سلمہ بن الاکوع ؓ کہتے ہیں کہ جب جنگ خیبر ہوئی تو میرے بھائی بڑی شدت سے لڑے، ان کی تلوار اچٹ کر ان کو لگ گئی جس نے ان کا خاتمہ کردیا، صحابہ کرام ؓ نے ان کے سلسلے میں باتیں کی اور ان کی شہادت کے بارے میں انہیں شک ہوا تو کہا کہ ایک آدمی جو اپنے ہتھیار سے مرگیا ہو (وہ کیسے شہید ہوسکتا ہے؟ ) ، اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: وہ اللہ کے راستہ میں کوشش کرتے ہوئے مجاہد ہو کر مرا ہے ۔ ابن شہاب زہری کہتے ہیں: پھر میں نے سلمہ بن الاکوع ؓ کے ایک بیٹے سے پوچھا تو انہوں نے اپنے والد کے واسطہ سے اسی کے مثل بیان کیا، مگر اتنا کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: لوگوں نے جھوٹ کہا، وہ جہاد کرتے ہوئے مجاہد ہو کر مرا ہے، اسے دوہرا اجر ملے گا ۔
Salamah bin Al Akwa said “On the day of the battle of the Khaibar, my brother fought desperately. But his sword fell back on him and killed him. The Companions of the Messenger of Allah ﷺ talked about him and doubted it (his martyrdom) saying “A man who died with his own weapon”. The Messenger of Allah ﷺ said “he died as a warrior striving in the path of Allaah. Ibn Shihab said “I asked the son of Salamah bin Al Akwa. ” He narrated to me on the authority of his father similar to that except that he said “The Messenger of Allah ﷺ said “They told a lie, he died as a warrior striving in the path of Allaah. There is a double reward for him. ””
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الجھاد ٤٣ (١٨٠٢)، سنن النسائی/الجھاد ٢٩ (٣١٥٢)، (تحفة الأشراف: ٤٥٣٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٤٧، ٥٢) (صحیح )
ابو سلام ایک صحابی سے روایت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہم نے جہینہ کے ایک قبیلہ پر شب خون مارا تو ایک مسلمان نے ایک آدمی کو مارنے کا قصد کیا، اس نے اسے تلوار سے مارا لیکن تلوار نے خطا کی اور اچٹ کر اسی کو لگ گئی، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مسلمانوں کی جماعت! اپنے مسلمان بھائی کی خبر لو ، لوگ تیزی سے اس کی طرف دوڑے، تو اسے مردہ پایا، چناچہ رسول اللہ ﷺ نے اسے اسی کے کپڑوں اور زخموں میں لپیٹا، اس پر نماز جنازہ پڑھی اور اسے دفن کردیا، لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! کیا وہ شہید ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں اور میں اس کا گواہ ہوں ۔
Narrated Abu Salam (RA) : Abu Salam reported on the authority of a man from the companion of the Prophet ﷺ . He said: We attacked a tribe of Juhaynah. A man from the Muslims pursued a man of them, and struck him but missed him. He struck himself with the sword. The Messenger of Allah ﷺ said: Your brother, O group of Muslims. The people hastened towards him, but found him dead. The Messenger of Allah ﷺ wrapped him with his clothes and his blood, and offered (funeral) prayer for him and buried him. They said: Messenger of Allah, is he a martyr? He said: Yes, and I am witness to him.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٥٦٧٧) (ضعیف) (اس کے راوی سلام ابی سلام مجہول ہیں )
