مناسک حج کا بیان

Sunan Abu Dawood · Chapter 6 · 323 hadiths · Page 14 of 17

1983Sunan Abu Dawood

سر منڈانے اور بال کتروانے کا بیان

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُسْأَلُ يَوْمَ مِنًى، فَيَقُولُ: لَا حَرَجَ، فَسَأَلَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: إِنِّي حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ، قَالَ: اذْبَحْ وَلَا حَرَجَ، قَالَ: إِنِّي أَمْسَيْتُ وَلَمْ أَرْمِ، قَالَ: ارْمِ وَلَا حَرَجَ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ سے منیٰ کے دن پوچھا جاتا تو آپ ﷺ فرماتے: کوئی حرج نہیں ، چناچہ ایک شخص نے پوچھا: میں نے ذبح کرنے سے پہلے حلق کرا لیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ذبح کرلو، کوئی حرج نہیں ، دوسرے نے کہا: مجھے شام ہوگئی اور میں نے اب تک رمی نہیں کی، آپ ﷺ نے فرمایا: رمی اب کرلو، کوئی حرج نہیں ١ ؎۔

Narrated Ibn Abbas (RA) : The Prophet ﷺ was asked (about rites of Hajj) on the day of stay at Mina. He said: No harm. A man asked him: I got myself shaved before I slaughtered. He said: Slaughter, there is no harm. He again asked: The evening came but I did not throw stones at the jamrah. He replied: Throw stones now ; there is no harm.

Notes · وضاحت
١ ؎: حج میں نحر (قربانی) کے دن جمرہ کبری کو کنکری مارنا، ہدی کا جانور ذبح کرنا، بالوں کا حلق (منڈوانا) یا قصر (کٹوانا) پھر طواف افاضہ (طواف زیارہ) (یعنی کعبۃ اللہ کا طواف اور صفا ومروہ کی سعی) میں ترتیب افضل ہے، مگر اس حدیث کی روشنی میں رمی، ذبح، حلق، اور طواف میں ترتیب باقی نہ رہ جائے تو دم لازم نہیں ہوگا، اور نہ ہی حج میں کوئی حرج واقع ہوگا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/العلم ٢٤ (٨٤)، والحج ١٢٥(١٧٢٣)، ١٣٠ (١٧٣٥)، والأیمان ١٥ (٦٦٦٦)، سنن النسائی/الحج ٢٢٤ (٣٠٦٩)، سنن ابن ماجہ/المناسک ٧٤ (٣٠٥٠)، ( تحفة الأشراف: ٦٠٤٧)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الحج ٥٧ (١٣٠٧)، مسند احمد (١/٢١٦، ٢٥٨، ٢٦٩، ٢٩١، ٣٠٠، ٣١١، ٣٢٨) (صحیح )
1984Sunan Abu Dawood

سر منڈانے اور بال کتروانے کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْعَتَكِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: بَلَغَنِي عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ بْنِ عُثْمَانَ، قَالَتْ: أَخْبَرَتْنِي أُمُّ عُثْمَانَ بِنْتُ أَبِي سُفْيَانَ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَيْسَ عَلَى النِّسَاءِ حَلْقٌ، إِنَّمَا عَلَى النِّسَاءِ التَّقْصِيرُ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عورتوں پر حلق نہیں صرف تقصير (بال کٹانا) ہے ۔

Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : The Prophet ﷺ said: Shaving is not a duty laid on women; only clipping the hair is incumbent on them.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ٦٥٧٦)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/المناسک ٦٣ (١٩٤٦) (صحیح) (اگلی سند سے تقویت پا کر یہ روایت بھی صحیح ہے )
1985Sunan Abu Dawood

سر منڈانے اور بال کتروانے کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو يَعْقُوبَ الْبَغْدَادِيُّ ثِقَةٌ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ شَيْبَةَ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ، قَالَتْ: أَخْبَرَتْنِي أُمُّ عُثْمَانَ بِنْتُ أَبِي سُفْيَانَ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَيْسَ عَلَى النِّسَاءِ الْحَلْقُ، إِنَّمَا عَلَى النِّسَاءِ التَّقْصِيرُ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عورتوں پر حلق نہیں بلکہ صرف تقصير (بال کٹانا) ہے ۔

Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : The Prophet ﷺ said: Shaving is not a duty laid on women; only clipping the hair is incumbent on them.

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، ( تحفة الأشراف: ٦٥٧٦) (صحیح )
1986Sunan Abu Dawood

عمرہ کا بیان

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ، وَيَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ، عَنْابْنِ عُمَرَ، قَالَ: اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ يَحُجَّ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حج کرنے سے پہلے عمرہ کیا۔

Narrated Ibn Umar (RA) : The Messenger of Allah ﷺ performed Umrah before performing Hajj.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/العمرة ٢ (١٧٧٤)، ( تحفة الأشراف: ٧٣٤٥) (صحیح )
1987Sunan Abu Dawood

