عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص کھانا کھائے تو اسے چاہیئے کہ داہنے ہاتھ سے کھائے، اور جب پانی پیے تو داہنے ہاتھ سے پیئے اس لیے کہ شیطان اپنے بائیں ہاتھ سے کھاتا اور پیتا ہے ۔
Ibn Umar reported the Prophet ﷺ as sayings: When any of you eats, he should eat with his right hand, and when he drinks, he should drink with his right hand, for the devil eats with his left hand and drinks with his left hand.
عمر بن ابوسلمہ ؓ کہتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میرے بیٹے! قریب آجاؤ اور اللہ کا نام (بسم اللہ کہو) لو داہنے ہاتھ سے کھاؤ، اور اپنے سامنے سے کھاؤ ۔
Narrated Umar ibn Abu Salamah (RA) : The Prophet ﷺ said: Come near, my son, mention Allahs name, eat with your right hand and eat from what is next to you.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٠٦٨٩)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأطعمة ٢ (٥٣٧٦)، صحیح مسلم/الأشربة ١٣ (٢٠٢٢)، سنن الترمذی/الأطعمة ٤٧ (١٨٥٧)، سنن ابن ماجہ/الأطعمة ٧ (٣٢٦٧)، موطا امام مالک/صفة النبي ١٠ (٣٢)، مسند احمد (٤/٢٧)، سنن الدارمی/الأطعمة ١ (٢٠٦٢) (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: گوشت چھری سے کاٹ کر مت کھاؤ، کیونکہ یہ اہل عجم کا طریقہ ہے بلکہ اسے دانت سے نوچ کر کھاؤ کیونکہ اس طرح زیادہ لذیذ اور زود ہضم ہوتا ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث قوی نہیں ہے۔
Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : The Messenger of Allah ﷺ said: Do not eat meat with a knife, for it is a foreign practice, but bite it, for it is more beneficial and wholesome. Abu Dawud said: This tradition is not strong.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٧٢٥١) (ضعیف) (اس کے راوی ابو معشر سندھی ضعیف ہیں )
صفوان بن امیہ ؓ کہتے ہیں میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ کھانا کھا رہا تھا اور اپنے ہاتھ سے گوشت کو ہڈی سے جدا کر رہا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: ہڈی اپنے منہ کے قریب کرو (اور گوشت دانت سے نوچ کر کھاؤ) کیونکہ یہ زیادہ لذیذ اور زود ہضم ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عثمان نے صفوان سے نہیں سنا ہے اور یہ مرسل (یعنی: منقطع) ہے۔
Narrated Safwan ibn Umayyah (RA) : I was eating with the Prophet ﷺ and snatching the meat from the bone with my hand. He said: bring the bone near your mouth, for it is more beneficial and wholesome. Abu Dawud said: Uthman did not hear (traditions) from Safwan. This is a mursal tradition.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٤٩٤٦)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الأطعمة ٣٢ (١٨٣٥)، مسند احمد (٣/٤٠١، ٦/٤٦٦)، سنن الدارمی/الأطعمة ٣٠ (٢١١٤) (ضعیف) (سند میں انقطاع ہے )
اسی سند سے عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو دست کا گوشت بہت پسند تھا، (ایک بار) دست کے گوشت میں زہر ملا دیا گیا، آپ کا خیال تھا کہ یہودیوں نے زہر ملایا تھا۔
Narrated Abdullah ibn Masud (RA) : The tradition mentioned above (No. 3771) has also been narrated by Ibn Masud with a different chain of narrators. This version has: The Prophet ﷺ liked the foreleg (of a sheep). Once the foreleg was poisoned, and he thought that the Jews had poisoned it.
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ ایک درزی نے رسول اللہ ﷺ کے کھانے کی دعوت کی جسے اس نے تیار کیا، تو میں بھی آپ ﷺ کے ساتھ کھانے گیا، آپ کی خدمت میں جو کی روٹی اور شوربہ جس میں کدو اور گوشت کے ٹکڑے تھے پیش کی گئی، میں نے آپ ﷺ کو رکابی کے کناروں سے کدو ڈھونڈھتے ہوئے دیکھا، اس دن کے بعد سے میں بھی برابر کدو پسند کرنے لگا۔
Anas bin Malik (RA) said: A tailor invited the Messenger of Allah ﷺ to a meal which he had prepared. Anas said: I went along with the Messenger of Allah ﷺ barley bread and soup containing pumpkin and dried sliced meat. Anas said: I saw the Messenger of Allah ﷺ going after the pumpkin round the dish, so I have always liked pumpkins since that day.
