ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے صفیہ بنت حیي ؓ کا ذکر کیا تو لوگوں نے عرض کیا: انہیں حیض آگیا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: لگتا ہے وہ ہم کو روک لیں گی ، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! وہ طواف افاضہ کرچکی ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: پھر تو کوئی بات نہیں ۔
Narrated Aisha (RA) : The Messenger of Allah ﷺ mentioned about Safiyyah, daughter of Huyayy. He was told that she had menstruated. The Messenger of Allah ﷺ said: She may probably detain us. They (the people) said: She has performed the obligatory circumambulation (Tawaf al-Ziyarah). He said: If so, there is no need (of staying any longer).
حارث بن عبداللہ بن اوس کہتے ہیں کہ میں عمر بن خطاب ؓ کے پاس آیا اور آپ سے اس عورت کے متعلق پوچھا جو یوم النحر کو بیت اللہ کا طواف (افاضہ) کرچکی ہو، پھر اسے حیض آگیا ہو؟ انہوں نے کہا: وہ آخری طواف (طواف وداع) کر کے جائے (یعنی: طواف وداع کا انتظار کرے) ، حارث نے کہا: اسی طرح مجھے رسول اللہ ﷺ نے بھی بتایا تھا، اس پر عمر نے کہا تیرے دونوں ہاتھ گرجائیں ١ ؎! تم نے مجھ سے ایسی بات پوچھی جسے تم رسول اللہ ﷺ سے پوچھ چکے تھے تاکہ میں اس کے خلاف بیان کروں۔
Al-Harith ibn Abdullah ibn Aws said: I came to Umar ibn al-Khattab and asked him about a woman who has performed the (obligatory) circumambulation on the day of sacrifice, and then she menstruates. He said: She must perform the last circumambulation of the House (the Kabah). Al-Harith said: The Messenger of Allah ﷺ told me the same thing. Umar said: May your hands fall down! You asked me about a thing that you had asked the Messenger of Allah ﷺ so that I might oppose him.
Notes · وضاحت
١ ؎: بظاہر یہ بددعا ہے لیکن حقیقت میں بددعا مقصود نہیں بلکہ مقصود یہ بتانا ہے کہ ایسا کرکے تم نے غلط کام کیا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الحج ١٠١ (٩٤٦)، ( تحفة الأشراف: ٣٢٧٨)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الکبری/ الحج (٤١٨٥)، مسند احمد (٣/٤١٦) (صحیح) (صحیح تو ہے مگر پچھلی حدیث سے منسوخ ہے، پہلے یہ حکم تھا بعد میں منسوخ ہوگیا جو ان دونوں صحابی ؓ سے مخفی رہ گیا )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے تنعیم سے عمرے کا احرام باندھا پھر میں (مکہ) گئی اور اپنا عمرہ پورا کیا، رسول اللہ ﷺ نے مقام ابطح ١ ؎ میں میرا انتظار کیا یہاں تک کہ میں فارغ ہو کر (آپ کے پاس واپس آگئی) تو آپ نے لوگوں کو روانگی کا حکم دیا، آپ ﷺ خانہ کعبہ آئے اور اس کا طواف کیا پھر روانہ ہوئے۔
Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : I put on ihram for Umrah at at-Tanim and I entered (Makkah) and performed my Umrah as an atonement. The Messenger of Allah ﷺ waited for me at al-Abtah till I finished it. He commanded the people to depart. The Messenger of Allah ﷺ came to the House (the Kabah), went round it and went out (i. e. left for Madina).
Notes · وضاحت
١ ؎: وہ میدان جو مکہ اور منیٰ کے درمیان ہے اسے وادی محصب بھی کہتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحج ١٧ (١٢١١)، ( تحفة الأشراف: ١٧٤٤٣، ١٧٤٤٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/١٢٤) (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ آخری دن کی روانگی میں نکلی تو آپ وادی محصب میں اترے، (ابوداؤد کہتے ہیں: ابن بشار نے اس حدیث میں ان کے تنعیم بھیجے جانے کا واقعہ ذکر نہیں کیا) پھر میں صبح کو آپ ﷺ کے پاس آئی، تو آپ نے لوگوں میں روانگی کی منادی کرا دی، پھر خود روانہ ہوئے تو فجر سے پہلے بیت اللہ سے گزرے اور نکلتے وقت اس کا طواف کیا، پھر مدینہ کا رخ کر کے چل پڑے۔
Narrated Aisha (RA) : I went out along with the Prophet ﷺ during his last march, and he alighted at al-Muhassab. Abu Dawud said: Ibn Bashshar did not mention that she was sent to al-Tanim in this tradition. She said: I then came to him in the morning. He announced to his companions for departure, and he himself departed. He passed the house (the Kabah) before the dawn prayer, and went round it when he proceeded. He then went away facing Madina.
