عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! مجھے جہاد اور غزوہ کے بارے میں بتائیے، آپ ﷺ نے فرمایا: اے عبداللہ بن عمرو! اگر تم صبر کے ساتھ ثواب کی نیت سے جہاد کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہیں صابر اور محتسب (ثواب کی نیت رکھنے والا) بنا کر اٹھائے گا، اور اگر تم ریاکاری اور فخر کے اظہار کے لیے جہاد کرو گے تو اللہ تمہیں ریا کار اور فخر کرنے والا بنا کر اٹھائے گا، اے عبداللہ بن عمرو! تم جس حال میں بھی لڑو یا شہید ہو اللہ تمہیں اسی حال پر اٹھائے گا ۔
Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-As: Messenger of Allah, tell me about jihad and fighting. He replied: Abdullah ibn Amr, if you fight with endurance seeking from Allah your reward, Allah will resurrect you showing endurance and seeking your reward from Him, but, if you fight for vain show seeking to acquire much, Allah will resurrect you making a vain show and seeking to acquire much. In whatever you fight or are killed, Abdullah ibn Amr, in that state Allah will resurrect you.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٨٦١٩) (ضعیف) (اس کے راوة العلا اور حنان دونوں لین الحدیث ہیں )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تمہارے بھائی احد کے دن شہید کئے گئے تو اللہ نے ان کی روحوں کو سبز چڑیوں کے پیٹ میں رکھ دیا، جو جنت کی نہروں پر پھرتی ہیں، اس کے میوے کھاتی ہیں اور عرش کے سایہ میں معلق سونے کی قندیلوں میں بسیرا کرتی ہیں، جب ان روحوں نے اپنے کھانے، پینے اور سونے کی خوشی حاصل کرلی، تو وہ کہنے لگیں: کون ہے جو ہمارے بھائیوں کو ہمارے بارے میں یہ خبر پہنچا دے کہ ہم جنت میں زندہ ہیں اور روزی دیئے جاتے ہیں تاکہ وہ جہاد سے بےرغبتی نہ کریں اور لڑائی کے وقت سستی نہ کریں تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں تمہاری جانب سے انہیں یہ خبر پہنچائوں گا ، راوی کہتے ہیں: تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ ولا تحسبن الذين قتلوا في سبيل الله أمواتا جو اللہ کے راستے میں شہید کر دئیے گئے انہیں مردہ نہ سمجھو (سورۃ آل عمران: ١٦٩) اخیر آیت تک نازل فرمائی۔
Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : The Prophet ﷺ said: When your brethren were smitten at the battle of Uhud, Allah put their spirits in the crops of green birds which go down to the rivers of Paradise, eat its fruit and nestle in lamps of gold in the shade of the Throne. Then when they experienced the sweetness of their food, drink and rest, they asked: Who will tell our brethren about us that we are alive in Paradise provided with provision, in order that they might not be disinterested in jihad and recoil in war? Allah Most High said: I shall tell them about you; so Allah sent down; And do not consider those who have been killed in Allahs path. till the end of the verse.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٥٦١٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٦٦) (حسن )
حسناء بنت معاویہ کے چچا ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ سے پوچھا: جنت میں کون ہوگا؟ آپ نے فرمایا: نبی جنت میں ہوں گے، شہید جنت میں ہوں گے، (نابالغ) بچے اور زندہ درگور کئے گئے بچے جنت میں ہوں گے ۔
Narrated Hasana daughter of Muawiyah (RA) : She reported on the authority of her paternal uncle: I asked the Prophet ﷺ : Who are in Paradise? He replied: Prophets are in Paradise, martyrs are in Paradise, infants are in Paradise and children buried alive are in Paradise.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١٥٦٩٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٥٨، ٤٠٩) (صحیح )
نمران بن عتبہ ذماری کہتے ہیں: ہم ام الدرداء ؓ کے پاس گئے اور ہم یتیم تھے، انہوں نے کہا: خوش ہوجاؤ کیونکہ میں نے ابو الدرداء ؓ کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: شہید کی شفاعت اس کے کنبے کے ستر افراد کے لیے قبول کی جائے گی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: (ولید بن رباح کے بجائے) صحیح رباح بن ولید ہے۔
