زہری کہتے ہیں جب عثمان ؓ نے طائف میں اپنی جائیداد بنائی اور وہاں قیام کرنے کا ارادہ کیا تو وہاں چار رکعتیں پڑھیں، وہ کہتے ہیں: پھر اس کے بعد ائمہ نے اسی کو اپنا لیا۔
Narrated Az-Zuhri (RA) : When Uthman placed his property at at-Taif and intended to settle there, he prayed four rakahs. The rulers after him followed the same practice.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود (ضعیف) (سند میں زہری اور عثمان ؓ کے درمیان انقطاع ہے )
زہری سے روایت ہے کہ عثمان بن عفان ؓ نے منیٰ میں نماز اس وجہ سے پوری پڑھی کہ اس سال بدوی لوگ بہت آئے تھے تو انہوں نے چار رکعتیں پڑھیں تاکہ ان لوگوں کو معلوم ہو کہ نماز (اصل میں) چار رکعت ہی ہے (نہ کہ دو، جو قصر کی صورت میں پڑھی جاتی ہے) ۔
Narrated Az-Zuhri (RA) : Uthman offered complete prayer at Mina for the sake of bedouins who attended (hajj) in large numbers that year. He led the people four rakahs in prayer in order to teach them that the prayer (i. e. noon or afternoon prayer) essentially contained four rakahs.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود (حسن لغیرہ) (سند میں زہری اور عثمان ؓ کے درمیان انقطاع ہے، لیکن دوسرے متصل طریق سے تقویت پا کر یہ حدیث حسن ہوئی، ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود ٦ ؍ ٢٠٦ )
ابواسحاق کہتے ہیں کہ مجھ سے حارثہ بن وہب خزاعی نے بیان کیا اور ان کی والدہ عمر ؓ کے نکاح میں تھیں تو ان سے عبیداللہ بن عمر کی ولادت ہوئی، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے پیچھے منیٰ میں نماز پڑھی، اور لوگ بڑی تعداد میں تھے، تو آپ نے ہمیں حجۃ الوداع میں دو رکعتیں پڑھائیں ١ ؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حارثہ کا تعلق خزاعہ سے ہے اور ان کا گھر مکہ میں ہے۔
Narrated Harithah ibn Wahb al-Khuzai,: I prayed along with the Messenger of Allah ﷺ at Mina and the people gathered there in large numbers. He led us two rakahs in prayer in the Farewell Pilgrimage. Abu Dawud said: Harithah belonged to the tribe of Khuzaah, and they had their houses in Makkah.
Notes · وضاحت
١ ؎: محقق علماء کا قول یہ ہے کہ اہل مکہ بھی منیٰ اور عرفات میں قصر کریں گے، یہ حج کے مسائل میں سے ہے، یہاں مسافر اور مقیم کے درمیان کوئی فرق نہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/تقصیر الصلاة ٢ (١٠٨٣)، والحج ٨٤ (١٦٥٦)، صحیح مسلم/المسافرین ٢ (٦٩٦)، سنن الترمذی/الحج ٥٢ (٨٨٢)، سنن النسائی/تقصیر الصلاة ٢ (١٤٤٦)، ( تحفة الأشراف: ٣٢٨٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٠٦) (صحیح )
والدہ سلیمان بن عمرو بن احوص ؓ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو سوار ہو کر بطن وادی سے جمرہ پر رمی کرتے دیکھا، آپ ﷺ ہر کنکری پر تکبیر کہتے تھے، ایک شخص آپ کے پیچھے تھا، وہ آپ پر آڑ کر رہا تھا، میں نے پوچھا: یہ کون ہے؟ تو لوگوں نے کہا: فضل بن عباس ؓ ہیں، اور لوگوں کی بھیڑ ہوگئی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: لوگو! تم میں سے کوئی کسی کو قتل نہ کرے (یعنی بھیڑ کی وجہ سے ایک دوسرے کو کچل نہ ڈالے) اور جب تم رمی کرو تو ایسی چھوٹی کنکریوں سے مارو جنہیں تم دونوں انگلیوں کے بیچ رکھ سکو ۔
Narrated Sulaiman bin Amr bin al-Ahwas (RA) : On the authority of his mother: I saw the Messenger of Allah ﷺ throwing pebbles at the jamrah from the botton of wadi (valley) while he was riding (on a camel). He was uttering the takbir (Allah is most great) with each pebble. A man behind him was shading him. I asked about the man. They (the people) said: He is al-Fadl bin al-Abbas. The people crowded. The Prophet ﷺ said: O people, do not kill each other ; when you throw pebbled at the jamrah, throw small pebbles.
