے پر) نہ منہ نوچیں گے، نہ تباہی و بربادی کو پکاریں گے، نہ کپڑے پھاڑیں گے اور نہ بال بکھیریں گے۔
Usayd ibn Abu Usayd, reported on the authority of a woman who took oath of allegiance (to the Prophet): One of the oaths which the Messenger of Allah ﷺ received from us about the virtue was that we would not disobey him in it (virtue): that we would not scratch the face, nor wail, nor tear the front of the garments nor dishevel the hair.
عبداللہ بن جعفر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جعفر کے گھر والوں کے لیے کھانا تیار کرو کیونکہ ان پر ایک ایسا امر (حادثہ و سانحہ) پیش آگیا ہے جس نے انہیں اس کا موقع نہیں دیا ہے ١ ؎۔
Narrated Abdullah ibn Jafar (RA) : The Messenger of Allah ﷺ said: Prepare food for the family of Jafar for there came upon them an incident which has engaged them.
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے معلوم ہوا کہ رشتہ داروں کو میت کے گھروالوں کے پاس کھانا پکوا کر بھجوانا چاہیے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الجنائز ٢١ (٩٩٨)، سنن ابن ماجہ/الجنائز ٥٩ (١٦١٠)، (تحفة الأشراف: ٥٢١٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٠٥) (حسن )
جابر ؓ کہتے ہیں ایک شخص سینے یا حلق میں تیر لگنے سے مرگیا تو اسی طرح اپنے کپڑوں میں لپیٹا گیا جیسے وہ تھا، اس وقت ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے۔
Narrated Jabir ibn Abdullah (RA) : A man had a shot of arrow in his chest or throat (the narrator is doubtful). So he died. He was shrouded in his clothes as he was. The narrator said: We were with the Messenger of Allah ﷺ .
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٢٦٤٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣٦٧) (حسن )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے احد کے مقتولین (شہداء) کے بارے میں حکم دیا کہ ان کی زرہیں اور پوستینیں ان سے اتار لی جائیں، اور انہیں ان کے خون اور کپڑوں سمیت دفن کردیا جائے۔
Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : The Messenger of Allah ﷺ commanded to remove weapons and skins from the martyrs of Uhud, and that they should be buried with their blood and clothes.
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الجنائز ٢٨ (١٥١٥)، (تحفة الأشراف: ٥٥٧٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٤٧) (ضعیف) (اس کے راوی علی بن عاصم اور عطاء بن السائب اخیر میں مختلط ہوگئے تھے )
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ (غزوہ احد میں) رسول اللہ ﷺ حمزہ (حمزہ بن عبدالمطلب) ؓ کی لاش کے قریب سے گزرے، ان کا مثلہ کردیا گیا تھا، آپ ﷺ نے یہ دیکھ کر فرمایا: اگر یہ خیال نہ ہوتا کہ صفیہ (حمزہ کی بہن) اپنے دل میں کچھ محسوس کریں گی تو میں انہیں یوں ہی چھوڑ دیتا، پرندے کھا جاتے، پھر وہ حشر کے دن ان کے پیٹوں سے نکلتے ۔ اس وقت کپڑوں کی قلت تھی اور شہیدوں کی کثرت، (حال یہ تھا) کہ ایک کپڑے میں ایک ایک، دو دو، تین تین شخص کفنائے جاتے تھے ١ ؎۔ قتیبہ نے اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا ہے کہ: پھر وہ ایک ہی قبر میں دفن کئے جاتے تھے، رسول اللہ ﷺ پوچھتے کہ ان میں قرآن کس کو زیادہ یاد ہے؟ تو جسے زیادہ یاد ہوتا اسے قبلہ کی جانب آگے رکھتے۔
Narrated Anas ibn Malik: The Messenger of Allah ﷺ passed Hamzah who was killed and disfigured. He said: If Safiyyah were not grieved, I would have left him until the birds and beasts of prey would have eaten him, and he would have been resurrected from their bellies. The garments were scanty and the slain were in great number. So one, two and three persons were shrouded in one garment. The narrator Qutaybah added: They were then buried in one grave. The Messenger of Allah ﷺ asked: Which of the two learnt the Quran more? He then advanced him toward the qiblah (direction of prayer).