Narrated Abud Darda: The Prophet ﷺ said: The intercession of a martyr will be accepted for seventy members of his family. Abu Dawud said: The correct name if the narrator is Rabah bin al-Walid (and not al-walid bin Rabah as occurred in the chain of narrators in the text of the tradition)
عبید بن خالد سلمی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے دو آدمیوں میں بھائی چارہ کرایا، ان میں سے ایک شہید کردیا گیا اور دوسرے کا اس کے ایک ہفتہ کے بعد، یا اس کے لگ بھگ انتقال ہوا، ہم نے اس پر نماز جنازہ پڑھی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم نے کیا کہا؟ ہم نے جواب دیا: ہم نے اس کے حق میں دعا کی کہ: اللہ اسے بخش دے اور اس کو اس کے ساتھی سے ملا دے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس کی نمازیں کہاں گئیں، جو اس نے اپنے ساتھی کے (قتل ہونے کے) بعد پڑھیں، اس کے روزے کدھر گئے جو اس نے اپنے ساتھی کے بعد رکھے، اس کے اعمال کدھر گئے جو اس نے اپنے ساتھی کے بعد کئے؟ ان دونوں کے درجوں میں ایسے ہی فرق ہے جیسے آسمان و زمین میں فرق ہے ١ ؎ شعبہ کو صومه بعد صومه اور عمله بعد عمله میں شک ہوا ہے۔
Narrated Ubaydullah ibn Khalid as-Sulami (RA) : The Messenger of Allah ﷺ made a brotherhood between two men, one of whom was killed (in Allahs path), and a week or thereabouts later the other died, and we prayed at his funeral). The Messenger of Allah ﷺ asked: What did you say? We replied: We prayed for him and said: O Allah, forgive him, and join him to his companion. The Messenger of Allah ﷺ said: What about his prayers since the time the other died, and his fasting since the time the other died--the narrator Shubah doubted the words, his fasting--and his deeds since the time the other died. The distance between them is just like the distance between heaven and earth.
Notes · وضاحت
١ ؎: ہوسکتا ہے کہ نبی اکرم ﷺ کو یہ بات معلوم ہوگئی ہو کہ بغیر شہادت کے ہی اس کا عمل اس کے اخلاص اور خشوع و خضوع کی زیادتی کے سبب شہید کے عمل کے برابر ہے، پھر اسے جو مزید عمل کا موقع ملا تو اس کی وجہ سے اس کا ثواب اس شہید کے ثواب سے فزوں ہوگیا کتنے شہداء ایسے ہیں جو صدیقین کے مقام و مرتبہ کو نہیں پاتے۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الجنائز ٧٧ (١٩٨٧)، (تحفة الأشراف: ٩٧٤٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٥٠٠، ٤/٢١٩) (صحیح )
ابوایوب ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: عنقریب تم پر شہر کے شہر فتح کئے جائیں گے اور عنقریب ایک بھاری لشکر ہوگا اور اسی میں سے تم پر ٹکڑیاں متعین کی جائیں گی، تو تم میں سے جو شخص اس میں بغیر اجرت کے بھیجے جانے کو ناپسند کرے اور (جہاد میں جانے سے بچنے کے لیے) اپنی قوم سے علیحدہ ہوجائے، پھر قبیلوں کو تلاش کرتا پھرے اور اپنے آپ کو ان پر پیش کرے اور کہے کہ: کون مجھے بطور مزدور رکھے گا کہ میں اس کے لشکر میں کام کروں اور وہ میرا خرچ برداشت کرے؟ کون مجھے بطور مزدور رکھے گا کہ میں اس کے لشکر میں کام کروں اور وہ میرا خرچ برداشت کرے؟ خبردار وہ اپنے خون کے آخری قطرہ تک مزدور ہی رہے گا ۔
Narrated Abu Ayyub al-Ansari (RA) : Abu Ayyub heard the Messenger of Allah ﷺ say: Capitals will be conquered at your hands, and you will have to raise companies in large armies. A man will be unwilling to join a company, so he will escape from his people and go round the tribes offering himself to them, saying: Whose place may I take in such and such expedition? Whose place may I take in such and such expedition? Beware: That man is a hireling to the last drop of his blood.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٣٤٩٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٤١٣) (ضعیف) (اس کے راوی ابن اخی ایوب أبوسورہ الضلالی ضعیف ہیں )
عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جہاد کرنے والے کو اس کے جہاد کا اجر ملے گا اور مجاہد کو تیار کرنے والے کو تیار کرنے اور غزوہ کرنے دونوں کا اجر ملے گا ۔
Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-As: The Prophet ﷺ said: The warrior gets his reward, and the one who equips him gets his own reward and that of the warrior.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٨٨٢٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٧٤) (صحیح )
یعلیٰ بن منیہ ؓ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے غزوہ کا اعلان کیا اور میں بہت بوڑھا تھا میرے پاس کوئی خادم نہ تھا، تو میں نے ایک مزدور تلاش کیا جو میری خدمت کرے اور میں اس کے لیے اس کا حصہ جاری کروں، آخر میں نے ایک مزدور پا لیا، تو جب روانگی کا وقت ہوا تو وہ میرے پاس آیا اور کہنے لگا: میں نہیں جانتا کہ کتنے حصے ہوں گے اور میرے حصہ میں کیا آئے گا؟ لہٰذا میرے لیے کچھ مقرر کر دیجئیے خواہ حصہ ملے یا نہ ملے، لہٰذا میں نے اس کے لیے تین دینار مقرر کر دئیے، جب مال غنیمت آیا تو میں نے اس کا حصہ دینا چاہا، پھر خیال آیا کہ اس کے تو تین دینار مقرر ہوئے تھے، میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور آپ سے اس کا معاملہ بیان کیا آپ ﷺ نے فرمایا: میں اس کے لیے اس کے اس غزوہ میں دنیا و آخرت میں کچھ نہیں پاتا سوائے ان تین دیناروں کے جو متعین ہوئے ۔
Narrated Yala ibn Munyah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ announced an expedition, and I was a very old man and I had no servant. I, therefore, sought a hireling who would serve instead of me, and I would give him his portion. So I found a man. When the time of departure arrived, he came to me and said: I do not know what would be the portions, and how much would be my portion. So offer something (as wages) to me, whether there would be any portion or not. I offered three dinars (as his wages) for him. When some booty arrived, I wanted to offer him his portion. But I remembered the dinars, so I went to the Prophet ﷺ and mentioned the matter to him. He said: All I can find for him regarding this expedition of his in this world and the next is three dinars which were offered him.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١١٨٤٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢٢٣) (صحیح )
عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ کے پاس آ کر کہا: میں آپ سے ہجرت پر بیعت کرنے کے لیے آیا ہوں، اور میں نے اپنے ماں باپ کو روتے ہوئے چھوڑا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ان کے پاس واپس جاؤ، اور انہیں ہنساؤ جیسا کہ رلایا ہے ١ ؎۔
Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-As: A man came to the Messenger of Allah ﷺ and said: I came to you to take the oath of allegiance to you on emigration, and I left my parents weeping. He (the Prophet) said: Return to them and make them laugh as you made them weep.
Notes · وضاحت
١ ؎: علامہ خطابی کہتے ہیں کہ مجاہد اگر رضاکارانہ طور پر جہاد میں شریک ہونا چاہتا ہے تو ایسی صورت میں ماں باپ کی اجازت ضروری ہے، البتہ اگر جہاد میں شرکت اس کے لئے فرض ہے تو ماں باپ کی مرضی اور اجازت کی ضرورت نہیں، مذکورہ دونوں صورتوں میں ان کی اجازت یا عدم اجازت کا مسئلہ اس وقت اٹھتا ہے جب ماں باپ مسلم ہوں، اگر وہ دونوں کافر ہیں تو اجازت کی سرے سے ضرورت ہی نہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الجہاد ٥ (٣١٠٥)، سنن ابن ماجہ/الجھاد ١٢(٢٧٨٢)، (تحفة الأشراف: ٨٦٤٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٦٠، ١٩٤، ١٩٧، ١٩٨، ٢٠٤) (صحیح )
عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! میں جہاد کروں؟ آپ ﷺ نے پوچھا: کیا تمہارے ماں باپ زندہ ہیں؟ اس نے کہا: ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا: انہیں دونوں میں جہاد کرو ١ ؎ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ ابو العباس شاعر ہیں جن کا نام سائب بن فروخ ہے۔
Abdullah bin Amr said “A man came to the Prophet ﷺ and said “Messenger of Allah ﷺ , May I take part in jihad?” He asked “Do you have parents?” He replied “Yes”. So, strive for them. ” Abu Dawud said: The name of the narrator Abu al-Abbas, a poet, is al-Saib bin Farrukh.
