دعا کا بیان
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: يُسْتَجَابُ لِأَحَدِكُمْ مَا لَمْ يَعْجَلْ، فَيَقُولُ: قَدْ دَعَوْتُ فَلَمْ يُسْتَجَبْ لِي.
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے ہر ایک کی دعا قبول کی جاتی ہے جب تک وہ جلد بازی سے کام نہیں لیتا اور یہ کہنے نہیں لگتا کہ میں نے تو دعا مانگی لیکن میری دعا قبول ہی نہیں ہوئی ١ ؎۔
Abu Hurairah reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: One of you is granted an answer (to his supplication) provided he does not say: I prayed but I was not granted an answer.
Notes · وضاحت
١ ؎: دعا میں جلد بازی بےادبی ہے، اور اس کا نتیجہ محرومی ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الدعوات ٢٢ (٦٣٤٠)، صحیح مسلم/الذکر والدعاء ٢٥ (٢٧٣٥)، سنن الترمذی/الدعوات ١٢ (٣٣٨٧)، سنن ابن ماجہ/الدعاء ٨ (٣٨٥٣)، (تحفة الأشراف: ١٢٩٣٠)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/القرآن ٨ (٢٩)، مسند احمد (٢/٤٨٧، ٣٩٦) (صحیح )