Sunan Abu Dawood 3169

جنازوں کا بیان

3169Sunan Abu Dawood

جنازے کے ساتھ جانے اور اس پر نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حُسَيْنٍ الْهَرَوِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ، حَدَّثَنِي أَبُو صَخْرٍ وَهُوَ حُمَيْدُ بْنُ زِيَادٍ، أَنَّ يَزِيدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُسَيْطٍ، حَدَّثَهُ أَنَّ دَاوُدَ بْنَ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، حَدَّثَهُ عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ كَانَ عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، إِذْ طَلَعَ خَبَّابٌ صَاحِبِ الْمَقْصُورَةِ، فَقَالَ: يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، أَلَا تَسْمَعُ مَا يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: مَنْ خَرَجَ مَعَ جَنَازَةٍ مِنْ بَيْتِهَا، وَصَلَّى عَلَيْهَا، فَذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ سُفْيَانَ، فَأَرْسَلَ ابْنُ عُمَرَ إِلَى عَائِشَةَ، فَقَالَتْ: صَدَقَ أَبُو هُرَيْرَةَ.

عامر بن سعد سے روایت ہے کہ وہ عبداللہ بن عمر بن خطاب ؓ کے پاس بیٹھے تھے کہ اچانک صاحب مقصورہ ١ ؎ خباب ؓ برآمد ہوئے اور کہنے لگے: عبداللہ بن عمر! کیا جو ابوہریرہ ؓ کہہ رہے ہیں آپ اسے نہیں سن رہے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص جنازے کے ساتھ اس کے گھر سے نکلے اور اس کی نماز جنازہ پڑھے۔ آگے راوی نے وہی مفہوم ذکر کیا ہے جو سفیان کی حدیث کا ہے (یہ سنا تو) ابن عمر ؓ نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے پوچھنے کے لیے آدمی بھیجا تو انہوں نے کہا: ابوہریرہ ؓ نے صحیح کہا ہے۔

Dawud bin Amir bin Saad bin Abi Waqqas said that his father Amir bin Saad was with Ibn Umar bin al-Khattab when Khabbab, the owner of the closet (maqsurah), came and said: Abdullah bin Umar (RA) dont you hear what Abu Hurairah says ? He heard the Messenger of Allah ﷺ say: If anyone goes out of his house, accompanies bier and prays over it. . . . He then mentioned the rest of the tradition as narrated by Sufyan. Thereupon Ibn Umar sent someone to Aisha (RA) (asking her about it). She replied: Abu Hurairah spoke the truth.

Notes · وضاحت
١ ؎: چھوٹا گھر جسے دیواروں سے گھیر کر محفوظ کردیا گیا ہو۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/ الجنائز ١٧ (٩٤٥)، (تحفة الأشراف: ١٢٣٠١، ١٦١٦٧) (صحیح )