معاذ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (دوران جہاد) نماز، روزہ اور ذکر الٰہی (کا ثواب) جہاد میں خرچ کے ثواب پر سات سو گنا تک بڑھا دیا جاتا ہے ۔
Narrated Muadh ibn Jabal (RA) : The Messenger of Allah ﷺ said: (The reward of) prayer, fasting and remembrance of Allah is enhanced seven hundred times over (the reward of) spending in Allahs path.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١١٢٩٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٣٨، ٤٤٠) (ضعیف) (اس کے راوی زبان ضعیف ہیں )
ابو مالک اشعری ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: جو شخص اللہ کی راہ میں نکلا پھر وہ مرگیا، یا مار ڈالا گیا تو وہ شہید ہے، یا اس کے گھوڑے یا اونٹ نے اسے روند دیا، یا کسی سانپ اور بچھو نے ڈنک مار دیا، یا اپنے بستر پہ، یا موت کے کسی بھی سبب سے جسے اللہ نے چاہا مرگیا، تو وہ شہید ہے، اور اس کے لیے جنت ہے ۔
Narrated Abu Malik al-Ashari (RA) : Abu Malik heard the Messenger of Allah ﷺ say: He who goes forth in Allahs path and dies or is killed is a martyr, or has his neck broken through being thrown by his horse or by his camel, or is stung by a poisonous creature, or dies on his bed by any kind of death Allah wishes is a martyr and will go to Paradise.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٢١٦٥) (ضعیف) (اس کے رواة بقیہ اور ابن ثوبان دونوں ضعیف ہیں، ملاحظہ ہو: الضعيفة 5361، وأحكام الجنائز 51، وتراجع الألباني 182 )
فضالہ بن عبید ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہر میت کا عمل مرنے کے بعد ختم کردیا جاتا ہے، سوائے سرحد کی پاسبانی اور حفاظت کرنے والے کے، اس کا عمل اس کے لیے قیامت تک بڑھتا رہے گا اور قبر کے فتنہ سے وہ مامون کردیا جائے گا ۔
Narrated Fadalah ibn Ubayd: The Prophet ﷺ said: Everyone who dies will have fully complete his action, except one who is on the frontier (in Allahs path), for his deeds will be made to go on increasing till the Day of Resurrection, and he will be safe from the trial in the grave.
سہل بن حنظلیہ ؓ سے روایت ہے کہ لوگ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حنین کے دن چلے اور بہت ہی تیزی کے ساتھ چلے، یہاں تک کہ شام ہوگئی، میں نماز میں رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہوا اتنے میں ایک سوار نے آ کر کہا: اللہ کے رسول! میں آپ لوگوں کے آگے گیا، یہاں تک کہ فلاں فلاں پہاڑ پر چڑھا تو کیا دیکھتا ہوں کہ قبیلہ ہوازن کے لوگ سب کے سب اپنی عورتوں، چوپایوں اور بکریوں کے ساتھ بھاری تعداد میں مقام حنین میں جمع ہیں، یہ سن کر رسول اللہ ﷺ مسکرائے اور فرمایا: ان شاء اللہ یہ سب کل ہم مسلمانوں کا مال غنیمت ہوں گے ، پھر فرمایا: رات میں ہماری پہرہ داری کون کرے گا؟ انس بن ابومرثد غنوی ؓ نے کہا: اللہ کے رسول! میں کروں گا، آپ ﷺ نے فرمایا: تو سوار ہوجاؤ ، چناچہ وہ اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس گھاٹی میں جاؤ یہاں تک کہ اس کی بلندی پہ پہنچ جاؤ اور ایسا نہ ہو کہ ہم تمہاری وجہ سے آج کی رات دھوکہ کھا جائیں ، جب ہم نے صبح کی تو رسول اللہ ﷺ اپنے مصلے پر آئے، آپ نے دو رکعتیں پڑھیں پھر فرمایا: تم نے اپنے سوار کو دیکھا؟ لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! ہم نے اسے نہیں دیکھا، پھر نماز کے لیے اقامت کہی گئی تو رسول اللہ ﷺ نماز پڑھنے لگے لیکن دوران نماز کنکھیوں سے گھاٹی کی طرف دیکھ رہے تھے، یہاں تک کہ جب آپ ﷺ نماز پڑھ چکے اور سلام پھیرا تو فرمایا: خوش ہوجاؤ! تمہارا سوار آگیا ، ہم درختوں کے درمیان سے گھاٹی کی طرف دیکھنے لگے، یکایک وہی سوار رسول اللہ ﷺ کے پاس آ کر کھڑا ہوگیا اور سلام کیا اور کہنے لگا: میں گھاٹی کے بالائی حصہ پہ چلا گیا تھا جہاں رسول اللہ ﷺ نے مجھے حکم دیا تھا تو جب صبح کی تو میں نے دونوں گھاٹیوں پر چڑھ کر دیکھا تو کوئی بھی نہیں دکھائی پڑا تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: کیا تم آج رات گھوڑے سے اترے تھے؟ ، انہوں نے کہا: نہیں، البتہ نماز پڑھنے کے لیے یا قضائے حاجت کے لیے اترا تھا، اس پر رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: تم نے اپنے لیے جنت کو واجب کرلیا، اب اگر اس کے بعد تم عمل نہ کرو تو تمہیں کچھ نقصان نہ ہوگا ١ ؎۔
