مناسک حج کا بیان

Sunan Abu Dawood · Chapter 6 · 323 hadiths · Page 12 of 17

1942Sunan Abu Dawood

مزدلفہ سے جلدی لوٹنا

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنْ الضَّحَّاكِ يَعْنِي ابْنَ عُثْمَانَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: أَرْسَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأُمِّ سَلَمَةَ لَيْلَةَ النَّحْرِ فَرَمَتِ الْجَمْرَةَ قَبْلَ الْفَجْرِ ثُمَّ مَضَتْ فَأَفَاضَتْ وَكَانَ ذَلِكَ الْيَوْمُ الْيَوْمَ الَّذِي يَكُونُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَعْنِي عِنْدَهَا.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ام سلمہ کو نحر کی رات (دسویں رات) کو (منیٰ کی طرف) روانہ فرما دیا انہوں نے فجر سے پہلے کنکریاں مار لیں پھر مکہ جا کر طواف افاضہ کیا، اور یہ وہ دن تھا جس دن رسول اللہ ﷺ ان کے پاس رہا کرتے تھے ١ ؎۔

Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : The Prophet ﷺ sent Umm Salamah on the night before the day of sacrifice and she threw pebbles at the jamrah before dawn. She hastened (to Makkah) and performed the circumambulation. That day was the one the Messenger of Allah ﷺ spent with her.

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی یہ ام المومنین ام سلمہ ؓ کی باری کا دن تھا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ١٦٩٦١) (ضعیف) (اس میں ضحاک ضعیف الحفظ ہیں، اور سند ومتن میں اضطراب ہے، ثقات کے روایت میں عائشہ ؓ کا ذکر نہیں ہے، ملاحظہ ہو: ضعیف ابی داود ٢ ؍ ١٧٧ )
1943Sunan Abu Dawood

مزدلفہ سے جلدی لوٹنا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، أَخْبَرَنِي مُخْبِرٌ، عَنْ أَسْمَاءَ، أَنَّهَا رَمَتِ الْجَمْرَةَ، قُلْتُ: إِنَّا رَمَيْنَا الْجَمْرَةَ بِلَيْلٍ، قَالَتْ: إِنَّا كُنَّا نَصْنَعُ هَذَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

اسماء ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے جمرہ کو کنکریاں ماریں، مخبر (راوی حدیث) کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: ہم نے رات ہی کو جمرے کو کنکریاں مار لیں، انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ ﷺ کے عہد میں ایسا ہی کیا کرتے تھے۔

Ata said: A reporter reported to me about Asma that she threw pebbles at the jamrah at night. I said: We threw pebbles (at the jamrah) at night. She said: We used to do so in the lifetime of the Messenger of Allah ﷺ .

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الحج ٢١٤ (٣٠٥٣)، ( تحفة الأشراف: ١٥٧٣٧)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحج ٩٨ (١٦٧٩)، صحیح مسلم/الحج ٤٩ (١٢٩١)، موطا امام مالک/الحج ٥٦ (١٧٢)، مسند احمد (٦/٣٤٧، ٣٥١) (صحیح )
1944Sunan Abu Dawood

مزدلفہ سے جلدی لوٹنا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: أَفَاضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ السَّكِينَةُ، وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَرْمُوا بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ وَأَوْضَعَ فِي وَادِي مُحَسِّرٍ.

جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مزدلفہ سے اطمینان و سکون کے ساتھ لوٹے اور لوگوں کو حکم دیا کہ اتنی چھوٹی چھوٹی کنکریاں ماریں جو ہاتھ کی دونوں انگلیوں کے سروں کے درمیان آسکیں اور وادی محسر میں آپ نے اپنی سواری کو تیز کیا۔

Narrated Jabir ibn Abdullah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ hastened from al-Muzdalifah with a quite demeanour and ordered them (the people) to throw small pebbles and he hastened in the valley (wadi) of Muhassir.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/ الحج ٢٠٤ (٣٠٢٤)، سنن ابن ماجہ/ المناسک ٦١ (٣٠٢٣)، ( تحفة الأشراف: ٢٧٤٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣٠١، ٣٣٢، ٣٦٧، ٣٩١)، سنن الدارمی/المناسک ٥٩ (١٩٤٠) (صحیح )
1945Sunan Abu Dawood

حج اکبر کا بیان

حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ يَعْنِي ابْنَ الْغَازِ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَفَ يَوْمَ النَّحْرِ بَيْنَ الْجَمَرَاتِ فِي الْحَجَّةِ الَّتِي حَجَّ، فَقَالَ: أَيُّ يَوْمٍ هَذَا ؟، قَالُوا: يَوْمُ النَّحْرِ، قَالَ: هَذَا يَوْمُ الْحَجِّ الْأَكْبَرِ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نحر کے روز (دسویں ذی الحجہ کو) حجۃ الوداع میں جمرات کے درمیان کھڑے ہوئے اور لوگوں سے پوچھا: یہ کون سا دن ہے؟ ، لوگوں نے جواب دیا: یوم النحر، آپ ﷺ نے فرمایا: یہی حج اکبر کا دن ہے ١ ؎۔

Narrated Abdullah ibn Umar (RA) : The Messenger of Allah ﷺ halted on the day of sacrifice between the jamrahs (pillars at Mina) during hajj which he performed. He asked: Which is this day? They replied: This is the day of sacrifice. He said: This is the day of greater hajj.

