عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ، اسامہ بن زید، عثمان بن طلحہ حجبی اور بلال ؓ کعبہ میں داخل ہوئے، پھر ان لوگوں نے اسے بند کرلیا، اور اس میں رکے رہے، عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں: میں نے بلال ؓ سے جب وہ باہر آئے تو پوچھا کہ رسول اللہ ﷺ نے کیا کیا؟ وہ بولے: آپ نے ایک ستون اپنے بائیں طرف اور دو ستون دائیں طرف اور تین ستون اپنے پیچھے کیا (اس وقت بیت اللہ چھ ستونوں پر قائم تھا) پھر آپ نے نماز پڑھی۔
Abd Allaah bin Umar said “The Messenger of Allah ﷺ entered the Kaabah and along with him entered Usamah bin Zaid, Uthman bin Talhah Al Hajabi and Bilal. He then closed the door and stayed there. Abdullah bin Umar (RA) said “I asked Bilal when he came out What did the Messenger of Allah ﷺ do (there)? He replied “He stood with a pillar on his left, two pillars on his right, and three pillars behind him. At that time the House (the Kaabah) stood on six pillars. He then prayed.
اس سند سے بھی مالک سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ستونوں کا ذکر نہیں، البتہ اتنا اضافہ ہے پھر آپ ﷺ نے نماز پڑھی، آپ کے اور قبلے کے درمیان تین ہاتھ کا فاصلہ تھا ۔
The aforesaid tradition has also been transmitted by Malik through a different chain of narrators. He (Abd Al Rahman bin Mahdi) did not mention the words “pillars”. This version adds “He then prayed and there was a distance of three cubits between him and the qiblah. ”
عبداللہ بن عمر ؓ نے نبی اکرم ﷺ سے قعنبی کی حدیث کے ہم مثل روایت کی ہے اس میں اس طرح ہے کہ ابن عمر ؓ کہتے ہیں: میں ان سے یہ پوچھنا بھول گیا کہ آپ نے کتنی رکعتیں پڑھیں؟۔
This tradition has also been transmitted by Ibn Umar through a different chain of narrators like the one narrated by Al Qanabi. This version has “ I forgot to ask the number of rak’ahs he offered.
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم (٢٠٢٣)، ( تحفة الأشراف: ٢٠٣٧) (صحیح )
عبدالرحمٰن بن صفوان کہتے ہیں کہ میں نے عمر بن خطاب ؓ سے پوچھا: رسول اللہ ﷺ جب کعبہ میں داخل ہوئے تو آپ نے کیا کیا؟ انہوں نے کہا: آپ ﷺ نے دو رکعتیں پڑھیں۔
Abd Al Rahman bin Safwan said “I asked Umar bin Al Khattab How did the Messenger of Allah ﷺ do when he entered the Kaabah? He said “He offered two rak’ahs of prayer. ”
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ١٠٥٩٠)، وقد أخرجہ: (حم ٣/٤٣٠، ٤٣١) (صحیح )
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ جب مکہ آئے تو آپ نے کعبہ میں داخل ہونے سے انکار کیا کیونکہ اس میں بت رکھے ہوئے تھے، آپ ﷺ نے حکم دیا تو وہ نکال دیئے گئے، اس میں ابراہیم اور اسماعیل (علیہما السلام) کی تصویریں بھی تھیں، وہ اپنے ہاتھوں میں فال نکالنے کے تیر لیے ہوئے تھے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ انہیں ہلاک کرے، اللہ کی قسم انہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ ان دونوں (ابراہیم اور اسماعیل) نے کبھی بھی فال نہیں نکالا ، وہ کہتے ہیں: پھر آپ ﷺ بیت اللہ میں داخل ہوئے تو اس کے گوشوں اور کونوں میں تکبیرات بلند کیں، پھر بغیر نماز پڑھے نکل آئے۔
Abbas said “When the Prophet ﷺ came to Makkah he refused to enter the House (the Kaabah) for there were idols in it. He ordered to take them out and they were taken out. The statues of Abraham and Ismail were taken out and they had arrows in their hands. Messenger of Allah ﷺ said “May Allaah destroy them! By Allaah, they knew that they never cast lots by arrow. He then entered the House (the Kaabah) and uttered the takbir (Allaah is most great) in all its sides and corners. He then came out and did not pray.