عمرہ کا بیان

حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ ابْنِ أَبِي زَائِدَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: وَاللَّهِ مَا أَعْمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَائِشَةَ فِي ذِي الْحِجَّةِ إِلَّا لِيَقْطَعَ بِذَلِكَ أَمْرَ أَهْلِ الشِّرْكِ، فَإِنَّ هَذَا الْحَيَّ مِنْ قُرَيْشٍ وَمَنْ دَانَ دِينَهُمْ كَانُوا يَقُولُونَ: إِذَا عَفَا الْوَبَرْ وَبَرَأَ الدَّبَرْ وَدَخَلَ صَفَرْ فَقَدْ حَلَّتِ الْعُمْرَةُ لِمَنِ اعْتَمَرْ، فَكَانُوا يُحَرِّمُونَ الْعُمْرَةَ حَتَّى يَنْسَلِخَ ذُو الْحِجَّةِ وَالْمُحَرَّمُ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم! رسول اللہ ﷺ نے ام المؤمنین عائشہ ؓ کو ذی الحجہ میں عمرہ صرف اس لیے کرایا کہ مشرکین کا خیال ختم ہوجائے اس لیے کہ قریش کے لوگ نیز وہ لوگ جو ان کے دین پر چلتے تھے، کہتے تھے: جب اونٹ کے بال بڑھ جائیں اور پیٹھ کا زخم ٹھیک ہوجائے اور صفر کا مہینہ آجائے تو عمرہ کرنے والے کا عمرہ درست ہوگیا، چناچہ وہ ذی الحجہ اور محرم (اشہر حرم) کے ختم ہونے تک عمرہ کرنا حرام سمجھتے تھے۔

Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : By Allah, the Messenger of Allah ﷺ did not make Aisha (RA) perform Umrah during Dhul-Hijjah but to discontinue the practice of the idolaters (in Arabia before Islam), for this clan of Quraysh and those who followed them used to say: When the fur of the camel abounds, and the wounds on the back of the camels are recovered and the month of Safar begins, Umrah becomes lawful for one who performs Umrah. They considered performing Umrah unlawful till the months of Dhul-Hijjah and al-Muharram passed away.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ٥٧٢٢)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحج ٣٤ (١٥٦٤)، ومناقب الأنصار ٢٦ (٣٨٣٢)، صحیح مسلم/الحج ٣١ (١٢٤٠)، سنن النسائی/الحج ٧٧ (٢٨١٦)، ١٠٨ (٢٨٧٠)، مسند احمد (١/٢٥٢، ٢٦١) (حسن )
1988Sunan Abu Dawood

عمرہ کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَنِي رَسُولُ مَرْوَانَالَّذِي أُرْسِلَ إِلَى أُمِّ مَعْقَلٍ، قَالَتْ: كَانَ أَبُو مَعْقَلٍ حَاجًّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا قَدِمَ، قَالَتْ أُمُّ مَعْقَلٍ: قَدْ عَلِمْتَ أَنَّ عَلَيَّ حَجَّةً فَانْطَلَقَا يَمْشِيَانِ حَتَّى دَخَلَا عَلَيْهِ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ عَلَيَّ حَجَّةً وَإِنَّ لِأَبِي مَعْقَلٍ بَكْرًا، قَالَ أَبُو مَعْقَلٍ: صَدَقَتْ جَعَلْتُهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَعْطِهَا فَلْتَحُجَّ عَلَيْهِ فَإِنَّهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَأَعْطَاهَا الْبَكْرَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي امْرَأَةٌ قَدْ كَبِرْتُ وَسَقِمْتُ، فَهَلْ مِنْ عَمَلٍ يُجْزِئُ عَنِّي مِنْ حَجَّتِي ؟ قَالَ: عُمْرَةٌ فِي رَمَضَانَ تُجْزِئُ حَجَّةً.

ابوبکر بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ مجھے مروان کے قاصد (جسے ام معقل ؓ کے پاس بھیجا گیا تھا) نے خبر دی ہے کہ ام معقل کا بیان ہے کہ ابو معقل ؓ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حج کو نکلنے والے تھے جب وہ آئے تو ام معقل ؓ کہنے لگیں: آپ کو معلوم ہے کہ مجھ پر حج واجب ہے ١ ؎، چناچہ دونوں (ام معقل اور ابو معقل ؓ) چلے اور رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، ام معقل نے کہا: اللہ کے رسول! ابو معقل کے پاس ایک اونٹ ہے اور مجھ پر حج واجب ہے؟ ابو معقل نے کہا: یہ سچ کہتی ہے، میں نے اس اونٹ کو اللہ کی راہ میں دے دیا ہے، اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہ اونٹ اسے دے دو کہ وہ اس پر سوار ہو کر حج کرلے، یہ بھی اللہ کی راہ ہی میں ہے ، ابومعقل نے ام معقل کو اونٹ دے دیا، پھر وہ کہنے لگیں: اللہ کے رسول! میں عمر رسیدہ اور بیمار عورت ہوں ٢ ؎ کوئی ایسا کام ہے جو حج کی جگہ میرے لیے کافی ہو، آپ ﷺ نے فرمایا: رمضان میں عمرہ کرنا (میرے ساتھ) حج کرنے کی جگہ میں کافی ہے ٣ ؎۔

Abu Bakr ibn Abdur Rahman said: The messenger of Marwan whom he sent to Umm Maqil reported to me. She said: Abu Maqil accompanied the Messenger of Allah ﷺ during hajj. When he came (to her) she said: You know that hajj is incumbent on me. They walked until they visited him (i. e. the Prophet) and she asked (him): Messenger of Allah, hajj is due from me, and Abu Maqil has a camel. Abu Maqil said: She spoke the truth, I have dedicated it to the cause of Allah. The Messenger of Allah ﷺ said: Give it to her, that is in the cause of Allah. So he gave the camel to her. She then said: Messenger of Allah, I am a woman who has become aged and ill. Is there any action which would be sufficient for me as my hajj? He replied: Umrah performed during Ramadan is sufficient as hajj.

Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حج کرنے کا ارادہ کر رکھا تھا لیکن میرے لئے رسول اللہ ﷺ کی معیت مقدر نہیں تھی اور میں نہیں جاسکی۔ ٢ ؎: اس لئے مجھے نہیں معلوم کہ میں حج کب کرسکوں گی۔ ٣ ؎: یعنی رمضان میں عمرہ کا ثواب میرے ساتھ حج کے ثواب کے برابر ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ١٨٣٥٩)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الحج ٩٥ (٩٣٩)، سنن النسائی/ الکبری/ الحج (٤٢٢٧)، سنن ابن ماجہ/المناسک ٤٥ (٢٩٩٣)، مسند احمد (٦/٤٠٥، ٤٠٦) (حسن) (اس کے راوی ابراہیم حافظہ کے کمزور ہیں مگر حدیث نمبر (١٩٩٠) سے اس کو تقویت مل رہی ہے، نیز رمضان میں عمرہ کے ثواب سے متعلق جملہ کے شواہد صحیحین میں بھی ہیں، ہاں عورت کا قول إني امرأة ... من حجتي؟ صحیح نہیں ہے )
1989Sunan Abu Dawood

عمرہ کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ الطَّائِيُّ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ عِيسَى بْنِ مَعْقَلِ بْنِ أُمِّ مَعْقَلٍ الْأَسَدِيِّ أَسَدِ خُزَيْمَةَ، حَدَّثَنِي يُوسُفُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ، عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ مَعْقَلٍ، قَالَتْ: لَمَّا حَجَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَّةَ الْوَدَاعِ وَكَانَ لَنَا جَمَلٌ فَجَعَلَهُ أَبُو مَعْقِلٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَأَصَابَنَا مَرَضٌ وَهَلَكَ أَبُو مَعْقِلٍ وَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ حَجِّهِ جِئْتُهُ، فَقَالَ: يَا أُمَّ مَعْقِلٍ، مَا مَنَعَكِ أَنْ تَخْرُجِي مَعَنَا ؟ قَالَتْ: لَقَدْ تَهَيَّأْنَا فَهَلَكَ أَبُو مَعْقِلٍ وَكَانَ لَنَا جَمَلٌ هُوَ الَّذِي نَحُجُّ عَلَيْهِ فَأَوْصَى بِهِ أَبُو مَعْقِلٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، قَالَ: فَهَلَّا خَرَجْتِ عَلَيْهِ، فَإِنَّ الْحَجَّ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَأَمَّا إِذْ فَاتَتْكِ هَذِهِ الْحَجَّةُ مَعَنَا فَاعْتَمِرِي فِي رَمَضَانَ، فَإِنَّهَا كَحَجَّةٍ، فَكَانَتْ تَقُولُ: الْحَجُّ حَجَّةٌ وَالْعُمْرَةُ عُمْرَةٌ، وَقَدْ قَالَ هَذَا لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَا أَدْرِي أَلِيَ خَاصَّةً.

ام معقل ؓ کہتی ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ نے حجۃ الوداع کیا تو ہمارے پاس ایک اونٹ تھا لیکن ابومعقل ؓ نے اسے اللہ کی راہ میں دے دیا تھا ہم بیمار پڑگئے، اور ابومعقل ؓ چل بسے، نبی اکرم ﷺ حج کو تشریف لے گئے، جب اپنے حج سے واپس ہوئے تو میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوئی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ام معقل! کس چیز نے تمہیں ہمارے ساتھ (حج کے لیے) نکلنے سے روک دیا؟ ، وہ بولیں: ہم نے تیاری تو کی تھی لیکن اتنے میں ابومعقل کی وفات ہوگئی، ہمارے پاس ایک ہی اونٹ تھا جس پر ہم حج کیا کرتے تھے، ابومعقل نے اسے اللہ کی راہ میں دے دینے کی وصیت کردی، آپ ﷺ نے فرمایا: تم اسی اونٹ پر سوار ہو کر کیوں نہیں نکلیں؟ حج بھی تو اللہ کی راہ میں ہے، لیکن اب تو ہمارے ساتھ تمہارا حج جاتا رہا تم رمضان میں عمرہ کرلو، اس لیے کہ یہ بھی حج کی طرح ہے ، ام معقل ؓ کہا کرتی تھیں حج حج ہے اور عمرہ عمرہ ہے ١ ؎ لیکن رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے یہی فرمایا اب مجھے نہیں معلوم کہ یہ حکم میرے لیے خاص تھا (یا سب کے لیے ہے) ۔

Narrated Umm Maqil: When the Messenger of Allah ﷺ performed the Farewell Pilgrimage, and we had a camel, Abu Maqil dedicated it to the cause of Allah. Then we suffered from a disease, and Abu Maqil died. The Prophet ﷺ went out (for hajj). When he finished the hajj, I came to him. He said (to me): Umm Maqil, what prevented you from coming out for hajj along with us? She said: We resolved (to do so), but Abu Maqil died. We had a camel on which we could perform hajj, but Abu Maqil had bequeathed it to the cause of Allah. He said: Why did you not go out (for hajj) upon it, for hajj is in the cause of Allah? If you miss this hajj along with us, perform Umrah during Ramadan, for it is like hajj. She used to say: hajj is hajj, and Umrah is Umrah. The Messenger of Allah ﷺ said it to me: I do not know whether it was peculiar to me.