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، ( تحفة الأشراف: ١٧٤٣٤، ١٧٤٤١) (صحیح )
عبدالرحمٰن بن طارق اپنی والدہ سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب یعلیٰ کے گھر کی جگہ سے آگے بڑھتے (اس جگہ کا نام عبیداللہ بھول گئے) تو بیت اللہ کی جانب رخ کرتے اور دعا مانگتے ١ ؎۔
Narrated Abdur Rahman ibn Tariq: Abdur Rahman reported on the authority of his mother: When the Messenger of Allah ﷺ passed any place from the house of Yala, --the narrator Ubaydullah forgot its name--he faced the House (the Kabah) and supplicated.
Notes · وضاحت
١ ؎: نہ تو یہ حدیث صحیح ہے اور نہ ہی باب سے اس کا کوئی تعلق ہے
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الحج ١٢٣ (٢٨٩٩)، ( تحفة الأشراف: ١٨٣٧٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٤٣٦، ٤٣٧) (ضعیف) (اس کے راوی عبدالرحمن لین الحدیث ہیں )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ محصب میں صرف اس لیے اترے تاکہ آپ کے (مکہ سے) نکلنے میں آسانی ہو، یہ کوئی سنت نہیں، لہٰذا جو چاہے وہاں اترے اور جو چاہے نہ اترے ١ ؎۔
Narrated Aisha (RA) : The Messenger of Allah ﷺ alighted at al-Muhassab so that it might be easier for him to proceed (to Madina). It is not a sunnah (i. e. a rite of Hajj). Anyone who desires may alight there, and anyone who does not want may not alight.
Notes · وضاحت
١ ؎: محصب، ابطح، بطحاء، خیف کنانہ سب ہم معنی ہیں اور اس سے مراد مکہ اور منٰی کے درمیان کا علاقہ ہے جو منٰی سے زیادۃ قریب ہے۔ محصب میں نزول و اقامت مناسک حج میں سے نہیں، رسول اکرم ﷺ زوال کے بعد آرام فرمانے کے لئے یہاں اقامت کی تھی اور یہاں پر عصر، ظہر و عصر اور مغرب و عشاء ادا فرمائیں اور چودہویں رات گزاری، لیکن چونکہ آپ ﷺ نے یہاں نزول فرمایا، تو آپ کی اتباع میں یہاں کی اقامت مستحب ہے، خلفاء نے آپ کے بعد اس پر عمل کیا ہے، امام شافعی، امام مالک اور جمہور اہل علم نے رسول اکرم ﷺ اور خلفائے راشدین ؓ کی اقتداء میں اسے مستحب قرار دیا ہے، اور اگر کسی نے وہاں نزول نہ کیا تو بالاجماع کوئی حرج کی بات نہیں، نیز ظہر، عصر اور مغرب و عشاء کی نماز پڑھنی، نیز رات کا ایک حصہ یا پوری رات سونا رسول اکرم ﷺ کی اقتدا میں مستحب ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ١٦٧٨٥، ١٧٣٣٠)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحج ١٤٧ (١٧٦٥)، صحیح مسلم/الحج ٥٩ (١٣١١)، سنن الترمذی/الحج ٨٢ (٩٢٣)، سنن ابن ماجہ/المناسک ٨١ (٣٠٦٧)، مسند احمد (٦/١٩٠) (صحیح )
سلیمان بن یسار کہتے ہیں کہ ابورافع ؓ کہتے ہیں: مجھے آپ (رسول اللہ ﷺ ) نے یہ حکم نہیں دیا تھا کہ میں وہاں (محصب میں) اتروں، میں نے وہاں آپ ﷺ کا خیمہ نصب کیا تھا، آپ وہاں اترے تھے۔ مسدد کی روایت میں ہے، وہ (ابورافع) نبی اکرم ﷺ کے اسباب کے محافظ تھے اور عثمان ؓ کی روایت میں يعني في الأبطح کا اضافہ ہے (مطلب یہ ہے کہ وہ ابطح میں محافظ تھے) ۔
Abu Rafi said The Messenger of Allah ﷺ did not command me to align there. But when I pitched his tent there, he alighted. The narrator Musaddad said “He (Abu Rafi) kept watch over the luggage of the Prophet ﷺ . The narrator Uthman said That is in Al Abtah.