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ کا سب سے زیادہ پسندیدہ کھانا روٹی کا ثرید اور حیس کا ثرید تھا (جسے پنیر اور گھی سے تیار کیا جاتا تھا) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث ضعیف ہے۔
Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : The food the Messenger of Allah ﷺ liked best was tharid made from bread and tharid made from Hays. Abu Dawud said: It is a weak (tradition).
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٦٢٨٢) (ضعیف) ( اس کی سند میں ایک راوی رجل من اہل البصرة مبہم ہے )
ہلب طائی ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا اور آپ سے ایک شخص نے پوچھا: کھانے کی چیزوں میں بعض ایسی چیزیں بھی ہوتی ہیں جن کے کھانے میں میں حرج محسوس کرتا ہوں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: اپنے دل میں کوئی شبہ نہ آنے دو (اگر اس کے سلسلہ میں تم نے شک کیا اور اپنے اوپر سختی کی تو) تم نے اس میں نصرانیت کے مشابہت کی ۔
Narrated Qabisah ibn Halb (RA) : A man asked the Messenger of Allah ﷺ : Is there any food from which I should keep myself away? I heard the Messenger of Allah ﷺ say: Anything which creates doubt should not occur in your mind by which you resemble Christianity.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/السیر ١٦ (١٥٦٥)، سنن ابن ماجہ/الجہاد ٢٦ (٢٨٣٠)، (تحفة الأشراف: ١١٧٣٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٢٢٦) (حسن )
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ ہم نے خیبر کے دن گھوڑے، خچر اور گدھے ذبح کئے تو رسول اللہ ﷺ نے ہمیں خچر اور گدھوں سے منع فرما دیا، اور گھوڑے سے ہمیں نہیں روکا۔
Narrated Jabir ibn Abdullah (RA) : On the day of Khaybar we slaughtered horses, mules, and assess. The Messenger of Allah ﷺ forbade us (to eat) mules and asses, but he did not forbid horse-flesh.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٢٦٩٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣٥٦، ٣٦٢) (صحیح )
خالد بن الولید ؓ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے گھوڑے، خچر اور گدھوں کے گوشت کھانے سے منع کیا ہے۔ حیوۃ نے ہر دانت سے پھاڑ کر کھانے والے درندے کا اضافہ کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ مالک کا قول ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: گھوڑے کے گوشت میں کوئی مضائقہ نہیں اور اس حدیث پر عمل نہیں ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث منسوخ ہے، خود صحابہ کی ایک جماعت نے گھوڑے کا گوشت کھایا جس میں عبداللہ بن زبیر، فضالہ بن عبید، انس بن مالک، اسماء بنت ابوبکر، سوید بن غفلہ، علقمہ شامل ہیں اور قریش عہد نبوی میں گھوڑے ذبح کرتے تھے۔
Narrated Khalid ibn al-Walid: The Messenger of Allah ﷺ forbade us to eat horse-flesh, the flesh of mules and of asses. The narrator Haywah added: Every beast of prey with a fang. Abu Dawud said: This view is held by Malik. Abu Dawud said: There is no harm in (eating) horse-flesh and this tradition is not practised. Abu Dawud said: This tradition has been abrogated. A body of Companions of the Prophet ﷺ had eaten horse-flesh. OF them are: Ibn al-Zubair, Fudalah bin Ubaid, Anas bin Malik (RA), Asma daughter of Abu Bakr, Suwaid bin Ghaflah, Alqamah; the Quraish used to slaughter them (horses) during the time of the Messenger of Allah ﷺ .
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الصید ٣٠ (٤٣٣٦)، سنن ابن ماجہ/الذبائح ١٤ (٣١٩٨)، (تحفة الأشراف: ٣٥٠٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٨٩، ٩٠) (ضعیف) (اس کے راوی صالح ضعیف، اور یحییٰ مجہول ہیں، اور یہ جابر کی صحیح روایت کے خلاف ہے )
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ میں ایک قریب البلوغ لڑکا تھا، میں نے ایک خرگوش کا شکار کیا اور اسے بھونا پھر ابوطلحہ ؓ نے اس کا پچھلا دھڑ مجھ کو دے کر نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں بھیجا میں اسے لے کر آیا تو آپ نے اسے قبول کیا۔
Anas bin Malik (RA) said: I was an adolescent boy. I hunted a hare and roasted it. Abu Talib sent its hunch through me to the Prophet ﷺ , So I bought it to him and accepted it.
