مناسک حج کا بیان

Sunan Abu Dawood · Chapter 6 · 323 hadiths · Page 11 of 17

1922Sunan Abu Dawood

عرفات سے واپسی کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: ثُمَّ أَرْدَفَ أُسَامَةَ فَجَعَلَ يُعْنِقُ عَلَى نَاقَتِهِ وَالنَّاسُ يَضْرِبُونَ الْإِبِلَ يَمِينًا وَشِمَالًا لَا يَلْتَفِتُ إِلَيْهِمْ، وَيَقُولُ: السَّكِينَةَ أَيُّهَا النَّاسُ، وَدَفَعَ حِينَ غَابَتِ الشَّمْسُ.

علی ؓ کہتے ہیں کہ پھر (ارکان عرفات سے فراغت کے بعد) آپ ﷺ نے اسامہ ؓ کو پیچھے سوار کرلیا اور درمیانی چال سے اونٹ ہانکنے لگے، لوگ دائیں اور بائیں اپنے اونٹوں کو مار رہے تھے آپ ان کی طرف متوجہ نہیں ہوتے تھے اور فرماتے تھے: لوگو! اطمینان سے چلو ، اور آپ ﷺ عرفات سے اس وقت لوٹے جب سورج ڈوب گیا۔

Narrated Ali ibn Abu Talib: The Prophet then took up Usamah behind him (on the camel), and drove the camel at a quick pace. The people were beating their camels right and left, but he did not pay attention to them; he was saying: O people, preserve a quiet demeanour. He proceeded (from Arafat) when the sun had set.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الحج ٥٥٤ (٨٨٥)، ( تحفة الأشراف: ١٠٢٢٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٧٢، ٧٥، ٧٦، ٨١) (حسن ) (مگر لا یلتفت کا لفظ صحیح نہیں ہے، صحیح لفظ یلتفت ہے جیسا کہ ترمذی میں ہے )
1923Sunan Abu Dawood

عرفات سے واپسی کا بیان

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ: سُئِلَ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ وَأَنَا جَالِسٌ، كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسِيرُ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ حِينَ دَفَعَ ؟ قَالَ: كَانَ يَسِيرُ الْعَنَقَ، فَإِذَا وَجَدَ فَجْوَةً نَصَّ، قَالَ هِشَامٌ: النَّصُّ فَوْقَ الْعَنَقِ.

عروہ کہتے ہیں کہ میں بیٹھا ہوا تھا کہ اسامہ بن زید ؓ سے سوال کیا گیا: رسول اللہ ﷺ حجۃ الوداع میں عرفات سے لوٹتے وقت کیسے چلتے تھے؟ فرمایا: تیز چال چلتے تھے، اور جب راستہ پا جاتے تو دوڑتے۔ ہشام کہتے ہیں: نص ، عنق سے بھی زیادہ تیز چال کو کہتے ہیں۔

Hisham bin Urwah reported on the authority of his father Usamah bin Zaid was asked when I was sitting along with him, how did the Messenger of Allah ﷺ travel during the Farewell Pilgrimage when he proceeded from ‘Arafah to Al Muzdalifah? He replied he was travelling at a quick pace and when he found an opening he urged on his Camel. Hisham said “Nass (running or urging on the Camel) is above ‘anaq (going at a quick pace). ”

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحج ٩٣ (١٦٦٦)، والجہاد ١٣٦ (٢٩٩٩)، والمغازي ٧٧ (٤٤١٣)، صحیح مسلم/الحج ٤٧ (١٢٨٦)، سنن النسائی/الحج ٢٠٥ (٣٠٢٦)، ٢١٤ (٣٠٥٤)، سنن ابن ماجہ/المناسک ٥٨ (٣٠١٧)، ( تحفة الأشراف: ١٠٤)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الحج ٥٧(١٧٦)، مسند احمد (٥/٢٠٥، ٢١٠)، سنن الدارمی/المناسک ٥١ (١٩٢٢) (صحیح )
1924Sunan Abu Dawood

عرفات سے واپسی کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أُسَامَةَ، قَالَ: كُنْتُ رِدْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا وَقَعَتِ الشَّمْسُ دَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

اسامہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے پیچھے سواری پر تھا جب سورج ڈوب گیا تو آپ ﷺ عرفات سے لوٹے۔

Usamah said: I rode behind the Prophet ﷺ When the sun set Messenger of Allah ﷺ returned from ‘Arafah (to Al Muzdalifah).

