کھانے پینے کا بیان

Sunan Abu Dawood · Chapter 24 · 121 hadiths · Page 2 of 7

3756Sunan Abu Dawood

جب دو داعی جمع ہوجائیں تو کون زیادہ حقدار ہے؟

حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ عَبْدِ السَّلَامِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ أَبِي خَالِدٍ الدَّالَانِيِّ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ الْأَوْدِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِمْيَرِيِّ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا اجْتَمَعَ الدَّاعِيَانِ، فَأَجِبْ أَقْرَبَهُمَا بَابًا، فَإِنَّ أَقْرَبَهُمَا بَابًا أَقْرَبَهُمَا جِوَارًا، وَإِنْ سَبَقَ أَحَدُهُمَا فَأَجِبْ الَّذِي سَبَقَ.

ایک صحابی رسول سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب دو دعوت دینے والے ایک ساتھ دعوت دیں تو ان میں سے جس کا مکان قریب ہو اس کی دعوت قبول کرو، کیونکہ جس کا مکان زیادہ قریب ہوگا وہ ہمسائیگی میں قریب تر ہوگا، اور اگر ان میں سے کوئی پہل کر جائے تو اس کی قبول کرو جس نے پہل کی ہو ۔

Narrated Abdur Rahman al-Himyari (RA) : A companion of the Prophet ﷺ reported him as saying: When two people come together to issue an invitation, accept that of the one whose door is nearer in neighbourhood, but if one of them comes before the other accept the invitation of the one who comes first.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداو، (تحفة الأشراف: ١٥٥٥٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٤٠٨) (ضعیف) (اس کے راوی ابو خالد دالانی مدلس ہیں اور عنعنہ سے روایت کئے ہوئے ہیں نیز بہت غلطیاں کرتے ہیں )
3757Sunan Abu Dawood

جب رات کا کھانا اور نماز عشاء دونوں تیار ہوں تو کیا کیا جائے

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَمُسَدَّدٌ الْمَعْنَى، قَالَ أَحْمَدُ، حَدَّثَنِي يَحْيَى الْقَطَّانُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا وُضِعَ عَشَاءُ أَحَدِكُمْ وَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَلَا يَقُومُ حَتَّى يَفْرُغَ، زَادَ مُسَدَّدٌ: وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ إِذَا وُضِعَ عَشَاؤُهُ أَوْ حَضَرَ عَشَاؤُهُ لَمْ يَقُمْ حَتَّى يَفْرُغَ، وَإِنْ سَمِعَ الْإِقَامَةَ، وَإِنْ سَمِعَ قِرَاءَةَ الْإِمَامِ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کے لیے رات کا کھانا چن دیا جائے اور نماز کے لیے اقامت بھی کہہ دی جائے تو (نماز کے لیے) نہ کھڑا ہو یہاں تک کہ (کھانے سے) فارغ ہو لے ۔ مسدد نے اتنا اضافہ کیا: جب عبداللہ بن عمر ؓ کا کھانا چن دیا جاتا یا ان کا کھانا موجود ہوتا تو اس وقت تک نماز کے لیے نہیں کھڑے ہوتے جب تک کہ کھانے سے فارغ نہ ہو لیتے اگرچہ اقامت اور امام کی قرآت کی آواز کان میں آرہی ہو ١ ؎۔

Ibn Umar reported the Prophet ﷺ as sayings: When the evening meal is brought before one of you and the congregational prayer is also ready, he should not get up until he finishes (eating). Musaddad’s version adds: When the evening meal was put before Abdullah bin Umar (RA) , or it was brought to him, he did not get up until he finished it, even if he heard call to prayer (just before it), and even if he heard the recitation of the Quran by the leader-in-prayer.

Notes · وضاحت
١ ؎: حدیث نمبر (٣٧٥٩) کی روشنی میں اس سے وہ کھانا مراد ہے جو بہت مختصر اور تھوڑا ہو، اور جماعت میں سے کچھ مل جانے کی امید ہو۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٨٢١٢)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان ٤٢ (٦٧٣)، الأطعمة (٥٤٦٣)، صحیح مسلم/المساجد ١٦ (٥٥٩)، سنن الترمذی/الصلاة ١٤٥(٣٥٤)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٣٤ (٩٣٤)، مسند احمد (٢/٢٠، ١٠٣) (صحیح )
3758Sunan Abu Dawood

جب رات کا کھانا اور نماز عشاء دونوں تیار ہوں تو کیا کیا جائے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ بَزِيعٍ، حَدَّثَنَا مُعَلَّى يَعْنِي ابْنَ مَنْصُورٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تُؤَخَّرِ الصَّلَاةُ لِطَعَامٍ وَلَا لِغَيْرِهِ.

جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کھانے یا کسی اور کام کی وجہ سے نماز مؤخر نہ کی جائے ۔

Narrated Jabir ibn Abdullah (RA) : The Prophet ﷺ said: Prayer should not be postponed for taking meals nor for any other thing.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٣٧٥٨) (ضعیف )
3759Sunan Abu Dawood

جب رات کا کھانا اور نماز عشاء دونوں تیار ہوں تو کیا کیا جائے

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ الطُّوسِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ أَبِي فِي زَمَانِ ابْنِ الزُّبَيْرِ إِلَى جَنْبِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، فَقَالَ عَبَّادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ: إِنَّا سَمِعْنَا أَنَّهُ يُبْدَأُ بِالْعَشَاءِ قَبْلَ الصَّلَاةِ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ: وَيْحَكَ، مَا كَانَ عَشَاؤُهُمْ أَتُرَاهُ كَانَ مِثْلَ عَشَاءِ أَبِيكَ.

عبداللہ بن عبید بن عمیر کہتے ہیں کہ میں ابن زبیر ؓ کے زمانے میں اپنے والد کے ساتھ عبداللہ بن عمر ؓ کے پہلو میں تھا کہ عباد بن عبداللہ بن زبیر نے کہا: ہم نے سنا ہے کہ عشاء کی نماز سے پہلے شام کا کھانا شروع کردیا جاتا تھا۔ عبداللہ بن عمر ؓ نے کہا: افسوس ہے تم پر، ان کا شام کا کھانا ہی کیا تھا؟ کیا تم اسے اپنے والد کے کھانے کی طرح سمجھتے ہو؟ ١ ؎۔

Narrated Abdullah ibn Umar (RA) : Abdullah ibn Ubaydullah ibn Umayr said: I was with my father in the time of Ibn az-Zubayr sitting beside Abdullah ibn Umar. Then Abbad ibn Abdullah ibn az-Zubayr said: We have heard that the evening meal is taken just before the night prayer. Thereupon Abdullah ibn Umar said: Woe to you! what was their evening meal? Do you think it was like the meal of your father?

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ان کا کھانا بہت مختصر ہوتا تھا، تمہارے والد عبداللہ بن زبیر کے کھانے کی طرح پرتکلف اور نواع و اقسام کا نہیں ہوتا تھا کہ جس کے کھانے میں زیادہ وقت لگتا ہے اور جماعت چھوٹ جاتی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٧٢٨١) (حسن الإسناد )
3760Sunan Abu Dawood

کھانے کے وقت دونوں ہاتھ دھونے کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَخَرَجَ مِنَ الْخَلَاءِ، فَقُدِّمَ إِلَيْهِ طَعَامٌ، فَقَالُوا: أَلَا نَأْتِيكَ بِوَضُوءٍ ؟، فَقَالَ: إِنَّمَا أُمِرْتُ بِالْوُضُوءِ إِذَا قُمْتُ إِلَى الصَّلَاةِ.

عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ بیت الخلاء سے نکلے، تو آپ کی خدمت میں کھانا پیش کیا گیا، لوگوں نے عرض کیا: کیا ہم آپ کے پاس وضو کا پانی نہ لائیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: مجھے وضو کرنے کا حکم صرف اس وقت دیا گیا ہے جب میں نماز کے لیے کھڑا ہوں ١ ؎۔

Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : The Messenger of Allah ﷺ came out from the privy and was presented to him. They (the people) asked: Should we bring you water for ablution? He replied: I have been commanded to perform ablution when I get up for prayer.

