عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو شخص (مشترک) غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کر دے تو جتنا حصہ باقی بچا ہے وہ بھی اسی کے مال سے آزاد ہوگا بشرطیکہ اس کے پاس اتنا مال ہو کہ وہ غلام کی قیمت کو پہنچ سکے ۔
Ibn Umar reported the Prophet ﷺ as saying: If a man emancipates his share in a slave, the rest will be emancipated by his money if he has enough money to pay the full price for him.
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب غلام دو آدمیوں کے درمیان مشترک ہو پھر ان میں سے ایک شخص اپنا حصہ آزاد کر دے تو اگر آزاد کرنے والا مالدار ہو تو اس غلام کی واجبی قیمت ٹھہرائی جائے گی نہ کم نہ زیادہ پھر وہ غلام آزاد کردیا جائے گا ١ ؎۔
Ibn Umar reported the Prophet ﷺ as saying: If a man is shared by two men, and one of them emancipates his share, a price of the slave will be fixed, not more or less, and he will be emancipated by him in case he is rich.
Notes · وضاحت
١ ؎: اور اپنا حصہ آزاد کرنے والا اس واجبی قیمت میں سے جتنا حصہ دوسرے شریک کا ہوگا اسے ادا کرے گا۔
تلب بن ثعلبہ تمیمی عنبری ؓ روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کردیا تو نبی اکرم ﷺ نے اسے باقی قیمت کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا۔ احمد کہتے ہیں: (صحابی کا نام) تلب تائے فوقانیہ سے ہے نہ کہ ثلب ثائے مثلثہ سے اور راوی حدیث شعبہ ہکلے تھے یعنی ان کی زبان سے تاء ادا نہیں ہوتی تھی وہ تاء کو ثاء کہتے تھے۔
Narrated ath-Thalabb (RA) : On the authority of his father: A man emancipated his share in a slave. The Prophet ﷺ did not put the responsibility on him to emancipate the rest. Ahmad said: The name Ibn al-Thalabb is to be pronounced with a ta (and not with tha). As Shubah could not pronounce ta, he said tha.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 050 ٢) (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی ملقام بن تلب مجہول الحال ہیں، اور ان کی یہ روایت سابقہ صحیح روایات کے مخالف ہے )
سمرہ بن جندب ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو کسی قرابت دار محرم کا مالک ہوجائے تو وہ (ملکیت میں آتے ہی) آزاد ہوجائے گا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: محمد بن بکر برسانی نے حماد بن سلمہ سے، حماد نے قتادہ اور عاصم سے، انہوں نے حسن سے، حسن نے سمرہ سے، سمرہ نے نبی اکرم ﷺ سے اسی حدیث کے ہم مثل روایت کی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور اس حدیث کو حماد بن سلمہ کے علاوہ کسی اور نے روایت نہیں کیا ہے اور انہیں اس میں شک ہے۔
Narrated Samurah (RA) : The Prophet ﷺ said: (The narrator Musa said in another place: From Samurah ibn Jundub as presumed by Hammad): If anyone gets possession of a relative who is within the prohibited degrees, that person becomes free. Abu Dawud said: A similar tradition has also been transmitted by Samurah from the Prophet ﷺ through a different chain. Abu Dawud said: Only Hammad bin Salamah has transmitted this tradition and he had doubt in it.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الأحکام ٢٨ (١٣٦٥)، سنن ابن ماجہ/العتق ٥ (٢٥٢٤)، (تحفة الأشراف: ١٨٥٣٤، ١٨٤٦٩، ١٨٥٤٦٩)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/ الکبری (٤٨٩٨، ٤٨٩٩)، مسند احمد (٥/١٥، ١٨، ٢٠) (صحیح) (متابعات سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ ثقات نے مرفوعاً روایت کرنے میں حماد کی مخالفت کی ہے )
عمر بن خطاب ؓ کہتے ہیں جو کسی قرابت دار محرم کا مالک ہوجائے تو وہ (ملکیت میں آتے ہی) آزاد ہوجائے گا۔
Narrated Umar ibn al-Khattab (RA) : Qatadah reported Umar ibn al-Khattab (may Allah be pleased with him) as saying: If anyone gets possession of a relative who is within the prohibited degrees, that person becomes free.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، وانظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ٤٥٨٥، ١٨٤٦٩، ١٨٥٣٤) (ضعیف) (سند میں قتادہ و عمر کے درمیان انقطاع ہے، لیکن پچھلی مرفوع سند سے یہ روایت صحیح ہے )
حسن کہتے ہیں جو کسی قرابت دار محرم کا مالک ہوجائے تو (وہ ملکیت میں آتے ہی) آزاد ہوجائے گا۔
Qatadah reported Umar bin al-Khattab (ra) as saying: If anyone gets possession of a relative who is within the prohibited degrees, that person becomes free.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، وانظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ١٨٥٣٤، ١٨٤٦٩، ٤٥٨٥) (صحیح )
جابر بن زید اور حسن سے بھی اسی کے ہم مثل مروی ہے ابوداؤد کہتے ہیں: سعید حماد (حماد بن سلمہ) سے زیادہ یاد رکھنے والے ہیں ١ ؎۔
A similar tradition has also been transmitted by Jabir bin Zaid and al-Hasan through a different chain of narrators. Abu Dawud said: The narrator Saeed retained te tradition more carefully than Hammad.