اسامہ بن زید ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ کل حج میں کہاں اتریں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: کیا عقیل نے کوئی گھر ہمارے لیے (مکہ میں) چھوڑا ہے؟ ، اس کے بعد آپ ﷺ نے فرمایا: ہم خیف بنو کنانہ میں اتریں گے جہاں قریش نے کفر پر عہد کیا تھا (یعنی وادی محصب میں) ١ ؎، اور وہ یہ کہ بنو کنانہ نے قریش سے بنی ہاشم کے خلاف قسم کھائی تھی کہ وہ ان سے نہ شادی بیاہ کریں گے، نہ خریدو فروخت، اور نہ انہیں پناہ دیں گے۔ زہری کہتے ہیں: خیف وادی کا نام ہے۔
Usamah bin Zaid said I asked Messenger of Allah ﷺ where will you encamp tomorrow? (This is asked on the occasion of his Hajj). He replied “Did Aqil leave any house for us?” He again said “We shall encamp in the valley (Khaif) of Banu Kinanah where the Quraish took an oath upon disbelief, that is, Al Muhassab. ” The oath was that Banu Kinanah concluded a pact with the Quraish against Banu Hashim “they would have no marital relationship with them, nor would give them accommodation nor would have any commercial ties with them. ” Al Zuhri said Al Khaif means valley.
Notes · وضاحت
١ ؎: نبی اکرم ﷺ اس وادی میں اللہ کا شکر ادا کرنے کے لئے اترے کہ جہاں پر کفر کا دور دورہ تھا، اب وہاں اسلام کا غلبہ ہوگیا۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے جب منیٰ سے کوچ کرنے کا قصد کیا تو فرمایا: ہم وہاں کل اتریں گے ۔ پھر راوی نے ویسا ہی بیان کیا، اس روایت میں نہ تو حدیث کے شروع کے الفاظ ہیں، اور نہ ہی یہ ذکر ہے کہ خیف وادی کا نام ہے۔
Abu Hurairah said “Messenger of Allah ﷺ said when intended to march from Mina we shall encamp tomorrow. The narrator then narrated something similar (as a previous tradition but he did not mention the opening words, nor did he mention the words “Al Khaif, Al Wadi (Khaif means Valley). ”
نافع سے روایت ہے کہ ابن عمر ؓ بطحاء میں نیند کی ایک جھپکی لے لیتے پھر مکہ میں داخل ہوتے اور بتاتے کہ رسول اللہ ﷺ بھی ایسا ہی کرتے تھے۔
Nafi said “Ibn Umar used to nap for a short while at Batha’ (i. e, Al Muhassab) and then enter Makkah. ” He thought that Messenger of Allah ﷺ used to do so.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ٦٦٥٨، ٧٥٩٠)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحج ١٤٨(١٧٦٧)، صحیح مسلم/الحج ٥٩ (١٢٧٥)، سنن الترمذی/الحج ٨١ (٩٢١)، سنن ابن ماجہ/المناسک ٨١ (٣٠٦٨)، مسند احمد (٢/٢٨، ١٣٨) (صحیح )
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ظہر، عصر، مغرب اور عشاء بطحاء میں پڑھی پھر ایک نیند سوئے، پھر مکہ میں داخل ہوئے اور ابن عمر ؓ بھی ایسا ہی کرتے تھے۔
Ibn Umar said “The Prophet ﷺ offered noon, afternoon, evening and night prayers at Al Batha (i. e, Al Muhassab). He then napped for a short while and then entered Makkah. Ibn Umar also used to do so.
عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ حجۃ الوداع میں منیٰ میں ٹھہرے، لوگ آپ سے سوالات کر رہے تھے، آپ ﷺ کے پاس ایک شخص آیا اور بولا: اللہ کے رسول! مجھے معلوم نہ تھا میں نے ذبح کرنے سے پہلے سر منڈا لیا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ذبح کرلو کوئی حرج نہیں ، پھر ایک اور شخص آیا اور بولا: اللہ کے رسول! مجھے معلوم نہ تھا میں نے رمی کرنے سے پہلے نحر کرلیا، آپ ﷺ نے فرمایا: رمی کرلو، کوئی حرج نہیں ، اس طرح جتنی چیزوں کے بارے میں آپ ﷺ سے پوچھا گیا جو آگے پیچھے ہوگئیں تھیں آپ نے فرمایا: کر ڈالو، کوئی حرج نہیں ۔
Abd Allaah bin Amr bin Al ‘As said “The Messenger of Allah ﷺ stopped during the Farewell Pilgrimage at Mina, as the people were to ask him (about the rites of Hajj). A man came and said Messenger of Allah being ignorant, I shaved before sacrificing. The Messenger of Allah ﷺ replied “Sacrifice, for no harm will come. ” Another man came and said “Messenger of Allah ﷺ , being ignorant, I sacrificed before throwing the pebbles. ” He replied “Throw them for no harm will come. ” He (the Prophet) was not asked about anything which had been done before or after its proper time without saying “Do it, for no harm will come. ”
اسامہ بن شریک ؓ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ حج کے لیے نکلا، لوگ آپ کے پاس آتے تھے جب کوئی کہتا: اللہ کے رسول! میں نے طواف سے پہلے سعی کرلی یا میں نے ایک چیز کو مقدم کردیا یا مؤخر کردیا تو آپ ﷺ فرماتے: کوئی حرج نہیں، کوئی حرج نہیں، حرج صرف اس پر ہے جس نے کسی مسلمان کی جان یا عزت و آبرو پامال کی اور وہ ظالم ہو، ایسا ہی شخص ہے جو حرج میں پڑگیا اور ہلاک ہوا ۔
Usamah bin Sharik said “I went out with the Prophet ﷺ to perform Hajj, and the people were coming to him. One would say “Messenger of Allah ﷺ I ran between Al Safa’ and Al Marwah before going round the Kaabah or I did something before the its proper time or did something after its proper time. He would reply “No harm will come; no harm will come except to one who defames a Muslim acting wrongfully. That is the one who will be in trouble and will perish.
مطلب بن ابی وداعہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو باب بنی سہم کے پاس نماز پڑھتے دیکھا، لوگ آپ ﷺ کے سامنے سے گزر رہے تھے بیچ میں کوئی سترہ نہ تھا ١ ؎۔ سفیان کے الفاظ یوں ہیں: ان کے اور کعبہ کے درمیان کوئی سترہ نہ تھا۔ سفیان کہتے ہیں: ابن جریج نے ان کے بارے میں ہمیں بتایا کہ کثیر نے اپنے والد سے روایت کی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے جواب دیا میں نے اسے اپنے والد سے نہیں سنا، بلکہ گھر کے کسی فرد سے سنا اور انہوں نے میرے دادا سے روایت کی ہے۔
Narrated Kathir bin Kathir bin al-Muttalib bin Abi Widaah From his people on the authority of his grandfather: He saw that the Prophet ﷺ was praying at the place adjacent to the gate of Banu Sahm and the people were passing before him, and there was no covering (sutrah) between them. The narrator Sufyan said: There was no covering between him and the Kabah. Sufyan said: Ibn Juraij reported us stating that Kathir reported on the authority of his father saying: I did not hear my father say, but I heard some of my people on the authority of my grandfather.