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی دونوں ایک مرتبہ میں نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ١١٨٥٧، ١٨٣٦١) (صحیح لغیرہ) (اس کے راوی محمد بن اسحاق مدلس ہیں اور روایت عنعنہ سے، نیز عیسیٰ لین الحدیث ہیں، لیکن رمضان میں عمرہ کا ثواب حج کے برابر ہے کے ٹکڑے کے شواہد صحیحین اور دیگر مصادر میں ہیں، اس لئے یہ حدیث صحیح ہے، ہاں: آخری ٹکڑا: فکانت تقول إلخ کا شاہد نہیں ہے، اس لئے ضعیف ہے، ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود ٦ ؍ ٢٣٠ )
1990Sunan Abu Dawood

عمرہ کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ عَامِرٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَجَّ، فَقَالَتِ امْرَأَةٌ لِزَوْجِهَا: أَحِجَّنِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى جَمَلِكَ، فَقَالَ: مَا عِنْدِي مَا أُحِجُّكِ عَلَيْهِ، قَالَتْ: أَحِجَّنِي عَلَى جَمَلِكَ فُلَانٍ، قَالَ: ذَاكَ حَبِيسٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ امْرَأَتِي تَقْرَأُ عَلَيْكَ السَّلَامَ وَرَحْمَةَ اللَّهِ وَإِنَّهَا سَأَلَتْنِي الْحَجَّ مَعَكَ، قَالَتْ: أَحِجَّنِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: مَا عِنْدِي مَا أُحِجُّكِ عَلَيْهِ، فَقَالَتْ: أَحِجَّنِي عَلَى جَمَلِكَ فُلَانٍ، فَقُلْتُ: ذَاكَ حَبِيسٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَقَالَ: أَمَا إِنَّكَ لَوْ أَحْجَجْتَهَا عَلَيْهِ كَانَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، قَالَ: وَإِنَّهَا أَمَرَتْنِي أَنْ أَسْأَلَكَ مَا يَعْدِلُ حَجَّةً مَعَكَ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَقْرِئْهَا السَّلَامَ وَرَحْمَةَ اللَّهِ وَبَرَكَاتِهِ وَأَخْبِرْهَا أَنَّهَا تَعْدِلُ حَجَّةً مَعِي يَعْنِي عُمْرَةً فِي رَمَضَانَ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حج کا ارادہ کیا، ایک عورت نے اپنے خاوند سے کہا: مجھے بھی اپنے اونٹ پر رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حج کرائیں، انہوں نے کہا: میرے پاس تو کوئی ایسی چیز نہیں جس پر میں تمہیں حج کراؤں، وہ کہنے لگی: مجھے اپنے فلاں اونٹ پر حج کراؤ، تو انہوں نے کہا: وہ اونٹ تو اللہ کی راہ میں وقف ہے، پھر وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، اور کہنے لگے: اللہ کے رسول! میری بیوی آپ کو سلام کہتی ہے، اس نے آپ کے ساتھ حج کرنے کی مجھ سے خواہش کی ہے، اور کہا ہے: مجھے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حج کرائیں، میں نے اس سے کہا: میرے پاس کوئی ایسی چیز نہیں جس پر میں تمہیں حج کراؤں، اس نے کہا: مجھے اپنے فلاں اونٹ پر حج کرائیں، میں نے اس سے کہا: وہ تو اللہ کی راہ میں وقف ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: سنو اگر تم اسے اس اونٹ پر حج کرا دیتے تو وہ بھی اللہ کی راہ میں ہوتا ۔ اس نے کہا: اس نے مجھے یہ بھی آپ سے دریافت کرنے کے لیے کہا ہے کہ کون سی چیز آپ ﷺ کے ساتھ حج کرنے کے برابر ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اسے سلام کہو اور بتاؤ کہ رمضان میں عمرہ کرلینا میرے ساتھ حج کرلینے کے برابر ہے ۔

Narrated Abdullah Ibn Abbas (RA) : The Messenger of Allah ﷺ intended to perform hajj. A woman said to her husband: Let me perform hajj along with the Messenger of Allah ﷺ . He said: I have nothing on which I can let you perform hajj. She said: You may perform hajj on your such-and-such camel. He said: That is dedicated to the cause of Allah, the Exalted. He then came to the Messenger of Allah ﷺ and said: My wife has conveyed her greetings and the blessings of Allah to you. She has asked about performing hajj along with you. She said (to me): Let me perform hajj with the Messenger of Allah ﷺ . I said (to her): I have nothing upon which I can let you perform hajj. She said: Let me perform hajj on your such-and-such camel. I said: That is dedicated to the cause of Allah, The Exalted. He replied: If you let her perform hajj on it, that would be in the cause of Allah. He said: She has also requested me to ask you: What is that action which is equivalent to performing hajj with you? The Messenger of Allah ﷺ said: Convey my greetings, the mercy of Allah and His blessings to her and tell her that Umrah during Ramadan is equivalent to performing hajj along with me.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود ( تحفة الأشراف: ٥٣٧٤)، وقد أخرجہ: (صحیح البخاری/العمرة ٤(١٧٨٢)، صحیح مسلم/الحج ٣٦ (٢٢١) بدون ذکر: ” أن الحج في سبیل اللہ “۔ (حسن صحیح )
1991Sunan Abu Dawood

عمرہ کا بیان

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَاعْتَمَرَ عُمْرَتَيْنِ: عُمْرَةً فِي ذِي الْقِعْدَةِ، وَعُمْرَةً فِي شَوَّالٍ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے دو عمرے کئے: ایک ذی قعدہ میں اور دوسرا شوال میں ١ ؎۔

Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : The Messenger of Allah ﷺ performed two Umrahs: one Umrah in Dhul-Qadah, and the other in Shawwal.

