Sunan Abu Dawood 1995

مناسک حج کا بیان

1995Sunan Abu Dawood

جو عورت عمرہ کا احرام باندھے پھر اس کو حیض آجائے اور حج کا وقت آن پہنچے تو وہ عمرہ کو چھور دے اور حج کا احرام باندھ لے پھر عمرہ کی قضاء کرے

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِيهَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ: يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ، أَرْدِفْ أُخْتَكَ عَائِشَةَ فَأَعْمِرْهَا مِنْ التَّنْعِيمِ فَإِذَا هَبَطْتَ بِهَا مِنَ الْأَكَمَةِ فَلْتُحْرِمْ فَإِنَّهَا عُمْرَةٌ مُتَقَبَّلَةٌ.

عبدالرحمٰن بن ابی بکر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عبدالرحمٰن ؓ سے فرمایا: عبدالرحمٰن! اپنی بہن عائشہ کو بٹھا کرلے جاؤ اور انہیں تنعیم ١ ؎ سے عمرہ کرا لاؤ، جب تم ٹیلوں سے تنعیم میں اترو تو چاہیئے کہ وہ احرام باندھے ہو، کیونکہ یہ مقبول عمرہ ہے ۔

Hafsah, daughter of Abdur Rahman ibn Abu Bakr, reported on the authority of her father: The Messenger of Allah ﷺ said to Abdur Rahman: Abdur Rahman, put your sister Aisha (RA) on the back of the camel behind you and make her perform Umrah from at-Tanim. When you come down from the hillock (in at-Tanim), she must wear (ihram for Umrah), for this is an Umrah accepted (by Allah).

Notes · وضاحت
١ ؎: ” تنعيم “: ایک مقام ہے مکہ سے تین میل کے فاصلے پر، اب وہاں پر ایک مسجد بن گئی ہے جسے مسجد عائشہ کہتے ہیں، عمرہ کا احرام حرم سے باہر نکل کر باندھنا چاہیے، یہ مقام بہ نسبت دوسرے مقامات کے زیادہ قریب ہے اس لئے آپ ﷺ نے عائشہ ؓ کو وہیں سے عمرہ کرانے کا حکم دیا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ٩٦٩١)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/العمرة ٦ (١٧٨٤)، والجھاد ١٢٥ (٢٩٨٥)، صحیح مسلم/الحج ١٧ (١٢١٢)، سنن الترمذی/الحج ٩١ (٩٣٤)، سنن ابن ماجہ/المناسک ٤٨ (٢٩٩٩)، مسند احمد (١/١٩٧، ١٩٨)، سنن الدارمی/المناسک ٤١ (١٩٠٤) (صحیح )