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ حدیث ضعیف ہے، اس لئے اس سے استدلال نہیں کیا جاسکتا، سترہ کے بارے میں وارد تمام احادیث مطلق اور عام ہیں، ان میں کسی جگہ کی کوئی قید نہیں خواہ صحراء ہو، یا مسجد حتی کہ حرمین شریفین کی مساجد بھی اس حکم سے مستثنی نہیں ہیں، اس لئے ہر جگہ سترہ کا اہتمام کرنا چاہیے۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/القبلة ٩ (٧٥٩)، والحج ١٦٢ (٢٩٦٢)، سنن ابن ماجہ/المناسک ٣٣ (٢٩٥٨)، ( تحفة الأشراف: ١١٢٨٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٣٩٩) (ضعیف) (اس کے راوی بعض أہلہ مبہم مجہول ہیں )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو مکہ فتح کرا دیا، تو آپ لوگوں میں کھڑے ہوئے، اللہ کی حمد و ثنا بیان کی پھر فرمایا: اللہ نے ہی مکہ سے ہاتھیوں کو روکا، اور اس پر اپنے رسول اور مومنین کا اقتدار قائم کیا، میرے لیے دن کی صرف ایک گھڑی حلال کی گئی اور پھر اب قیامت تک کے لیے حرام کردی گئی، نہ وہاں (مکہ) کا درخت کاٹا جائے، نہ اس کا شکار بدکایا جائے، اور نہ وہاں کا لقطہٰ (پڑی ہوئی چیز) کسی کے لیے حلال ہے، بجز اس کے جو اس کی تشہیر کرے ، اتنے میں عباس ؓ نے کہا: اللہ کے رسول! سوائے اذخر کے ١ ؎ (یعنی اس کا کاٹنا درست ہونا چاہیئے) اس لیے کہ وہ ہماری قبروں اور گھروں میں استعمال ہوتی ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سوائے اذخر کے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابن مصفٰی نے ولید سے اتنا اضافہ کیا ہے: تو اہل یمن کے ایک شخص ابوشاہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے لکھ کر دے دیجئیے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ابو شاہ کو لکھ کر دے دو ، (ولید کہتے ہیں) میں نے اوزاعی سے پوچھا: اکتبوا لأبي شاه سے کیا مراد ہے، وہ بولے: یہی خطبہ ہے جو انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا۔
Abu Hurairah said “When Allah, the Exalted, granted the conquest of Makkah to his Messenger, the Prophet ﷺ stood among them (the people) and praised Allaah and extolled Him. He then said, Verily Allaah stopped the Elephant from Makkah, and gave His Messenger and the believers sway upon it and it has been made lawful for me only for one hour on one day then it will remain sacred till the Day of Resurrection. Its trees are not to be cut, its game is not to be molested and the things dropped there are to be picked up only by one who publicly announces it. Abbas or Al Abbas suggested “Messenger of Allah ﷺ except the rush (idhkir) for it is useful for our graves and our houses. The Messenger of Allah ﷺ said “Except the rush. ” Abu Dawud said “Ibn Al Musaffa added on the authority of Al Walid Abu Shah a man from the people of the Yemen stood and said “Give me in writing, Messenger of Allah ﷺ ”. The Messenger of Allah ﷺ said “Give in writing to Abu Shah. I said to Al Awza’i “What does the statement mean? Give Abu Shah in writing?” He said “This was an address which he heard from the Messenger of Allah ﷺ . ”
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ہم آپ کے لیے منیٰ میں ایک گھر یا عمارت نہ بنادیں جو آپ کو دھوپ سے سایہ دے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں یہ (منیٰ ) اس کی جائے قیام ہے جو یہاں پہلے پہنچ جائے ١ ؎۔
Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : I said: Messenger of Allah, should we not build a house or a building which shades you from the sun? He replied: No, it is a place for the one who reaches there earlier.
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی منیٰ کا میدان وقف ہے حاجیوں کے لئے وہ کسی کی خاص ملکیت نہیں ہے اگر کوئی وہاں پہلے پہنچے اور کسی جگہ اتر جائے تو دوسرا اس کو اٹھا نہیں سکتا چونکہ مکان بنانے میں ایک جگہ پر اپنا قبضہ اور حق جما لینا ہے اس لئے آپ نے اس سے منع فرمایا۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الحج ٥١ (٨٨١)، سنن ابن ماجہ/المناسک ٥٢ (٣٠٠٦)، ( تحفة الأشراف: ١٧٩٦٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/١٨٧، ٢٠٦)، سنن الدارمی/المناسک ٨٧ (١٩٨٠) (ضعیف) (یوسف کی والدہ مسیکہ مجہول ہیں )
یعلیٰ بن امیہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: حرم میں غلہ روک کر رکھنا اس میں الحاد (کج روی) ہے ۔
Narrated Yala ibn Umayyah (RA) : The Prophet ﷺ said: Hoarding up food (to sell it at a high price) in the sacred territory is a deviation (from right to wrong).