Notes · وضاحت
١ ؎: کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ اس حدیث میں ام المومنین عائشہ ؓ نے نبی اکرم ﷺ کے عمرے کی مجموعی تعداد کا ذکر نہیں کیا ہے بلکہ ان کی مراد یہ ہے کہ ایک سال کے اندر آپ ﷺ نے دو عمرے کئے: ایک ذی قعدہ میں اور ایک شوال میں، لیکن یہ قول صحیح نہیں ہے کیونکہ ایک سال کے اندر دو عمرہ نبی اکرم ﷺ نے کبھی نہیں کیا ہے، اور حج کے ساتھ والے عمرے کو چھوڑ کر آپ ﷺ کے سارے عمرے ذی قعدہ میں ہوئے ہیں، پھر ام المومنین عائشہ ؓ کا عمر ۃ فی شوّال کہنا ان کا وہم ہے، اور اگر اسے محفوظ مان لیا جائے تو اس کی تاویل یہ ہوگی اس عمرہ سے مراد عمرہ جعرانہ ہے جو اگرچہ ذی قعدہ ہی میں ہوا ہے، لیکن مکہ سے حنین کے لئے آپ شوال ہی میں نکلے تھے، اور واپسی پر جعرانہ سے احرام باندھ کر یہ عمرہ کیا تھا تو نکلنے کا لحاظ کرکے انہوں نے اس کی نسبت شوال کی طرف کردی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ١٦٨٨٩) (صحیح )
1992Sunan Abu Dawood

عمرہ کا بیان

حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: سُئِلَ ابْنُ عُمَرَ كَمْ اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالَ: مَرَّتَيْنِ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: لَقَدْ عَلِمَ ابْنُ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ اعْتَمَرَ ثَلَاثًا، سِوَى الَّتِي قَرَنَهَا بِحَجَّةِ الْوَدَاعِ.

مجاہد کہتے ہیں کہ ابن عمر ؓ سے پوچھا گیا کہ رسول اللہ ﷺ نے کتنے عمرے کئے؟ انہوں نے جواب دیا: دو بار ١ ؎، اس پر ام المؤمنین عائشہ ؓ نے کہا: ابن عمر ؓ کو یہ معلوم ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس عمرے کے علاوہ جو آپ نے حجۃ الوداع کے ساتھ ملایا تھا تین عمرے کئے ہیں۔

Mujahid said: Ibn Umar was asked: How many times did the Messenger of Allah ﷺ perform Umrah ? He said: Twice. Aisha (RA) said: Ibn Umar knew that the Messenger of Allah ﷺ performed three Umrahs in addition to the one he combined with the Farewell Pilgrimage.

Notes · وضاحت
١ ؎: عبداللہ بن عمر ؓ نے عمرہ حدیبیہ کو اور اسی طرح حج کے ساتھ والے عمرہ کو شمار نہیں کیا۔
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، ( تحفة الأشراف: ٧٣٨٤، ١٧٥٧٤) (ضعیف) (اس کے راوی ابواسحاق مدلس ہیں اور عنعنہ سے روایت ہے، مگر اس میں مذکور عمروں کی تعداد صحیح ہے )
1993Sunan Abu Dawood

عمرہ کا بیان

حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، وَقُتَيْبَةُ، قَالَا: حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَطَّارُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَ عُمَرٍ: عُمْرَةَ الْحُدَيْبِيَةِ، وَالثَّانِيَةَ حِينَ تَوَاطَئُوا عَلَى عُمْرَةٍ مَنْ قَابِلٍ، وَالثَّالِثَةَ مِنْ الْجِعْرَانَةِ، وَالرَّابِعَةَ الَّتِي قَرَنَ مَعَ حَجَّتِهِ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے چار عمرے کئے: ایک عمرہ حدیبیہ کا، دوسرا وہ عمرہ جسے آئندہ سال کرنے پر اتفاق کیا تھا، تیسرا عمرہ جعرانہ کا ١ ؎، اور چوتھا وہ جسے آپ ﷺ نے اپنے حج کے ساتھ ملایا تھا۔

Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : The Messenger of Allah ﷺ performed four Umrahs, viz. Umrah al-Hudaybiyyah; the second is the one when they (the Companions) were agreed upon performing Umrah next year; the third is Umrah performed from al-Jiranah; the fourth is the one which he combined with his hajj.

Notes · وضاحت
١ ؎: ” جعرانة “: طائف اور مکہ کے درمیان ایک جگہ کا نام ہے، نبی اکرم ﷺ نے غزوہ حنین کے مال غنیمت کی تقسیم کے بعد یہیں سے عمرہ کا احرام باندھا تھا۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الحج ٧ (٨١٦)، سنن ابن ماجہ/المناسک ٥٠ (٣٠٠٣)، (تحفة الأشراف: ٦١٦٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٤٦، ٣٢١)، سنن الدارمی/المناسک ٣٩ (١٩٠٠) (صحیح )
1994Sunan Abu Dawood

عمرہ کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، وَهُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَاعْتَمَرَ أَرْبَعَ عُمَرٍ: كُلَّهُنَّ فِي ذِي الْقِعْدَةِ إِلَّا الَّتِي مَعَ حَجَّتِهِ. قَالَ أَبُو دَاوُد: أَتْقَنْتُ مِنْ هَا هُنَا مِنْ هُدْبَةَ، وَسَمِعْتُهُ مِنْ أَبِي الْوَلِيدِ، وَلَمْ أَضْبِطْهُ عُمْرَةً زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ أَوْ مِنْ الْحُدَيْبِيَةِ وَعُمْرَةَ الْقَضَاءِ فِي ذِي الْقِعْدَةِ وَعُمْرَةً مِنْ الْجِعْرَانَةِ حَيْثُ قَسَمَ غَنَائِمَ حُنَيْنٍ فِي ذِي الْقِعْدَةِ وَعُمْرَةً مَعَ حَجَّتِهِ.

انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے چار عمرے کئے اور وہ تمام ذی قعدہ میں تھے سوائے اس کے جسے آپ نے اپنے حج کے ساتھ ملایا تھا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہاں سے آگے کے الفاظ میں نے ابوالولید سے بھی سنے لیکن انہیں یاد نہیں رکھ سکا، البتہ ہدبہ کے الفاظ اچھی طرح یاد ہیں کہ: ایک حدیبیہ کے زمانے کا، یا حدیبیہ کا عمرہ، دوسرا ذی قعدہ میں قضاء کا عمرہ، تیسرا عمرہ ذی قعدہ میں جعرانہ کا جب آپ ﷺ نے حنین کا مال غنیمت تقسیم فرمایا، اور چوتھا وہ عمرہ جسے آپ نے اپنے حج کے ساتھ ملایا۔

Narrated Anas (RA) : The Messenger of Allah ﷺ performed four Umrahs all in Dhu al-Qadah except the one which he performed along with Hajj. Abu Dawud said: From here the narrator Hudbah (b. Khalid) became certain. I heard it from Abu al-Walid, but I did nor retain: An Umrah, during the treaty of al-Hudaibiyyah, or from al-Hudaibiyyah ; and Umrat al-Qada in Dhu al-Qadah, and an Umrah from al-Jiranah where he (the Prophet) distributed the booty of Hunain in Dhu al-Qadah, and an Umrah along with his Hajj.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/العمرة ٣ (١٧٧٨)، صحیح مسلم/الحج ٣٥ (١٢٥٣)، سنن الترمذی/الحج ٦ (٨١٥)، (تحفة الأشراف: ١٣٩٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٢٥٦)، سنن الدارمی/المناسک ٣ (١٨٢٨) (صحیح )
1995Sunan Abu Dawood

جو عورت عمرہ کا احرام باندھے پھر اس کو حیض آجائے اور حج کا وقت آن پہنچے تو وہ عمرہ کو چھور دے اور حج کا احرام باندھ لے پھر عمرہ کی قضاء کرے

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِيهَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ: يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ، أَرْدِفْ أُخْتَكَ عَائِشَةَ فَأَعْمِرْهَا مِنْ التَّنْعِيمِ فَإِذَا هَبَطْتَ بِهَا مِنَ الْأَكَمَةِ فَلْتُحْرِمْ فَإِنَّهَا عُمْرَةٌ مُتَقَبَّلَةٌ.

عبدالرحمٰن بن ابی بکر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عبدالرحمٰن ؓ سے فرمایا: عبدالرحمٰن! اپنی بہن عائشہ کو بٹھا کرلے جاؤ اور انہیں تنعیم ١ ؎ سے عمرہ کرا لاؤ، جب تم ٹیلوں سے تنعیم میں اترو تو چاہیئے کہ وہ احرام باندھے ہو، کیونکہ یہ مقبول عمرہ ہے ۔

Hafsah, daughter of Abdur Rahman ibn Abu Bakr, reported on the authority of her father: The Messenger of Allah ﷺ said to Abdur Rahman: Abdur Rahman, put your sister Aisha (RA) on the back of the camel behind you and make her perform Umrah from at-Tanim. When you come down from the hillock (in at-Tanim), she must wear (ihram for Umrah), for this is an Umrah accepted (by Allah).

Notes · وضاحت
١ ؎: ” تنعيم “: ایک مقام ہے مکہ سے تین میل کے فاصلے پر، اب وہاں پر ایک مسجد بن گئی ہے جسے مسجد عائشہ کہتے ہیں، عمرہ کا احرام حرم سے باہر نکل کر باندھنا چاہیے، یہ مقام بہ نسبت دوسرے مقامات کے زیادہ قریب ہے اس لئے آپ ﷺ نے عائشہ ؓ کو وہیں سے عمرہ کرانے کا حکم دیا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ٩٦٩١)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/العمرة ٦ (١٧٨٤)، والجھاد ١٢٥ (٢٩٨٥)، صحیح مسلم/الحج ١٧ (١٢١٢)، سنن الترمذی/الحج ٩١ (٩٣٤)، سنن ابن ماجہ/المناسک ٤٨ (٢٩٩٩)، مسند احمد (١/١٩٧، ١٩٨)، سنن الدارمی/المناسک ٤١ (١٩٠٤) (صحیح )
1996Sunan Abu Dawood

جو عورت عمرہ کا احرام باندھے پھر اس کو حیض آجائے اور حج کا وقت آن پہنچے تو وہ عمرہ کو چھور دے اور حج کا احرام باندھ لے پھر عمرہ کی قضاء کرے

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مُزَاحِمِ بْنِ أَبِي مُزَاحِمٍ، حَدَّثَنِي أَبِي مُزَاحِمٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَسِيدٍ، عَنْ مُحَرِّشٍ الْكَعْبِيِّ، قَالَ: دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجِعْرَانَةِ فَجَاءَ إِلَى الْمَسْجِدِ فَرَكَعَ مَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ أَحْرَمَ ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى رَاحِلَتِهِ فَاسْتَقْبَلَ بَطْنَ سَرِفَ حَتَّى لَقِيَ طَرِيقَ الْمَدِينَةِ فَأَصْبَحَ بِمَكَّةَ كَبَائِتٍ.