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کے پاس یمن سے ہجرت کر کے آیا، آپ نے اس سے فرمایا: کیا یمن میں تمہارا کوئی ہے؟ اس نے کہا: ہاں، میرے ماں باپ ہیں، آپ ﷺ نے پوچھا: انہوں نے تمہیں اجازت دی ہے؟ اس نے کہا: نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ان کے پاس واپس جاؤ اور اجازت لو، اگر وہ اجازت دیں تو جہاد کرو ورنہ ان دونوں کی خدمت کرو ۔
Narrated Abu Saeed al-Khudri (RA) : A man emigrated to the Messenger of Allah ﷺ from the Yemen. He asked (him): Have you anyone (of your relatives) in the Yemen? He replied: My parents. He asked: Did they permit you? He replied: No. He said: Go back to them and ask for their permission. If they permit you, then fight (in the path of Allah), otherwise be devoted to them.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٤٠٥١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٧٦) (صحیح )
انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ام سلیم ؓ کو اور انصار کی کچھ عورتوں کو جہاد میں لے جاتے تھے تاکہ وہ مجاہدین کو پانی پلائیں اور زخمیوں کا علاج کریں ١ ؎۔
Narrated Anas ibn Malik: When the Messenger of Allah ﷺ went on an expedition, he took Umm Sulaym, and he had some women of the Ansar who supplied water and tended the wounded.
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عورتوں کا جہاد میں شریک ہونا جائز ہے، حالانکہ بعض روایتوں سے پتہ چلتا ہے کہ جہاد پر نکلنے والی عورتوں کو آپ ﷺ نے واپس لوٹ جانے کا حکم دیا، اس کے دو اسباب بیان کئے جاتے ہیں: ١۔ آپ کو دشمنوں کی قوت و ضعف کا صحیح اندازہ نہ ہوسکا اور خطرہ تھا کہ مسلمان دشمن سے مغلوب ہوجائیں گے اس لئے آپ نے انہیں واپس کردیا۔ ٢۔ ممکن ہے یہ عورتیں نوجوان اور نئی عمر کی رہی ہوں جن سے میدان جہاد میں فتنہ کا خوف رہا ہو اس لئے آپ نے انہیں واپس کردیا ہو، واللہ اعلم۔
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تین باتیں ایمان کی اصل ہیں: ١۔ جو لا الہٰ الا اللہ کہے اس (کے قتل اور ایذاء) سے رک جانا، اور کسی گناہ کے سبب اس کی تکفیر نہ کرنا، نہ اس کے کسی عمل سے اسلام سے اسے خارج کرنا۔ ٢۔ جہاد جاری رہے گا جس دن سے اللہ نے مجھے نبی بنا کر بھیجا ہے یہاں تک کہ میری امت کا آخری شخص دجال سے لڑے گا، کسی بھی ظالم کا ظلم، یا عادل کا عدل اسے باطل نہیں کرسکتا۔ ٣۔ تقدیر پر ایمان لانا ۔
Narrated Anas ibn Malik: The Prophet ﷺ said: Three things are the roots of faith: to refrain from (killing) a person who utters, There is no god but Allah and not to declare him unbeliever whatever sin he commits, and not to excommunicate him from Islam for his any action; and jihad will be performed continuously since the day Allah sent me as a prophet until the day the last member of my community will fight with the Dajjal (Antichrist). The tyranny of any tyrant and the justice of any just (ruler) will not invalidate it. One must have faith in Divine decree.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٧٠٤) (ضعیف) (اس کے راوی یزید بن ابی نشبہ مجہول ہیں )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جہاد تم پر ہر امیر کے ساتھ واجب ہے خواہ وہ نیک ہو، یا بد اور نماز ہر مسلمان کے پیچھے واجب ہے خواہ وہ نیک ہو یا بد، اگرچہ وہ کبائر کا ارتکاب کرئے، اور نماز (جنازہ) واجب ہے ہر مسلمان پر نیک ہو یا بد اگرچہ کبائر کا ارتکاب کرے ۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: Striving in the path of Allah (jihad) is incumbent on you along with every ruler, whether he is pious or impious; the prayer is obligatory on you behind every believer, pious or impious, even if he commits grave sins; the (funeral) prayer is incumbent upon every Muslim, pious and impious, even if he commits major sins.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٤٦١٩) (ضعیف) (مکحول کا ابوہریرہ ؓ سے سماع نہیں ہے اس لئے سند میں انقطاع ہے )