Narrated Sahl ibn al-Hanzaliyyah (RA) : On the day of Hunayn we travelled with the Messenger of Allah ﷺ and we journeyed for a long time until the evening came. I attended the prayer along with the Messenger of Allah ﷺ . A horseman came and said: Messenger of Allah, I went before you and climbed a certain mountain where saw Hawazin all together with their women, cattle, and sheep, having gathered at Hunayn. The Messenger of Allah ﷺ smiled and said: That will be the booty of the Muslims tomorrow if Allah wills. He then asked: Who will be on guard tonight? Anas ibn Abu Marthad al-Ghanawi said: I shall, Messenger of Allah. He said: Then mount your horse. He then mounted his horse, and came to the Messenger of Allah ﷺ . The Messenger of Allah said to him: Go forward to this ravine till you get to the top of it. We should not be exposed to danger from your side. In the morning the Messenger of of Allah ﷺ came out to his place of prayer, and offered two rakahs. He then said: Have you seen any sign of your horseman? They said: We have not, Messenger of Allah. The announcement of the time for prayer was then made, and while the Messenger of Allah ﷺ was saying the prayer, he began to glance towards the ravine. When he finished his prayer and uttered salutation, he said: Cheer up, for your horseman has come. We therefore began to look between the trees in the ravine, and sure enough he had come. He stood beside the Messenger of Allah ﷺ , saluted him and said: I continued till I reached the top of this ravine where the Messenger of Allah ﷺ commanded me, and in the morning I looked down into both ravines but saw no one. The Messenger of Allah ﷺ asked him: Did you dismount during the night? He replied: No, except to pray or to relieve myself. The Messenger of Allah ﷺ said: You have ensured your entry to (Paradise). No blame will be attached to you supposing you do not work after it.
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی تمہارے لئے تمہارا یہی عمل جنت میں داخل ہونے کے لئے کافی ہوگا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٤٦٥٠)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الکبری/ السیر (٨٨٧٠) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو شخص مرگیا اور اس نے نہ جہاد کیا اور نہ ہی کبھی اس کی نیت کی تو وہ نفاق کی قسموں میں سے ایک قسم پر مرا ۔
Abu Hurairah reported the Prophet ﷺ as saying “He who dies without having fought or having felt fighting (against the infidels) to be his duty will die guilty of a kind of hypocrisy. ”
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الإمارة ٤٧ (١٩١٠)، سنن النسائی/الجھاد ٢ (٣٠٩٩)، (تحفة الأشراف: ١٢٥٦٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣٧٤) (صحیح )
ابوامامہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس نے جہاد نہیں کیا یا کسی جہاد کرنے والے کے لیے سامان جہاد فراہم نہیں کیا یا کسی مجاہد کے اہل و عیال کی بھلائی کے ساتھ خبرگیری نہ کی تو اللہ اسے کسی سخت مصیبت سے دو چار کرے گا ، یزید بن عبداللہ کی روایت میں قبل يوم القيامة قیامت سے پہلے کا اضافہ ہے۔
Narrated Abu Umamah (RA) : The Prophet ﷺ said: He who does not join the warlike expedition (jihad), or equip, or looks well after a warriors family when he is away, will be smitten by Allah with a sudden calamity. Yazid ibn Abdu Rabbihi said in his tradition: before the Day of Resurrection.