سہل بن سعد ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: دو (وقت کی) دعائیں رد نہیں کی جاتیں، یا کم ہی رد کی جاتی ہیں: ایک اذان کے بعد کی دعا، دوسرے لڑائی کے وقت کی، جب دونوں لشکر ایک دوسرے سے بھڑ جائیں ۔ موسیٰ کہتے ہیں: مجھ سے رزق بن سعید بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا وہ ابوحازم سے روایت کرتے ہیں وہ سہل بن سعد ؓ سے اور وہ نبی اکرم ﷺ سے آپ نے فرمایا: اور بارش کے وقت کی ۔
Narrated Sahl ibn Saad (RA) : The Prophet ﷺ said: Two (prayers) are not rejected, or seldom rejected: Prayer at the time of the call to prayer, and (the prayer) at the time of fighting, when the people grapple with each other. Musa said: Rizq ibn Saeed ibn Abdur Rahman reported from Abu Hazim on the authority of Sahl ibn Saad from the Prophet ﷺ as saying: And while it is raining.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٤٧٦٩)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الصلاة ١ (٧)، سنن الدارمی/الصلاة ٩ (١٢٣٦) (صحیح) (لیکن ” وقت المطر “ (بارش کے وقت کا) ٹکڑاحسن ہے، ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود: ٧/٢٩٤، والصحیحة: ١٤٧٩ )
معاذ بن جبل ؓ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: جس نے اللہ کے راستہ میں اونٹنی دوہنے والے کے دو بار چھاتی پکڑنے کے درمیان کے مختصر عرصہ کے بقدر بھی جہاد کیا اس کے لیے جنت واجب ہوگئی، اور جس شخص نے اللہ سے سچے دل کے ساتھ شہادت مانگی پھر اس کا انتقال ہوگیا، یا قتل کردیا گیا تو اس کے لیے شہید کا اجر ہے، اور جو اللہ کی راہ میں زخمی ہوا یا کوئی چوٹ پہنچایا ١ ؎ گیا تو وہ زخم قیامت کے دن اس سے زیادہ کامل شکل میں ہو کر آئے گا جتنا وہ تھا، اس کا رنگ زعفران کا اور بو مشک کی ہوگی اور جسے اللہ کے راستے میں پھنسیاں (دانے) نکل آئیں تو اس پر شہداء کی مہر لگی ہوگی ۔
Narrated Muadh ibn Jabal (RA) : The Messenger of Allah ﷺ said: If anyone fights in Allahs path as long as the time between two milkings of a she-camel, Paradise will be assured for him. If anyone sincerely asks Allah for being killed and then dies or is killed, there will be a reward of a martyr for him. Ibn al-Musaffa added from here: If anyone is wounded in Allahs path, or suffers a misfortune, it will come on the Day of resurrection as copious as possible, its colour saffron, and its odour musk; and if anyone suffers from ulcers while in Allahs path, he will have on him the stamp of the martyrs.
Notes · وضاحت
١ ؎: جرح اور نکب ۃ دونوں ایک معنیٰ میں ہیں اور ایک قول کے مطابق جرح وہ زخم جو کافروں سے پہنچے، اور نکب ۃ وہ ہے جو سواری سے گرنے اور اپنے ہی ہتھیار کے اچٹ کر لگنے کی وجہ سے ہو۔
عتبہ بن عبدسلمی ؓ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: گھوڑوں کی پیشانی کے بال نہ کاٹو، اور نہ ایال یعنی گردن کے بال کاٹو، اور نہ دم کے بال کاٹو، اس لیے کہ ان کے دم ان کے لیے مورچھل ہیں، اور ان کے ایال (گردن کے بال) گرمی حاصل کرنے کے لیے ہیں اور ان کی پیشانی میں خیر بندھا ہوا ہے ١ ؎۔
Narrated Utbah ibn AbdusSulami (RA) : Utbah heard the Messenger of Allah ﷺ say: Do not cut the forelocks, manes, or tails of horse, for their tails are their means of driving flies, their manes provide them with warmth, and blessing is tide to their forelocks.