Notes · وضاحت
١ ؎: فال کے ان تیروں پر ” افعل “،” لا تفعل “،” لا شيء “ لکھا ہوتا تھا، ان کی عادت تھی جب وہ سفر پر نکلتے تو اس کو ایک تھیلی میں ڈال کر اس میں سے ایک کو نکالتے، اگر حسن اتفاق سے اس تیر پر افعل لکھا ہوتا تو سفر پر نکلتے، اور لا تفعل لکھا ہوتا تو سفر کو ملتوی کردیتے اور اگر لا شيء لکھا رہتا تو پھر دوبارہ سب کو ڈال کر نکالتے، یہاں تک کہ افعل یا لا تفعل نکل آئے، رہی یہ بات کہ ” آپ نے کعبہ میں نماز نہیں پڑھی “ تو یہ ابن عباس ؓ نے اپنے علم کی بنیاد پر کہا ہے، ترجیح بلال ؓ کے بیان کو ہے جنہوں نے قریب سے دیکھا تھا۔
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میری خواہش تھی کہ میں بیت اللہ میں داخل ہو کر اس میں نماز پڑھوں، تو رسول اللہ ﷺ نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے حطیم میں داخل کردیا، اور فرمایا: جب تم بیت اللہ میں داخل ہونا چاہو تو حطیم کے اندر نماز پڑھ لیا کرو کیونکہ یہ بھی بیت اللہ ہی کا ایک ٹکڑا ہے، تمہاری قوم کے لوگوں نے جب کعبہ تعمیر کیا تو اسی پر اکتفا کیا تو لوگوں نے اسے بیت اللہ سے خارج ہی کردیا ١ ؎۔
Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : I liked to enter the House (the Kabah) and pray therein. The Messenger of Allah ﷺ caught me by hand and admitted me to al-Hijr. He then said: Pray in al-Hijr when you intend to enter the House (the Kabah), for it is a part of the House (the Kabah). Your people shortened it when they built the Kabah, and they took it out of the House.
Notes · وضاحت
١ ؎: حطیم کے حصہ کو عبداللہ بن زبیر ؓ نے اپنے دور خلافت میں کعبے کے اندر شامل کردیا تھا، لیکن حجاج بن یوسف نے جب ان پر چڑھائی کی اور کعبہ کی عمارت کو نقصان پہنچا تو اس نے پھر نئے سرے سے اس کی تعمیر کروائی اور حطیم کو چھوڑ دیا اور آج تک ویسے ہی ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الحج ١٢٩ (٢٩١٥)، سنن الترمذی/الحج ٤٨ (٨٧٦)، ( تحفة الأشراف: ١٧٩٦١)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحج ٤٢ (١٥٨٣)، وأحادیث الأنبیاء ١٠ (٣٣٦٨)، و تفسیر سورة البقرة ١٠ (٤٤٨٤)، والتمنی ٩ (٧٢٤٣)، صحیح مسلم/الحج ٦٩ (٣٩٨)، سنن ابن ماجہ/المناسک ٣١ (٢٩٥٥)، موطا امام مالک/الحج ٣٣(١٠٤)، مسند احمد (٦/٦٧، ٩٢، ٩٣)، سنن الدارمی/المناسک ٤٤ (١٩١١) (حسن صحیح )
ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ میرے پاس سے نکلے اور آپ خوش تھے پھر میرے پاس آئے اور آپ غمگین تھے، آپ ﷺ نے فرمایا: میں کعبے کے اندر گیا اگر مجھے وہ بات پہلے معلوم ہوجاتی جو بعد میں معلوم ہوئی ١ ؎ تو میں اس میں داخل نہ ہوتا، مجھے اندیشہ ہے کہ میں نے اپنی امت کو زحمت میں ڈال دیا ہے ٢ ؎۔
Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : The Prophet ﷺ went out from me, while he was happy, but he returned to me while he was sad. He said: I entered the Kabah, I know beforehand about my affair what I have come to know later I would not have entered it. I am afraid I have put my community to hardship.
