Sunan Abu Dawood 2098

نکاح کا بیان

2098Sunan Abu Dawood

ثیبہ کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، قَالَا: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْأَيِّمُ أَحَقُّ بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا، وَالْبِكْرُ تُسْتَأْذَنُ فِي نَفْسِهَا، وَإِذْنُهَا صُمَاتُهَا. وَهَذَا لَفْظُ الْقَعْنَبِيِّ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ثیبہ ١ ؎ اپنے نفس کا اپنے ولی سے زیادہ حقدار ہے اور کنواری لڑکی سے اس کے بارے میں اجازت لی جائے گی اور اس کی خاموشی ہی اس کی اجازت ہے ۔

Ibn Abbas reported the Messenger of Allah ﷺ as saying “A woman without a husband has more right to her person than her guardian and a virgin’s permission must be asked, her permission being her silence. These are the words of Al Qanabi.

Notes · وضاحت
١ ؎: ایّم سے مراد ثیبہ عورت ہے اس کی تائید صحیح مسلم کی ایک روایت سے بھی ہوتی ہے، ترجمۃ الباب سے بھی یہی بات ثابت ہوتی ہے لیکن اس کے برخلاف بعض لوگوں نے ایّم سے مراد بیوہ عورت لیا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/النکاح ٩ (١٤٢١)، سنن الترمذی/النکاح ١٧ (١١٠٨)، سنن النسائی/النکاح ٣١ (٣٢٦٢)، سنن ابن ماجہ/النکاح ١١ (١٨٧٠)، (تحفة الأشراف: ٦٥١٧)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/النکاح ٢ (٤)، مسند احمد (١/٢١٩، ٢٤٣، ٢٧٤، ٣٥٤، ٣٥٥، ٣٦٢)، سنن الدارمی/النکاح ١٣ (٢٢٣٤) (صحیح )