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی قرآن مجید میں جو يوم الحج الأكبر آیا ہے اس سے مراد یوم نحر ہی ہے، حج کو حج اکبر کہا جاتا ہے اور عمرہ کو حج اصغر، اور وہ جو عوام میں مشہور ہے کہ ” جمعہ کے دن یوم عرفہ پڑے تو حج اکبر ہے “ تو یہ بات بےدلیل اور بےاصل ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/ الحج ١٣٢ (١٧٤٢ تعلیقًا)، سنن ابن ماجہ/المناسک ٧٦ (٣٠٥٨)، ( تحفة الأشراف: ٨٥١٤) (صحیح )
1946Sunan Abu Dawood

حج اکبر کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، أَنَّ الْحَكَمَ بْنَ نَافِعٍ حَدَّثَهُمْ، حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: بَعَثَنِي أَبُو بَكْرٍ فِيمَنْ يُؤَذِّنُ يَوْمَ النَّحْرِ بِمِنًى أَنْ لَا يَحُجَّ بَعْدَ الْعَامِ مُشْرِكٌ، وَلَا يَطُوفَ بِالْبَيْتِ عُرْيَانٌ، وَيَوْمُ الْحَجِّ الْأَكْبَرِ يَوْمُ النَّحْرِ وَالْحَجُّ الْأَكْبَرُ الْحَجُّ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ مجھے ابوبکر ؓ نے یوم النحر کو منیٰ ان لوگوں میں بھیجا جو پکار رہے تھے کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہیں کرے گا اور نہ ہی کوئی ننگا بیت اللہ کا طواف کرے گا، اور حج ا کبر کا دن یوم النحر ہے اور حج اکبر سے مراد حج ہے۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : Abu Bakr sent me among those who proclaim at Mina that no polytheist should perform Hajj after this year and no naked person should go round the House (the Kabah), and that the day of greater Hajj is the day of sacrifice, and the greater Hajj is the Hajj.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلاة ١٠ (٣٦٩)، والحج ٦٧ (١٦٢٢)، صحیح البخاری/الجزیة ١٦ (٣١٧٧)، والمغازي ٦٦ (٤٣٦٣)، و تفسیر البرائة ٢ (٤٦٥٦)، ٣ (٤٦٥٥)، و تفسیر البرائة ٤ (٤٦٥٧)، صحیح مسلم/الحج ٧٨ (١٣٤٧)، سنن النسائی/الحج ١٦١ (٢٩٦٠)، مسند احمد (٢/٢٩٩)، ( تحفة الأشراف: ٦٦٢٤) (صحیح )
1947Sunan Abu Dawood

ماہ حرم سے مراد کونسے مہینے ہیں؟

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ فِي حَجَّتِهِ، فَقَالَ: إِنَّ الزَّمَانَ قَدِ اسْتَدَارَ كَهَيْئَتِهِ يَوْمَ خَلَقَ اللَّهُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ، السَّنَةُ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا، مِنْهَا أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ: ثَلَاثٌ مُتَوَالِيَاتٌ: ذُو الْقِعْدَةِ وَذُو الْحِجَّةِ وَالْمُحَرَّمُ وَرَجَبُ مُضَرَ الَّذِي بَيْنَ جُمَادَى وَشَعْبَانَ.

ابوبکرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے حج میں خطبہ دیا تو فرمایا: زمانہ پلٹ کر ویسے ہی ہوگیا جیسے اس دن تھا جب اللہ نے آسمان اور زمین کی تخلیق فرمائی تھی، سال بارہ مہینے کا ہوتا ہے، ان میں سے چار مہینے حرام ہیں: تین لگاتار ہیں، ذی قعدہ، ذی الحجہ اور محرم اور ایک مضر کا رجب ہے ١ ؎ جو جمادی الآخرہ اور شعبان کے بیچ میں ہے ۔

Narrated Abu Bakrah (RA) : The Prophet ﷺ gave a sermon during his hajj and said: Time has completed a cycle and assumed the form of the day when Allah created the heavens and the earth. The year contains twelve months of which four are sacred, three of them consecutive, viz. Dhul-Qadah, Dhul-Hijjah and Muharram and also Rajab of Mudar which comes between Jumadah and Shaban.