Notes · وضاحت
١ ؎: کہ لوگوں کو کعبہ کے اندر داخل ہونے میں بڑی پریشانیاں اٹھانا پڑیں گی۔ ٢ ؎: آپ ﷺ کا یہ اندیشہ صحیح ثابت ہوا عوام نے کعبہ کے اندر جانے کو ضروری سمجھ لیا چناچہ اس کے لئے انہیں بڑی دھکم پیل کرنی پڑتی تھی، اللہ بھلا کرے سعودی حکومت کا جس نے کعبہ کے اندر عام لوگوں کا داخلہ بند کردیا۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الحج ٤٥ (٨٧٣)، سنن ابن ماجہ/المناسک ٧٩ (٣٠٦٤)، ( تحفة الأشراف: ١٦٢٣٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/١٣٧) (ضعیف) (اس کے راوی اسماعیل کثیرالوہم ہیں )
اسلمیہ کہتی ہیں کہ میں نے عثمان ؓ سے پوچھا ١ ؎: جب رسول اللہ ﷺ نے آپ کو بلایا تو آپ سے کیا کہا؟ تو انہوں نے کہا کہ آپ ﷺ نے فرمایا: میں تمہیں یہ بتانا بھول گیا کہ مینڈھے ٢ ؎ کی دونوں سینگوں کو چھپا دو اس لیے کہ کعبہ میں کوئی چیز ایسی رہنی مناسب نہیں ہے جو نماز پڑھنے والے کو غافل کر دے ۔
Al-Aslamiyyah said: I said to Uthman ibn Talhah al-Hajabi): What did the Messenger of Allah ﷺ say to you when he called you? He said: (The Prophet said:) I forgot to order you to cover the two horns (of the lamb), for it is not advisable that there should be anything in the House (the Kabah) which diverts the attention of the man at prayer. Ibn as-Sarh said: The name of my maternal uncle is Musafi ibn Shaybah.
Notes · وضاحت
١ ؎: عثمان سے مراد عثمان بن طلحہ حجبی ؓ ہیں۔ ٢ ؎: اس دنبہ کی سینگیں جس کو اسماعیل (علیہ السلام) کی جگہ پر ذبح کرنے کے لئے جبریل (علیہ السلام) لے آئے تھے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ٩٧٦٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٣٨٠) (صحیح )
شیبہ بن عثمان کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب ؓ اس جگہ بیٹھے جہاں تم بیٹھے ہو اور کہا: میں باہر نہیں نکلوں گا جب تک کہ کعبہ کا مال ١ ؎ (محتاج مسلمانوں میں) تقسیم نہ کر دوں، میں نے کہا: آپ ایسا نہیں کرسکتے، فرمایا: کیوں نہیں، میں ضرور کروں گا، میں نے کہا: آپ ایسا نہیں کرسکتے، وہ بولے: کیوں؟ میں نے کہا: اس لیے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس مال کی جگہ دیکھی، ابوبکر ؓ نے بھی دیکھ رکھی تھی، اور وہ دونوں اس مال کے آپ سے زیادہ حاجت مند تھے لیکن انہوں نے اسے نہیں نکالا، یہ سن کر عمر کھڑے ہوئے اور باہر نکل آئے۔
Shaibah bin Uthman said “Umar bin Al Khattab was sitting in the place where you are sitting. He said I shall not go out until I distribute the property of The Kaabah. I said “You will not do it. ” He asked “Why?” I said “For the Messenger of Allah ﷺ and Abu Bakr had seen its place and they were more in need of the property than you, but they did not take it out. He (Umar) stood up and went out. ”
Notes · وضاحت
١ ؎: بعض علماء کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے یہ مال امام مہدی کے لئے رکھ چھوڑا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحج ٤٨ (١٥٩٤)، والاعتصام ٢ (٧٢٧٥)، سنن ابن ماجہ/المناسک ١٠٥ (٣١١٦)، ( تحفة الأشراف: ٤٨٤٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤١٠) (صحیح )
زبیر ؓ کہتے ہیں کہ جب ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ لیّۃ ١ ؎ سے لوٹے اور بیری کے درخت کے پاس پہنچے تو رسول اللہ ﷺ قرن اسود ٢ ؎ کے دامن میں اس کے بالمقابل کھڑے ہوئے پھر اپنی نگاہ سے نخب ٣ ؎ کا استقبال کیا (اور راوی نے کبھی ( نخبا کے بجائے واديه کا لفظ کہا) اور ٹھہر گئے تو سارے لوگ ٹھہر گئے تو فرمایا: صیدوج ٤ ؎ اور اس کے درخت محترم ہیں، اللہ کی طرف سے محترم قرار دیئے گئے ہیں ، یہ آپ ﷺ کے طائف میں اترنے اور ثقیف کا محاصرہ کرنے سے پہلے کی بات ہے۔
Narrated Az-Zubayr: When we came along with the Messenger of Allah ﷺ from Liyyah and we were beside the lote tree, the Messenger of Allah ﷺ stopped at the end of al-Qarn al-Aswad opposite to it. He then looked at Nakhb or at its valley. He stopped and all the people stopped. He then said: The game of Wajj and its thorny trees are unlawful made unlawful for Allah. This was before he alighted at at-Taif and its fortress for Thaqif.
