Sunan Abu Dawood 2019

مناسک حج کا بیان

2019Sunan Abu Dawood

مکہ کے حرم کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا نَبْنِي لَكَ بِمِنًى بَيْتًا أَوْ بِنَاءً يُظِلُّكَ مِنَ الشَّمْسِ ؟ فَقَالَ: لَا، إِنَّمَا هُوَ مُنَاخُ مَنْ سَبَقَ إِلَيْهِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ہم آپ کے لیے منیٰ میں ایک گھر یا عمارت نہ بنادیں جو آپ کو دھوپ سے سایہ دے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں یہ (منیٰ ) اس کی جائے قیام ہے جو یہاں پہلے پہنچ جائے ١ ؎۔

Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : I said: Messenger of Allah, should we not build a house or a building which shades you from the sun? He replied: No, it is a place for the one who reaches there earlier.

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی منیٰ کا میدان وقف ہے حاجیوں کے لئے وہ کسی کی خاص ملکیت نہیں ہے اگر کوئی وہاں پہلے پہنچے اور کسی جگہ اتر جائے تو دوسرا اس کو اٹھا نہیں سکتا چونکہ مکان بنانے میں ایک جگہ پر اپنا قبضہ اور حق جما لینا ہے اس لئے آپ نے اس سے منع فرمایا۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الحج ٥١ (٨٨١)، سنن ابن ماجہ/المناسک ٥٢ (٣٠٠٦)، ( تحفة الأشراف: ١٧٩٦٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/١٨٧، ٢٠٦)، سنن الدارمی/المناسک ٨٧ (١٩٨٠) (ضعیف) (یوسف کی والدہ مسیکہ مجہول ہیں )