Notes · وضاحت
١ ؎: رجب کی نسبت قبیلہ مضر کی طرف اس لئے کی گئی ہے کہ یہ رجب کی حرمت کے سلسلہ میں زیادہ سخت تھے، اور دیگر عرب قبائل کے مقابلہ میں اس کی حرمت کا پاس و لحاظ زیادہ رکھتے تھے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ١١٧٠٠)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحج ١٣٢(١٧٤٢)، وبدء الخلق ٢ (٣١٩٧)، والمغازي ٧٧ (٤٤٠٣)، و تفسیر سورة التوبة ٨ (٤٦٦٢)، والأضاحي ٥ (٥٥٥٠)، والتوحید ٢٤ (٧٤٤٧)، صحیح مسلم/القسامة ١٠ (١٦٧٩)، سنن النسائی/ الکبری/ المحاربہ/ (٣٥٩٥)، مسند احمد (٥/٣٧)، سنن الدارمی/المناسک ٧٢ (١٩٥٧) (صحیح )
1948Sunan Abu Dawood

ماہ حرم سے مراد کونسے مہینے ہیں؟

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَيَّاضٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ السَّخْتِيَانِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ ابْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمَعْنَاهُ. قَالَ أَبُو دَاوُد: سَمَّاهُ ابْنُ عَوْنٍ، فَقَالَ: عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، فِي هَذَا الْحَدِيثِ.

اس سند سے بھی ابوبکرہ ؓ نے نبی اکرم ﷺ سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابن عون نے اس حدیث میں ان کا نام لیا ہے اور یوں کہا ہے عن عبدالرحمٰن بن أبي بكرة عن أبي بكرة۔

The aforesaid tradition has also been transmitted by Abu Bakrah through a different chain of narrators. Abu Dawud said: Ibn Awn has mentioned his (Abu Bakrahs) name and narrated this tradition: From Abdur-Rahman bin Abi Bakrah on the authority of Abu Bakrah.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ١١٦٨٦) (صحیح )
1949Sunan Abu Dawood

اگر کوئی وقوف عرفہ نہ پائے تو کیا کرے؟

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي بُكَيْرُ بْنُ عَطَاءٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْمَرَ الدِّيلِيِّ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِعَرَفَةَ، فَجَاءَ نَاسٌ أَوْ نَفَرٌ مِنْ أَهْلِ نَجْدٍ، فَأَمَرُوا رَجُلًا فَنَادَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَيْفَ الْحَجُّ ؟ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا فَنَادَى: الْحَجُّ، الْحَجُّ يَوْمُ عَرَفَةَ، مَنْ جَاءَ قَبْلَ صَلَاةِ الصُّبْحِ مِنْ لَيْلَةِ جَمْعٍ فَتَمَّ حَجُّهُ أَيَّامُ مِنًى ثَلَاثَةٌ، فَمَنْ تَعَجَّلَ فِي يَوْمَيْنِ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ، وَمَنْ تَأَخَّرَ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ، قَالَ: ثُمَّ أَرْدَفَ رَجُلًا خَلْفَهُ فَجَعَلَ يُنَادِي بِذَلِكَ. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَكَذَلِكَ رَوَاهُ مِهْرَانُ، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ: الْحَجُّ الْحَجُّ مَرَّتَيْنِ، وَرَوَاهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ: الْحَجُّ مَرَّةً.

عبدالرحمٰن بن یعمر دیلی ؓ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، آپ عرفات میں تھے، اتنے میں نجد والوں میں سے کچھ لوگ آئے، ان لوگوں نے ایک شخص کو حکم دیا تو اس نے آواز دی: اللہ کے رسول! حج کیوں کر ہے؟ تو رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو حکم دیا تو اس نے پکار کر کہا: حج عرفات میں وقوف ہے ١ ؎ جو شخص مزدلفہ کی رات کو فجر سے پہلے (عرفات میں) آجائے تو اس کا حج پورا ہوگیا، منیٰ کے دن تین ہیں (گیارہ، بارہ اور تیرہ ذی الحجہ) ، جو شخص دو ہی دن کے بعد چلا جائے تو اس پر کوئی گناہ نہیں اور جو تیسرے دن بھی رکا رہے اس پر کوئی گناہ نہیں ، پھر رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو اپنے پیچھے بٹھا لیا وہ یہی پکارتا جاتا تھا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور اسی طرح مہران نے سفیان سے الحج الحج دو بار نقل کیا ہے اور یحییٰ بن سعید قطان نے سفیان سے الحج ایک ہی بار نقل کیا ہے۔

Narrated Abdur Rahman Yamar ad-Dayli: I came to the Holy Prophet ﷺ when he was in Arafat. Some people or a group of people came from Najd. They commanded someone (to ask the Prophet about hajj). So he called the Messenger of Allah ﷺ , saying: How is the hajj done? He (the Prophet) ordered a man (to reply). He shouted loudly: The hajj, the hajj is on the day of Arafah. If anyone comes over there before the dawn prayer on the night of al-Muzdalifah, his hajj will be complete. The period of halting at Mina is three days. Then whoever hastens (his departure) by two days, it is no sin for him, and whoever delays it there is no sin for him. The narrator said: He (the Prophet) then put a man behind him on the camel. He began to proclaim this loudly. Abu Dawud said: This tradition has been narrated by Mahran from Sufyan in a similar way. This version adds: The Hajj, the Hajj, twice. The version narrated by Yaya bin Saeed al-Qattan has the words: The Hajj only once.