Notes · وضاحت
١ ؎: مؤلف کا مقصد یہ ہے کہ: حماد نے قتادہ کے واسطے سے اس کو مرفوعاً روایت کیا ہے (جیسا کہ حدیث نمبر: ٣٩٤٩ میں ہے) مگر سعید بن ابی عروبہ نے قتادہ کے واسطے سے یا تو عمر ؓ کے قول سے یا حسن کے قول سے روایت کیا ہے، اور ابن ابی عروبہ حماد کے بالمقابل زیادہ یاد رکھنے والے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، وانظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ١٨٥٣٤، ١٨٤٦٩، ٤٥٨٥) (صحیح )
بنی خارجہ قیس عیلان کی ایک خاتون سلامہ بنت معقل کہتی ہیں کہ جاہلیت میں مجھے میرے چچا لے کر آئے اور ابوالیسر بن عمرو کے بھائی حباب بن عمرو کے ہاتھ بیچ دیا، ان سے عبدالرحمٰن بن حباب پیدا ہوئے، پھر وہ مرگئے تو ان کی بیوی کہنے لگی: قسم اللہ کی اب تو ان کے قرضہ میں بیچی جائے گی، یہ سن کر میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی اور میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں بنی خارجہ قیس عیلان کی ایک خاتون ہوں، جاہلیت میں میرے چچا مدینہ لے کر آئے اور ابوالیسر بن عمرو کے بھائی حباب بن عمرو کے ہاتھ مجھے بیچ دیا ان سے میرے بطن سے عبدالرحمٰن بن حباب پیدا ہوئے، اب ان کی بیوی کہتی ہے: قسم اللہ کی تو ان کے قرض میں بیچی جائے گی، رسول اللہ ﷺ نے پوچھا: حباب کا وارث کون ہے؟ لوگوں نے عرض کیا: ان کے بھائی ابوالیسر بن عمرو ہیں، آپ ﷺ نے انہیں کہلا بھیجا کہ اسے (سلامہ کو) آزاد کر دو، اور جب تم سنو کہ میرے پاس غلام اور لونڈی آئے ہیں تو میرے پاس آنا، میں تمہیں اس کا عوض دوں گا، سلامہ کہتی ہیں: یہ سنا تو ان لوگوں نے مجھے آزاد کردیا، پھر جب رسول اللہ ﷺ کے پاس غلام اور لونڈی آئے تو آپ نے میرے عوض میں انہیں ایک غلام دے دیا۔
Narrated Sulamah bint Maqil al-Qasiyyah (RA) : My uncle brought me (to Madina) in the pre-Islamic days. He sold me to al-Hubab ibn Amr, brother of AbulYusr ibn Amr. I bore a child, Abdur Rahman ibn al-Hubab, to him and he (al-Hubab) then died. Thereupon his wife said: I swear by Allah, now you will be sold (as a repayment) for his loan. So I came to the Messenger of Allah ﷺ and said: Messenger of Allah! I am a woman of Banu Kharijah Qays ibn Aylan. My uncle had brought me to Madina in pre-Islamic days. He sold me to al-Hubab ibn Amr, brother of AbulYusr ibn Amr. I bore Abdur Rahman ibn al-Hubab to him. His wife said: I swear by Allah, you will be sold for his loan. The Messenger of Allah ﷺ said: Who is the guardian of al-Hubab? He was told: His brother, AbulYusr ibn Amr. He then sent for him and said: Set her free; when you hear that some slaves have been brought to me, came to me, and I shall compensate you for her. She said: They set me free, and when some slaves were brought to the Messenger of Allah ﷺ , he gave them a slave in compensation for me.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١٥٨٩٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٣٦٠) (ضعیف الإسناد) (اس کی راویہ ام خطاب مجہول ہیں )
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں ہم رسول اللہ ﷺ اور ابوبکر ؓ کے عہد میں ام ولد ١ ؎ کو بیچا کرتے تھے، پھر جب عمر ؓ کا زمانہ آیا تو انہوں نے ہمیں اس کے بیچنے سے روک دیا چناچہ ہم رک گئے۔