Notes · وضاحت
١ ؎: آپ ﷺ نے شرعی وضو کے وجوب کی نفی کی، نہ کہ مطلق وضو یعنی ہاتھ دھونے کی، اور اگر ہاتھ بھی نہ دھویا تو یہ صرف بیان جواز کے لئے تھا۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الأطعمة ٤٠ (١٨٤٧)، سنن النسائی/الطہارة ١٠١ (١٣٢)، (تحفة الأشراف: ٥٧٩٣)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الحیض ٣١ (٣٧٤)، مسند احمد (١/٢٨٢، ٣٥٩) (صحیح )
3761Sunan Abu Dawood

کھانے سے قبل ہاتھ دھونے کا بیان

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا قَيْسٌ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ، عَنْ زَاذَانَ، عَنْ سَلْمَانَ، قَالَ: قَرَأْتُ فِي التَّوْرَاةِ: أَنَّ بَرَكَةَ الطَّعَامِ الْوُضُوءُ قَبْلَهُ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: بَرَكَةُ الطَّعَامِ الْوُضُوءُ قَبْلَهُ وَالْوُضُوءُ بَعْدَهُ، وَكَانَ سُفْيَانُ يَكْرَهُ الْوُضُوءَ قَبْلَ الطَّعَامِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهُوَ ضَعِيفٌ.

سلمان ؓ کہتے ہیں میں نے تورات میں پڑھا کہ کھانے کی برکت کھانے سے پہلے وضو کرنا ہے۔ میں نے اس کا ذکر نبی اکرم ﷺ سے کیا تو آپ نے فرمایا: کھانے کی برکت کھانے سے پہلے وضو کرنا ہے اور کھانے کے بعد بھی ۔ سفیان کھانے سے پہلے وضو کرنے کو ناپسند کرتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ ضعیف ہے۔

Narrated Salman al-Farsi (RA) : I read in the Torah that the blessing of food consists in ablution before it. So I mentioned it to the Prophet ﷺ . He said: The blessing of food consists in ablution before it and ablution after it. Sufyan disapproved of performing ablution before taking food. Abu Dawud said: It is weak.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الأطعمة ٣٩ (١٨٤٦)، (تحفة الأشراف: ٤٤٨٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٤٤١) (ضعیف) (اس کے راوی قیس بن ربیع ضعیف ہیں )
3762Sunan Abu Dawood

جلدی میں کھانے کے وقت ہاتھ دھونے کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، حَدَّثَنَا عَمِّي يَعْنِي سَعَيدَ بْنَ الْحَكَمِ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، أَخْبَرَنِي خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ قَالَ: أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ شِعْبٍ مِنَ الْجَبَلِ وَقَدْ قَضَى حَاجَتَهُ، وَبَيْنَ أَيْدِينَا تَمْرٌ عَلَى تُرْسٍ أَوْ حَجَفَةٍ، فَدَعَوْنَاهُ، فَأَكَلَ مَعَنَا وَمَا مَسَّ مَاءً.

جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک پہاڑ کی گھاٹی سے قضائے حاجت سے فارغ ہو کر آئے اس وقت ہمارے سامنے ڈھال پر کچھ کھجوریں رکھیں تھیں، ہم نے آپ ﷺ کو بلایا تو آپ نے ہمارے ساتھ کھایا اور پانی کو ہاتھ نہیں لگایا۔

Narrated Jabir ibn Abdullah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ came out from the valley of a mountain where he had eased himself. There were some dried dates on a shield before us. We called him and he ate with us. He did not touch water.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٢٧٠٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣٩٧) (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی ابوالزبیر مدلس ہیں، اور عنعنہ سے روایت کئے ہوئے ہیں لیکن یہ حدیث صرف سنداً ضعیف ہے، اس کا معنی صحیح ہے )
3763Sunan Abu Dawood

کھانے کی برائی کرنا مکروہ ہے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: مَا عَابَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا قَطُّ إِنِ اشْتَهَاهُ أَكَلَهُ وَإِنْ كَرِهَهُ تَرَكَهُ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کبھی کسی کھانے میں عیب نہیں لگایا، اگر رغبت ہوتی تو کھالیتے ورنہ چھوڑ دیتے۔

Abu Hurairah said: The Messenger of Allah ﷺ never expressed disapproval of food; if he desired it, he ate it, and if he disliked it, he left it alone.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المناقب ٢٣ (٣٥٦٣)، صحیح مسلم/الأشربة ٣٥ (٢٠٦٤)، سنن الترمذی/البر والصلة ٨٤ (٢٠٣١)، سنن ابن ماجہ/الأطعمة ٤ (٣٢٥٩)، (تحفة الأشراف: ١٣٤٠٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٤٧٤، ٤٧٩، ٤٨١) (صحیح )
3764Sunan Abu Dawood

