Sunan Abu Dawood 2014

مناسک حج کا بیان

2014Sunan Abu Dawood

مناسک حج کی ترتیب الٹ جانے کا بیان

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّهُ قَالَ: وَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ بِمِنًى يَسْأَلُونَهُ، فَجَاءَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي لَمْ أَشْعُرْ فَحَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اذْبَحْ وَلَا حَرَجَ، وَجَاءَ رَجُلٌ آخَرُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَمْ أَشْعُرْ فَنَحَرْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ، قَالَ: ارْمِ وَلَا حَرَجَ، قَالَ: فَمَا سُئِلَ يَوْمَئِذٍ عَنْ شَيْءٍ قُدِّمَ أَوْ أُخِّرَ إِلَّا قَالَ: اصْنَعْ وَلَا حَرَجَ.

عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ حجۃ الوداع میں منیٰ میں ٹھہرے، لوگ آپ سے سوالات کر رہے تھے، آپ ﷺ کے پاس ایک شخص آیا اور بولا: اللہ کے رسول! مجھے معلوم نہ تھا میں نے ذبح کرنے سے پہلے سر منڈا لیا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ذبح کرلو کوئی حرج نہیں ، پھر ایک اور شخص آیا اور بولا: اللہ کے رسول! مجھے معلوم نہ تھا میں نے رمی کرنے سے پہلے نحر کرلیا، آپ ﷺ نے فرمایا: رمی کرلو، کوئی حرج نہیں ، اس طرح جتنی چیزوں کے بارے میں آپ ﷺ سے پوچھا گیا جو آگے پیچھے ہوگئیں تھیں آپ نے فرمایا: کر ڈالو، کوئی حرج نہیں ۔

Abd Allaah bin Amr bin Al ‘As said “The Messenger of Allah ﷺ stopped during the Farewell Pilgrimage at Mina, as the people were to ask him (about the rites of Hajj). A man came and said Messenger of Allah being ignorant, I shaved before sacrificing. The Messenger of Allah ﷺ replied “Sacrifice, for no harm will come. ” Another man came and said “Messenger of Allah ﷺ , being ignorant, I sacrificed before throwing the pebbles. ” He replied “Throw them for no harm will come. ” He (the Prophet) was not asked about anything which had been done before or after its proper time without saying “Do it, for no harm will come. ”

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/العلم ٢٣ (٨٣)، الحج ١٣١ (١٧٣٦)، الأیمان والنذور ١٥ (٦٦٦٥)، صحیح مسلم/الحج ٥٧ (١٣٠٦)، سنن الترمذی/الحج ٧٦ (٩١٦)، سنن النسائی/ الکبری/ الحج (٤١٠٦)، سنن ابن ماجہ/المناسک ٧٤ (٣٠٥١)، ( تحفة الأشراف: ٨٩٠٦)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الحج ٨١ (٢٤٢)، مسند احمد (٢/١٥٩، ١٦٠، ١٩٢، ٢٠٢، ٢١٠، ٢١٧)، سنن الدارمی/المناسک ٦٥ (١٩٤٨) (صحیح )