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الجھاد ٥ (٢٧٦٢)، (تحفة الأشراف: ٤٨٩٧)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الجھاد ٢٦ (٢٤٦٢) (حسن )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں إلا تنفروا يعذبکم عذابا أليما اگر تم جہاد کے لیے نہیں نکلو گے تو اللہ تمہیں عذاب دے گا (سورۃ التوبہ: ٣٩) اور ما کان لأهل المدينة سے يعملون مدینہ کے رہنے والوں کو اور جو دیہاتی ان کے گرد و پیش ہیں ان کو یہ زیبا نہ تھا کہ رسول اللہ ﷺ کو چھوڑ کر پیچھے رہ جائیں (سورۃ التوبہ: ١٠) کو بعد والی آیت وما کان المؤمنون لينفروا کافة مناسب نہیں کہ مسلمان سب کے سب جہاد کے لیے نکل پڑیں (سورۃ التوبہ: ١٢٢) نے منسوخ کردیا ہے۔
Ibn Abbas said “The Quranic verse “Unless you go forth, He will punish you with a grievous penalty, and the verse “It is not fitting for the people of Madina”. . . up to “that Allaah might required their deed with the best (possible reward) have been repealed by the verse. Nor should the believers all go forth together. ”
نجدہ بن نفیع کہتے ہیں کہ میں نے آیت کریمہ إلا تنفروا يعذبکم عذابا أليما اگر تم جہاد کے لیے نہیں نکلو گے تو اللہ تمہیں عذاب دے گا (سورۃ التوبہ: ٣٩) کے سلسلہ میں ابن عباس ؓ سے پوچھا تو انہوں نے کہا: عذاب یہی تھا کہ بارش ان سے روک لی گئی (اور وہ مبتلائے قحط ہوگئے) ۔
Najdah bin Nufai said “I asked Ibn Abbas about the verse. “Unless you go forth, He will punish you with a grievous penalty. ” He replied “The rain stopped from them. This was their punishment. ”
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٦٥٢٣) (ضعیف) (اس کے راوی نجدة مجہول ہیں )
زید بن ثابت ؓ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پہلو میں تھا تو آپ کو سکینت نے ڈھانپ لیا (یعنی وحی اترنے لگی) (اسی دوران) رسول اللہ ﷺ کی ران میری ران پر پڑگئی تو کوئی بھی چیز مجھے آپ کی ران سے زیادہ بوجھل محسوس نہیں ہوئی، پھر آپ ﷺ سے وحی کی کیفیت ختم ہوئی تو آپ نے فرمایا: لکھو ، میں نے شانہ (کی ایک ہڈی) پر لا يستوي القاعدون من المؤمنين والمجاهدون في سبيل الله اپنی جانوں اور مالوں سے اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے مومن اور بغیر عذر کے بیٹھ رہنے والے مومن برابر نہیں (سورۃ النساء: ٩٥) آخر آیت تک لکھ لیا، عبداللہ بن ام مکتوم ؓ (ایک نابینا شخص تھے) نے جب مجاہدین کی فضیلت سنی تو کھڑے ہو کر کہا: اللہ کے رسول! مومنوں میں سے جو جہاد کی طاقت نہیں رکھتا اس کا کیا حال ہے؟ جب انہوں نے اپنی بات پوری کرلی تو رسول اللہ ﷺ کو پھر سکینت نے ڈھانپ لیا (وحی اترنے لگی) ، آپ ﷺ کی ران میری ران پر پڑی تو میں نے اس کا بھاری پن پھر دوسری بار محسوس کیا جس طرح پہلی بار محسوس کیا تھا، آپ ﷺ سے وحی کی جب کیفیت ختم ہوئی تو آپ نے فرمایا: زید! پڑھو ، تو میں نے لا يستوي القاعدون من المؤمنين پوری آیت پڑھی، تو رسول اللہ ﷺ نے: غير أولي الضرر کا اضافہ فرمایا، زید کہتے ہیں: تو غير أولي الضرر کو اللہ نے الگ سے نازل کیا، میں نے اس کو اس کے ساتھ شامل کردیا، اللہ کی قسم! گویا میں شانہ کے دراز کو دیکھ رہا ہوں جہاں میں نے اسے شامل کیا تھا۔