Narrated Jabir ibn Abdullah (RA) : We sold slave-mothers during the time of the Messenger of Allah ﷺ and of Abu Bakr. When Umar was in power, he forbade us and we stopped.
Notes · وضاحت
١ ؎: ام ولد: اس لونڈی کو کہتے ہیں جو مالک کے نطفہ سے بچہ جنے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٢٨٣٥، ٢٤٧٥)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/العتق ٢ (٢٥١٧) (صحیح )
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنے غلام کو اپنے مرنے کے بعد آزاد کردیا اور اس کے پاس اس کے علاوہ کوئی اور مال نہ تھا، نبی اکرم ﷺ نے اس کے بیچنے کا حکم دیا تو وہ سات سویا نو سو میں بیچا گیا۔
Jabir bin Abdullah said: A man declared that his slave would be free after his death, but he had no other property. So the Prophet ﷺ ordered (to sell him). He was then sold for seven hundred or nine hundred (dirhams).
Notes · وضاحت
١ ؎: مدبر: اس غلام کو کہتے ہیں جس کا مالک اس سے یہ کہہ دے کہ میرے مرنے کے بعد تم آزاد ہو۔
عطاء بن ابی رباح کہتے ہیں کہ مجھ سے جابر بن عبداللہ ؓ نے یہی روایت بیان کی ہے اور اس میں اتنا اضافہ ہے کہ آپ نے یعنی نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اس غلام کی قیمت کے زیادہ حقدار تم ہو اور اللہ اس سے بےپرواہ ہے (یعنی اگر آزاد ہوتا تو اللہ زیادہ خوش ہوتا پر وہ بےنیاز ہے، اور بندہ محتاج ہے) ۔
The tradition mentioned above also has been transmitted by Jabir bin Abdullah through a different chain of narrators. This version added: The Prophet ﷺ said: You are more entitled to his price, and Allah has no need of it.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٢٤٢٥)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/ الکبری (٥٠٠١) (صحیح )
جابر ؓ کہتے ہیں کہ ایک ابومذکور نامی انصاری نے اپنے یعقوب نامی ایک غلام کو اپنے مرنے کے بعد آزاد کردیا، اس کے پاس اس کے علاوہ کوئی اور مال نہیں تھا تو رسول اللہ ﷺ نے اسے بلایا اور فرمایا: اسے کون خریدتا ہے؟ چناچہ نعیم بن عبداللہ بن نحام نے آٹھ سو درہم میں اسے خرید لیا تو آپ نے اسے انصاری کو دے دیا اور فرمایا: جب تم میں سے کوئی محتاج ہو تو اسے اپنی ذات سے شروع کرنا چاہیئے، پھر جو اپنے سے بچ رہے تو اسے اپنے بال بچوں پر صرف کرے پھر اگر ان سے بچ رہے تو اپنے قرابت داروں پر خرچ کرے یا فرمایا: اپنے ذی رحم رشتہ داروں پر خرچ کرے اور اگر ان سے بھی بچ رہے تو یہاں وہاں خرچ کرے ١ ؎۔
Jabir said: A man of the Ansar called Abu Madhkur declared that his slave called Yaqub would be free after his death, but he had no other property. So the Messenger of Allah ﷺ called him and said: Who will buy him ? Nuaim bin Abdullah bin al-Nahham bought him for eight hundred dirhams. When he handed them over to him, he (Prophet) said: If any of you is poor, he should begin from himself ; if anything is left over, give it to your family; if anything is left over, give it to your relatives ; if anything is left over (when they received something), then here and here.