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے جہاد کا ارادہ کیا تو فرمایا: اے مہاجرین اور انصار کی جماعت! تمہارے بھائیوں میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جن کے پاس مال ہے نہ کنبہ، تو ہر ایک تم میں سے اپنے ساتھ دو یا تین آدمیوں کو شریک کرلے، تو ہم میں سے بعض کے پاس سواری نہیں ہوتی سوائے اس کے کہ وہ باری باری سوار ہوں ، تو میں نے اپنے ساتھ دو یا تین آدمیوں کو لے لیا، میں بھی صرف باری سے اپنے اونٹ پر سوار ہوتا تھا، جیسے وہ ہوتے تھے۔
Narrated Jabir ibn Abdullah (RA) : Once the Messenger of Allah ﷺ intended to go on an expedition. He said: O group of the emigrants (Muhajirun) and the helpers (Ansar), among your brethren there are people who have neither property nor family. So one of you should take with him two or three persons; with me. I also rode on my camel by turns like one of them.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٣١١٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣٥٨) (صحیح )
ضمرہ کا بیان ہے کہ ابن زغب ایادی نے ان سے بیان کیا کہ عبداللہ بن حوالہ ازدی ؓ میرے پاس اترے، اور مجھ سے بیان کیا: رسول اللہ ﷺ نے ہمیں بھیجا ہے کہ ہم پیدل چل کر مال غنیمت حاصل کریں، تو ہم واپس لوٹے اور ہمیں کچھ بھی مال غنیمت نہ ملا، اور آپ ﷺ نے ہمارے چہروں پر پریشانی کے آثار دیکھے تو ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور فرمایا: اللہ! انہیں میرے سپرد نہ فرما کہ میں ان کی خبرگیری سے عاجز رہ جاؤں، اور انہیں ان کی ذات کے حوالہ (بھی) نہ کر کہ وہ اپنی خبرگیری خود کرنے سے عاجز آجائیں، اور ان کو دوسروں کے حوالہ نہ کر کہ وہ خود کو ان پر ترجیح دیں ، پھر آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ میرے سر پر یا میری گدی پر رکھا اور فرمایا: اے ابن حوالہ! جب تم دیکھو کہ خلافت شام میں اتر چکی ہے، تو سمجھ لو کہ زلزلے، مصیبتیں اور بڑے بڑے واقعات (کے ظہور کا وقت) قریب آگیا ہے، اور قیامت اس وقت لوگوں سے اتنی قریب ہوگی جتنا کہ میرا یہ ہاتھ تمہارے سر سے قریب ہے ۔
Narrated Abdullah ibn Hawalah al-Azdi: The Messenger of Allah ﷺ sent us on foot to get spoil, but we returned without getting any. When he saw the signs of distress on our faces, he stood up on our faces and said: O Allah, do not put them under my care, for I would be too weak to care for them; do not put them in care of themselves, for they would be incapable of that, and do not put them in the care of men, for they would choose the best things for themselves. He then placed his hand on my head and said: Ibn Hawalah, when you see the caliphate has settled in the holy land, earthquakes, sorrows and serious matters will have drawn near and on that day the Last Hour will be nearer to mankind than this hand of mine is to your head. Abu Dawud said: Abdullah bin Hawalah belongs to Hims.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٥٢٤٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٢٨٨) (صحیح )
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہمارا رب اس شخص سے خوش ہوتا ہے ١ ؎ جس نے اللہ کی راہ میں جہاد کیا، پھر اس کے ساتھی شکست کھا کر (میدان سے) بھاگ گئے اور وہ گناہ کے ڈر سے واپس آگیا (اور لڑا) یہاں تک کہ وہ قتل کردیا گیا، اس وقت اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں سے فرماتا ہے: میرے بندے کو دیکھو میرے ثواب کی رغبت اور میرے عذاب کے ڈر سے لوٹ آیا یہاں تک کہ اس کا خون بہا گیا ۔
Narrated Abdullah ibn Masud (RA) : The Prophet ﷺ said: Our Lord Most High is pleased with a man who fights in the path of Allah, the Exalted; then his companions fled away (i. e. retreated). But he knew that it was a sin (to flee away from the battlefield), so he returned, and his blood was shed. Thereupon Allah, the Exalted, says to His angels: Look at My servant; he returned seeking what I have for him (i. e. the reward), and fearing (the punishment) I have, until his blood was shed.