Zaid bin Thabit said “I was beside the Messenger of Allah ﷺ when the divinely-inspired calmness overtook him and the thigh of the Messenger of Allah ﷺ fell on my thigh. I did not find any weightier than the thigh of the Messenger of Allah ﷺ . He then regained his composure and said “Write down. I wrote on a shoulder. Not equal are thise believers who sit (at home), other than those who have a (disabling) hurt, and those who strive in the way of Allaah. When Ibn Umm Makhtum who was blind heard the excellence of the warriors. He stood up and said “Messenger of Allah ﷺ how is it for those believers who are unable to fight (in the path of Allaah)? When he finished his question his divinely-inspired calmness overtook him, and his thigh fell on my thigh and I found its weight the second time as I found the first time. ” When the Messenger of Allah ﷺ regained his composure, he said “Messenger of Allah ﷺ said “Other than those who have a (disabling hurt). Zaid said “Allaah, the exalted, revealed it alone and I appended it. ” By Him in Whose hands is my life, I am seeing, as it were the place where I put it (i. e., the verse) at the crack in the shoulder. ”
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٣٧٠٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/١٨٤، ١٩٠، ١٩١) (حسن صحیح )
انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم مدینہ میں کچھ ایسے لوگوں کو چھوڑ کر آئے کہ تم کوئی قدم نہیں چلے یا کچھ خرچ نہیں کیا یا کوئی وادی طے نہیں کی مگر وہ تمہارے ساتھ رہے ، صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! وہ ہمارے ہمراہ کیسے ہوسکتے ہیں جب کہ وہ مدینہ میں ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: انہیں عذر نے روک رکھا ہے ۔
Anas bin Malik (RA) reported on the authority of his father, The Messenger of Allah ﷺ said “ You left behind some people in Madeenah who did not fail to be with you wherever you went and whatever you spent (of your goods) and whatever valley you crossed. They asked Messenger of Allah ﷺ how can they be with us when they are still in Madeenah? He replied “They were declined by a valid excuse. ”
زید بن خالد جہنی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے کے لیے سامان جہاد فراہم کیا اس نے جہاد کیا اور جس نے مجاہد کے اہل و عیال کی اچھی طرح خبرگیری کی اس نے جہاد کیا ۔
Zaid bin Khalid al Juhani reported that Messenger of Allah ﷺ as saying “He who equips a fighter in Allaah’s path has taken part in the fighting. And he looks after a fighter’s family when he is away has taken part in the fighting. ”
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بنو لحیان کی طرف ایک لشکر بھیجا اور فرمایا: ہر دو آدمی میں سے ایک آدمی نکل کھڑا ہو ، اور پھر خانہ نشینوں سے فرمایا: تم میں جو کوئی مجاہد کے اہل و عیال اور مال کی اچھی طرح خبرگیری کرے گا تو اسے جہاد کے لیے نکلنے والے کا نصف ثواب ملے گا ۔
Abu Saeed Al Khudri said “The Messenger of Allah ﷺ sent an expedition towards Banu Lihyan and said “One of the two persons should go forth. He then said to those who sat (at home), If any one of you looks after the family and property of a warrior, he will receive half the reward of the one who goes forth (in jihad). ”
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الإمارة ٣٨ (١٨٩٦)، (تحفة الأشراف: ٤٤١٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١٥، ٤٩، ٥٥) (صحیح )