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اصل حج عرفات میں وقوف ہے کیونکہ اس کے فوت ہوجانے سے حج فوت ہوجاتا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الحج ٥٧ (٨٨٩)، سنن النسائی/الحج ٢٠٣ (٣٠١٩)، ٢١١ (٣٠٤٧)، سنن ابن ماجہ/المناسک ٥٧ (٣٠١٥)، (تحفة الأشراف: ٩٧٣٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٠٩، ٣١٠، ٣٣٥)، سنن الدارمی/المناسک ٥٤ (١٩٢٩) (صحیح )
1950Sunan Abu Dawood

اگر کوئی وقوف عرفہ نہ پائے تو کیا کرے؟

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا عَامِرٌ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ مُضَرِّسٍ الطَّائِيُّ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَوْقِفِ، يَعْنِي بِجَمْعٍ، قُلْتُ: جِئْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مِنْ جَبَلِ طَيِّئٍ أَكْلَلْتُ مَطِيَّتِي وَأَتْعَبْتُ نَفْسِي وَاللَّهِ مَا تَرَكْتُ مِنْ حَبْلٍ إِلَّا وَقَفْتُ عَلَيْهِ، فَهَلْ لِي مِنْ حَجٍّ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ أَدْرَكَ مَعَنَا هَذِهِ الصَّلَاةَ وَأَتَى عَرَفَاتَ قَبْلَ ذَلِكَ لَيْلًا أَوْ نَهَارًا فَقَدْ تَمَّ حَجُّهُ وَقَضَى تَفَثَهُ.

عروہ بن مضرس طائی ؓ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا آپ موقف یعنی مزدلفہ میں تھے، میں نے عرض کیا: میں طی کے پہاڑوں سے آ رہا ہوں، میں نے اپنی اونٹنی کو تھکا مارا، اور خود کو بھی تھکا دیا، اللہ کی قسم راستے میں کوئی ایسا ٹیکرہ نہیں آیا جس پر میں ٹھہرا نہ ہوں، تو میرا حج درست ہوا یا نہیں؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو ہمارے ساتھ اس نماز کو پالے اور اس سے پہلے رات یا دن کو عرفات میں ٹھہر چکا ہو تو اس کا حج پورا ١ ؎ ہوگیا، اس نے اپنا میل کچیل دور کرلیا ٢ ؎۔

Notes · وضاحت
١ ؎: حدیث سے معلوم ہوا کہ عرفات میں ٹھہرنا ضروری ہے اور اس کا وقت (٩) ذی الحجہ کو سورج ڈھلنے سے لے کر دسویں تاریخ کے طلوع فجر تک ہے، ان دونوں وقتوں کے بیچ اگر تھوڑی دیر کے لئے بھی عرفات میں وقوف مل جائے تو اس کا حج ادا ہوجائے گا۔ ٢ ؎: نسائی کی ایک روایت میں ہے فقد قضى تفثه وتم حجه، یعنی حالت احرام میں پراگندہ رہنے کی مدت اس نے پوری کرلی، اب وہ اپنا سارا میل کچیل جو چھوڑ رکھا تھا دور کرسکتا ہے۔ Narrated Urwah ibn Mudarris at-Tai: I came to the Messenger of Allah ﷺ at the place of halting, that is, al-Muzdalifah. I said: I have come from the mountains of Tayy. I fatigued my mount and fatigued myself. By Allah, I found no hill (on my way) but I halted there. Have I completed my hajj? The Messenger of Allah ﷺ said: Anyone who offers this prayer along with us and comes over to Arafat before it by night or day will complete his hajj and he may wash away the dirt (of his body).
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الحج ٥٧ (٨٩١)، سنن النسائی/الحج ٢١١ (٣٠٤٢، ٣٠٤٣، ٣٠٤٤)، سنن ابن ماجہ/المناسک ٥٧ (٣٠١٦)، ( تحفة الأشراف: ٩٩٠٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٥، ٢٦١، ٢٦٢)، سنن الدارمی/المناسک ٥٤ (١٩٣٠) (صحیح )
1951Sunan Abu Dawood

اگر کوئی وقوف عرفہ نہ پائے تو کیا کرے؟

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ حُمَيْدٍ الْأَعْرَجِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُعَاذٍ،عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: خَطَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ بِمِنًى وَنَزَّلَهُمْ مَنَازِلَهُمْ، فَقَالَ: لِيَنْزِلْ الْمُهَاجِرُونَ هَا هُنَا، وَأَشَارَ إِلَى مَيْمَنَةِ الْقِبْلَةِ، وَ الْأَنْصَارُ هَا هُنَا، وَأَشَار إِلَى مَيْسَرَةِ الْقِبْلَةِ، ثُمَّ لِيَنْزِلِ النَّاسُ حَوْلَهُمْ.