محمد بن خالد کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد خالد بن حویرث کو کہتے سنا کہ عبداللہ بن عمرو ؓ صفاح میں تھے (محمد (محمد بن خالد) کہتے ہیں: وہ مکہ میں ایک جگہ کا نام ہے) ایک شخص ان کے پاس خرگوش شکار کر کے لایا، اور کہنے لگا: عبداللہ بن عمرو! آپ اس سلسلے میں کیا کہتے ہیں؟ انہوں نے کہا: اسے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں لایا گیا اور میں بیٹھا ہوا تھا آپ نے نہ تو اسے کھایا اور نہ ہی اس کے کھانے سے منع فرمایا، اور آپ ﷺ کا یہ خیال تھا کہ اسے حیض آتا ہے۔
Abu Khalid bin al-Huwairith said: Abdullah bin ‘Amar was in al-safah. The narrator Muhammed (b. Khalid) said: it is a place in Makkah. A man brought a hare which he had haunted. He said: Abdullah bin Amr, what do you say ? He said: It was brought to the Messenger of Allah ﷺ when I was sitting (with him). He did not eat it, nor did he prohibit to eat it. He thought that it menstruated.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٨٦٢١) (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی خالد لین الحدیث ہیں )
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ان کی خالہ نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں گھی، گوہ اور پنیر بھیجا، آپ نے گھی اور پنیر کھایا اور گوہ کو گھن محسوس کرتے ہوئے چھوڑ دیا، اور آپ کے دستر خوان پر اسے کھایا گیا، اگر وہ حرام ہوتا تو رسول اللہ ﷺ کے دستر خوان پر نہیں کھایا جاتا۔
Ibn Abbas said that his maternal aunt presented to the Messenger of Allah ﷺ clarified butter, lizards and cottage cheese. He ate from clarified butter and cheese, but left the lizard abominably. It was eaten on the food cloth of the Messenger of Allah ﷺ . Had it been unlawful, it would not have been eaten on the food cloth of the Messenger of Allah ﷺ .
خالد بن ولید ؓ کہتے ہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ام المؤمنین میمونہ ؓ کے گھر میں داخل ہوئے تو آپ کی خدمت میں بھنا ہوا گوہ لایا گیا، رسول اللہ ﷺ نے اس کی طرف ہاتھ بڑھانا چاہا تو میمونہ ؓ کے گھر میں موجود بعض عورتوں نے کہا: نبی کریم ﷺ کو اس چیز کی خبر کر دو جسے آپ کھانا چاہتے ہیں، تو لوگوں نے عرض کیا: (اللہ کے رسول! ) یہ گوہ ہے تو رسول اللہ ﷺ نے اپنا ہاتھ اٹھا لیا۔ خالد ؓ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا یہ حرام ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں لیکن میری قوم کی سر زمین میں نہیں پایا جاتا اس لیے مجھے اس سے گھن محسوس ہوتی ہے ۔ (یہ سن کر) میں اسے کھینچ کر کھانے لگا، رسول اللہ ﷺ دیکھ رہے تھے۔
Ibn Abbas said on the authority of Khalid bin al-Walid that he entered the house of Maimunah along with the Messenger of Allah ﷺ . A roasted lizard was offered to him. The Messenger of Allah ﷺ stretched his hand for it. Some of the women is going to eat. They said: It is a lizard. The Messenger of Allah ﷺ raised his hand. I (Khalid) asked: Is it forbidden, Messenger of Allah? He replied, No, but it is not found in the land of my people, so I find it distasteful. Khalid said: I then pulled it and ate it while The Messenger of Allah ﷺ was seeing.
ثابت بن ودیعہ ؓ کہتے ہیں ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک لشکر میں تھے کہ ہم نے کئی گوہ پکڑے، میں نے ان میں سے ایک کو بھونا اور اسے لے کر رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور آپ کے سامنے رکھا، آپ ﷺ نے ایک لکڑی لی اور اس سے اس کی انگلیاں شمار کیں پھر فرمایا: بنی اسرائیل کا ایک گروہ مسخ کر کے زمین میں چوپایا بنادیا گیا لیکن میں نہیں جانتا کہ وہ کون سا جانور ہے پھر آپ ﷺ نے نہ تو کھایا اور نہ ہی اس سے منع کیا۔
Narrated Thabit ibn Wadiah (RA) : We were in an army with the Messenger of Allah ﷺ . We got some lizards. I roasted one lizard and brought it to the Messenger of Allah ﷺ and placed it before him. He took a stick and counted its fingers. He then said: A group from the children of Israil was transformed into an animal of the land, and I do not know which animal it was. He did not eat it nor did he forbid (its eating).
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الصید ٢٦ (٤٣٢٥)، سنن ابن ماجہ/الصید ١٦ (٣٢٣٨)، (تحفة الأشراف: ٢٠٦٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢٢٠)، سنن الدارمی/الصید ٨ (٢٠٥٩) (صحیح )