اسلم ابوعمران کہتے ہیں کہ ہم مدینہ سے جہاد کے لیے چلے، ہم قسطنطنیہ کا ارادہ کر رہے تھے، اور جماعت (اسلامی لشکر) کے سردار عبدالرحمٰن بن خالد بن ولید تھے، اور رومی شہر (قسطنطنیہ) کی دیواروں سے اپنی پیٹھ لگائے ہوئے تھے ١ ؎، تو ہم میں سے ایک دشمن پر چڑھ دوڑا تو لوگوں نے کہا: رکو، رکو، اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، یہ تو اپنی جان ہلاکت میں ڈال رہا ہے، ابوایوب ؓ نے کہا: یہ آیت تو ہم انصار کی جماعت کے بارے میں اتری، جب اللہ نے اپنے نبی کی مدد کی اور اسلام کو غلبہ عطا کیا تو ہم نے اپنے دلوں میں کہا (اب جہاد کی کیا ضرورت ہے) آؤ اپنے مالوں میں رہیں اور اس کی دیکھ بھال کریں، تب اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی وأنفقوا في سبيل الله ولا تلقوا بأيديكم إلى التهلكة اللہ کے راستے میں خرچ کرو اور اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو (سورۃ البقرہ: ١٩٥) اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنا یہ ہے کہ ہم اپنے مالوں میں مصروف رہیں، ان کی فکر کریں اور جہاد چھوڑ دیں۔ ابوعمران کہتے ہیں: ابوایوب انصاری ؓ ہمیشہ اللہ کی راہ میں جہاد کرتے رہے یہاں تک کہ قسطنطنیہ میں دفن ہوئے۔
Narrated Abu Ayyub (RA) : Abu Imran said: We went out on an expedition from Madina with the intention of (attacking) Constantinople. Abdur Rahman ibn Khalid ibn al-Walid was the leader of the company. The Romans were just keeping their backs to the walls of the city. A man (suddenly) attacked the enemy. Thereupon the people said: Stop! Stop! There is no god but Allah. He is putting himself into danger. Abu Ayyub said: This verse was revealed about us, the group of the Ansar (the Helpers). When Allah helped His Prophet ﷺ and gave Islam dominance, we said (i. e. thought): Come on! Let us stay in our property and improve it. Thereupon Allah, the Exalted, revealed, And spend of your substance in the cause of Allah, and make not your hands contribute to (your destruction). To put oneself into danger means that we stay in our property and commit ourselves to its improvement, and abandon fighting (i. e. jihad). Abu Imran said: Abu Ayyub continued to strive in the cause of Allah until he (died and) was buried in Constantinople.
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی وہ جنگ کے لئے پوری طرح سے تیار تھے اور مسلمانوں کے نکلنے کے انتظار میں تھے۔
عقبہ بن عامر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: اللہ ایک تیر سے تین افراد کو جنت میں داخل کرتا ہے: ایک اس کے بنانے والے کو جو ثواب کے ارادہ سے بنائے، دوسرے اس کے چلانے والے کو، اور تیسرے اٹھا کردینے والے کو، تم تیر اندازی کرو اور سواری کرو، اور تمہارا تیر اندازی کرنا، مجھے سواری کرنے سے زیادہ پسند ہے، لہو و لعب میں سے صرف تین طرح کا لہو و لعب جائز ہے: ایک آدمی کا اپنے گھوڑے کو ادب سکھانا، دوسرے اپنی بیوی کے ساتھ کھیل کود کرنا، تیسرے اپنے تیر کمان سے تیر اندازی کرنا اور جس نے تیر اندازی سیکھنے کے بعد اس سے بیزار ہو کر اسے چھوڑ دیا، تو یہ ایک نعمت ہے جسے اس نے چھوڑ دیا ، یا راوی نے کہا: جس کی اس نے ناشکری کی ١ ؎۔
Narrated Uqbah ibn Amir: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: Allah, Most High, will cause three persons to enter Paradise for one arrow: the maker when he has a good motive in making it, the one who shoots it, and the one who hands it; so shoot and ride, but your shooting is dearer to me than your riding. Everything with which a man amuses himself is vain except three (things): a mans training of his horse, his playing with his wife, and his shooting with his bow and arrow. If anyone abandons archery after becoming an adept through distaste for it, it is a blessing he has abandoned; or he said: for which he has been ungrateful.