عبدالرحمٰن بن معاذ سے روایت ہے وہ رسول ﷺ کے ایک صحابی سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے منیٰ میں لوگوں سے خطاب کیا، اور انہیں ان کے ٹھکانوں میں اتارا، آپ نے فرمایا: مہاجرین یہاں اتریں اور قبلہ کے دائیں جانب اشارہ کیا، اور انصار یہاں اتریں، اور قبلے کے بائیں جانب اشارہ کیا، پھر باقی لوگ ان کے اردگرد اتریں ۔

Abdur Rahman ibn Muadh said that he heard a man from the Companions of the Prophet ﷺ say: The Prophet ﷺ addressed the people at Mina and he made them stay in their dwellings. He then said: The Muhajirun (Emigrants) should stay here, and he made a sign to the right side of the qiblah, and the Ansar (the Helpers) here, and he made a sign to the left side of the qiblah; the people should stay around them.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ١٥٦٢٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٦١) (صحیح )
1952Sunan Abu Dawood

منی میں کس دن خطبہ پڑھے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَجُلَيْنِ مِنْ بَنِي بَكْرٍ، قَالَا: رَأَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ بَيْنَ أَوْسَطِ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ وَنَحْنُ عِنْدَ رَاحِلَتِهِ وَهِيَ خُطْبَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي خَطَبَ بِمِنًى.

بنی بکر کے دو آدمی کہتے ہیں ہم نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا آپ ایام تشریق کے بیچ والے دن (بارہویں ذی الحجہ کو) خطبہ دے رہے تھے اور ہم آپ کی اونٹنی کے پاس تھے، یہ وہی خطبہ تھا جسے رسول اللہ ﷺ نے منیٰ میں دیا۔

Ibn Abu Najih reported from his father on the authority of two men from Banu Bakr who said: We saw the Messenger of Allah ﷺ addressing (the people) in the middle of the tashriq days when we were staying near his mount. This is the address of the Messenger of Allah ﷺ which he gave at Mina.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ١٥٦٨٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٣٧٠) (صحیح )
1953Sunan Abu Dawood

منی میں کس دن خطبہ پڑھے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا رَبِيعَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُصَيْنٍ، حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي سَرَّاءُ بِنْتُ نَبْهَانَ وَكَانَتْ رَبَّةُ بَيْتٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، قَالَتْ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الرُّءُوسِ، فَقَالَ: أَيُّ يَوْمٍ هَذَا ؟قُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: أَلَيْسَ أَوْسَطَ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ ؟. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَكَذَلِكَ قَالَ عَمُّ أَبِي حُرَّةَ الرَّقَاشِيِّ: إِنَّهُ خَطَبَ أَوْسَطَ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ.

ربیعہ بن عبدالرحمٰن بن حصین کہتے ہیں مجھ سے میری دادی سراء بنت نبہان ؓ نے بیان کیا اور وہ جاہلیت میں گھر کی مالکہ تھیں (جس میں اصنام ہوتے تھے) ، وہ کہتی ہیں: ہمیں رسول اللہ ﷺ نے یوم الروس ١ ؎ (ایام تشریق کے دوسرے دن بارہویں ذی الحجہ) کو خطاب کیا اور پوچھا: یہ کون سا دن ہے؟ ، ہم نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں، آپ نے فرمایا: کیا یہ ایام تشریق کا بیچ والا دن نہیں ہے ۔ امام ابوداؤد (رح) کہتے ہیں: ابوحرہ رقاشی کے چچا سے بھی اسی طرح روایت ہے کہ آپ ﷺ نے ایام تشریق کے بیچ والے دن خطبہ دیا۔

Narrated Sarra daughter of Nabhan (RA) : She was mistress of a temple in pre-Islamic days. She said: The prophet ﷺ addressed us on the second day of sacrifice (yawm ar-ruus) and said: Which is this day? We said: Allah and His Messenger are better aware. He said: Is this not the middle of the tashriq days?

Notes · وضاحت
١ ؎: بارہویں ذی الحجہ کو یوم الرؤوس کہا جاتا تھا کیونکہ لوگ اپنی قربانی کے جانوروں کے سر اسی دن کھاتے تھے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو دواد، ( تحفة الأشراف: ١٥٨٩١) (ضعیف) (اس کے راوی ربیع لین الحدیث ہیں )
1954Sunan Abu Dawood

جس نے کہا کہ یوم النحر میں خطبہ پڑھے

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ، حَدَّثَنِي الْهِرْمَاسُ بْنُ زِيَادٍ الْبَاهِلِيُّ، قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ النَّاسَ عَلَى نَاقَتِهِ الْعَضْبَاءِ يَوْمَ الْأَضْحَى بِمِنًى.

