Sunan Abu Dawood 2101

نکاح کا بیان

2101Sunan Abu Dawood

ثیبہ کا بیان

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَمُجَمِّعٍ ابْنَيْ يَزِيدَ الأَنْصَارِيَّيْنِ، عَنْ خَنْسَاءَ بِنْتِ خِذَامٍ الْأَنْصَارِيَّةِ، أَنَّ أَبَاهَا زَوَّجَهَا وَهِيَ ثَيِّبٌ فَكَرِهَتْ ذَلِكَ، فَجَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُفَرَدَّ نِكَاحَهَا.

خنسا بنت خذام انصاریہ ؓ سے روایت ہے کہ ان کے والد نے ان کا نکاح کردیا اور وہ ثیبہ تھیں تو انہوں نے اسے ناپسند کیا چناچہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہوئیں اور آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے ان کا نکاح رد کردیا۔

Khansa daughter of Khidham al-Ansariyyah reports that when her father married her when she had previously been married and she disapproved of that she went to the Messenger of Allah ﷺ and mentioned it to him. He (the Prophet) revoked her marriage.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/النکاح ٤٢ (٥١٣٨)، الإکراہ ٣ (٦٩٤٥)، الحیل ١١ (٦٩٦٩)، سنن النسائی/النکاح ٣٥ (٣٢٧٠)، سنن ابن ماجہ/النکاح ١٢ (١٨٧٣)، ( تحفة الأشراف: ١٥٨٢٤)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/النکاح ١٤(٢٥)، مسند احمد (٦/٣٢٨)، سنن الدارمی/النکاح ١٤ (٢٢٣٨) (صحیح )