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اپنے دوستوں پر اور اللہ کی راہ میں خرچ کرے۔
عمران بن حصین ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنی موت کے وقت اپنے چھ غلاموں کو آزاد کردیا ان کے علاوہ اس کے پاس کوئی اور مال نہ تھا، یہ خبر نبی اکرم ﷺ کو پہنچی تو آپ نے اس اسے سخت سست کہا پھر انہیں بلایا اور ان کے تین حصے کئے: پھر ان میں قرعہ اندازی کی پھر ان میں سے دو کو (جن کے نام قرعہ میں نکلے) آزاد کردیا اور چار کو غلام ہی رہنے دیا۔
Imran bin Hussain said: A man who had no other property emancipated six slaves of his at the time of the death. When the Prophet ﷺ was informed about it, he spoke severely of him. He then called them, divided them into three sections, cast lots among them, and emancipated two and kept four in slavery.
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحدود ١٢ (١٦٦٨)، سنن الترمذی/الأحکام ٢٧ (١٣٦٤)، سنن النسائی/الجنائز ٦٥ (١٩٦٠)، سنن ابن ماجہ/الأحکام ٢٠ (٢٣٤٥)، (تحفة الأشراف: ١٠٨٨٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٤٢٦، ٤٣١، ٤٣٨، ٤٤٠) (صحیح )
اس سند سے بھی ابوقلابہ سے اسی طریق سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے اور اس میں یہ نہیں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اسے سخت سست کہا۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by Abu Qilabah through a different chain of narrators on the authority of Imran bin Husain to the same effect. But in this version he did not mention He spoke severely of them.
ابوزید ؓ کہتے ہیں کہ ایک انصاری نے ... آگے انہوں نے اسی مفہوم کی حدیث بیان کی اس میں یہ ہے کہ آپ نے یعنی نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اگر میں اس کے دفن کئے جانے سے پہلے موجود ہوتا تو وہ مسلمانوں کے قبرستان میں نہ دفنایا جاتا ۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by Abu Qilabah from Abu Zaid through a different chain of narrators to the same effect: A man of the Ansar. . . The Prophet ﷺ said: Had I been present before his burial, he would not have been buried in a Muslim cemetry.
عمران بن حصین ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنی موت کے وقت اپنے چھ کے چھ غلاموں کو آزاد کردیا ان کے علاوہ اس کے پاس کوئی اور مال نہ تھا پھر یہ خبر نبی اکرم ﷺ کو پہنچی تو آپ نے ان کے درمیان قرعہ اندازی کی پھر دو کو آزاد کردیا اور چار کو غلام ہی باقی رکھا۔
Imran bin Husain said: A man emancipated six slaved at the time of his death and he had no other property. The Prophet ﷺ was informed about it. He cast lots among them, emancipated two and retained four in slavery.
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (٣٩٥٨)، (تحفة الأشراف: ١٠٨٣٩) (صحیح )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو کسی غلام کو آزاد کرے اور اس کے پاس مال ہو تو غلام کا مال آزاد کرنے والے کا ہے الا یہ کہ مالک اس کو غلام کو دیدے ١ ؎۔
Abdullah bin Umar (RA) reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: If anyone emancipates a slave who has property, the property of the slave belongs to him except that the master makes a stipulation.