کھانے پر اجتماع کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي وَحْشِيُّ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا نَأْكُلُ وَلَا نَشْبَعُ، قَالَ: فَلَعَلَّكُمْ تَفْتَرِقُونَ ؟، قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: فَاجْتَمِعُوا عَلَى طَعَامِكُمْ، وَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ يُبَارَكْ لَكُمْ فِيهِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: إِذَا كُنْتَ فِي وَلِيمَةٍ فَوُضِعَ الْعَشَاءُ فَلَا تَأْكُلْ حَتَّى يَأْذَنَ لَكَ صَاحِبُ الدَّارِ.

وحشی بن حرب حبشی حمصی ؓ سے روایت ہے کہ صحابہ کرام نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم کھانا کھاتے ہیں لیکن پیٹ نہیں بھرتا تو آپ ﷺ نے فرمایا: شاید تم لوگ الگ الگ کھاتے ہو؟ لوگوں نے کہا: ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا: تم لوگ مل کر اور بسم اللہ کر کے (اللہ کا نام لے کر) کھاؤ، تمہارے کھانے میں برکت ہوگی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: جب تم کسی ولیمہ میں ہو اور کھانا رکھ دیا جائے تو گھر کے مالک (میزبان) کی اجازت کے بغیر کھانا نہ کھاؤ۔

Narrated Wahshi ibn Harb (RA) : The Companions of the Prophet ﷺ said: Messenger of Allah ﷺ we eat but we are not satisfied. He said: Perhaps you eat separately. They replied: Yes. He said: If you gather together at your food and mention Allahs name, you will be blessed in it. Abu Dawud said: If you are invited to a wedding feast before you, do not take it until the owner of the house (i. e. the host) allows you (to eat).

Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الأطعمة ١٧ (٣٢٨٦)، (تحفة الأشراف: ١١٧٩٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٥٠١) (حسن) اس کے راوی وحشی بن حرب مستور ہیں
3765Sunan Abu Dawood

کھانے سے قبل بسم اللہ پڑھنا

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: إِذَا دَخَلَ الرَّجُلُ بَيْتَهُ فَذَكَرَ اللَّهَ عِنْدَ دُخُولِهِ وَعِنْدَ طَعَامِهِ قَالَ الشَّيْطَانُ: لَا مَبِيتَ لَكُمْ وَلَا عَشَاءَ، وَإِذَا دَخَلَ فَلَمْ يُذْكَرِ اللَّهَ عِنْدَ دُخُولِهِ قَالَ الشَّيْطَانُ: أَدْرَكْتُمُ الْمَبِيتَ، فَإِذَا لَمْ يَذْكُرِ اللَّهَ عِنْدَ طَعَامِهِ، قَالَ: أَدْرَكْتُمُ الْمَبِيتَ وَالْعَشَاءَ.

جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو فرماتے سنا: جب کوئی آدمی اپنے گھر میں داخل ہوتا ہے اور گھر میں داخل ہوتے اور کھانا شروع کرتے وقت اللہ کا ذکر کرتا ہے تو شیطان (اپنے چیلوں سے) کہتا ہے: نہ یہاں تمہارے لیے سونے کی کوئی جگہ رہی، اور نہ کھانے کی کوئی چیز رہی، اور جب کوئی شخص اپنے گھر میں داخل ہوتے وقت اللہ کا ذکر نہیں کرتا تو شیطان کہتا ہے: چلو تمہیں سونے کا ٹھکانہ مل گیا، اور جب کھانا شروع کرتے وقت اللہ کا نام نہیں لیتا تو شیطان کہتا ہے: تمہیں سونے کی جگہ اور کھانا دونوں مل گیا ۔

Jabir bin Abdullah said that he heard the Prophet ﷺ say: When a man enters his house and mention Allah’s name on entering and on his food, the devil says: You have no place to spend the night and no evening meal; but when he enters without mentioning Allah’s name on entering, the devil says: You have found a place to spend the night, and when he does not mention Allah’s name at his food, he says: You have found a place to spend the night and an evening meal.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الأشربة ١٣ (٢٠١٨)، سنن ابن ماجہ/الدعاء ١٩ (٣٨٨٧)، (تحفة الأشراف: ٢٧٩٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣٤٦، ٣٨٣) (صحیح )
3766Sunan Abu Dawood