Notes · وضاحت
١ ؎: ایک پہاڑ کا نام ہے جو طائف سے قریب ہے۔ ٢ ؎: حجاز میں ایک پہاڑ کا نام ہے۔ ٣ ؎: ایک جگہ کا نام ہے۔ ٤ ؎: طائف میں ایک وادی کا نام ہے ۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ٣٦٤٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/١٦٥) (ضعیف) (اس کے راوی محمد اور عبداللہ دونوں ضعیف ہیں )
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: کجاوے صرف تین ہی مسجدوں کے لیے کسے جائیں: مسجد الحرام، میری اس مسجد (یعنی مسجد نبوی) اور مسجد اقصی کے لیے ۔
Abu Hurairah reported the Prophet ﷺ as saying “Journey should not be made (to visit any masjid) except towards three masjids: The sacred masjid (of Makkah), this masjid of mine and Al Aqsa masjid (in Jerusalem).
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/فضائل الصلاة ١ (١١٨٩)، صحیح مسلم/الحج ٩٥ (١٣٩٧)، سنن النسائی/المساجد ١٠ (٦٩٩)، ( تحفة الأشراف: ١٣١٣٠)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٩٦ (١٤٠٩)، موطا امام مالک/ الجمعة ٧ (١٦)، مسند احمد (٢/٢٣٤، ٢٣٨، ٢٧٨)، سنن الدارمی/الصلاة ١٣٢ (١٤٦١) (صحیح )
علی ؓ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ سے سوائے قرآن کے اور اس کے جو اس صحیفے ١ ؎ میں ہے کچھ نہیں لکھا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مدینہ حرام ہے عائر سے ثور تک (عائر اور ثور دو پہاڑ ہیں) ، جو شخص مدینہ میں کوئی بدعت (نئی بات) نکالے، یا نئی بات نکالنے والے کو پناہ اور ٹھکانا دے تو اس پر اللہ، ملائکہ اور تمام لوگوں کی لعنت ہے، نہ اس کا فرض قبول ہوگا اور نہ کوئی نفل، مسلمانوں کا ذمہ (عہد) ایک ہے (مسلمان سب ایک ہیں اگر کوئی کسی کو امان دیدے تو وہ سب کی طرف سے ہوگی) اس (کو نبھانے) کی ادنی سے ادنی شخص بھی کوشش کرے گا، لہٰذا جو کسی مسلمان کی دی ہوئی امان کو توڑے تو اس پر اللہ، ملائکہ اور تمام لوگوں کی لعنت ہے، نہ اس کا فرض قبول ہوگا اور نہ نفل، اور جو اپنے مولی کی اجازت کے بغیر کسی قوم سے ولاء کرے ٢ ؎ اس پر اللہ، ملائکہ اور تمام لوگوں کی لعنت ہے، نہ اس کا فرض قبول ہوگا اور نہ نفل ۔
Ali said “We wrote down nothing on the authority of the Messenger of Allah ﷺ but the Quran and what this document contains. ”. He reported the Messenger of Allah ﷺ as saying “ Madeenah is sacred from A’ir to Thawr so if anyone produces an innovation (in it) or gives protection to an innovator the curse of Allaah, angels and all men will fall upon him and no repentance or ransom will be accepted from him. The protection granted by Muslim is one (even if) the humblest of them grants it. So if anyone breaks a covenant made by a Muslim the curse of Allaah, angels and all men will fall upon him and no repentance or ransom will be accepted from him. If anyone attributes his manumission to people without the permission of his masters the curse of Allaah, angels and all men will fall upon him and no repentance or ransom will be accepted from him.