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ١١٧) (حسن صحیح )
1925Sunan Abu Dawood

عرفات سے واپسی کا بیان

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، أَنَّهُ سَمِعَهُ، يَقُولُ: دَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَةَ، حَتَّى إِذَا كَانَ بِالشِّعْبِ نَزَلَ فَبَالَ فَتَوَضَّأَ، وَلَمْ يُسْبِغْ الْوُضُوءَ، قُلْتُ لَهُ: الصَّلَاةُ، فَقَالَ: الصَّلَاةُ أَمَامَكَ فَرَكِبَ، فَلَمَّا جَاءَ الْمُزْدَلِفَةَ نَزَلَ فَتَوَضَّأَ فَأَسْبَغَ الْوُضُوءَ، ثُمَّ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ، ثُمَّ أَنَاخَ كُلُّ إِنْسَانٍ بَعِيرَهُ فِي مَنْزِلِهِ، ثُمَّ أُقِيمَتِ الْعِشَاءُ فَصَلَّاهَا وَلَمْ يُصَلِّ بَيْنَهُمَا شَيْئًا.

عبداللہ بن عباس ؓ کے غلام کریب کی روایت ہے کہ انہوں نے اسامہ بن زید ؓ کو کہتے سنا کہ رسول اللہ ﷺ عرفات سے لوٹے جب گھاٹی میں آئے تو اترے، پیشاب کیا اور وضو کیا لیکن بھرپور وضو نہیں کیا، میں نے آپ سے عرض کیا: نماز (کا وقت ہوگیا ہے) آپ ﷺ نے فرمایا: نماز آگے چل کر پڑھیں گے ، پھر آپ سوار ہوئے جب مزدلفہ پہنچے تو اترے وضو کیا اور اچھی طرح سے وضو کیا، پھر نماز کی تکبیر کہی گئی تو آپ ﷺ نے مغرب پڑھی پھر ہر شخص نے اپنے اونٹ کو اپنے قیام گاہ میں بٹھایا پھر عشاء کی اقامت ہوئی تو آپ نے عشاء پڑھی اور درمیان میں کچھ نہیں پڑھا۔

Usamah bin Zaid said: The Messenger of Allah ﷺ returned from ‘Arafah. When he came to the mountain path, he alighted, urinated and performed the ablution, but he did not perform it completely. I said to him Prayer? He said “The prayer will be offered ahead of you. ” He then mounted. When he reached Al Muzdalifah he alighted performed the ablution, performed it well. Thereafter iqamah for the prayer was called and he offered the sunset prayer. Then everyone made his Camel kneel down at his place. Iqamah was then called for night prayer and he offered it but he did not pray between them.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوضوء ٣٥ (١٣٩)، والحج ٩٥ (١٦٦٦)، صحیح مسلم/الحج ٤٧ (١٢٨٠)، سنن النسائی/ الحج ٢٠٦ (٣٠٢٧، ٣٠٢٨)، سنن الترمذی/الحج ٥٤ (٨٨٥)، ( تحفة الأشراف: ١١٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/١٩٩، ٢٠٨، ٢١٠) (صحیح )
1926Sunan Abu Dawood

مزدلفہ میں نماز کا بیان

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ بِالْمُزْدَلِفَةِ جَمِيعًا.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مغرب اور عشاء مزدلفہ میں ایک ساتھ پڑھی۔

Abdullah bin Umar (RA) said The Messenger of Allah ﷺ combined the sunset and the night prayers at Al Muzdalifah.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحج ٤٧ (٧٠٣)، سنن النسائی/ الصلاة ١٨ (٤٨٢)، ٢٠ (٤٨٤، ٤٨٥)، سنن النسائی/ الصلاة ١٨ (٤٨٢)، ٢٠ (٤٨٤، ٤٨٥)، المواقیت ٤٩ (٦٠٧)، والأذان ١٩ (٦٥٨)، والحج ٢٠٧ (٣٠٣٣)، (تحفة الأشراف: ٦٩١٤)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحج ٩٦ (١٦٧٤)، سنن الترمذی/الحج ٥٦ (٨٨٨)، سنن ابن ماجہ/المناسک ٦٠ (٣٠٢٠)، موطا امام مالک/الحج ٦٥ (١٩٦)، مسند احمد (٢/ ٣، ٦٢، ٧٩، ٨١) (صحیح )
1927Sunan Abu Dawood

مزدلفہ میں نماز کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ، وَقَالَ: بِإِقَامَةٍ إِقَامَةِ جَمْعٍ بَيْنَهُمَا، قَالَ أَحْمَدُ: قَالَ وَكِيعٌ: صَلَّى كُلَّ صَلَاةٍ بِإِقَامَةٍ.