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/المناسک ٦٣ (٣٠٢٨)، ( تحفة الأشراف: ١٨٣٠٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٥٠٣، ٥/٢٧٠، ٣٧٩، ٦/٣٧٩) (حسن )
والدہ سلیمان بن عمرو بن احوص ؓ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو جمرہ عقبہ کے پاس سوار دیکھا اور میں نے دیکھا کہ آپ کی انگلیوں میں کنکریاں تھیں، تو آپ نے بھی رمی کی اور لوگوں نے بھی رمی کی ١ ؎۔
Sulaiman bin Amr bin Ahwas reported on the authority of his mother: I saw the Messenger of Allah ﷺ near the Jamrat al-Aqabah (the third or last pillar) riding (on a camel) and I saw a pebble between his fingers. He threw the pebbles and the people also threw (stones at the Jamrah).
Notes · وضاحت
١ ؎: ان احادیث سے معلوم ہوا کہ جمرات کی رمی سواری پر درست ہے، لیکن موجودہ حالات میں منتظمین حج کے احکام کی روشنی میں مناسک حج، قربانی، اور رمی جمرات وغیرہ کے کام انجام دینا چاہیے۔
اس سند سے بھی یزید بن ابی زیاد سے اسی طریق سے اسی حدیث کے ہم مثل مروی ہے اس میں ولم يقم عندها اور اس کے پاس نہیں ٹھہرے کا جملہ زائد ہے۔
The aforesaid tradition (No 1963) has also been transmitted by Yazid ibn Abu Ziyad with a different chain of narrators. This version adds the words: He (the Prophet) did not stand near it (the jamrah).
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ١٩٦٦، ( تحفة الأشراف: ١٨٣٠٦) (صحیح )
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ وہ یوم النحر کے بعد تین دنوں میں جمرات کی رمی کے لیے پیدل چل کر آتے تھے اور پیدل ہی واپس جاتے اور وہ بتاتے تھے کہ خود نبی اکرم ﷺ ایسا ہی کرتے تھے ١ ؎۔
Nafi reported on the authority of Ibn Umar. He (ibn Umar) used to come (to Mina) and threw pebbles three days after the day of sacrifice walking when arriving and returning (both ways). He reported that the Prophet ﷺ used to do so.
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے معلوم ہوا کہ رمی جمرات کے لئے پیدل چل کر آنا افضل ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ٧٧٢٧)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الحج ٦٣ (٨٩٩)، مسند احمد (٢/١١٤، ١٣٨، ١٥٦) (صحیح )
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا آپ اپنی سواری پر یوم النحر کو رمی کر رہے تھے، آپ ﷺ فرما رہے تھے: تم لوگ اپنے حج کے ارکان سیکھ لو کیونکہ مجھے نہیں معلوم کہ میں اپنے اس حج کے بعد کوئی حج کرسکوں گا یا نہیں ۔
Narrated Jabir bin Abdullah (RA) : I saw the Messenger of Allah ﷺ throwing pebbles on the day of sacrifice while on his riding beast and saying: Learn your rites, for I do not know whether I am likely to perform Hajj after this occasion.
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اپنی سواری پر بیٹھ کر یوم النحر کو چاشت کے وقت رمی کرتے دیکھا پھر اس کے بعد جو رمی کی (یعنی گیارہ، بارہ اور تیرہ کو) تو وہ زوال کے بعد کی۔
Narrated Jabir: I saw the Messenger of Allah ﷺ throwing pebbles on the day of sacrifice while on his riding beast in the forenoon, and next when the sun had passed the meridian.
وبرہ کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر ؓ سے پوچھا کہ کنکریاں کب ماروں؟ آپ نے کہا: جب تمہارا امام کنکریاں مارے تو تم بھی مارو، میں نے پھر یہی سوال کیا، انہوں نے کہا: ہم سورج ڈھلنے کا انتظار کرتے تھے تو جب سورج ڈھل جاتا تو ہم کنکریاں مارتے۔
Narrated Wabrah (RA) : I asked Ibn Umar (RA) : When should I throw pebbles at the jamrah? He replied: When your imam (leader at Hajj) throws pebbles, at that time you should throw them. I repeated the question to him. Thereupon he said: We used to wait for the time when the sun passes the meridian. When the sun declined, we threw the pebbles.