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ صحیفہ ایک ورق تھا جس میں دیت کے احکام تھے، علی ؓ اسے اپنی تلوار کی نیام میں رکھتے تھے۔ ٢ ؎: یعنی کوئی اپنی آزادی کی نسبت کسی دوسرے کی طرف نہ کرے۔
علی ؓ سے اس قصے میں روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اس (یعنی مدینہ) کی نہ گھاس کاٹی جائے، نہ اس کا شکار بھگایا جائے، اور نہ وہاں کی گری پڑی چیزوں کو اٹھایا جائے، سوائے اس شخص کے جو اس کی پہچان کرائے، کسی شخص کے لیے درست نہیں کہ وہ وہاں لڑائی کے لیے ہتھیار لے جائے، اور نہ یہ درست ہے کہ وہاں کا کوئی درخت کاٹا جائے سوائے اس کے کہ کوئی آدمی اپنے اونٹ کو چارہ کھلائے ۔
Narrated Ali ibn Abu Talib: The Prophet ﷺ said: Its (Madinas) fresh grass is not to be cut, its game is not to be driven away, and things dropped in it are to be picked up by one who publicly announces it, and it is not permissible for any man to carry weapons in it for fighting, and it is not advisable that its trees are cut except what a man cuts for the fodder of his camel.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ١٠٢٧٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/١١٩) (صحیح )
عدی بن زید ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مدینہ کے ہر جانب ایک ایک برید محفوظ کردیا ہے ١ ؎ نہ وہاں کا درخت کاٹا جائے گا اور نہ پتے توڑے جائیں گے مگر اونٹ کے چارے کے لیے (بہ قدر ضرورت) ۔
Adi bin Zaid said “The Messenger of Allah ﷺ declared Madeenah a protected land a mail-post (three miles) from each side. Its trees are not to be beaten off or to be cut except what is taken from the Camel.
Notes · وضاحت
١ ؎: چاروں اطراف مشرق، مغرب اور شمال جنوب کو ملا کر کل چار برید ہوئے اور ایک برید چار فرسخ کا ہوتا ہے اور ایک فرسخ تین میل کا اس طرح اس حدیث کی رو سے کل (٤٨) میل بنتا ہے جبکہ صحیح مسلم کی روایت میں (١٢) میل کی صراحت آئی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ٩٨٧٩) (حسن) (اس کے راوی سلیمان مجہول اور عبداللہ لین الحدیث ہیں، لیکن یہ حدیث شواہد کی بنا پر حسن ہے، ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود ٦/٢٧٥، والصحیحة: ٣٢٤٣ )
سلیمان بن ابی عبداللہ کہتے ہیں کہ میں نے سعد بن ابی وقاص ؓ کو دیکھا کہ انہوں نے ایک شخص کو پکڑا جو مدینہ کے حرم میں جسے رسول اللہ ﷺ نے حرم قرار دیا ہے شکار کر رہا تھا، سعد نے اس سے اس کے کپڑے چھین لیے تو اس کے سات (٧) لوگوں نے آ کر ان سے اس کے بارے میں گفتگو کی، آپ نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے اسے حرم قرار دیا ہے اور فرمایا ہے: جو کسی کو اس میں شکار کرتے پکڑے تو چاہیئے کہ وہ اس کے کپڑے چھین لے ، لہٰذا میں تمہیں وہ سامان نہیں دوں گا جو مجھے رسول اللہ ﷺ نے دلایا ہے البتہ اگر تم چاہو تو میں تمہیں اس کی قیمت دے دوں گا۔
Narrated Sulayman ibn Abu Abdullah (RA) : Sulayman ibn Abu Abdullah said: I saw Saad ibn Abu Waqqas seized a man hunting in the sacred territory of Madina which the Messenger of Allah ﷺ had declared to be sacred. He took away his clothes from him. His patrons came to him and spoke to him about it, but he replied: The Messenger of Allah ﷺ declared this territory to be sacred, saying: If anyone catches someone hunting in it he should take away from him his clothes. So I shall not return to you a provision which the Messenger of Allah ﷺ has given me, but if you wish I shall pay you its price.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ٣٨٦٣)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الحج ٨٥ (٤٠٦٠)، مسند احمد (١/١٦٨، ١٧٠) (صحیح) (لیکن شکار کی بات منکر ہے، صحیح بات درخت کاٹنے کی ہے جیسا کہ اگلی حدیث میں ہے اور صحیح مسلم میں بھی یہی بات ہے )
