جن لوگوں پر حد واجب ہو ان کے جرم کو چھپانا چاہیے
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ نُعَيْمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ مَاعِزًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَقَرَّ عِنْدَهُ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ فَأَمَرَ بِرَجْمِهِ، وَقَالَ لِهَزَّالٍ: لَوْ سَتَرْتَهُ بِثَوْبِكَ كَانَ خَيْرًا لَكَ.
نعیم بن ہزال اسلمی ؓ روایت کرتے ہیں کہ ماعز ؓ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے اور آپ کے پاس چار دفعہ زنا کا اقرار کیا، تو آپ نے انہیں رجم کرنے کا حکم دیا، اور ہزال (جس نے ان سے اقرار کے لیے کہا تھا) سے کہا: اگر تم اسے اپنے کپڑے ڈال کر چھپالیتے تو یہ تمہارے لیے زیادہ بہتر ہوتا ۔
Narrated Nuaym: Maiz came to the Prophet ﷺ and admitted (having committed adultery) four times in his presence so he ordered him to be stoned to death, but said to Huzzal: If you had covered him with your garment, it would have been better for you.