Notes · وضاحت
١ ؎: اس کے رہنے میں برکت ہے، بہتری ہے اور زینت بھی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٩٧٥١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٨٤) (صحیح) (اس کی سند میں نصر کنانی مجہول راوی ہیں، اور رجل مبہم سے مراد عتبة میں عبید سلمی ہی، مسند احمد (٤ ؍ ١٨٤) دوسرے طریق سے تقویت پا کر یہ صحیح ہے، اسے ابو عوانة نے اپنی صحیح میں تخریج کیا ہے، (٥ ؍ ١٩) (ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود ٧ ؍ ٢٩٧۔ ٢٩٨ )
ابو وہب جشمی سے روایت ہے اور انہیں اللہ کے رسول ﷺ کی صحبت حاصل تھی، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم اپنے اوپر ہر چتکبرے سفید پیشانی اور سفید ہاتھ پاؤں کے یا سرخ سفید پیشانی اور سفید ہاتھ پاؤں کے یا کالے سفید پیشانی اور سفید ہاتھ پاؤں کے گھوڑے کو لازم پکڑو ۔
Narrated Abu Wahb al-Jushami,: The Messenger of Allah ﷺ said: Keep to every dark bay horse with a white blaze and white on the legs, or sorrel with a white blaze and white on the legs, or black with a white blaze and white on the legs.
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الخیل ٢ (٣٥٩٥)، و یأتي برقم (٢٥٥٣)، (تحفة الأشراف: ١٥٥١٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٤٥) (حسن) ( اس میں عقیل مجہول راوی ہیں صرف ابن حبان نے توثیق کی ہے اور حدیث کو اپنی صحیح میں روایت کیا ہے، لیکن جابر کی حدیث سے جو مسند احمد (٣ ؍ ٣٥٢) میں ہے یہ حدیث حسن کے درجہ میں ہے) ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود (٧ ؍٣٠٦ )
ابو وہب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم اپنے اوپر ہر سرخ سفید پیشانی اور سفید ہاتھ پاؤں کے یا ہر چتکبرے سفید پیشانی کے گھوڑے لازم پکڑو ١ ؎، پھر راوی نے اسی طرح ذکر کیا۔ محمد یعنی ابن مہاجر کہتے ہیں: میں نے عقیل سے پوچھا: سرخ رنگ کے گھوڑے کی فضیلت کیوں ہے؟ انہوں نے کہا: اس وجہ سے کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک سریہ بھیجا تو سب سے پہلے جو شخص فتح کی بشارت لے کر آیا وہ سرخ گھوڑے پر سوار تھا۔
Narrated Abu Wahb (RA) : The Prophet ﷺ said: Keep to every sorrel horse with a white blaze and white on the legs, or dark bay with a white blaze. He then mentioned something similar. Muhammad ibn al-Muhajir said: I asked him: Why was a sorrel horse preferred? He replied: Because the Prophet ﷺ had sent a contingent, and the man who first brought the news of victory was the rider of a sorrel horse.
Notes · وضاحت
١ ؎: أشقر سرخ گھوڑے کو کہتے ہیں، اور اس کی دم بھی سرخ ہوتی ہے، اور كميت کی دم اور بال سیاہ ہوتے ہیں۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ گھوڑے میں شکال کو ناپسند فرماتے تھے، اور شکال یہ ہے کہ گھوڑے کے دائیں پیر اور بائیں ہاتھ میں، یا دائیں ہاتھ اور بائیں پیر میں سفیدی ہو ١ ؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یعنی دائیں اور بائیں ایک دوسرے کے مخالف ہوں۔
Abu Hurairah said “The Prophet ﷺ disapproved the shikal horses. Shikal are the horses that are white on their right hind leg and white on their left foreleg or white on their right foreleg and left hind leg. Abu Dawud said “This means alternate legs”.
