Sunan Abu Dawood 2500

جہاد کا بیان

2500Sunan Abu Dawood

دشمن کے مقابلہ میں مورچہ بندی کا ثواب

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي أَبُو هَانِئٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ، عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: كُلُّ الْمَيِّتِ يُخْتَمُ عَلَى عَمَلِهِ إِلَّا الْمُرَابِطَ فَإِنَّهُ يَنْمُو لَهُ عَمَلُهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَيُؤَمَّنُ مِنْ فَتَّانِ الْقَبْرِ.

فضالہ بن عبید ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہر میت کا عمل مرنے کے بعد ختم کردیا جاتا ہے، سوائے سرحد کی پاسبانی اور حفاظت کرنے والے کے، اس کا عمل اس کے لیے قیامت تک بڑھتا رہے گا اور قبر کے فتنہ سے وہ مامون کردیا جائے گا ۔

Narrated Fadalah ibn Ubayd: The Prophet ﷺ said: Everyone who dies will have fully complete his action, except one who is on the frontier (in Allahs path), for his deeds will be made to go on increasing till the Day of Resurrection, and he will be safe from the trial in the grave.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/فضائل الجھاد ٢ (١٦٢١)، (تحفة الأشراف: ١١٠٣٢)، وقد أخرجہ: (حم ٦/٢٠، ٢٢) (صحیح )