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث میں اللہ تعالیٰ کے لئے صفت تعجب کی صراحت ہے، دوسری حدیث میں ضحک (ہنسنے) کی صفت کا تذکرہ ہے، یہ صفات اللہ تعالیٰ کے لئے ثابت ہیں، ذات باری تعالیٰ اور اس کی صفات کی کنہ و کیفیت کی جستجو میں پڑے بغیر تمام ثابت صفات باری تعالیٰ پر ایمان لانا چاہیے، اور کسی مخلوق کی ذات وصفات سے اس کی تشبیہ و تمثیل وتکییف جائز نہیں ہے۔ ليس کمثله شيء وهو السميع البصير ” اللہ کے ہم مثل کوئی چیز نہیں اور وہ ذات باری سمیع (سننے والا) اور بصیر (دیکھنے والا ہے) “۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٩٥٥٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٤١٦) (حسن )
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ عمرو بن اقیش ؓ کا جاہلیت میں کچھ سود (وصول کرنا) رہ گیا تھا انہوں نے اسے بغیر وصول کئے اسلام قبول کرنا اچھا نہ سمجھا، چناچہ (جب وصول کرچکے تو) وہ احد کے دن آئے اور پوچھا: میرے چچازاد بھائی کہاں ہیں؟ لوگوں نے کہا: احد میں ہیں، کہا: فلاں کہاں ہے؟ لوگوں نے کہا: احد میں، کہا: فلاں کہاں ہے؟ لوگوں نے کہا: احد میں، پھر انہوں نے اپنی زرہ پہنی اور گھوڑے پر سوار ہوئے، پھر ان کی جانب چلے، جب مسلمانوں نے انہیں دیکھا تو کہا: عمرو ہم سے دور رہو، انہوں نے کہا: میں ایمان لا چکا ہوں، پھر وہ لڑے یہاں تک کہ زخمی ہوگئے اور اپنے خاندان میں زخم خوردہ اٹھا کر لائے گئے، ان کے پاس سعد بن معاذ ؓ آئے اور ان کی بہن سے کہا: اپنے بھائی سے پوچھو: اپنی قوم کی غیرت یا ان کی خاطر غصہ سے لڑے یا اللہ کے واسطہ غضب ناک ہو کر، انہوں نے کہا: نہیں، بلکہ میں اللہ اور اس کے رسول کے واسطہ غضب ناک ہو کر لڑا، پھر ان کا انتقال ہوگیا اور وہ جنت میں داخل ہوگئے، حالانکہ انہوں نے اللہ کے لیے ایک نماز بھی نہیں پڑھی۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : Amr ibn Uqaysh had given usurious loans in pre-Islamic period; so he disliked to embrace Islam until he took them. He came on the day of Uhud and asked: Where are my cousins? They (the people) replied: At Uhud. He asked: Where is so-and-so? They said: At Uhud. He asked: Where is so-and-so? They said: At Uhud. He then put on his coat of mail and rode his horse; he then proceeded towards them. When the Muslims saw him, they said: Keep away, Amir. He said: I have become a believer. He fought until he was wounded. He was then taken to his family wounded. Saad ibn Muadh came to his sister: Ask him (whether he fought) out of partisanship, out of anger for them, or out of anger for Allah. He said: Out of anger of Allah and His Messenger. He then died and entered Paradise. He did not offer any prayer for Allah.