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ روای نے شکال کی تفسیر کی ہے، اہل لغت کے نزدیک گھوڑوں میں شکال یہ ہے کہ اس کے تین پاؤں سفید ہوں، اور ایک باقی بدن کے ہم رنگ ہو یا اس کے برعکس ہو، یعنی ایک پاؤں سفید اور باقی تین پاؤں باقی بدن کے ہم رنگ ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الإمارة ٢٧ (١٨٧٥)، سنن الترمذی/الجھاد ٢١ (١٦٩٨)، سنن النسائی/الخیل ٤ (٣٥٩٧)، سنن ابن ماجہ/الجھاد ١٤(٢٧٩٠)، (تحفة الأشراف: ١٤٨٩٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٥٠، ٤٣٦، ٤٦١، ٤٧٦) (صحیح )
سہل بن حنظلیہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک ایسے اونٹ کے پاس سے گزرے جس کا پیٹ اس کی پشت سے مل گیا تھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ان بےزبان چوپایوں کے سلسلے میں اللہ سے ڈرو، ان پر سواری بھلے طریقے سے کرو اور ان کو بھلے طریقے سے کھاؤ ١ ؎۔
Narrated Sahl ibn al-Hanzaliyyah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ came upon an emaciated camel and said: Fear Allah regarding these dumb animals. Ride them when they are in good condition and feed them when they are in good condition.
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی انہیں اس وقت کھاؤ جب وہ کھانے کے لائق موٹے اور تندرست ہوں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٤٦٥٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٨١) (صحیح )
عبداللہ بن جعفر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے ایک دن اپنے پیچھے سوار کیا پھر مجھ سے چپکے سے ایک بات کہی جسے میں کسی سے بیان نہیں کروں گا، رسول اللہ ﷺ کو بشری ضرورت کے تحت چھپنے کے لیے دو جگہیں بہت ہی پسند تھیں، یا تو کوئی اونچا مقام، یا درختوں کا جھنڈ، ایک بار آپ ﷺ کسی انصاری کے باغ میں تشریف لے گئے تو سامنے ایک اونٹ نظر آیا جب اس نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا تو رونے لگا اور اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے، نبی اکرم ﷺ اس کے پاس آئے، اس کے سر پر ہاتھ پھیرا تو وہ خاموش ہوگیا، اس کے بعد پوچھا: یہ اونٹ کس کا ہے؟ ایک انصاری جوان آیا، وہ کہنے لگا: اللہ کے رسول! میرا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: کیا تم ان جانوروں کے سلسلے میں جن کا اللہ نے تمہیں مالک بنایا ہے اللہ سے نہیں ڈرتے، اس اونٹ نے مجھ سے شکایت کی ہے کہ تو اس کو بھوکا مارتا اور تھکاتا ہے ۔
Abd Allaah bin Jafar said “The Messenger of Allah ﷺ seated me behind him (on his ride) one day, and told me secretly a thing asking me not to tell it to anyone. The place for easing dearer to the Messenger of Allah ﷺ was a mound or host of palm trees by which he could conceal himself. He entered the garden of a man from the Ansar (Helpers). All of a sudden when a Camel saw the Prophet ﷺ it wept tenderly producing yearning sound and it eyes flowed. The Prophet ﷺ came to it and wiped the temple of its head. So it kept silence. He then said “Who is the master of this Camel? Whose Camel is this? A young man from the Ansar came and said “This is mine, Messenger of Allah ﷺ . ” He said “Don’t you fear Allaah about this beast which Allaah has given in your possession. It has complained to me that you keep it hungry and load it heavily which fatigues it. ”