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ضرورت کے وقت ایک کفن یا ایک قبر میں کئی آدمیوں کو دفنانا درست ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/ الجنائز ٣١ (١٠١٦)، (تحفة الأشراف: ١٤٧٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١٢٨) (حسن )
عبدالرحمٰن بن کعب بن مالک کہتے ہیں کہ جابر بن عبداللہ ؓ نے انہیں خبر دی ہے کہ رسول اللہ ﷺ احد کے مقتولین میں سے دو دو آدمیوں کو ایک ساتھ دفن کرتے تھے اور پوچھتے تھے کہ ان میں قرآن کس کو زیادہ یاد ہے؟ تو جس کے بارے میں اشارہ کردیا جاتا آپ ﷺ اسے قبر میں (لٹانے میں) آگے کرتے اور فرماتے: میں ان سب پر قیامت کے دن گواہ رہوں گا اور آپ ﷺ نے انہیں ان کے خون سمیت دفنانے کا حکم دیا، اور انہیں غسل نہیں دیا۔
Narrated Jabir bin Abdullah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ combined two persons from among the martyrs of Uhud (in one garment), and said: Which of the two has learnt the Quran more ? When one of them was pointed to him, he advanced him in the grave, saying: I shall be witness to all these (martyrs) on the Day of Judgement. He then ordered them to be buried without being washed.
اس سند سے بھی لیث سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے اس میں ہے: آپ ﷺ احد کے مقتولین میں سے دو دو آدمیوں کو ایک ساتھ ایک ہی کپڑے میں دفن کرتے تھے۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by al-Laith through a different chain of the same effect. This version adds: He combined two persons from among the martyrs of Uhud in one garment.
علی ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم اپنی ران کو مت کھولو اور کسی زندہ و مردہ کی ران کو ہرگز نہ دیکھو ۔
Narrated Ali ibn Abu Talib: The Prophet ﷺ said: Do not unveil your thigh, and do not look at the thigh of the living and the dead.
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الجنائز ٨ (١٤٦٠)، (تحفة الأشراف: ١٠١٣٣)، وقد أخرجہ: حم (١/١٤٦) (ضعیف جداً ) (سند میں دو جگہ انقطاع ہے: ابن جریج اور حبیب کے درمیان، اور حبیب و عاصم کے درمیان )
عباد بن عبداللہ بن زبیر کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ کو کہتے سنا کہ جب لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کو غسل دینے کا ارادہ کیا تو کہنے لگے: قسم اللہ کی! ہمیں نہیں معلوم کہ ہم جس طرح اپنے مردوں کے کپڑے اتارتے ہیں آپ کے بھی اتار دیں، یا اسے آپ کے بدن پر رہنے دیں اور اوپر سے غسل دے دیں، تو جب لوگوں میں اختلاف ہوگیا تو اللہ تعالیٰ نے ان پر نیند طاری کردی یہاں تک کہ ان میں سے کوئی آدمی ایسا نہیں تھا جس کی ٹھڈی اس کے سینہ سے نہ لگ گئی ہو، اس وقت گھر کے ایک گوشے سے کسی آواز دینے والے کی آواز آئی کہ نبی اکرم ﷺ کو ان کے اپنے پہنے ہوئے کپڑوں ہی میں غسل دو، آواز دینے والا کون تھا کوئی بھی نہ جان سکا، (یہ سن کر) لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس اٹھ کر آئے اور آپ کو کرتے کے اوپر سے غسل دیا لوگ قمیص کے اوپر سے پانی ڈالتے تھے اور قمیص سمیت آپ ﷺ کا جسم مبارک ملتے تھے نہ کہ اپنے ہاتھوں سے۔ ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی تھیں: اگر مجھے پہلے یاد آجاتا جو بعد میں یاد آیا، تو آپ کی بیویاں ہی آپ کو غسل دیتیں۔
Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : By Allah, we did not know whether we should take off the clothes of the Messenger of Allah ﷺ as we took off the clothes of our dead, or wash him while his clothes were on him. When they (the people) differed among themselves, Allah cast slumber over them until every one of them had put his chin on his chest. Then a speaker spoke from a side of the house, and they did not know who he was: Wash the Prophet ﷺ while his clothes are on him. So they stood round the Prophet ﷺ and washed him while he had his shirt on him. They poured water on his shirt, and rubbed him with his shirt and not with their hands. Aisha (RA) used to say: If I had known beforehand about my affair what I found out later, none would have washed him except his wives.
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الجنائز ٩ (١٤٦٤)، (تحفة الأشراف: ١٦١٨٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٢٦٧) (حسن )
ام عطیہ ؓ کہتی ہیں جس وقت رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی (زینب ؓ) کا انتقال ہوا آپ ہمارے پاس آئے اور فرمایا: تم انہیں تین بار، یا پانچ بار پانی اور بیر کی پتی سے غسل دینا، یا اس سے زیادہ بار اگر ضرورت سمجھنا اور آخری بار کافور ملا لینا، اور جب غسل دے کر فارغ ہونا، مجھے اطلاع دینا، تو جب ہم غسل دے کر فارغ ہوئے تو ہم نے آپ کو خبر دی، آپ نے ہمیں اپنا تہہ بند دیا اور فرمایا: اسے ان کے بدن پر لپیٹ دو ۔ قعنبی کی روایت میں خالک سے مروی ہے یعنی آپ ﷺ کے ازار کو۔ مسدد کی روایت میں رسول اللہ ﷺ کے ہمارے پاس آنے کا ذکر نہیں ہے۔
Narrated Umm Atiyyah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ came in when his daughter died, and he said: Wash her with water and lotus leaves three or five times or more than that if you think fit, and put camphor, or some camphor in the last washing, then inform me when you finish. When we had finished we informed him, and he threw us his lower garment saying: Put it next to her body. Maliks version has: that is, his lower garment (izar); and Musaddad did not say: He entered in.