محرش کعبی ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جعرانہ میں داخل ہوئے تو مسجد آئے اور وہاں اللہ نے جتنی چاہا نماز پڑھی، پھر احرام باندھا، پھر اپنی سواری پر جم کر بیٹھ گئے اور وادی سرف کی طرف بڑھے یہاں تک کہ مدینہ کے راستہ سے جا ملے، پھر آپ نے صبح مکہ میں اس طرح کی جیسے کوئی رات کو مکہ میں رہا ہو۔

Narrated Muharrish al-Kabi (RA) : The Prophet ﷺ entered al-Jiranah. He came to the mosque (there) and prayed as long as Allah desired; he then wore ihram. Then he rode his camel and faced Batn Sarif till he reached the way which leads to Madina. He returned from Makkah (at night to al-Jiranah) as if he had passed the night at Makkah.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الحج ٩٢ (٩٣٥)، سنن النسائی/الحج ١٠٤ (٢٨٦٦، ٢٨٦٧)، ( تحفة الأشراف: ١١٢٢٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٢٦، ٤٢٧، ٤/٦٩، ٥/٣٨٠) سنن الدارمی/المناسک ٤١ (١٩٠٣) (صحیح) دون رکوعہ في المسجد، فإنہ منکر
1997Sunan Abu Dawood

عمرے میں قیام کا بیان

حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ أَبَانَ بْنِ صَالِحٍ، وَعَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَأَقَامَ فِي عُمْرَةِ الْقَضَاءِ ثَلَاثًا.

عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عمرہ قضاء میں تین دن قیام فرمایا۔

Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : The Messenger of Allah ﷺ stayed (at Makkah) for three days during Umrah for atonement (Umrat al-Qada)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ٦٣٧٦) (صحیح )
1998Sunan Abu Dawood

طواف اضافہ کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَأَفَاضَ يَوْمَ النَّحْرِ ثُمَّ صَلَّى الظُّهْرَ بِمِنًى يَعْنِي رَاجِعًا.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے یوم النحر کو طواف افاضہ کیا پھر منی میں ظہر ادا کی یعنی (طواف سے) لوٹ کر۔

Narrated Ibn Umar (RA) : The Prophet ﷺ performed the obligatory circumambulation (Tawaf al-Ziyarah) on the day of the sacrifice ; he then offered the noon prayer at Mina when he returned.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحج ٥٨ (١٣٠٨)، (تحفة الأشراف: ٨٠٢٤)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/ الکبری/ الحج (٤١٦٨)، مسند احمد (٢/٣٤) (صحیح )
1999Sunan Abu Dawood

طواف اضافہ کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَيَحْيَى بْنُ مَعِينٍ الْمَعْنَى وَاحِدٌ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ، عَنْ أَبِيهِ، وَعَنْ أُمِّهِ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ يُحَدِّثَانِهِ جَمِيعًا ذَاكَ عَنْهَا، قَالَتْ: كَانَتْ لَيْلَتِي الَّتِي يَصِيرُ إِلَيَّ فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسَاءَ يَوْمِ النَّحْرِ، فَصَارَ إِلَيَّ وَدَخَلَ عَلَيَّ وَهْبُ بْنُ زَمْعَةَ وَمَعَهُ رَجُلٌ مِنْ آلِ أَبِي أُمَيَّةَ مُتَقَمِّصَيْنِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِوَهْبٍ: هَلْ أَفَضْتَ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ؟قَالَ: لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: انْزِعْ عَنْكَ الْقَمِيصَ، قَالَ: فَنَزَعَهُ مِنْ رَأْسِهِ وَنَزَعَ صَاحِبُهُ قَمِيصَهُ مِنْ رَأْسِهِ، ثُمَّ قَالَ: وَلِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ: إِنَّ هَذَا يَوْمٌ رُخِّصَ لَكُمْ إِذَا أَنْتُمْ رَمَيْتُمُ الْجَمْرَةَ أَنْ تَحِلُّوا، يَعْنِي مِنْ كُلِّ مَا حُرِمْتُمْ مِنْهُ إِلَّا النِّسَاءَ، فَإِذَا أَمْسَيْتُمْ قَبْلَ أَنْ تَطُوفُوا هَذَا الْبَيْتَ صِرْتُمْ حُرُمًا كَهَيْئَتِكُمْ قَبْلَ أَنْ تَرْمُوا الْجَمْرَةَ حَتَّى تَطُوفُوا بِهِ.

ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کہتی ہیں کہ میری وہ رات جس میں رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے یوم النحر کی شام تھی، چناچہ آپ ﷺ میرے پاس تشریف لائے، اتنے میں وہب بن زمعہ اور ان کے ساتھ ابوامیہ کی اولاد کا ایک شخص دونوں قمیص پہنے میرے یہاں آئے، رسول اللہ ﷺ نے وہب سے پوچھا: ابوعبداللہ! کیا تم نے طواف افاضہ کرلیا؟ وہ بولے: قسم اللہ کی! نہیں اللہ کے رسول، آپ ﷺ نے فرمایا: تو پھر اپنی قمیص اتار دو ، چناچہ انہوں نے اپنی قمیص اپنے سر سے اتار دی اور ان کے ساتھی نے بھی اپنے سر سے اپنی قمیص اتار دی پھر بولے: اللہ کے رسول! ایسا کیوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: یہ وہ دن ہے کہ جب تم جمرہ کو کنکریاں مار لو تو تمہارے لیے وہ تمام چیزیں حلال ہوجائیں گی جو تمہارے لیے حالت احرام میں حرام تھیں سوائے عورتوں کے، پھر جب شام کرلو اور بیت اللہ کا طواف نہ کرسکو تو تمہارا احرام باقی رہے گا، اسی طرح جیسے رمی جمرات سے پہلے تھا یہاں تک کہ تم اس کا طواف کرلو ۔

