Sunan Abu Dawood 3947

غلام آزاد کرنے کا بیان

3947Sunan Abu Dawood

ان لوگوں کا بیان جو مال نہ ہونے کی صورت میں عدم استسعاء کے قائل ہیں

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَإِذَا كَانَ الْعَبْدُ بَيْنَ اثْنَيْنِ، فَأَعْتَقَ أَحَدُهُمَا نَصِيبَهُ فَإِنْ كَانَ مُوسِرًا يُقَوَّمُ عَلَيْهِ قِيمَةً لَا وَكْسَ وَلَا شَطَطَ ثُمَّ يُعْتَقُ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب غلام دو آدمیوں کے درمیان مشترک ہو پھر ان میں سے ایک شخص اپنا حصہ آزاد کر دے تو اگر آزاد کرنے والا مالدار ہو تو اس غلام کی واجبی قیمت ٹھہرائی جائے گی نہ کم نہ زیادہ پھر وہ غلام آزاد کردیا جائے گا ١ ؎۔

Ibn Umar reported the Prophet ﷺ as saying: If a man is shared by two men, and one of them emancipates his share, a price of the slave will be fixed, not more or less, and he will be emancipated by him in case he is rich.

Notes · وضاحت
١ ؎: اور اپنا حصہ آزاد کرنے والا اس واجبی قیمت میں سے جتنا حصہ دوسرے شریک کا ہوگا اسے ادا کرے گا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/ العتق ٤ (٢٥٢١)، صحیح مسلم/ العتق ١ (١٥٠١)، سنن النسائی/ الکبری (١٥٤١)، (تحفة الأشراف: ٦٧٨٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١١) (صحیح )