Sunan Abu Dawood 3960

غلام آزاد کرنے کا بیان

3960Sunan Abu Dawood

جو شخص اپنے غلاموں کو جو ثلث سے زائد ہوں آزاد کردے تو کیا حکم ہے؟

حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ هُوَ الطَّحَّانُ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي زَيْدٍ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ بِمَعْنَاهُ، وَقَالَ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَوْ شَهِدْتُهُ قَبْلَ أَنْ يُدْفَنَ لَمْ يُدْفَنْ فِي مَقَابِرِ الْمُسْلِمِينَ.

ابوزید ؓ کہتے ہیں کہ ایک انصاری نے ... آگے انہوں نے اسی مفہوم کی حدیث بیان کی اس میں یہ ہے کہ آپ نے یعنی نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اگر میں اس کے دفن کئے جانے سے پہلے موجود ہوتا تو وہ مسلمانوں کے قبرستان میں نہ دفنایا جاتا ۔

The tradition mentioned above has also been transmitted by Abu Qilabah from Abu Zaid through a different chain of narrators to the same effect: A man of the Ansar. . . The Prophet ﷺ said: Had I been present before his burial, he would not have been buried in a Muslim cemetry.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٠٦٩٥) (صحیح )