سر منڈانے اور بال کتروانے کا بیان
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُسْأَلُ يَوْمَ مِنًى، فَيَقُولُ: لَا حَرَجَ، فَسَأَلَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: إِنِّي حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ، قَالَ: اذْبَحْ وَلَا حَرَجَ، قَالَ: إِنِّي أَمْسَيْتُ وَلَمْ أَرْمِ، قَالَ: ارْمِ وَلَا حَرَجَ.
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ سے منیٰ کے دن پوچھا جاتا تو آپ ﷺ فرماتے: کوئی حرج نہیں ، چناچہ ایک شخص نے پوچھا: میں نے ذبح کرنے سے پہلے حلق کرا لیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ذبح کرلو، کوئی حرج نہیں ، دوسرے نے کہا: مجھے شام ہوگئی اور میں نے اب تک رمی نہیں کی، آپ ﷺ نے فرمایا: رمی اب کرلو، کوئی حرج نہیں ١ ؎۔
Narrated Ibn Abbas (RA) : The Prophet ﷺ was asked (about rites of Hajj) on the day of stay at Mina. He said: No harm. A man asked him: I got myself shaved before I slaughtered. He said: Slaughter, there is no harm. He again asked: The evening came but I did not throw stones at the jamrah. He replied: Throw stones now ; there is no harm.