جو عورت عمرہ کا احرام باندھے پھر اس کو حیض آجائے اور حج کا وقت آن پہنچے تو وہ عمرہ کو چھور دے اور حج کا احرام باندھ لے پھر عمرہ کی قضاء کرے
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِيهَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ: يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ، أَرْدِفْ أُخْتَكَ عَائِشَةَ فَأَعْمِرْهَا مِنْ التَّنْعِيمِ فَإِذَا هَبَطْتَ بِهَا مِنَ الْأَكَمَةِ فَلْتُحْرِمْ فَإِنَّهَا عُمْرَةٌ مُتَقَبَّلَةٌ.
عبدالرحمٰن بن ابی بکر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عبدالرحمٰن ؓ سے فرمایا: عبدالرحمٰن! اپنی بہن عائشہ کو بٹھا کرلے جاؤ اور انہیں تنعیم ١ ؎ سے عمرہ کرا لاؤ، جب تم ٹیلوں سے تنعیم میں اترو تو چاہیئے کہ وہ احرام باندھے ہو، کیونکہ یہ مقبول عمرہ ہے ۔
Hafsah, daughter of Abdur Rahman ibn Abu Bakr, reported on the authority of her father: The Messenger of Allah ﷺ said to Abdur Rahman: Abdur Rahman, put your sister Aisha (RA) on the back of the camel behind you and make her perform Umrah from at-Tanim. When you come down from the hillock (in at-Tanim), she must wear (ihram for Umrah), for this is an Umrah accepted (by Allah).