جابر ؓ کہتے ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: جب تم میں سے کسی شخص کا انتقال ہوجائے اور ورثاء صاحب حیثیت (مالدار) ہوں تو وہ اسے یمنی کپڑے (یعنی اچھے کپڑے میں) دفنائیں ۔
Narrated Jabir ibn Abdullah (RA) : The Prophet ﷺ said: When one of you dies, and he possesses something, he should be shrouded in the garment of the Yemeni stuff.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود: (تحفة الأشراف: ٣١٣٦)، وقد أخرجہ: حم (٣/٣١) (صحیح لغیرہ) (صحیح الجامع الصغیر ٦٥٨٥ )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ تین سفید یمنی کپڑوں میں دفنائے گئے، ان میں نہ قمیص تھی نہ عمامہ ١ ؎۔
Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : The Messenger of Allah ﷺ was shrouded in three garments of white Yemeni stuff, among which was neither a shirt nor a turban.
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے معلوم ہوا کہ سفید کپڑا کفن کے لئے بہتر ہے، یہ بھی معلوم ہوا کہ تین کپڑوں سے زیادہ کپڑا مکروہ ہے، بالخصوص عمامہ (پگڑی) جسے متاخرین حنفیہ اور مالکیہ نے رواج دیا ہے، یہ سراسر بدعت ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجنائز ١٨ (١٢٦٤)، ٢٣ (١٢٧١)، ٢٤ (١٢٧٢)، ٩٤ (١٣٨٧)، (تحفة الأشراف: ١٧٣٠٩)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الجنائز ٢ (٥)، مسند احمد (٦/٤٠، ٩٣، ١١٨، ١٣٢، ١٦٥، ٢٣١) (صحیح )
اس سند سے بھی ام المؤمنین عائشہ ؓ سے اسی کے ہم مثل مروی ہے البتہ اتنا زیادہ ہے کہ وہ کپڑے روئی کے تھے۔ پھر ام المؤمنین عائشہ ؓ سے یہ بات ذکر کی گئی کہ لوگوں کا کہنا ہے کہ آپ ﷺ کے کفن میں دو سفید کپڑے اور دھاری دار یمنی چادر تھی، تو انہوں نے کہا: چادر لائی گئی تھی لیکن لوگوں نے اسے لوٹا دیا تھا، اس میں آپ کو کفنایا نہیں تھا۔
A similar tradition has been transmitted by Aisha (RA) through a different chain of narrators. This version adds: of cotton. The narrator said: Aisha (RA) was told that the people said that he was shrouded in two garments and one cloak. She replied: A cloak was brought but they returned it and did not shroud him in it.
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/ الجنائز ١٣ (٩٤١)، سنن الترمذی/ الجنائز ٢٠ (٩٩٦)، سنن النسائی/ الجنائز ٣٩ (١٩٠٠)، سنن ابن ماجہ/ الجنائز ١١ (١٤٦٩)، (تحفة الأشراف: ١٦٧٨٦)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الجنائز ٢ (٥)، مسند احمد (٦/٤٠، ٩٣، ١١٨، ١٣٢، ١٦٥) (صحیح )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نجران کے بنے ہوئے تین کپڑوں میں کفن دئیے گئے، دو کپڑے (چادر اور تہہ بند) اور ایک وہ قمیص جس میں آپ ﷺ نے وفات پائی تھی ١ ؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عثمان بن ابی شیبہ کی روایت میں ہے: تین کپڑوں میں کفن دیے گئے، سرخ جوڑا (یعنی چادر و تہہ بند) اور ایک وہ قمیص تھی جس میں آپ ﷺ نے انتقال فرمایا تھا۔
Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : The Messenger of Allah ﷺ was shrouded in three garments made in Najran: two garments and one shirt in which he died. Abu Dawud said: The narrator Uthman said: In three garments: two red garments and a shirt in which he died.