ام عطیہ ؓ کہتی ہیں ہم نے ان کے سر کے بالوں کی تین لٹیں کردیں۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by Umm Atiyyah through a different chain of narrators to the same effect. This version adds: We braided her hair in three plaits.
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/ الجنائز ١٢ (٩٣٩)، سنن النسائی/ الجنائز ٣٥ (١٨٩٢)، (تحفة الأشراف: ١٨١٣٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٤٠٧) (صحیح )
ام عطیہ ؓ کہتی ہیں ہم نے ان کے سر کے بالوں کی تین لٹیں گوندھ دیں اور انہیں سر کے پیچھے ڈال دیں، ایک لٹ آگے کے بالوں کی اور دو لٹیں ادھر ادھر کے بالوں کی۔
The above mentioned has also been transmitted by Umm Atiyyah through a different chain of narrators. This version has: we braided her hair in three plaits and placed them behind her back, one plait of the front side and the two side plaits.
ام عطیہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ان عورتوں سے اپنی بیٹی (زینب ؓ) کے غسل کے متعلق فرمایا: ان کی داہنی جانب سے اور وضو کے مقامات سے غسل کی ابتداء کرنا ۔
Narrated Umm Atiyyah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ said to them while washing her daughter: Begin with her right side, and the places where the ablution is performed.
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (٣١٤٢)، (تحفة الأشراف: ١٨١٢٤) (صحیح )
اس سند سے بھی ام عطیہ ؓ سے مالک کی روایت کے ہم معنی حدیث مروی ہے اور حفصہ ؓ کی حدیث میں جسے انہوں نے ام عطیہ ؓ سے روایت کیا ہے اسی طرح کا اضافہ ہے اور اس میں انہوں نے یہ اضافہ بھی کیا ہے: یا سات بار غسل دینا، یا اس سے زیادہ اگر تم اس کی ضرورت سمجھنا ۔
The above mentioned tradition has also been transmitted by Umm Atiyyah through a different chain of narrators. This version has: (Wash her) seven times or more if you think fit.
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (٣١٤٢)، (تحفة الأشراف: ١٨٠٩٤) (صحیح )
قتادہ محمد بن سیرین سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے ام عطیہ ؓ سے میت کو غسل دینے کا طریقہ سیکھا تھا، وہ دو بار بیری کے پانی سے غسل دیتے اور تیسری بار کافور ملے ہوئے پانی سے۔
Narrated Qatadah (RA) : Muhammad bin Sirin used to learn how to wash the dead from Umm Atiyyah: he would was with lotus leaves twice and with water and camphor for the third time.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٨١٠٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٨٥) (صحیح )
ابوالزبیر کہتے ہیں کہ انہوں نے جابر بن عبداللہ ؓ کو نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے سنا کہ ایک دن آپ ﷺ نے خطبہ دیا جس میں اپنے اصحاب میں سے ایک شخص کا ذکر کیا جن کا انتقال ہوگیا تھا، انہیں ناقص کفن دیا گیا، اور رات میں دفن کیا گیا تھا، آپ ﷺ نے لوگوں کو ڈانٹا کہ رات میں کسی کو جب تک اس پر نماز جنازہ نہ پڑھ لی جائے مت دفناؤ، إلا یہ کہ انسان کو انتہائی مجبوری ہو اور نبی اکرم ﷺ نے (یہ بھی) فرمایا: جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو کفن دے تو اچھا کفن دے ۔
Narrated Jabir bin Abdullah (RA) : The Prophet ﷺ made a speech one day and mentioned a man from among his Companions who died and was shrouded in a shroud of bad quality, and was buried at night. The Prophet ﷺ rebuked that man be buried at night until prayer was offered over him, except that a man was forced to do that. The Prophet ﷺ said: When one of you shrouds his brother, he should use a shroud of good quality.
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الجنائز ١٥ (٩٤٣)، سنن النسائی/الجنائز ٣٧ (١٨٩٦)، (تحفة الأشراف: ٢٨٠٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٢٩٥) (صحیح )