سعد ؓ کے غلام سے روایت ہے کہ سعد نے مدینہ کے غلاموں میں سے کچھ غلاموں کو مدینہ کے درخت کاٹتے پایا تو ان کے اسباب چھین لیے اور ان کے مالکوں سے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو منع کرتے سنا ہے کہ مدینہ کا کوئی درخت نہ کاٹا جائے، آپ ﷺ نے فرمایا ہے: جو کوئی اس میں کچھ کاٹے تو جو اسے پکڑے اس کا اسباب چھین لے ١ ؎۔
A client of Saad said “Saad found some slaves from the slaves of Madina cutting the trees of Madina. ” So, he took away their property and said to their patrons “I heard the Messenger of Allah ﷺ prohibiting to cut any tree of Madina”. He said “If anyone cuts any one of them, what is taken from him will belong to the one who seizes him. ”
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ جھڑکی اور ملامت کے طور پر ہے، پھر اسے واپس دیدے، اکثر علماء کی یہی رائے ہے، اور بعض علماء نے کہا ہے کہ نہ دے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ٣٩٥١) (صحیح) (متابعات سے تقویت پا کر یہ روایت صحیح ہے، مؤلف کی سند میں دو علتیں ہیں: صالح کا اختلاط اور مولی لسعد کا مبہم ہونا )
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ کے حرم سے نہ درخت کاٹے جائیں اور نہ پتے توڑے جائیں البتہ نرمی سے جھاڑ لیے جائیں ١ ؎۔
Narrated Jabir ibn Abdullah (RA) : The Prophet ﷺ said: The leaves should not be beaten off and the trees should not be cut in the protected land of the Messenger of Allah ﷺ , but the leaves can be beaten off softly.
Notes · وضاحت
١ ؎: اکثر علماء کے نزدیک حرم مدینہ کے درخت کاٹنے یا شکار مارنے میں کوئی سزا نہیں ہے، بعض علماء کے نزدیک سزا کا مستحق ہے۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مجھ پر جب بھی کوئی سلام بھیجتا ہے تو اللہ تعالیٰ میری روح مجھے لوٹا دیتا ہے یہاں تک کہ میں اس کے سلام کا جواب دیتا ہوں ۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: If any one of you greets me, Allah returns my soul to me and I respond to the greeting.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ١٤٨٣٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٥٢٧) (حسن )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ ١ ؎ اور میری قبر کو میلا نہ بناؤ (کہ سب لوگ وہاں اکٹھا ہوں) ، اور میرے اوپر درود بھیجا کرو کیونکہ تم جہاں بھی رہو گے تمہارا درود مجھے پہنچایا جائے گا ۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: Do not make your houses graves, and do not make my grave a place of festivity. But invoke blessings on me, for your blessings reach me wherever you may be.
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اس میں نماز پڑھنا اور عبادت کرنا نہ چھوڑو کہ تم اس میں مردوں کی طرح ہوجاؤ اس سے معلوم ہوا کہ جس گھر میں نماز اور عبادت نہیں ہوتی وہ قبرستان کے مانند ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ١٣٠٣٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣٦٧) (صحیح )