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ روایت ضعیف ہے، ثقات کی روایت کے بھی خلاف ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الجنائز ١١ (١٤٧١)، (تحفة الأشراف: ٦٤٩٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٢٢) (ضعیف الإسناد منکر) (اس کے راوی یزید ضعیف ہیں )
علی بن ابی طالب ؓ کہتے ہیں کہ کفن میں میرے لیے قیمتی کپڑا استعمال نہ کرنا، کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے، آپ فرما رہے تھے: کفن میں غلو نہ کرو کیونکہ جلد ہی وہ اس سے چھین لیا جائے گا ۔
Narrated Ali ibn Abu Talib: Do not be extravagant in shrouding, for I heard the Messenger of Allah ﷺ say: Do not be extravagant in shrouding, for it will be quickly decayed.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٠١٤٩) (ضعیف) (اس کے راوی عمرو بن ہاشم لین الحدیث ہیں )
خباب ؓ کہتے ہیں کہ مصعب بن عمیر ؓ جنگ احد میں قتل ہوگئے تو انہیں کفن دینے کے لیے ایک کملی کے سوا اور کچھ میسر نہ آیا، اور وہ کملی بھی ایسی چھوٹی تھی کہ جب ہم اس سے ان کا سر ڈھانپتے تو پیر کھل جاتے تھے، اور اگر ان کے دونوں پیر ڈھانپتے تو سر کھل جاتا تھا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کملی سے ان کا سر ڈھانپ دو اور پیروں پر کچھ اذخر (گھاس) ڈال دو ۔
Narrated Khabbab (RA) : Musab bin Umari was killed on the day of Uhud. He had only a striped cloak. When we covered his head with it, his feet appeared, and when we covered his feet, his head appeared. Thereupon the Messenger of Allah ﷺ said: Cover his head with it, and cover his feet with some grass.
عبادہ بن صامت ؓ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: بہترین کفن جوڑا (تہبند اور چادر) ہے، اور بہترین قربانی سینگ دار دنبہ ہے ١ ؎۔
Narrated Ubadah ibn as-Samit: The Prophet ﷺ said: The best shroud is a lower garment and one which covers the whole body, and the best sacrifice is a horned ram.
Notes · وضاحت
١ ؎: مقصود یہ ہے کہ ایک کپڑے سے تو دو کپڑے بہتر ہیں، ورنہ مسنون تو تین کپڑے ہی ہیں، اور سینگ دار اس لئے بہتر ہے کہ وہ عام طور سے فربہ ہوتا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الجنائز ١٢ (١٤٧٣)، (تحفة الأشراف: ٥١١٧) (ضعیف) (اس کے راوی نسی مجہول ہیں )
بنی عروہ بن مسعود کے ایک فرد سے روایت ہے (جنہیں داود کہا جاتا تھا، اور جن کی پرورش ام المؤمنین ام حبیبہ بنت ابی سفیان ؓ نے کی تھی) کہ لیلیٰ بنت قانف ثقفیہ ؓ کہتی ہیں: میں ان عورتوں میں شامل تھی جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی ام کلثوم ؓ کو ان کے انتقال پر غسل دیا تھا، کفن کے کپڑوں میں سے سب سے پہلے ہمیں رسول اللہ ﷺ نے ازار دیا، پھر کرتہ دیا، پھر اوڑھنی دی، پھر چادر دی، پھر ایک اور کپڑا دیا، جسے اوپر لپیٹ دیا گیا ١ ؎۔ لیلیٰ کہتی ہیں: رسول اللہ ﷺ ان کے کفن کے کپڑے لیے ہوئے دروازے کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اور ہمیں ان میں سے ایک ایک کپڑا دے رہے تھے۔
Narrated Layla daughter of Qaif ath-Thaqafiyyah (RA) : I was one of those who washed Umm Kulthum, daughter of the Prophet ﷺ , when she died. The Messenger of Allah ﷺ first gave us lower garment, then shirt, then head-wear, then cloak (which covers the whole body), and then she was shrouded in another garment. She said: The Messenger of Allah ﷺ was sitting at the door, and he had shroud with him. He gave us the garments one by one.