ہرماس بن زیاد باہلی ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا، آپ اپنی اونٹنی عضباء پر عید الاضحی کے دن منیٰ میں لوگوں کو خطبہ دے رہے تھے۔

Narrated Harmas ibn Ziyad al-Bahili (RA) : I saw the Prophet ﷺ addressing the people on his she-camel al-Adba, on the day of sacrifice at Mina.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ١١٧٢٦)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/ الکبری/ الحج (٤٠٩٥)، مسند احمد (٣/٤٨٥) (حسن )
1955Sunan Abu Dawood

جس نے کہا کہ یوم النحر میں خطبہ پڑھے

حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ يَعْنِي ابْنَ الْفَضْلِ الْحَرَّانِيَّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، حَدَّثَنَا ابْنُ جَابِرٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمُ بْنُ عَامِرٍ الْكَلَاعِيُّ، سَمِعْتُأَبَا أُمَامَةَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ خُطْبَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى يَوْمَ النَّحْرِ.

سلیم بن عامر کلاعی کہتے ہیں کہ میں نے ابوامامہ ؓ کو کہتے سنا کہ میں نے منیٰ میں یوم النحر کو رسول اللہ ﷺ کا خطبہ سنا ١ ؎۔

Narrated Abu Umamah (RA) : I heard the address of the Messenger of Allah ﷺ at Mina on the day of sacrifice.

Notes · وضاحت
١ ؎: ہر م اس بن زیاد اور ابو امامہ ؓ وغیرہ کی روایتیں اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ یوم النحر کو خطبہ مشروع ہے، کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ یوم النحر کو خطبہ نہیں، اور یہ احادیث عام موعظت و نصیحت کے قبیل سے ہیں نہ کہ یہ خطبہ ہے جو حج کے شعائر میں سے ہے، ان روایات سے ان کے اس قول کی تردید ہوتی ہے کیونکہ ان احادیث کے رواۃ نے اسے خطبہ کا نام دیا ہے جیسے عرفات کے خطبہ کو خطبہ کہا گیا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ٤٨٦٧) (صحیح )
1956Sunan Abu Dawood

یوم النحر میں خطبہ کس وقت پڑھے

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ، عَنْ هِلَالِ بْنِ عَامِرٍ الْمُزْنِيِّ، حَدَّثَنِي رَافِعُ بْنُ عَمْرٍو الْمُزْنِيُ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ النَّاسَ بِمِنًى حِينَ ارْتَفَعَ الضُّحَى عَلَى بَغْلَةٍ شَهْبَاءَ، وَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُعَبِّرُ عَنْهُ وَالنَّاسُ بَيْنَ قَاعِدٍ وَقَائِمٍ.

رافع بن عمرو المزنی کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو منیٰ میں ایک سفید خچر پر سوار لوگوں کو خطبہ دیتے سنا جس وقت آفتاب بلند ہوچکا تھا اور علی ؓ آپ کی طرف سے اسے لوگوں کو پہنچا ١ ؎ رہے تھے اور دور والوں کو بتا رہے تھے، کچھ لوگ بیٹھے ہوئے تھے اور کچھ کھڑے تھے۔

Narrated Rafi ibn Amr al-Muzani (RA) : I saw the Messenger of Allah ﷺ addressing the people at Mina (on the day of sacrifice) when the sun rose high (i. e. in the forenoon) on a white mule, and Ali (Allah be pleased with him) was interpreting on his behalf; some people were standing and some sitting.

Notes · وضاحت
١ ؎: رسول اللہ ﷺ سے سن کر وہی کلمات بلند آواز سے دہرا رہے تھے تاکہ جو لوگ آپ ﷺ سے دور ہیں وہ بھی اسے سن لیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ٣٥٩٧)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/ الکبری/ الحج (٤٠٩٤) (صحیح )
1957Sunan Abu Dawood

منی میں خطبہ کے دوران امام کیا بیان کرے

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ حُمَيْدٍ الْأَعْرَجِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُعَاذٍ التَّيْمِيِّ، قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ بِمِنًى فَفُتِحَتْ أَسْمَاعُنَا حَتَّى كُنَّا نَسْمَعُ مَا يَقُولُ وَنَحْنُ فِي مَنَازِلِنَا، فَطَفِقَ يُعَلِّمُهُمْ مَنَاسِكَهُمْ حَتَّى بَلَغَ الْجِمَارَ فَوَضَعَ أُصْبُعَيْهِ السَّبَّابَتَيْنِ، ثُمَّ قَالَ: بِحَصَى الْخَذْفِ، ثُمَّ أَمَرَ الْمُهَاجِرِينَ فَنَزَلُوا فِي مُقَدَّمِ الْمَسْجِدِ وَأَمَرَ الْأَنْصَارَ فَنَزَلُوا مِنْ وَرَاءِ الْمَسْجِدِ ثُمَّ نَزَلَ النَّاسَ بَعْدَ ذَلِكَ.