کھانے سے قبل بسم اللہ پڑھنا

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ خَيْثَمَةَ، عَنْ أَبِي حُذَيْفَةَ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: كُنَّا إِذَا حَضَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا لَمْ يَضَعْ أَحَدُنَا يَدَهُ حَتَّى يَبْدَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِنَّا حَضَرْنَا مَعَهُ طَعَامًا، فَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ كَأَنَّمَا يُدْفَعُ فَذَهَبَ لِيَضَعَ يَدَهُ فِي الطَّعَامِ، فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ، ثُمَّ جَاءَتْ جَارِيَةٌ كَأَنَّمَا تُدْفَعُ فَذَهَبَتْ لِتَضَعَ يَدَهَا فِي الطَّعَامِ، فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهَا، وَقَالَ: إِنَّ الشَّيْطَانَ لَيَسْتَحِلُّ الطَّعَامَ الَّذِي لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ، وَإِنَّهُ جَاءَ بِهَذَا الْأَعْرَابِيِّ يَسْتَحِلُّ بِهِ فَأَخَذْتُ بِيَدِهِ، وَجَاءَ بِهَذِهِ الْجَارِيَةِ يَسْتَحِلُّ بِهَا فَأَخَذْتُ بِيَدِهَا، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، إِنَّ يَدَهُ لَفِي يَدِي مَعَ أَيْدِيهِمَا.

حذیفہ ؓ کہتے ہیں کہ جب ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کھانے میں موجود ہوتے تو آپ کے شروع کرنے سے پہلے کوئی ہاتھ نہیں لگاتا، ایک مرتبہ ہم لوگ آپ ﷺ کے ساتھ کھانے میں موجود تھے کہ اتنے میں ایک اعرابی (دیہاتی) آیا گویا کہ وہ دھکیل کر لایا جا رہا ہو، تو وہ کھانے میں ہاتھ ڈالنے چلا تو رسول اللہ ﷺ نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا پھر ایک لڑکی آئی گویا وہ دھکیل کر لائی جا رہی ہو، تو وہ بھی اپنا ہاتھ کھانے میں ڈالنے چلی تو رسول اللہ ﷺ نے اس کا بھی ہاتھ پکڑ لیا، اور فرمایا: شیطان اس کھانے میں شریک یا داخل ہوجاتا ہے جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو، اور بلاشبہ اس اعرابی کو شیطان لے کر آیا تاکہ اس کے ذریعہ کھانے میں شریک ہوجائے، اس لیے میں نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا، اور اس لڑکی کو بھی شیطان لے کر آیا تاکہ اس کے ذریعہ، اس لیے میں نے اس کا بھی ہاتھ پکڑ لیا، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، شیطان کا ہاتھ ان دونوں کے ہاتھوں کے ساتھ میرے ہاتھ میں ہے ۔

When we were at food with the Messenger of Allah ﷺ none of us put in his hand till the Messenger of Allah ﷺ put his hand first. Once we were at food with him. A nomad Arab came in as though he were being pushed, and he was about to put his hand in food when the Messenger of Allah ﷺ seized him by the hand. Then a girl came in as though she were being pushed, and she was about to put her hand in the food when the Messenger of Allah ﷺ seized her by the hand, and he said: The devil considers the food when Allah’s name is not mentioned over it, and he brought his nomad Arab that it might be lawful by means of him, so I seized his hand: then he brought this girl that it might be lawful by means of her, so I seized her hand. By Him in Whose hand my soul is, His hand is in my hand along with their hands.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الأشربة ١٣ (٢٠١٧)، (تحفة الأشراف: ٣٣٣٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٢٨٣، ٣٨٣، ٣٨٨، ٣٩٧) (صحیح )
3767Sunan Abu Dawood

کھانے سے قبل بسم اللہ پڑھنا

حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل، عَنْ هِشَامٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الدَّسْتُوَائِيَّ، عَنْ بُدَيْلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ امْرَأَةٍ مِنْهُمْ يُقَالُ لَهَا: أُمُّ كُلْثُومٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ تَعَالَى، فَإِنْ نَسِيَ أَنْ يَذْكُرَ اسْمَ اللَّهِ تَعَالَى فِي أَوَّلِهِ، فَلْيَقُلْ: بِسْمِ اللَّهِ أَوَّلَهُ وَآخِرَهُ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی کھائے تو اللہ کا نام لے، اگر شروع میں (اللہ کا نام) بسم اللہ بھول جائے تو اسے یوں کہنا چاہیئے بسم الله أوله وآخره (اس کی ابتداء و انتہاء دونوں اللہ کے نام سے) ۔

Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : The Messenger of Allah ﷺ said: When one of you eats, he should mention Allahs name; if he forgets to mention Allahs name at the beginning, he should say: In the name of Allah at the beginning and at the end of it.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الأطعمة ٤٧ (١٨٥٨)، (تحفة الأشراف: ١٧٩٨٨)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الأطعمة ٧ (٣٢٦٤)، مسند احمد (٦/١٤٣، ٢٠٧، ٢٤٦، ٢٦٥)، سنن الدارمی/الأطعمة ١ (٢٠٦٣) (صحیح )
3768Sunan Abu Dawood

کھانے سے قبل بسم اللہ پڑھنا

حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا عِيسَى يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ، حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ صُبْحٍ، حَدَّثَنَا الْمُثَنَّى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْخُزَاعِيُّ، عَنْ عَمِّهِ أُمَيَّةَ بْنِ مَخْشِيٍّ وَكَانَ مَنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا وَرَجُلٌ يَأْكُلُ، فَلَمْ يُسَمِّ حَتَّى لَمْ يَبْقَ مِنْ طَعَامِهِ إِلَّا لُقْمَةٌ، فَلَمَّا رَفَعَهَا إِلَى فِيهِ، قَالَ: بِسْمِ اللَّهِ أَوَّلَهُ وَآخِرَهُ، فَضَحِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: مَا زَالَ الشَّيْطَانُ يَأْكُلُ مَعَهُ، فَلَمَّا ذَكَرَ اسْمَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ اسْتَقَاءَ مَا فِي بَطْنِهِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: جَابِرُ بْنُ صُبْحٍ جَدُّ سُلَيْمَانَ بْنَ حَرْبٍ مِنْ قِبَلِ أُمِّهِ.

مثنی بن عبدالرحمٰن خزاعی اپنے چچا امیہ بن مخشی ؓ سے روایت کرتے ہیں (وہ صحابی رسول ﷺ تھے) وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ بیٹھے ہوئے تھے اور ایک شخص کھانا کھا رہا تھا اس نے بسم اللہ نہیں کیا یہاں تک کہ اس کا کھانا صرف ایک لقمہ رہ گیا تھا جب اس نے لقمہ اپنے منہ کی طرف اٹھایا تو کہا: اس کی ابتداء اور انتہاء اللہ کے نام سے یہ سن کر نبی اکرم ﷺ ہنس پڑے اور فرمایا: شیطان اس کے ساتھ برابر کھاتا رہا جب اس نے اللہ کا نام لیا تو جو کچھ اس کے پیٹ میں تھا اس نے قے کردی ١ ؎۔

Narrated Umayyah ibn Makhshi (RA) : Umayyah was sitting and a man was eating. He did not mention Allahs name until there remained the last morsel. When he raised it to his mouth, he said: In the name of Allah at the beginning and at the end of it. The Prophet ﷺ laughed and said: The devil kept eating along with him, but when he mentioned Allahs name, he vomited what was in his belly. Abu Dawud: Jabir bin Subh is grandfather of Sulaiman bin Harb from his mothers side.

Notes · وضاحت
١ ؎: قے کرنے سے مراد یہ ہے کہ جو برکت اس کے شریک ہونے سے جاتی رہی تھی پھر لوٹ آئی، گویا وہ برکت شیطان نے اپنے پیٹ میں رکھ لی تھی۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٦٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٣٦) (ضعیف) (اس کے راوی مثنیٰ مجہول الحال ہیں )
3769Sunan Abu Dawood

ٹیک لگا کر کھانے کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْأَقْمَرِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا جُحَيْفَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا آكُلُ مُتَّكِئًا.

ابوحجیفہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں ٹیک لگا کر نہیں کھاتا (کیونکہ یہ متکبرین کا طریقہ ہے) ۔

Abu Juhaifah reported the Prophet ﷺ as sayings: I do not eat while reclining.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأطعمة ١٣ (٥٣٩٨)، سنن الترمذی/الأطعمة ٢٨ (١٨٣٠)، سنن ابن ماجہ/الأطعمة ٦ (٣٢٦٢)، (تحفة الأشراف: ١١٨٠١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٠٨، ٣٠٩)، سنن الدارمی/الأطعمة ٣١ (٢١١٥) (صحیح )
3771Sunan Abu Dawood

ٹیک لگا کر کھانے کا بیان

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سُلَيْمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا، يَقُولُ: بَعَثَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَجَعْتُ إِلَيْهِ فَوَجَدْتُهُ يَأْكُلُ تَمْرًا وَهُوَ مُقْعٍ.

مصعب بن سلیم کہتے ہیں کہ میں نے انس ؓ کو کہتے سنا کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے (کہیں) بھیجا جب میں لوٹ کر آپ ﷺ کے پاس پہنچا تو آپ کو پایا کہ آپ کھجوریں کھا رہے ہیں، سرین پر بیٹھے ہوئے ہیں اور دونوں پاؤں کھڑا کئے ہوئے ہیں۔

Anas said: The Prophet ﷺ sent me (for some work), and when I returned to him found him eating dates and squatting.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الأشربة ٢٤ (٢٠٤٤)، سنن الترمذی/الشمائل (١٤٢)، (تحفة الأشراف: ١٥٩١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١٨٠، ٢٠٣)، دی/ الأطعمة ٢٦ (٢١٠٦) (صحیح )
3770Sunan Abu Dawood

ٹیک لگا کر کھانے کا بیان

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ شُعَيْبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: مَا رُئِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ مُتَّكِئًا قَطُّ، وَلَا يَطَأُ عَقِبَهُ رَجُلَانِ.

عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کبھی ٹیک لگا کر کھاتے ہوئے نہیں دیکھے گئے، اور نہ ہی آپ کے پیچھے دو آدمیوں کو چلتے دیکھا گیا (بلکہ آپ ﷺ بیچ میں یا سب سے پیچھے چلا کرتے تھے) ۔

Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-As: The Messenger of Allah ﷺ was never seen reclining while eating, nor walking with two men at his heels.

Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/المقدمة ٢١ (٢٤٤)، (تحفة الأشراف: ٨٦٥٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٦٥، ١٦٧) (صحیح )
3772Sunan Abu Dawood

پلیٹ کے درمیان سے کھانے کا بیان

حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ طَعَامًا فَلَا يَأْكُلْ مِنْ أَعْلَى الصَّحْفَةِ وَلَكِنْ لِيَأْكُلْ مِنْ أَسْفَلِهَا فَإِنَّ الْبَرَكَةَ تَنْزِلُ مِنْ أَعْلَاهَا.

عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی کھانا کھائے تو پلیٹ کے اوپری حصے سے نہ کھائے بلکہ اس کے نچلے حصہ سے کھائے اس لیے کہ برکت اس کے اوپر والے حصہ میں نازل ہوتی ہے ۔

Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : The Prophet ﷺ said: When one of you eats, he must not eat from the top of the dish, but should eat from the bottom; for the blessing descends from the top of it.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الأطعمة ١٣ (١٨٠٥، سنن ابن ماجہ/الأطعمة ١٢ (٣٢٧٧)، (تحفة الأشراف: ٥٥٦٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٧٠، ٣٠٠، ٣٤٣، ٣٤٥، ٣٦٤)، سنن الدارمی/الأطعمة ١٦ (٢٠٩٠) (صحیح )
3773Sunan Abu Dawood

پلیٹ کے درمیان سے کھانے کا بیان

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عِرْقٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُسْرٍ، قَالَ: كَانَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَصْعَةٌ يُقَالُ لَهَا: الْغَرَّاءُ، يَحْمِلُهَا أَرْبَعَةُ رِجَالٍ، فَلَمَّا أَضْحَوْا وَسَجَدُوا الضُّحَى أُتِيَ بِتِلْكَ الْقَصْعَةِ يَعْنِي وَقَدْ ثُرِدَ فِيهَا، فَالْتَفُّوا عَلَيْهَا، فَلَمَّا كَثَرُوا جَثَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ: مَا هَذِهِ الْجِلْسَةُ ؟، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللَّهَ جَعَلَنِي عَبْدًا كَرِيمًا، وَلَمْ يَجْعَلْنِي جَبَّارًا عَنِيدًا، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كُلُوا مِنْ حَوَالَيْهَا وَدَعُوا ذِرْوَتَهَا يُبَارَكْ فِيهَا.