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے معلوم ہوا کہ عورت کے لئے کفن کے پانچ کپڑے مسنون ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١٨٠٥٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٣٨٠) (ضعیف) (اس کے راوی نوح مجہول ہیں )
حصین بن وحوح ؓ کہتے ہیں کہ طلحہ بن براء ؓ بیمار ہوئے تو نبی اکرم ﷺ ان کی عیادت کے لیے آئے، اور فرمایا: میں یہی سمجھتا ہوں کہ اب طلحہ مرنے ہی والے ہیں، تو تم لوگ مجھے ان کے انتقال کی خبر دینا اور تجہیز و تکفین میں جلدی کرنا، کیونکہ کسی مسلمان کی لاش اس کے گھر والوں میں روکے رکھنا مناسب نہیں ہے ۔
Narrated Al-Husayn ibn Wahwah (RA) : Talhah ibn al-Bara fell ill and the Prophet ﷺ came to pay him a sick-visit. He said: I think Talhah has died; so tell me (about his death), and make haste, for it is not advisable that the corpse of a Muslim should remain withheld among his family.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٣٤١٨) (ضعیف) (اس کے راوی سعید بن عثمان لین الحدیث اور عروة مجہول ہیں )
عبداللہ بن زبیر ؓ سے روایت ہے کہ ام المؤمنین عائشہ ؓ نے ان سے بیان کیا کہ نبی اکرم ﷺ چار چیزوں کی وجہ سے غسل کرتے تھے: جنابت سے، جمعہ کے دن، پچھنا لگوانے سے اور میت کو غسل دینے سے ١ ؎۔
Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : The Prophet ﷺ used to take a bath on account of sexual defilement, on Friday, for cupping and washing the dead.
Notes · وضاحت
١ ؎: ان میں جنابت کے علاوہ کوئی اور غسل فرض نہیں ہوگا۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (٣٤٨)، (تحفة الأشراف: ١٦١٩٣) (ضعیف) (اس کے راوی مصعب ضعیف ہیں )
اس سند سے بھی ابوہریرہ ؓ (نبی اکرم ﷺ سے) اسی مفہوم کی حدیث روایت کرتے ہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث منسوخ ہے، میں نے احمد بن حنبل سے سنا ہے: جب ان سے میت کو غسل دینے والے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: اسے وضو کرلینا کافی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابوصالح نے اس حدیث میں اپنے اور ابوہریرہ ؓ کے درمیان زائدہ کے غلام اسحاق کو داخل کردیا ہے، نیز مصعب کی روایت ضعیف ہے اس میں کچھ چیزیں ہیں جن پر عمل نہیں ہے۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by Abu Hurairah through a different chain of narrators to the same effect. Abu Dawud said: This has been abrogated. When Ahmad bin Hanbal was asked about a man taking a bath after his washing the dead, I heard him say: Ablution is sufficient for him. Abu Dawud said: The narrator Abu Salih made a mention of the narrator Ishaq, the client of Zaidah between him and Abu Hurairah. He said: The tradition of Musab is weak. It contains many things that are not practised.
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو عثمان بن مظعون ١ ؎ ؓ کو بوسہ لیتے ہوئے دیکھا ہے، ان کا انتقال ہوچکا تھا، میں نے دیکھا کہ آپ ﷺ کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔
Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : I saw the Messenger of Allah ﷺ that he kissed Uthman ibn Mazun while he was dead, and I saw that tears were flowing (from his eyes).
Notes · وضاحت
١ ؎: عثمان بن مظعون ؓ رسول اللہ ﷺ کے رضاعی بھائی تھے، مدینہ میں مہاجرین میں سب سے پہلے انہیں کا انتقال ہوا۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الجنائز ١٤ (٩٨٩)، سنن ابن ماجہ/الجنائز ٧ (١٤٥٦)، (تحفة الأشراف: ١٧٤٥٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٤٣، ٥٥، ٢٠٦) (صحیح )
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کچھ لوگوں نے قبرستان میں (رات میں) روشنی دیکھی تو وہاں گئے، دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ قبر کے اندر کھڑے ہوئے ہیں اور فرما رہے ہیں: تم اپنے ساتھی کو (یعنی نعش کو) مجھے تھماؤ ، تو دیکھا کہ (مرنے والا) وہ آدمی تھا جو بلند آواز سے ذکر الٰہی کیا کرتا تھا۔
Narrated Jabir ibn Abdullah (RA) : The people saw fire (light) in the graveyard and they went there. They found that the Messenger of Allah ﷺ was in a grave and he was saying: Give me your companion. This was a man who used to raise his voice while mentioning the name of Allah.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٢٥٦٤) (ضعیف) (اس کے راوی محمد بن مسلم طائفی حافظہ کے ضعیف ہیں )