اس سند سے بھی زہری سے اسی طریق سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے البتہ اس میں ہے کہ ایک ہی اقامت سے دونوں کو جمع کیا۔ احمد کہتے ہیں: وکیع نے کہا: ہر نماز الگ الگ اقامت سے پڑھی۔

The aforesaid tradition has been transmitted by Al Zuhri through a different chain of narrators. This version adds “Each prayer with an iqamah”. Ahmad reported on the authority of Waki “he offered each prayer with a single iqamah. ”

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/ الحج ٩٦ (١٦٧٣)، سنن النسائی/ الأذان ٢٠ (٦٦١)، الحج ٢٠٧ (٣٠٣١)، ( تحفة الأشراف: ٦٩٢٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٥٦، ١٥٧)، دی/ المناسک ٥٢ (١٩٢٦) (صحیح) (ہر صلاة کے لئے الگ الگ اقامت والی روایت ہی صحیح ہے، جیسا کہ جابر کی طویل حدیث میں گزرا )
1928Sunan Abu Dawood

مزدلفہ میں نماز کا بیان

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ. ح وحَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ الْمَعْنَى، أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ بِإِسْنَادِ ابْنِ حَنْبَلٍ، عَنْ حَمَّادٍ وَمَعْنَاهُ، قَالَ: بِإِقَامَةٍ وَاحِدَةٍ لِكُلِّ صَلَاةٍ، وَلَمْ يُنَادِ فِي الْأُولَى وَلَمْ يُسَبِّحْ عَلَى إِثْرِ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا، قَالَ مَخْلَدٌ: لَمْ يُنَادِ فِي وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا.

اس سند سے بھی زہری سے ابن حنبل کی سند سے انہوں نے حماد سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے اس میں ہے: ہر نماز کے لیے ایک الگ اقامت کہی اور پہلی نماز کے لیے اذان نہیں دی اور نہ ان دونوں میں سے کسی کے بعد نفل پڑھی۔ مخلد کہتے ہیں: ان دونوں میں سے کسی نماز کے لیے اذان نہیں دی۔

The aforesaid tradition has also been transmitted to the same effect by by Al Zuhri with a different chain of narrators beginning with Ibn Hanbal on the authority of Hammad. This version adds “With an iqamah for every prayer, he did not call adhan for the first prayer and he did not offer supererogatory prayer after any of them. The narrator Makhlad said “He did not call adhan for any of them. ”

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، ( تحفة الأشراف: ٦٩٢٣) (صحیح) (اذان والا جملہ صحیحین میں نہیں ہے، اور صحیح مسلم میں جابر کی روایت کے مطابق ایک اذان ثابت ہے، نیز ابن عمر ؓ کی آنے والی حدیث نمبر (١٩٣٣) میں اذان و اقامت کی تصریح ہے )
1929Sunan Abu Dawood

مزدلفہ میں نماز کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ الْمَغْرِبَ ثَلَاثًا وَالْعِشَاءَ رَكْعَتَيْنِ، فَقَالَ لَهُ مَالِكُ بْنُ الْحَارِثِ: مَا هَذِهِ الصَّلَاةُ ؟ قَالَ: صَلَّيْتُهُمَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْمَكَانِ بِإِقَامَةٍ وَاحِدَةٍ.