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی آزاد کرتے وقت یہ کہہ دے کہ یہ مال بھی تیرا ہے تجھے ہی دیدوں گا تو اس صورت میں یہ مال غلام کا ہوگا، یعنی يشترطه بمعنی يعطيه ہے، اس کا ایک ترجمہ یوں بھی ہے پس غلام کا مال اسی کا ہوگا الا یہ کہ مالک شرط کرلے (کہ مال میرا ہوگا)۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/العتق ٨ (٢٥٢٩)، (تحفة الأشراف: ٧٦٠٤) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: زنا کا بچہ تینوں میں سب سے برا ہے ۔ ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں: اللہ کی راہ میں ایک کوڑا دینا میرے نزدیک ولد الزنا کو آزاد کرنے سے بہتر ہے۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: The child of adultery is worst of the three. Abu Hurairah said: That I give a flog in the path of Allah (as a charity) is dearer to me than emancipating a child of adultery.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١٢٦٠١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣١١) (صحیح )
غریف بن دیلمی کہتے ہیں ہم واثلہ بن اسقع ؓ کے پاس آئے اور ہم نے ان سے کہا: آپ ہم سے کوئی حدیث بیان کیجئے جس میں کوئی زیادتی و کمی نہ ہو، تو وہ ناراض ہوگئے اور بولے: تم میں سے کوئی قرآن پڑھتا ہے اور اس کے گھر میں مصحف لٹک رہا ہے تو وہ اس میں کمی و زیادتی کرتا ہے، ہم نے کہا: ہمارا مقصد یہ ہے کہ آپ ہم سے ایسی حدیث بیان کریں جسے آپ نے (براہ راست) نبی اکرم ﷺ سے سنی ہو، تو انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں اپنے ایک ساتھی کا مسئلہ لے کر آئے جس نے قتل کا ارتکاب کر کے اپنے اوپر جہنم کو واجب کرلیا تھا، آپ نے فرمایا: اس کی طرف سے غلام آزاد کرو، اللہ تعالیٰ اس کے ہر ہر جوڑ کے بدلہ اس کا ہر جوڑ جہنم سے آزاد کر دے گا ۔
Narrated Wathilah ibn al-Asqa (RA) : Al-Arif ibn ad-Daylami said: We went to Wathilah ibn al-Asqa and said to him: Tell us a tradition which has not addition or omission. He became angry and replied: One of you recites when his copy of a Quran is hung up in his house, and he makes additions and omissions. We said: All we mean is a tradition you have heard from the Messenger of Allah ﷺ . He said: We went to the Prophet ﷺ about a friend of ours who deserved. Hell for murder. He said: Emancipate a slave on his behalf; Allah will set free from Hell a member of the body for every member of his.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١١٧٤٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٩٠، ٤/١٠٧) (ضعیف) (اس کے راوی غریف لین الحدیث ہیں )
ابونجیح سلمی ؓ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ طائف کے محل کا محاصرہ کیا۔ معاذ کہتے ہیں: میں نے اپنے والد کو طائف کا محل اور طائف کا قلعہ دونوں کہتے سنا ہے۔ تو میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: جس نے اللہ کی راہ میں تیر مارا تو اس کے لیے ایک درجہ ہے پھر انہوں نے پوری حدیث بیان کی، اور میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے کہ: جس مسلمان مرد نے کسی مسلمان مرد کو آزاد کیا تو اللہ تعالیٰ اس کی ہر ہڈی کے لیے اس کے آزاد کردہ شخص کی ہر ہڈی کو جہنم سے بچاؤ کا ذریعہ بنا دے گا، اور جس عورت نے کسی مسلمان عورت کو آزاد کیا تو اللہ تعالیٰ اس کی ہر ہڈی کے لیے اس کے آزاد کردہ عورت کی ہر ہڈی کو جہنم سے بچاؤ کا ذریعہ بنا دے گا ۔
Narrated Abu Najih as-Sulami (RA) : Along with the Messenger of Allah ﷺ we besieged the palace of at-Taif. The narrator, Mutadh, said: I heard my father (sometimes) say: Palace of at-Taif, and (sometimes) Fort of at-Taif, which are the same. I heard the Messenger of Allah ﷺ say: he who causes an arrow to hit its mark in Allahs cause will have it counted as a degree for him (in Paradise). He then transmitted the rest of the tradition. I heard the Messenger of Allah ﷺ say: If a Muslim man emancipates a Muslim man, Allah, the Exalted, will make every bone of his protection for every bone of his emancipator from Hell; and if a Muslim woman emancipates a Muslim woman, Allah will make every bone of hers protection for every bone of her emancipator from Hell on the Day of Resurrection.