Sunan Abu Dawood 4404

سزاؤں کا بیان

4404Sunan Abu Dawood

نابالغ لڑکا اگر حد لگنے والا جرم کرے تو کیا حکم ہے؟

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ، حَدَّثَنِي عَطِيَّةُ الْقُرَظِيُّ، قَالَ: كُنْتُ مِنْ سَبْيِ بَنِي قُرَيْظَةَ فَكَانُوا يَنْظُرُونَ فَمَنْ أَنْبَتَ الشَّعْرَ قُتِلَ وَمَنْ لَمْ يُنْبِتْ لَمْ يُقْتَلْ فَكُنْتُ فِيمَنْ لَمْ يُنْبِتْ.

عطیہ قرظی کہتے ہیں کہ بنی قریظہ کے قیدیوں میں میں بھی تھا تو لوگ دیکھتے تھے جس کے زیر ناف کے بال اگے ہوتے انہیں قتل کردیتے تھے اور جن کے بال نہیں اگے تھے انہیں قتل نہیں کرتے، تو میں ان لوگوں میں سے تھا جن کے بال نہیں اگے تھے۔

Narrated Atiyyah al-Qurazi (RA) : I was among the captives of Banu Qurayzah. They (the Companions) examined us, and those who had begun to grow hair (pubes) were killed, and those who had not were not killed. I was among those who had not grown hair.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/السیر ٢٩ (١٥٨٤)، سنن النسائی/الطلاق ٢٠ (٣٤٦٠)، قطع السارق ١٤ (٤٩٨٤)، سنن ابن ماجہ/الحدود ٤ (٢٥٤٢)، (تحفة الأشراف: ٩٩٠٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد ( ٤/٣١٠، ٣٨٣، ٥/٣١٢، ٣٨٣) (صحیح )