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے (یوم النحر) کے آخری حصہ میں جس وقت ظہر پڑھ لی طواف افاضہ کیا، پھر منیٰ لوٹے اور تشریق کے دنوں تک وہاں ٹھہرے رہے، جب سورج ڈھل جاتا تو ہر جمرے کو سات سات کنکریاں مارتے، ہر کنکری کے ساتھ تکبیر کہتے، اور پہلے اور دوسرے جمرے پر دیر تک ٹھہرتے، روتے، گڑگڑاتے اور دعا کرتے اور تیسرے جمرے کو کنکریاں مار کر اس کے پاس نہیں ٹھہرتے۔
Narrated Aisha (RA) : The Messenger of Allah ﷺ performed the obligatory circumambulation of the Kabah at the end of the day of sacrifice after he had offered the noon prayer. He hen returned to Mina and stayed there during the tashriq days and he threw pebbles at the jamrahs when the sun declined. He threw seven pebbles at each of the jamrahs, uttering the takbir (Allah is most great) at the time of the throwing the pebble. He stood at the first and the second jamrah, and prolonged his standing there, making supplications with humilation. He threw pebbles at the third jamrah but did not stand there.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ١٧٥٢٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٩٠) (صحیح) (لیکن صلی الظہر۔ ظہر پڑھی۔ کا جملہ صحیح نہیں ہے )
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ جب وہ جمرہ کبری (جمرہ عقبہ) کے پاس آئے تو بیت اللہ کو اپنے بائیں جانب اور منیٰ کو دائیں جانب کیا اور جمرے کو سات کنکریاں ماریں، اور کہا: اسی طرح اس ذات نے بھی کنکریاں ماری تھیں جس پر سورة البقرہ نازل کی گئی۔
Narrated Abdur-Rahman bin Yazid: On the authority of Ibn Masud (RA) : When Ibn Masud came to the largest jamrah, he stood with the House (the Kabah) on his left and Mina on his right, and he thew seven pebbles at the jamrah. Then he said: Thus he did throw to whom Surat al-Baqarah was sent down.
عاصم سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اونٹ کے چرواہوں کو (منیٰ میں) رات نہ گزارنے کی رخصت دی اور یہ کہ وہ یوم النحر کو رمی کریں، پھر اس کے بعد والے دن یعنی گیارہویں کو گیارہویں اور بارہویں دونوں دنوں کی رمی کریں، اور پھر روانگی کے دن (تیرہویں کو) رمی کریں گے۔
Narrated Abu al-Baddah bin Asim: On the authority of his father Asim: The Messenger of Allah ﷺ gave permission to the herdsmen of the camels not to pass night at Mina and asked them to throw pebbles on the day of sacrifice, and to throw pebbles at the jamrahs the next day and the following two days, and on the day of their return.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الحج ١٠٨ (٩٥٤ و ٩٥٥)، سنن النسائی/الحج ٢٢٥ (٣٠٧)، سنن ابن ماجہ/المناسک ٦٧ (٣٠٣٦، ٣٠٣٧)، (تحفة الأشراف: ٥٠٣٠)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الحج ٧٢ (٢١٨)، مسند احمد (٥/٤٥٠)، سنن الدارمی/المناسک ٥٨ (١٩٣٨) (صحیح )
عاصم بن عدی ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے چرواہوں کو رخصت دی کہ ایک دن رمی کریں اور ایک دن ناغہ کریں۔
Narrated Abu al-Baddah bin Asim bin Adi: On the authority of his father: The Messenger of Allah ﷺ permitted the herdsmen of the camel to lapidate the the jamrahs one day and omit one day.
ابومجلز کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس ؓ سے رمی جمرات کا حال دریافت کیا تو انہوں نے کہا: مجھے نہیں معلوم کہ رسول اللہ ﷺ نے چھ کنکریاں ماریں یا سات ١ ؎۔
Abu Mijlaz said: I asked Ibn Abbas about a thing concerning the throwing of stones at the jamrahs. He said: I do not know whether the Messenger of Allah ﷺ threw six or seven pebbles.
Notes · وضاحت
١ ؎: عبداللہ بن عباس ؓ کو معلوم نہ ہوسکا تھا، دوسرے صحابہ کرام ؓ کی روایات سے ہر جمرے کو سات کنکریاں مارنا ثابت ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الحج ٢٢٧ (٣٠٨٠)، ( تحفة الأشراف: ٦٥٤١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٣٧٢) (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے جب کوئی جمرہ عقبہ کی رمی کرلے تو اس کے لیے سوائے عورتوں کے ہر چیز حلال ہے ١ ؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث ضعیف ہے، حجاج نے نہ تو زہری کو دیکھا ہے اور نہ ہی ان سے سنا ہے ٢ ؎۔
Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : The Messenger of Allah ﷺ said: When one of you throws pebbles at the last jamrah (Jamrat al-Aqabah), everything becomes lawful for him except women (sexual intercourse). Abu Dawud said: This is a weak tradition. The narrator al-Hajjaj neither saw al-Zuhri nor heard tradition from him.