عبدالرحمٰن بن معاذ تمیمی ؓ کہتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ نے خطبہ دیا، ہم منیٰ میں تھے تو ہمارے کان کھول دئیے گئے آپ جو بھی فرماتے تھے ہم اسے سن لیتے تھے، ہم اپنے ٹھکانوں میں تھے، آپ ﷺ نے لوگوں کو ارکان حج سکھانا شروع کئے یہاں تک کہ جب آپ جمرات تک پہنچے تو آپ ﷺ نے اپنی شہادت کی دونوں انگلیوں کو رکھ کر اتنی چھوٹی چھوٹی کنکریاں ماریں جو انگلیوں کے درمیان آسکتی تھیں پھر آپ ﷺ نے مہاجرین کو حکم دیا کہ وہ مسجد کے اگلے حصہ میں اتریں اور انصار کو حکم دیا کہ وہ لوگ مسجد کے پیچھے اتریں اس کے بعد سب لوگ اترے۔

Narrated Abdur Rahman ibn Muadh at-Taymi (RA) : The Messenger of Allah ﷺ addressed us when we were at Mina. Our ears were open and we were listening to what he was saying, while we were in our dwellings. He began to teach them the rites of hajj till he reached the injunction of throwing pebbles at the Jamrahs (pillars at Mina). He put his forefingers in his ears and said: (Throw small pebbles. He then commanded the Emigrants (Muhajirun) to station themselves. They stationed themselves before the mosque. He then commanded the Helpers (Ansar) to encamp. They encamped behind the mosque. Thereafter the people encamped.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الحج ١٨٩(٢٩٩٩)، (تحفة الأشراف: ٩٧٣٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٦١)، سنن الدارمی/المناسک ٥٩ (١٣٩٣) (صحیح )
1958Sunan Abu Dawood

منی والی راتوں میں مکہ میں رہنا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي حَرِيزٌ، أَوْ أَبُو حَرِيزٍ الشَّكّ مِنْ يَحْيَى، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ فَرُّوخٍ يَسْأَلُ ابْنَ عُمَرَ، قَالَ: إِنَّا نَتَبَايَعُ بِأَمْوَالِ النَّاسِ فَيَأْتِي أَحَدُنَا مَكَّةَ فَيَبِيتُ عَلَى الْمَالِ ؟ فَقَالَ: أَمَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَاتَ بِمِنًى وَظَلَّ.

حریز یا ابوحریز بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے عبدالرحمٰن بن فروخ کو ابن عمر ؓ سے پوچھتے ہوئے سنا، وہ کہہ رہے تھے کہ ہم لوگوں کا مال بیچتے ہیں تو کیا ہم میں سے کوئی منیٰ کی راتوں میں مکہ میں جا کر مال کے پاس رہے؟ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ تو رات اور دن دونوں منیٰ میں رہا کرتے تھے ١ ؎۔

Ibn Jurayj asked Ibn Umar (RA) : We sell the property of the people; so one of us goes to Makkah and passes the night there with the property (during the stay at Mina). He said: The Messenger of Allah ﷺ used to pass night and day at Mina.

Notes · وضاحت
١ ؎: اس لئے مکہ میں رات گزارنی خلاف سنت اور ناجائز ہے، بعض علماء کے یہاں صرف شدید ضرورت کے وقت اس کی اجازت ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ٦٦٨٧) (ضعیف) (اس کے راوی حریز، یا ابوحریز حجازی مجہول ہیں )
1959Sunan Abu Dawood

منی والی راتوں میں مکہ میں رہنا

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، وَأَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: اسْتَأْذَنَ الْعَبَّاسُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبِيتَ بِمَكَّةَ لَيَالِيَ مِنًى مِنْ أَجْلِ سِقَايَتِهِ، فَأَذِنَ لَهُ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ عباس ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے حاجیوں کو پانی پلانے کی وجہ سے منیٰ کی راتوں کو مکہ میں گزارنے کی اجازت مانگی تو آپ ﷺ نے انہیں اجازت دے دی۔

Narrated Ibn Umar (RA) : Al-Abbas sought permission from the Messenger of Allah ﷺ to pass the night at Makkah during the period of his stay at Mina for distributing water among the people. He gave him permission.

