Sunan Abu Dawood 2897

فرائض کا بیان

2897Sunan Abu Dawood

داداکی میراث کا بیان

حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ الْحَسَنِ، أَنَّ عُمَرَ قَالَ: أَيُّكُمْ يَعْلَمُ مَا وَرَّثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجَدَّ، فَقَالَ مَعْقِلُ بْنُ يَسَارٍ: أَنَا وَرَّثَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السُّدُسَ قَالَ: مَعَ مَنْ ؟ قَالَ: لَا أَدْرِي، قَالَ: لَا دَرَيْتَ فَمَا تُغْنِي إِذًا ؟.

حسن بصری کہتے ہیں کہ عمر ؓ نے پوچھا: رسول اللہ ﷺ نے دادا کو ترکے میں سے جو دلایا ہے اسے تم میں کون جانتا ہے؟ معقل بن یسار ؓ نے کہا: میں (جانتا ہوں) رسول اللہ ﷺ نے اس کو چھٹا حصہ دلایا ہے، انہوں نے پوچھا: کس وارث کے ساتھ؟ وہ کہنے لگے: یہ تو معلوم نہیں، اس پر انہوں نے کہا: تمہیں پوری بات معلوم نہیں پھر کیا فائدہ تمہارے جاننے کا؟۔

Al-Hasan reported that Umar asked: Which of your knows what share the Messenger of Allah ﷺ had given to the grandfather from the estate? Maqil ibn Yasar said: The Messenger of Allah ﷺ gave him a sixth. He asked: Along with whom? He replied: I do not know. He said: You do not know; what is the use then?

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/ الکبری (٦٣٣٥)، سنن ابن ماجہ/الفرائض ٣ (٢٧٢٣)، (تحفة الأشراف: ١١٤٦٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٢٧) (صحیح) (حسن بصری کا عمر ؓ سے سماع نہیں ہے، لیکن دوسرے طرق اور شواہد کی بناء پر حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود ٨ ؍ ٢٥١ )