عبداللہ بن مالک کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر ؓ کے ساتھ مغرب تین رکعت اور عشاء دو رکعت پڑھی، تو مالک بن حارث نے ان سے کہا: یہ کون سی نماز ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ یہ دونوں اسی جگہ ایک تکبیر سے پڑھیں۔

Abdullah ibn Malik said: I offered three rakahs of the sunset prayer and two rakahs of the night prayer along with Ibn Umar. Thereupon Malik ibn al-Harith said: What is this prayer? He said: I offered these prayers along with the Messenger of Allah ﷺ in this place with a single iqamah.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/ الحج ٥٦ (٨٨٧)، ( تحفة الأشراف: ٧٢٨٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٨، ٣٣، ٧٨، ١٥٢) (صحیح ) (ہر صلاة کے لئے الگ الگ اقامت کی زیادتی کے ساتھ یہ روایت صحیح ہے )
1930Sunan Abu Dawood

مزدلفہ میں نماز کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ يَعْنِي ابْنَ يُوسُفَ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَا: صَلَّيْنَا مَعَ ابْنِ عُمَرَ بِالْمُزْدَلِفَةِ الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ بِإِقَامَةٍ وَاحِدَةٍ، فَذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ ابْنِ كَثِيرٍ.

سعید بن جبیر اور عبداللہ بن مالک سے روایت ہے وہ دونوں کہتے ہیں: ہم نے ابن عمر ؓ کے ساتھ مزدلفہ میں مغرب و عشاء ایک اقامت سے پڑھیں، پھر راوی نے ابن کثیر کی حدیث کے ہم معنی حدیث ذکر کی۔

Saeed bin Jubair and Abdullah bin Malik said “We offered the sunset and the night prayers at Al Muzdalifah along with ibn Umar with one iqamah. ” The narrator then narrated the rest of the tradition as reported by Ibn Kathir.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/ الحج ٤٧ (١٢٨٨)، سنن الترمذی/ الحج ٥٦ (٨٨٨)، سنن النسائی/ الحج ٢٠٧ (٣٠٣٣)، ( تحفة الأشراف: ٧٠٥٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٨٠، ٢/٢، ٣، ٣٣، ٥٩، ٦٢، ٧٩، ٨١) (صحیح) (اس میں قاضی شریک بن عبداللہ ضعیف ہیں، لیکن ان کی متابعت موجود ہے، اذان اور ہر صلاة میں اقامت کے اثبات کے ساتھ جیسے تفصیل گزری )
1931Sunan Abu Dawood

مزدلفہ میں نماز کا بیان

حَدَّثَنَا ابْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: أَفَضْنَا مَعَ ابْنِ عُمَرَ، فَلَمَّا بَلَغْنَا جَمْعًا صَلَّى بِنَا الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ بِإِقَامَةٍ وَاحِدَةٍ ثَلَاثًا وَاثْنَتَيْنِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ، قَالَ لَنَا ابْنُ عُمَرَ: هَكَذَا صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْمَكَانِ.

سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ ہم (عرفات سے) ابن عمر ؓ کے ساتھ لوٹے، جب ہم جمع یعنی مزدلفہ پہنچے تو آپ نے ہمیں مغرب اور عشاء، تین رکعت مغرب کی اور دو رکعت عشاء کی ایک اقامت ١ ؎ سے پڑھائی، جب ہم نماز سے فارغ ہوئے تو ابن عمر ؓ نے ہم سے کہا: اسی طرح ہمیں رسول اللہ ﷺ نے اس جگہ پڑھائی تھی۔

Saeed bin Jubair said “We returned along with Ibn Umar and when we reached Al Muzdalifah he led us in the sunset and night prayers with one iqamah and three rak’ahs of the sunset prayer and two rak’ahs of the night prayer. When he finished the prayer Ibn Umar said to us The Messenger of Allah ﷺ led us in prayer in this way at this place. ”

Notes · وضاحت
١ ؎: اس کے برخلاف جابر ؓ کی ایک روایت صحیح مسلم میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک اذان اور دو تکبیر سے دونوں نمازیں ادا کیں اور یہی راجح ہے، واللہ اعلم۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم (١٩٣٠)، ( تحفة الأشراف: ٧٠٥٢) (صحیح) (” ایک اقامت “ والی روایت شاذ ہے، ہر صلاة کے لئے الگ الگ اقامت ثابت ہے )
1932Sunan Abu Dawood

مزدلفہ میں نماز کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ، قَالَ: رَأَيْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ أَقَامَ بِجَمْعٍ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ ثَلَاثًا ثُمَّ صَلَّى الْعِشَاءَ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ قَالَ: شَهِدْتُ ابْنَ عُمَرَ صَنَعَ فِي هَذَا الْمَكَانِ مِثْلَ هَذَا، وَقَالَ: شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَنَعَ مِثْلَ هَذَا فِي هَذَا الْمَكَانِ.

