Sunan Abu Dawood 1945

مناسک حج کا بیان

1945Sunan Abu Dawood

حج اکبر کا بیان

حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ يَعْنِي ابْنَ الْغَازِ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَفَ يَوْمَ النَّحْرِ بَيْنَ الْجَمَرَاتِ فِي الْحَجَّةِ الَّتِي حَجَّ، فَقَالَ: أَيُّ يَوْمٍ هَذَا ؟، قَالُوا: يَوْمُ النَّحْرِ، قَالَ: هَذَا يَوْمُ الْحَجِّ الْأَكْبَرِ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نحر کے روز (دسویں ذی الحجہ کو) حجۃ الوداع میں جمرات کے درمیان کھڑے ہوئے اور لوگوں سے پوچھا: یہ کون سا دن ہے؟ ، لوگوں نے جواب دیا: یوم النحر، آپ ﷺ نے فرمایا: یہی حج اکبر کا دن ہے ١ ؎۔

Narrated Abdullah ibn Umar (RA) : The Messenger of Allah ﷺ halted on the day of sacrifice between the jamrahs (pillars at Mina) during hajj which he performed. He asked: Which is this day? They replied: This is the day of sacrifice. He said: This is the day of greater hajj.

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی قرآن مجید میں جو يوم الحج الأكبر آیا ہے اس سے مراد یوم نحر ہی ہے، حج کو حج اکبر کہا جاتا ہے اور عمرہ کو حج اصغر، اور وہ جو عوام میں مشہور ہے کہ ” جمعہ کے دن یوم عرفہ پڑے تو حج اکبر ہے “ تو یہ بات بےدلیل اور بےاصل ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/ الحج ١٣٢ (١٧٤٢ تعلیقًا)، سنن ابن ماجہ/المناسک ٧٦ (٣٠٥٨)، ( تحفة الأشراف: ٨٥١٤) (صحیح )