Sunan Abu Dawood 4391

سزاؤں کا بیان

4391Sunan Abu Dawood(4392)

کوئی چیز اچکنے اور امانت میں خیانت کرنے پر ہاتھ کاٹنے کا بیان

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ، قَالَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَيْسَ عَلَى الْمُنْتَهِبِ قَطْعٌ وَمَنِ انْتَهَبَ نُهْبَةً مَشْهُورَةً فَلَيْسَ مِنَّا. وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ قَالَ: وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَيْسَ عَلَى الْخَائِنِ قَطْعٌ.

جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اعلانیہ زبردستی کسی کا مال لے کر بھاگ جانے والے کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا ١ ؎، اور جو اعلانیہ کسی کا مال لوٹ لے وہ ہم میں سے نہیں ۔

Narrated Jabir ibn Abdullah (RA) : The Prophet ﷺ said: Cutting of hand is not to be inflicted on one who plunders, but he who plunders conspicuously does not belong to us. Narrated Jabir ibn Abdullah (RA) : He also said through this chain: The Messenger of Allah ﷺ said: Cutting of the hand is not to be inflicted on one who is treacherous.

Notes · وضاحت
١ ؎: زبردستی کسی کا مال چھیننا اگرچہ چرانے سے زیادہ قبیح فعل ہے، لیکن اس پر ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا، کیونکہ اس پر سرقہ (چرانے) کا اطلاق نہیں ہوتا۔ قاضی عیاض فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے چور کا ہاتھ کاٹنا فرض کیا ہے، لیکن چھیننے جھپٹنے، اور غصب وغیرہ پر یہ حکم نہیں دیا اس لئے کہ چوری کے مقابلہ میں یہ چیزیں کم واقع ہوتی ہیں، اور ذمہ داروں سے شکایت کر کے اس طرح کی چیزوں کو لوٹایا جاسکتا ہے، اور ان کے خلاف دلائل دینا چوری کے برعکس آسان ہے، اس وجہ سے چوری کا معاملہ بڑا ہے، اور اس کی سزا سخت ہے، تاکہ اس سے باز آجانے میں یہ زیادہ موثر ہو۔ (ملاحظہ ہو: عون المعبود ١٢ ؍٣٩ ) اور اسی سند سے مروی ہے جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: امانت میں خیانت کرنے والے کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا ۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الحدود ١٨ (١٤٤٨)، سنن النسائی/قطع السارق ١٠ (٤٩٧٥)، سنن ابن ماجہ/الحدود ٢٦ (٢٥٩١)، (تحفة الأشراف: ٢٨٠٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣٨٠)، سنن الدارمی/الحدود ٨ (٢٣٥٦) (صحیح ) انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ٢٨٠٠) (صحیح )