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ روایت سنداً تو ضعیف ہے مگر عقبہ ہی سے صحیح مسلم (امارۃ: ٥٢) میں ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں: ” جس نے تیر اندازی جاننے کے بعد اسے چھوڑ دیا وہ ہم میں سے نہیں ہے “، یا فرمایا: ” اس نے نافرمانی کی “، نیز اس حدیث سے تیراندازی کی فضیلت ثابت ہوتی ہے، اس طرح زمانے کے جتنے سامان جنگ ہیں ان کا سیکھنا اور حاصل کرنا اور اس کے لئے سفر کرنا جہاد میں داخل ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الجھاد ٢٦ (٣١٤٨)، والخیل ٨ (٣٦٠٨)، (تحفة الأشراف: ٩٩٢٢) (ضعیف) (اس کے راوی خالد لین الحدیث ہیں) (حدیث کے بعض الفاظ ثابت ہیں یعنی یہ ٹکڑا: لَيْسَ مِنَ اللَّهْوِ إِلا ثَلاثٌ: تَأْدِيبُ الرَّجُلِ فَرَسَهُ، وَمُلاعَبَتُهُ أَهْلَهُ، وَرَمْيُهُ بِقَوْسِهِ وَنَبْلِهِ اس لیے کہ اس کی روایت میں عبداللہ بن الأزرق نے خالد کی متابعت کی ہے، ملاحظہ ہو: سنن الترمذی/فضائل الجھاد ١١ (١٦٣٧)، سنن ابن ماجہ/الجھاد ١٩ (٢٨١١)، مسند احمد (٤/١٤٤، ١٤٦، ١٤٨، ١٥٤)، سنن الدارمی/الجھاد ١٤ (٢٤٤٩) (نیز اس ٹکڑے کے مزید شواہد کے لیے ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحہ، للالبانی: ٣١٥ )
عقبہ بن عامر جہنی ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو منبر پر فرماتے ہوئے سنا: آپ آیت کریمہ وأعدوا لهم ما استطعتم من قوة تم ان کے مقابلہ کے لیے اپنی طاقت بھر قوت کی تیاری کرو (سورۃ الأنفال: ٦٠) پڑھ رہے تھے اور فرما رہے تھے: سن لو، قوت تیر اندازی ہی ہے، سن لو قوت تیر اندازی ہی ہے، سن لو قوت تیر اندازی ہی ہے ۔
Uqabah bin Amir Al Juhani said “I heard the Messenger of Allah ﷺ recite when he was on the pulpit “Against them make ready your strength to the utmost of your power. Beware, strength is shooting, beware strength is shooting, beware strength is shooting. ”
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الإمارة ٥٢ (١٩١٧)، سنن ابن ماجہ/الجھاد ١٩ (٢٨١٣)، (تحفة الأشراف: ٩٩١١)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/تفسیر القرآن ٩ (٣٠٨٣)، مسند احمد (٤/١٥٧)، سنن الدارمی/الجھاد ١٤ (٢٤٤٨) (صحیح )
معاذ بن جبل ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جہاد دو طرح کے ہیں: رہا وہ شخص جس نے اللہ کی رضا مندی چاہی، امام کی اطاعت کی، اچھے سے اچھا مال خرچ کیا، ساتھی کے ساتھ نرمی اور محبت کی، اور جھگڑے فساد سے دور رہا تو اس کا سونا اور اس کا جاگنا سب باعث اجر ہے، اور جس نے اپنی بڑائی کے اظہار، دکھاوے اور شہرت طلبی کے لیے جہاد کیا، امام کی نافرمانی کی، اور زمین میں فساد مچایا تو (اسے ثواب کیا ملنا) وہ تو برابر برابر بھی نہیں لوٹا ١ ؎۔
Narrated Muadh ibn Jabal (RA) : The Prophet ﷺ said: Fighting is of two kinds: The one who seeks Allahs favour, obeys the leader, gives the property he values, treats his associates gently and avoids doing mischief, will have the reward for all the time whether he is asleep or awake; but the one who fights in a boasting spirit, for the sake of display and to gain a reputation, who disobeys the leader and does mischief in the earth will not return credit or without blame.
