شگون لینے اور رمل کرنے کا بیان
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حَمْزَةَ، وَسَالِمٍ ابْنَيْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الشُّؤْمُ فِي الدَّارِ وَالْمَرْأَةِ وَالْفَرَسِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: قُرِئَ عَلَى الْحَارِثِ بْنِ مِسْكِينٍ وَأَنَا شَاهِدٌ، أَخْبَرَكَ ابْنُ الْقَاسِمِ، قَالَ: سُئِلَ مَالِكٌ عَنِ الشُّؤْمِ فِي الْفَرَسِ وَالدَّارِ، قَالَ: كَمْ مِنْ دَارٍ سَكَنَهَا نَاسٌ، فَهَلَكُوا ثُمَّ سَكَنَهَا آخَرُونَ، فَهَلَكُوا ؟ فَهَذَا تَفْسِيرُهُ فِيمَا نَرَى وَاللَّهُ أَعْلَمُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: حَصِيرٌ فِي الْبَيْتِ خَيْرٌ مِنَ امْرَأَةٍ لَا تَلِدُ.
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: نحوست گھر، عورت اور گھوڑے میں ہے ١ ؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حارث بن مسکین پر پڑھا گیا اور میں موجود تھا کہ ابن قاسم نے آپ کو خبر دی ہے کہ امام مالک سے گھوڑے اور گھر کی نحوست کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: بہت سے گھر ایسے ہیں جس میں لوگ رہے تو وہ مرگئے پھر دوسرے لوگ رہنے لگے تو وہ بھی مرگئے، جہاں تک میں سمجھتا ہوں یہی اس کی تفسیر ہے، واللہ اعلم۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عمر ؓ نے کہا کہ گھر کی ایک چٹائی بانجھ عورت سے اچھی ہے۔
It was narrated from Abdullah bin Umar (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: An omen is in a dwelling, a woman or a horse. Abu Dawud said: This tradition was read out to al-Harith bin Miskin and I was witness. It was said to him that Ibn Qasim told him that Malik was asked about evil omen in a horse and in a house. He replied: There are many houses in which people lived and perished and again others lived therein and they also perished. This is its explanation so far as we know. Allah knows best. Abu Dawud said: Umar (ra) said: A mat in a house better than a woman who does not give birth to a child.