رمی جمار (کنکریاں مارنے) کا بیان
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا مِجْلَزٍ، يَقُولُ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ شَيْءٍ مِنْ أَمْرِ الْجِمَارِ، قَالَ: مَا أَدْرِي أَرَمَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسِتٍّ أَوْ بِسَبْعٍ.
ابومجلز کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس ؓ سے رمی جمرات کا حال دریافت کیا تو انہوں نے کہا: مجھے نہیں معلوم کہ رسول اللہ ﷺ نے چھ کنکریاں ماریں یا سات ١ ؎۔
Abu Mijlaz said: I asked Ibn Abbas about a thing concerning the throwing of stones at the jamrahs. He said: I do not know whether the Messenger of Allah ﷺ threw six or seven pebbles.
Notes · وضاحت
١ ؎: عبداللہ بن عباس ؓ کو معلوم نہ ہوسکا تھا، دوسرے صحابہ کرام ؓ کی روایات سے ہر جمرے کو سات کنکریاں مارنا ثابت ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الحج ٢٢٧ (٣٠٨٠)، ( تحفة الأشراف: ٦٥٤١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٣٧٢) (صحیح )