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحیض ٢٠ (٣٤٢)، سنن ابن ماجہ/الطھارة ٢٣ (٣٤٠)، (لیس عندہما قصة الجمل) (تحفة الأشراف: ٥٢١٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٠٤، ٢٠٥)، سنن الدارمی/الطھارة ٥ (٦٩٠) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایک آدمی کسی راستہ پہ جا رہا تھا کہ اسی دوران اسے سخت پیاس لگی، (راستے میں) ایک کنواں ملا اس میں اتر کر اس نے پانی پیا، پھر باہر نکلا تو دیکھا کہ ایک کتا ہانپ رہا ہے اور پیاس کی شدت سے کیچڑ چاٹ رہا ہے، اس شخص نے دل میں کہا: اس کتے کا پیاس سے وہی حال ہے جو میرا حال تھا، چناچہ وہ (پھر) کنویں میں اترا اور اپنے موزوں کو پانی سے بھرا، پھر منہ میں دبا کر اوپر چڑھا اور (کنویں سے نکل کر باہر آ کر) کتے کو پلایا تو اللہ تعالیٰ نے اس کا یہ عمل قبول فرما لیا اور اسے بخش دیا ، لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! کیا ہمارے لیے چوپایوں میں بھی ثواب ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہر تر کلیجہ والے (جاندار) میں ثواب ہے ۔
Abu Hurairah reported the Messenger of Allah ﷺ as saying “ While a man was going on his way, he felt himself thirsty severely. He found a well and e went down in it. He drank water and came out. Suddenly he saw a dog panting and eating soil due to thirst. The man said (to himself) “This dog must have reached the same condition due to thirst as I had reached. So he went down into the well, filled his sock with water, held it with his mouth and came up. He supplied water to the dog. Allaah appreciated this and forgave him. ” They asked “Messenger of Allah ﷺ , Is there any reward for us for these beasts? He replied, For every cool liver there is a reward. ”
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوضوء ٣٣ (١٧٣)، والمساقاة ٩ (٢٣٦٣)، والمظالم ٢٣ (٢٤٦٦)، والأدب ٢٧ (٦٠٠٩)، صحیح مسلم/السلام ٤١ (٢٢٤٤)، (تحفة الأشراف: ١٢٥٧٤)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/صلاة الجماعة ٢ (٦)، مسند احمد (٢/٣٧٥، ٥١٧) (صحیح )
ابوبشیر انصاری ؓ کہتے ہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے تو رسول اللہ ﷺ نے ایک قاصد کے ذریعہ پیغام بھیجا، لوگ اپنی خواب گاہوں میں تھے: کسی اونٹ کی گردن میں کوئی تانت کا قلادہ باقی نہ رہے، اور نہ ہی کوئی اور قلادہ ہو مگر اسے کاٹ دیا جائے ۔ مالک کہتے ہیں: میرا خیال ہے لوگ یہ گنڈا نظر بد سے بچنے کے لیے باندھتے تھے۔
Abu Bashir Al Ansari said that he was with the Messenger of Allah ﷺ on one of his journeys. The Messenger of Allah ﷺ sent a messenger. The narrator Abdullah bin Abu Bakr said “I think he said while the people were sleeping. No necklace of bowstring or anything else must be left on a Camels’ neck, must be cut off. The narrator Malik said “I think this was due to evil eye. ”
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجھاد ١٣٩ (٣٠٠٥)، صحیح مسلم/اللباس ٢٨ (٢١١٥)، (تحفة الأشراف: ١١٨٦٢)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/صفة النبی ١٣ (٣٩)، مسند احمد (٥/٢١٦) (صحیح )
ابو وہب جشمی ؓ سے روایت ہے انہیں (اللہ کے رسول ﷺ کی) صحبت حاصل تھی۔ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: گھوڑوں کو سرحد کی حفاظت کے لیے تیار کرو، اور ان کی پیشانیوں اور پٹھوں پر ہاتھ پھیرا کرو، اور ان کی گردنوں میں قلادہ (پٹہ) پہناؤ، اور انہیں (نظر بد سے بچنے کے لیے) تانت کا قلادہ نہ پہنانا ۔
Narrated Abu Wahb al-Jushami,: The Messenger of Allah ﷺ said: Tie the horses, rub down their forelocks and their buttocks (or he said: Their rumps), and put things on their necks, but do not put bowstrings.
Notes · وضاحت
١ ؎: گھوڑے کو تیار کرنے سے یہ کنایہ ہے کہ ان کو جہاد کے لئے فربہ کرنا، اور ہاتھ پھیرنے سے مقصود ان کے جسم کو گردوغبار سے صاف کرنا اور ان کی فربہی معلوم کرنا ہے۔ زمانہ جاہلیت میں گھوڑے کی گردنوں میں کمان کے چلے باندھتے تھے تاکہ نظر بد نہ لگے، آپ ﷺ نے تنبیہ کے لئے اس سے منع فرمایا کہ اس سے گھوڑے کا گلا نہ گھٹ جائے، نیز یہ عمل تقدیر کو رد نہیں کرسکتا۔