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ١١٨٤٨) (ضعیف) (اس کے رواة جعفر، عمارة اور موسیٰ سب ضعیف ہیں )
بکر بن عبداللہ کہتے ہیں کہ ابن عباس ؓ سے ایک شخص نے پوچھا: کیا وجہ ہے کہ اس گھر کے لوگ نبیذ (کھجور کا شربت) پلاتے ہیں اور آپ کے چچا کے بیٹے (قریش) دودھ، شہد اور ستو پلاتے ہیں؟ کیا یہ لوگ بخیل یا محتاج ہیں؟ ابن عباس نے کہا: نہ ہم بخیل ہیں اور نہ محتاج، بلکہ رسول اللہ ﷺ ایک روز اپنی سواری پر بیٹھ کر آئے، آپ ﷺ کے پیچھے اسامہ بن زید ؓ تھے، آپ ﷺ نے پینے کو کچھ مانگا تو نبیذ پیش کیا گیا، آپ نے اس میں سے پیا اور باقی ماندہ اسامہ ؓ کو دے دیا، تو انہوں نے بھی اس میں سے پیا، اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم نے اچھا کیا اور خوب کیا ایسے ہی کیا کرو ، تو ہم اسی کو اختیار کئے ہوئے ہیں جسے رسول اللہ ﷺ نے کہا تھا، اسے ہم بدلنا نہیں چاہتے۔
Bakr bin Abdullah said “A man said to Ibn Abbas “What about the people of this House? They supply Nabidh to the public while their cousins provide milk, honey and mush (sawiq). Is this due to their niggardliness or need? Ibn Abbas replied “This is due neither to our niggardliness nor to our need, but the Messenger of Allah ﷺ (once) entered upon us on his riding beast and ‘Usamah bin Zaid was sitting behind him. The Messenger of Allah ﷺ called for drink. Nabidh was brought to him and he drank from it and gave its left over to Usamah bin Zaid who drank from it. The Messenger of Allah ﷺ then said “You have done a good and handsome deed and do it in a similar way. It is due to this we are doing so, we do not want to change what the Messenger of Allah ﷺ had said.
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحج ٦٠ (١٣١٦)، ( تحفة الأشراف: ٥٣٧٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٤٥، ٢٩٢، ٣٣٦، ٣٦٩، ٣٧٣) (صحیح )
عبدالرحمٰن بن حمید سے روایت ہے کہ انہوں نے عمر بن عبدالعزیز کو سائب بن یزید سے پوچھتے سنا: کیا آپ نے مکہ میں رہائش اختیار کرنے کے سلسلے میں کچھ سنا ہے؟ انہوں نے کہا: مجھے ابن حضرمی نے خبر دی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: مہاجرین کے لیے حج کے احکام سے فراغت کے بعد تین دن تک مکہ میں ٹھہرنے کی اجازت ہے ١ ؎۔
Umar bin Abd Al Aziz asked Al Saib bin Yazid “Did you hear anything relating to staying at Makkah (after the completion of the rites of Hajj)? He said “Ibn Al Hadrami told me that he heard the Messenger of Allah ﷺ say “The Muhajirun (Immigrants) are allowed to stay at the Kaabah (Makkah) for three days after the obligatory circumambulation (Tawaf Al Ziyarah or Sadr)”.
Notes · وضاحت
١ ؎: تاکہ وہ اس دوران اپنی ضرورتیں پوری کرلیں اس سے زیادہ انہیں رکنے کی اجازت نہیں کیونکہ وہ اللہ کے لئے اس شہر کو خیرباد کہہ چکے ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/مناقب الأنصار ٤٧ (٣٩٣٣)، صحیح مسلم/الحج ٨١ (١٣٥٢)، سنن الترمذی/الحج ١٠٣ (٩٤٩)، سنن النسائی/تقصیر الصلاة ٣ (١٤٥٥)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٧٦ (١٠٧٣)، (تحفة الأشراف: ١١٠٠٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٣٩، ٥/٥٢)، سنن الدارمی/الصلاة ١٨ (١٢٤٧) (صحیح )