Notes · وضاحت
١ ؎: بیویوں سے صحبت یا بوس وکنار اس وقت جائز ہوگا جب حاجی طواف زیارت سے فارغ ہوجائے۔ ٢ ؎: مسند احمد کی سند میں زہری کی جگہ ابوبکر بن محمد بن عمرو بن حزم ہیں حجاج بن أرطاۃ کا ان سے سماع ثابت ہے، نیز حدیث کے دیگر شواہد بھی ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ١٧٩٢٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/١٤٣) (صحیح) (متابعات اور شواہد سے تقویت پا کر یہ روایت صحیح ہے )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللهم ارحم المحلقين اے اللہ سر منڈوانے والوں پر رحم کر ، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اور کٹوانے والوں پر؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اللهم ارحم المحلقين اے اللہ سر منڈوانے والوں پر رحم فرما ، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اور کٹوانے والوں پر؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اور کٹوانے والوں پر بھی ١ ؎۔
Narrated Abdullah bin Umar (RA) : That the Messenger of Allah ﷺ said: O Allah, have mercy on those who have themselves shaved. The people said: Messenger of Allah, and those who have clipped their hair. He again said: O Allah, have mercy on those who have themselves shaved. The people said: Messenger of Allah, those who have clipped their hair. He said: and those who clip their hair.
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بال منڈانا کتروانے سے زیادہ بہتر ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحج ١٤٧ (١٧٢٧)، صحیح مسلم/الحج ٥٥ (١٣٠١)، سنن ابن ماجہ/المناسک ٧١ (٣٠٤٣)، ( تحفة الأشراف: ٧٩٤٧، ١٨٣٥٤)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الحج ٤٧ (٩١٣)، موطا امام مالک/الحج ٦٠(١٨٤)، مسند احمد (٢/٣٤، ٧٩، ١٣٨، ١٥١)، سنن الدارمی/المناسک ٦٤ (١٩٤٧) (صحیح )
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حجۃ الوداع میں اپنا سر منڈوایا۔
Narrated Ibn Umar (RA) : The Messenger of Allah ﷺ had his head shaved at the Farewell Pilgrimage. The aforesaid tradition has also been transmitted by Hisham n. Hassan through a different chain of narrators. This version adds: He said to the barber: Start with the right side and shave it.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المغازی ٧٨ (٤٤١٠)، صحیح مسلم/ الحج ٥٥ (١٣٠٤)، ( تحفة الأشراف: ٨٤٥٤)، وقد أخرجہ: (٢/٨٨، ١٢٨) (صحیح )
ہشام بن حسان سے اس سند سے بھی یہی حدیث مروی ہے البتہ اس میں اس طرح ہے آپ ﷺ نے حلاق (سر مونڈنے والے) سے فرمایا: میرے دائیں جانب سے شروع کرو اور اسے مونڈو ۔
انظر ما قبلہ، ( تحفة الأشراف: ١٤٥٦) (صحیح )
انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے یوم النحر کو جمرہ عقبہ کی رمی کی، پھر آپ منیٰ میں اپنی قیام گاہ لوٹ آئے، پھر قربانی کے جانور منگا کر انہیں ذبح کیا، اس کے بعد حلاق (سر مونڈنے والے کو بلایا) ، اس نے آپ ﷺ کے سر کے داہنے حصے کو پکڑا، اور بال مونڈ دیئے ١ ؎، پھر ایک ایک اور دو دو بال ان لوگوں میں تقسیم کئے جو آپ کے قریب تھے پھر بایاں جانب منڈوایا اور فرمایا: ابوطلحہ یہاں ہیں؟ اور وہ سب بال ابوطلحہ کو دے دیئے۔
Narrated Anas bin Malik (RA) : The Messenger of Allah ﷺ threw pebbles at the last jamrah (Jamrat al-Aqabah) on the day of sacrifice. He then returned to his lodging at Mina. He called for a sacrificial animal which he slaughtered. He then called for a barber. He held the right side of his head and shaved it. He then began to distribute among those who were around him one or two hair each. He then held the left side of his head and shaved it. Again he said: Is Abu Talhah here ? He then gave it (the hair shaved off) to Abu Talhah.
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بال کٹوانے کے مقابلے میں منڈوانا زیادہ بہتر ہے، اور بال منڈوانے اور کتروانے میں یہ خیال رہے کہ اس کو داہنی جانب سے شروع کرے، مونڈنے والے کو بھی اس سنت کا خیال رکھنا چاہیے۔