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں غزوہ احد کے روز ہم نے مقتولین کو کسی اور جگہ لے جا کر دفن کرنے کے لیے اٹھایا ہی تھا کہ رسول اللہ ﷺ کے منادی نے آ کر اعلان کیا کہ رسول اللہ ﷺ حکم فرماتے ہیں کہ مقتولین کو ان کی مضاجع شہادت گاہوں میں دفن کرو، تو ہم نے ان کو انہیں کی جگہوں پر لوٹا دیا۔
Narrated Jabir ibn Abdullah (RA) : On the day of Uhud we brought the martyrs to bury them (at another place), but the crier of the Prophet ﷺ came and said: The Messenger of Allah ﷺ has commanded you to bury the martyrs at the place where they fell. So we took them back.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الجھاد ٣٧ (١٧١٧)، سنن النسائی/الجنائز ٨٣ (٢٠٠٦)، سنن ابن ماجہ/الجنائز ٢٨ (١٥١٦)، (تحفة الأشراف: ٣١١٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٢٩٧، ٣٠٣، ٣٠٨، ٣٩٧)، سنن الدارمی/المقدمة ٧ (٤٦) (صحیح) (متابعات و شواہد سے تقویت پا کر یہ روایت صحیح ہے، ورنہ اس کے راوی نبی ح لین الحدیث ہیں )
مالک بن ہبیرہ ؓ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو بھی مسلمان مرجائے اور اس کے جنازے میں مسلمان نمازیوں کی تین صفیں ہوں تو اللہ اس کے لیے جنت کو واجب کر دے گا ۔ راوی کہتے ہیں: نماز (جنازہ) میں جب لوگ تھوڑے ہوتے تو مالک اس حدیث کے پیش نظر ان کی تین صفیں بنا دیتے۔
Narrated Malik ibn Hubayrah (RA) : The Prophet ﷺ said: If any Muslim dies and three rows of Muslims pray over him, it will assure him (of Paradise). When Malik considered those who accompanied a bier to be a few, he divided them into three rows in accordance with this tradition.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الجنائز ٤٠ (١٠٢٨)، سنن ابن ماجہ/الجنائز ١٩ (١٤٩٠)، (تحفة الأشراف: ١١٢٠٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٧٩) (ضعیف) (اس کا مرفوع حصہ ابن اسحاق کی وجہ سے ضعیف ہے وہ مدلس ہیں اور عنعنہ سے روایت کئے ہوئے ہیں البتہ موقوف حصہ (مالک بن ہبیرہ کا فعل ہے) متابعات و شواہد سے تقویت پا کر صحیح ہے )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ جو شخص جنازہ کے ساتھ جائے اور نماز جنازہ پڑھے تو اسے ایک قیراط (کا ثواب) ملے گا، اور جو جنازہ کے ساتھ جائے اور اس کے دفنانے تک ٹھہرا رہے تو اسے دو قیراط (کا ثواب) ملے گا، ان میں سے چھوٹا قیراط یا ان میں سے ایک قیراط احد پہاڑ کے برابر ہوگا۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : If anyone attends the funeral and prays over (the dead), he will get the reward of one qirat, and if anyone attends the funeral until the completion (of the burial), he will get the reward of two qirats, the smaller of them being equivalent of Uhud, or one of them being equivalent to Uhud.
عامر بن سعد سے روایت ہے کہ وہ عبداللہ بن عمر بن خطاب ؓ کے پاس بیٹھے تھے کہ اچانک صاحب مقصورہ ١ ؎ خباب ؓ برآمد ہوئے اور کہنے لگے: عبداللہ بن عمر! کیا جو ابوہریرہ ؓ کہہ رہے ہیں آپ اسے نہیں سن رہے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص جنازے کے ساتھ اس کے گھر سے نکلے اور اس کی نماز جنازہ پڑھے۔ آگے راوی نے وہی مفہوم ذکر کیا ہے جو سفیان کی حدیث کا ہے (یہ سنا تو) ابن عمر ؓ نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے پوچھنے کے لیے آدمی بھیجا تو انہوں نے کہا: ابوہریرہ ؓ نے صحیح کہا ہے۔
Dawud bin Amir bin Saad bin Abi Waqqas said that his father Amir bin Saad was with Ibn Umar bin al-Khattab when Khabbab, the owner of the closet (maqsurah), came and said: Abdullah bin Umar (RA) dont you hear what Abu Hurairah says ? He heard the Messenger of Allah ﷺ say: If anyone goes out of his house, accompanies bier and prays over it. . . . He then mentioned the rest of the tradition as narrated by Sufyan. Thereupon Ibn Umar sent someone to Aisha (RA) (asking her about it). She replied: Abu Hurairah spoke the truth.
Notes · وضاحت
١ ؎: چھوٹا گھر جسے دیواروں سے گھیر کر محفوظ کردیا گیا ہو۔