Takhrij · تخریج
حدیث ابن نمیر أخرجہ صحیح البخاری/الحج ١٣٣ (١٧٤٥)، صحیح مسلم/الحج ٦٠ (١٣١٥)، سنن ابن ماجہ/المناسک ٨٠ (٣٠٦٥)، مسند احمد (٢/٢٢)، وحدیث أبو أسامة أخرجہ: صحیح البخاری/ الحج ١٣٣ (١٧٤٥ تعلیقاً )، صحیح مسلم/الحج ٦٠ (١٣١٥)، سنن الدارمی/المناسک ٩١ (١٩٨٦)، ( تحفة الأشراف: ٧٨٢٤) (صحیح )
1960Sunan Abu Dawood

منی میں نماز کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، أَنَّ أَبَا مُعَاوِيَةَ، وَحَفْصَ بْنَ غِيَاثٍ حَدَّثَاهُ وَحَدِيثُ أَبِي مُعَاوِيَةَ أَتَمُّ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: صَلَّى عُثْمَانُ بِمِنًى أَرْبَعًا، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ، وَمَعَ أَبِي بَكْرٍ رَكْعَتَيْنِ وَمَعَ عُمَرَ رَكْعَتَيْنِ، زَادَ عَنْ حَفْصٍ، وَمَعَ عُثْمَانَ صَدْرًا مِنْ إِمَارَتِهِ ثُمَّ أَتَمَّهَا، زَادَ مِنْ هَا هُنَا عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ: ثُمَّ تَفَرَّقَتْ بِكُمُ الطُّرُقُ، فَلَوَدِدْتُ أَنْ لِي مِنْ أَرْبَعِ رَكَعَاتٍ رَكْعَتَيْنِ مُتَقَبَّلَتَيْنِ، قَالَ الْأَعْمَشُ: فَحَدَّثَنِي مُعَاوِيَةَ بْنُ قُرَّةَ، عَنْ أَشْيَاخِهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ صَلَّى أَرْبَعًا، قَالَ: فَقِيلَ لَهُ: عِبْتَ عَلَى عُثْمَانَ ثُمَّ صَلَّيْتُ أَرْبَعًا، قَالَ: الْخِلَافُ شَرٌّ.

عبدالرحمٰن بن یزید کہتے ہیں کہ عثمان ؓ نے منیٰ میں چار رکعتیں پڑھیں تو عبداللہ بن مسعود ؓ نے کہا: میں نے نبی اکرم ﷺ، ابوبکر اور عمر ؓ کے ساتھ دو ہی رکعتیں پڑھیں (اور حفص کی روایت میں اتنا مزید ہے کہ) عثمان ؓ کے ساتھ ان کی خلافت کے شروع میں، پھر وہ پوری پڑھنے لگے، (ایک روایت میں ابومعاویہ سے یہ ہے کہ) پھر تمہاری رائیں مختلف ہوگئیں، میری تو خواہش ہے کہ میرے لیے چار رکعتوں کے بجائے دو مقبول رکعتیں ہی ہوں۔ اعمش کہتے ہیں: مجھ سے معاویہ بن قرہ نے اپنے شیوخ کے واسطہ سے بیان کیا ہے کہ عبداللہ بن مسعود ؓ نے چار رکعتیں پڑھیں، تو ان سے کہا گیا: آپ نے عثمان پر اعتراض کیا، پھر خود ہی چار پڑھنے لگے؟ تو انہوں نے کہا: اختلاف برا ہے۔

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/تقصیرالصلاة ٢ (١٠٨٤)، والحج ٨٤ (١٦٥٧)، صحیح مسلم/المسافرین ٢ (٦٩٥)، سنن النسائی/تقصیر الصلاة ٣ (١٤٥٠)، (تحفة الأشراف: ٩٣٨٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٣٧٨، ٤١٦، ٤٢٢، ٤٢٥، ٤٦٤)، سنن الدارمی/المناسک ٤٧ (١٩١٦) (صحیح ) Narrated Abdur-Rahman bin Zaid: Uthman prayed four rakahs at Mina. Abdullah (bin Masud) said: I prayed two rakahs along with the Prophet ﷺ and two rakahs along with Umar. The version of Hafs added: And along with Uthman during the early period of his caliphate. He (Uthman) began to offer complete prayer (i. e. four rakahs) later on. The version of Abu Muawiyah added: Then your modes of action varied. I would like to pray two rakahs acceptable to Allah instead of four rakahs. Al-Amash said: Muawiyah bin Qurrah reported to me from his teachers: Abdullah (bin Masud) once prayed four rakahs. He was told: You criticized Uthman but you yourself prayed four ? He replied: Dissension is evil.
1961Sunan Abu Dawood

منی میں نماز کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، أَنَّ عُثْمَانَ إِنَّمَا صَلَّى بِمِنًى أَرْبَعًا لِأَنَّهُ أَجْمَعَ عَلَى الْإِقَامَةِ بَعْدَ الْحَجِّ.

زہری سے روایت ہے کہ عثمان ؓ نے منیٰ میں چار رکعتیں صرف اس لیے پڑھیں کہ انہوں نے حج کے بعد وہاں اقامت کی نیت کی تھی۔

Narrated Az-Zuhri (RA) : Uthman prayed four rakahs at Mina because he resolved to stay there after hajj.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود (ضعیف) (سند میں انقطاع ہے، زہری نے عثمان ؓ کو نہیں پایا ہے )