Sunan Abu Dawood 2089

نکاح کا بیان

2089Sunan Abu Dawood

اس آیت کریمہ کی تفسیر جس میں یہ بیان ہوا ہے کہ تم عورتوں کے زبردستی وارث نہ بن بیٹھو اور نہ ان کو نکاح سے روکو

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا الشَّيْبَانِيُّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ الشَّيْبَانِيُّ وَذَكَرَهُ عَطَاءٌ أَبُو الْحَسَنِ السُّوَائِيُّ، وَلَا أَظُنُّهُ إِلَّا عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي هَذِهِ الْآيَةِ: لا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَرِثُوا النِّسَاءَ كَرْهًا وَلا تَعْضُلُوهُنَّ سورة النساء آية 19، قَالَ: كَانَ الرَّجُلُ إِذَا مَاتَ كَانَ أَوْلِيَاؤُهُ أَحَقَّ بِامْرَأَتِهِ مِنْ وَلِيِّ نَفْسِهَا، إِنْ شَاءَ بَعْضُهُمْ زَوَّجَهَا أَوْ زَوَّجُوهَا، وَإِنْ شَاءُوا لَمْ يُزَوِّجُوهَا، فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فِي ذَلِكَ.

عبداللہ بن عباس ؓ سے آیت کریمہ: لا يحل لکم أن ترثوا النساء کر ها ولا تعضلوهن تمہارے لیے حلال نہیں کہ تم عورتوں کے بھی زبردستی وارث بن بیٹھو اور نہ ہی تم انہیں نکاح سے اس لیے روک رکھو کہ جو تم نے انہیں دے رکھا ہے اس میں کچھ لے لو (سورۃ البقرہ: ١٩) کی تفسیر کے سلسلہ میں مروی ہے کہ جب آدمی کا انتقال ہوجاتا تو اس (آدمی) کے اولیا یہ سمجھتے تھے کہ اس عورت کے ہم زیادہ حقدار ہیں بہ نسبت اس کے ولی کے، اگر وہ چاہتے تو اس کا نکاح کردیتے اور اگر نہ چاہتے تو نہیں کرتے، چناچہ اسی سلسلہ میں یہ آیت نازل ہوئی ١ ؎۔

Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : About the Quranic verse: It is not lawful for you forcibly to inherit the woman (of your deceased kinsmen), nor (that) ye should put constraint upon them. When a man died, his relatives had more right to his wife then her own guardian. If any one of them wanted to marry her, he did so; or they married her (to some other person), and if they did not want to marry her, they did so. So this verse was revealed about the matter.

Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی آدمی مرجائے تو اس کی عورت کو اپنے نکاح کا اختیار ہے، میت کے رشتہ داروں کو اسے زبردستی اپنے نکاح میں لینا جائز نہیں، اور نہ انہیں یہ حق ہے کہ وہ اسے نکاح سے روکیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/تفسیر النساء ٦ (٤٥٧٩)، الإکراہ ٦ (٦٩٤٨)، سنن النسائی/ الکبری/ التفسیر (١١٠٩٤)، ( تحفة الأشراف: ٦١٠٠، ٦٢٥٦ )