عبداللہ بن بسر ؓ کا بیان ہے کہ نبی اکرم ﷺ کا ایک لگن جسے غراء کہا جاتا تھا، اور جسے چار آدمی اٹھاتے تھے، جب اشراق کا وقت ہوا اور لوگوں نے اشراق کی نماز پڑھ لی تو وہ لگن لایا گیا، مطلب یہ ہے اس میں ثرید ١ ؎ بھرا ہوا تھا تو سب اس کے اردگرد اکٹھا ہوگئے، جب لوگوں کی تعداد بڑھ گئی تو رسول اللہ ﷺ گھٹنے ٹیک کر بیٹھ گئے ٢ ؎ ایک اعرابی کہنے لگا: بھلا یہ بیٹھنے کا کون سا طریقہ ہے؟ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھے نیک (متواضع) بندہ بنایا ہے، مجھے جبار و سرکش نہیں بنایا ہے پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس کے کناروں سے کھاؤ اور اوپر کا حصہ چھوڑ دو کیونکہ اس میں برکت دی جاتی ہے ۔

Narrated Abdullah ibn Busr (RA) : The Prophet ﷺ had a bowl called gharra. It was carried by four persons. When the sun rose high, and they performed the forenoon prayer, the bowl in which tharid was prepared was brought, and the people gathered round it. When they were numerous, the Messenger of Allah ﷺ said: Allah has made me a respectable servant, and He did not make me an obstinate tyrant. The Messenger of Allah ﷺ said: Eat from it sides and leave its top, the blessing will be conferred on it

Notes · وضاحت
١ ؎: ایک قسم کا کھانا ہے جو روٹی اور شوربے سے تیار کیا جاتا ہے۔ ٢ ؎: تاکہ اور لوگوں کو بھی جگہ مل جائے اور لوگ آسانی سے بیٹھ سکیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الأطعمة ٦ (٣٢٦٣)، ١٢ (٣٢٧٥)،(تحفة الأشراف: ٥١٩٩ )، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الأطعمة ١٦ (٢٠٩٠) (صحیح )
3774Sunan Abu Dawood

ایسے دستر خوان پر بیٹھنا جس پر حرام اشیاء بھی ہوں

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ مَطْعَمَيْنِ: عَنِ الْجُلُوسِ عَلَى مَائِدَةٍ يُشْرَبُ عَلَيْهَا الْخَمْرُ، وَأَنْ يَأْكُلَ الرَّجُلُ وَهُوَ مُنْبَطِحٌ عَلَى بَطْنِهِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: هَذَا الْحَدِيثُ لَمْ يَسْمَعْهُ جَعْفَرٌ مِنْ الزُّهْرِيِّ، وَهُوَ مُنْكَرٌ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے دو جگہ کھانا کھانے سے منع فرمایا ہے: ایک تو اس دستر خوان پر بیٹھ کر جس پر شراب پی جا رہی ہو اور دوسری وہ جگہ جہاں آدمی اوندھے منہ لیٹ کر کھائے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث منکر ہے، جعفر کا سماع زہری سے ثابت نہیں ہے (اس کی دلیل اگلی سند ہے) ۔

Narrated Abdullah ibn Umar (RA) : The Messenger of Allah ﷺ forbade two kinds of food: to sit at cloth on which wine is drunk, and to eat by a man while lying on his stomach. Abu Dawud said: Jafar did not hear this tradition from al-Zuhri. His tradition is rejected.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٦٨٠٩)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/ الکبری (٦١٠٧)، سنن ابن ماجہ/الأطعمة ٦٢ (٣٣٣٠) (حسن) (مؤلف نے منکر کہا ہے لیکن شواہد کی بناء پر یہ حسن ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحہ، للالبانی ٣٣٩٤ )
3775Sunan Abu Dawood

دائیں ہاتھ سے کھانا کھانے کا بیان

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَبِي الزَّرْقَاءِ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ، أَنَّهُ بَلَغَهُ عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْحَدِيثِ.

اس سند سے بھی زہری سے یہی حدیث مروی ہے۔

The tradition mentioned above has been transmitted by al-Zuhri from a different chain of narrators.

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ٦٨٠٩) (حسن لغیرہ )