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ایسے جہاد میں اگر گناہ سے بچ جائے تو یہی غنیمت ہے، ثواب کا کیا ذکر۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الجھاد ٤٦ (٣١٠)، والبیعة ٢٩ (٤٢٠٠)، (تحفة الأشراف: ١١٣٢٩)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الجھاد ١٨ (٤٣) موقوفاً، مسند احمد (٥/٢٣٤)، سنن الدارمی/ الجھاد ٢٥ (٢٤٦١) (حسن )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! ایک شخص اللہ کی راہ میں جہاد کا ارادہ رکھتا ہے اور وہ دنیاوی مال و منال چاہتا ہے؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس کے لیے کوئی اجر و ثواب نہیں ، لوگوں نے اسے بڑی بات سمجھی اور اس شخص سے کہا: رسول اللہ ﷺ سے پھر پوچھو، شاید تم انہیں نہ سمجھا سکے ہو، اس شخص نے کہا: اللہ کے رسول! ایک شخص اللہ کی راہ میں جہاد کا ارادہ رکھتا ہے اور وہ دنیاوی مال و اسباب چاہتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اس کے لیے کوئی اجر و ثواب نہیں ، لوگوں نے اس شخص سے کہا: رسول اللہ ﷺ سے پھر پوچھو، اس نے آپ سے تیسری بار پوچھا، تو آپ ﷺ نے پھر اس سے فرمایا: اس کے لیے کوئی اجر و ثواب نہیں ۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : A man said: Messenger of Allah, a man wishes to take part in jihad in Allahs path desiring some worldly advantage? The Prophet ﷺ said: He will have not reward. The people thought it terrible, and they said to the man: Go back to the Messenger of Allah ﷺ , for you might not have made him understand well. He, therefore, (went and again) asked: Messenger of Allah, a man wishes to take part in jihad in Allahs path desiring some worldly advantage? He replied: There is no reward for him. They again said to the man: Return to the Messenger of Allah. He, therefore, said to him third time. He replied: There is no reward for him.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١٥٤٨٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٩٠، ٣٦٦) (حسن )
ابوموسیٰ ؓ کہتے ہیں کہ ایک دیہاتی رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور اس نے عرض کیا: کوئی شہرت کے لیے جہاد کرتا ہے کوئی جہاد کرتا ہے تاکہ اس کی تعریف کی جائے، کوئی اس لیے جہاد کرتا ہے تاکہ مال غنیمت پائے اور کوئی اس لیے جہاد کرتا ہے تاکہ اس مرتبہ کا اظہار ہو سکے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے صرف اس لیے جہاد کیا تاکہ اللہ کا کلمہ سربلند رہے تو وہی اصل مجاہد ہے ۔
Abu Musa said “A beduoin came to the Messenger of Allah ﷺ and said “One man fights for reputation, one fights for being praised, one fights for booty and one for his place to be seen. (Which of them is in Allaah’s path?)”. The Messenger of Allah ﷺ replied “The one who fights that Allaah’s word may have pre-eminence is in Allaah’s path. ”