Narrated Umm Salamah, Ummul Muminin (RA) : The night which the Messenger of Allah ﷺ passed with me was the one that followed the day of sacrifice. He came to me and Wahb ibn Zamah also visited me. A man belonging to the lineage of Abu Umayyah accompanied him. Both of them were wearing shirts. The Messenger of Allah ﷺ said to Wahb: Did you perform the obligatory circumambulation (Tawaf az-Ziyarah), Abu Abdullah? He said: No, by Allah Messenger of Allah. He (the Prophet) said: Take off your shirt. He then took it off over his head, and his companion too took his shirt off over his head. He then asked: And why (this), Messenger of Allah? He replied: On this day you have been allowed to take off ihram when you have thrown the stones at the jamrahs, that is, everything prohibited during the state of ihram is lawful except intercourse with a woman. If the evening comes before you go round this House (the Kabah) you will remain in the sacred state (i. e. ihram), just like the state in which you were before you threw stones at the jamrahs, until you perform the circumambulation of it (i. e. the Kabah).

Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے یوم النحر کو طواف زیارت کرنے کی تاکید ثابت ہوتی ہے، اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر اس دن کسی نے طواف نہیں کیا تو وہ دوبارہ احرام میں واپس لوٹ آئے گا، جب تک وہ طواف نہ کرلے وہ احرام ہی میں رہے (ملاحظہ ہو: صحیح ابن خزیمہ (کتاب المناسک، باب النهي عن الطيب واللباس إذا أمسى الحاج يوم النحر قبل أن يفيض وکل ما زجر الحاج عنه قبل رمي الجمرة يوم النحر، حدیث نمبر: ٢٩٥٨ )
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ١٨١٨٦، ١٨١٧٥، ١٨٢٧٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٢٩٥، ٣٠٣) (حسن صحیح )
2000Sunan Abu Dawood

طواف اضافہ کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، أن النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَأَخَّرَ طَوَافَ يَوْمِ النَّحْرِ إِلَى اللَّيْلِ.

ام المؤمنین عائشہ اور ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے یوم النحر کا طواف رات تک مؤخر کیا ١ ؎۔

Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin ; Abdullah Ibn Abbas (RA) : The Prophet ﷺ postponed the circumambulation on the day of sacrifice till the night.

Notes · وضاحت
١ ؎: دسویں تاریخ کے طواف کو طواف زیارہ یا طواف افاضہ کہتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/ الحج ١٢٩ (قبیل ١٧٣٢) تعلیقًا، سنن الترمذی/الحج ٨٠ (٩٢٠)، سنن ابن ماجہ/المناسک ٧٧ (٣٠٥٩)، (تحفة الأشراف: ٦٤٥٢، ١٧٥٩٤)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/ الکبری/ الحج (٤١٦٩)، مسند احمد (١/٢٨٨) (ضعیف) ابو الزبیر مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے ہے، نیز صحیح احادیث کے مطابق رسول اکرم ﷺ نے طواف افاضہ دن میں زوال کے بعد کیا تھا، (ملاحظہ ہو: زاد المعاد، و صحیح ابی داود ٦ ؍ ١٨٥ )
2001Sunan Abu Dawood

طواف اضافہ کا بیان

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَلَمْ يَرْمُلْ فِي السَّبْعِ الَّذِي أَفَاضَ فِيهِ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے طواف افاضہ کے سات پھیروں میں رمل نہیں کیا ١ ؎۔

Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : The Prophet ﷺ did not walk quickly (ramal) in the seven rounds of the last circumambulation (Tawaf al-Ifadah).

Notes · وضاحت
١ ؎: معلوم ہوا کہ دوران طواف دلکی چال جسے رمل کہتے ہیں وہ صرف طواف قدوم میں مشروع ہے طواف افاضہ وغیرہ میں مشروع نہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/المناسک ٧٧ (٣٠٦٠)، ( تحفة الأشراف: ٥٩١٧)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/ الکبری/ الحج (٤١٧٠) (صحیح )
2002Sunan Abu Dawood

طواف وداع کا بیان

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَحْوَلِ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ النَّاسُ يَنْصَرِفُونَ فِي كُلِّ وَجْهٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَنْفِرَنَّ أَحَدٌ حَتَّى يَكُونَ آخِرُ عَهْدِهِ الطَّوَافَ بِالْبَيْتِ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ لوگ ہر جانب سے (مکہ سے) لوٹتے تھے تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: کوئی بھی مکہ سے کوچ نہ کرے یہاں تک کہ اس کا آخری کام بیت اللہ کا طواف (طواف وداع) ہو ١ ؎۔

Narrated Ibn Abbas (RA) : The people used to go out (from Makkah after Hajj) by all sides. The Prophet ﷺ said: No one should leave (Makkah) until he performs the last circumambulation of the House (the Kabah).

Notes · وضاحت
١ ؎: اسے طواف صدر یا طواف وداع کہتے ہیں، بعض اہل علم کے نزدیک یہ سنت ہے، اور بعض کے نزدیک واجب، اگر عورت کو چلتے وقت حیض آجائے تو وہ یہ طواف چھوڑ دے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحج ٦٧ (١٣٢٧)، سنن ابن ماجہ/المناسک ٨٢ (٣٠٧٠)، سنن النسائی/ الکبری/ الحج (٤١٨٤)، (تحفة الأشراف: ٥٧٠٣)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحج ١٤٤ (١٧٥٥)، مسند احمد (١/٢٢٢)، سنن الدارمی/المناسک ٨٥ (١٩٧٤) (صحیح )