سلمہ بن کہیل کہتے ہیں میں نے سعید بن جبیر کو دیکھا انہوں نے مزدلفہ میں اقامت کہی پھر مغرب تین رکعت پڑھی اور عشاء دو رکعت، پھر آپ نے کہا: میں نے دیکھا کہ ابن عمر ؓ نے اس مقام پر اسی طرح کیا اور کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو اس مقام پر اسی طرح کرتے دیکھا۔

Salamah bin Kuhail said “I saw Saeed bin Jubair he called the iqamah at Al Muzdalifah and offered three ra’kahs of the sunset prayer and two ra’kahs of the night prayer. He then said “I attended Ibn Umar. ” He did like this in this place and he (Ibn Umar) said “I attended the Messenger of Allah ﷺ ”. He did in a similar way in this place.

Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم (١٩٣٠)، ( تحفة الأشراف: ٧٠٥٢) (صحیح) (اس میں بھی ایک اقامت شاذ ہے )
1933Sunan Abu Dawood

مزدلفہ میں نماز کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، حَدَّثَنَا أَشْعَثُ بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَقْبَلْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ مِنْ عَرَفَاتٍ إِلَى الْمُزْدَلِفَةِ فَلَمْ يَكُنْ يَفْتُرُ مِنَ التَّكْبِيرِ وَالتَّهْلِيلِ حَتَّى أَتَيْنَا الْمُزْدَلِفَةَ، فَأَذَّنَ وَأَقَامَ، أَوْ أَمَرَ إِنْسَانًا فَأَذَّنَ وَأَقَامَ، فَصَلَّى بِنَا الْمَغْرِبَ ثَلَاثَ رَكَعَاتٍ، ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَيْنَا، فَقَالَ: الصَّلَاةُ، فَصَلَّى بِنَا الْعِشَاءَ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ دَعَا بِعَشَائِهِ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي عِلَاجُ بْنُ عَمْرٍو بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: فَقِيلَ لِابْنِ عُمَرَ فِي ذَلِكَ: فَقَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَكَذَا.

سلیم بن اسود ابوالشعثاء محاربی کہتے ہیں کہ میں ابن عمر ؓ کے ساتھ عرفات سے مزدلفہ آیا وہ تکبیر و تہلیل سے تھکتے نہ تھے، جب ہم مزدلفہ آگئے تو انہوں نے اذان کہی اور اقامت، یا ایک شخص کو حکم دیا کہ وہ اذان اور اقامت کہے، پھر ہمیں مغرب تین رکعت پڑھائی، پھر ہماری طرف متوجہ ہوئے اور کہا: عشاء پڑھ لو چناچہ ہمیں عشاء دو رکعت پڑھائی پھر کھانا منگوایا۔ اشعث کہتے ہیں: اور مجھے علاج بن عمرو نے میرے والد کی حدیث کے مثل حدیث کی خبر دی ہے جو انہوں نے ابن عمر ؓ سے روایت کی ہے وہ کہتے ہیں: ابن عمر ؓ سے لوگوں نے اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اسی طرح نماز پڑھی ہے۔

Ashath bin Sulaim reported on the authority of his father “I proceeded along with Ibn Umar from ‘Arafah towards Al Muzdalifah. ” He was not tiring of uttering “Allaah is most great” and “There is no god but Allaah”, till we came to Al Muzdalifah. He uttered the adhan and the iqamah or ordered some person who called the adhan and the iqamah. He then led us the three rak’ahs of the sunset prayers and turned to us and said (Another) prayer. Thereafter he led us in the two rak’ahs of the night prayer. Then he called for his dinner. He (Ashath) said ‘Ilaj bin Amr reported a tradition like that of my father on the authority of Ibn Umar. Ibn Umar was asked about it. He said “I prayed along with the Messenger of Allah ﷺ in a similar manner. ”

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ٧٠٩١) (صحیح) (اس میں دونوں نمازیں کے لئے اذان ثابت و محفوظ ہے، (١٩٢٨) کی حدیث میں اذان کا انکار ہے، جو شاذ و ضعیف ہے جیسا کہ گزرا، نیز اس روایت میں دوسری اقامت کی جگہ الصلاة کا لفظ ہے جو شاذ ہے، محفوظ دوسری مرتبہ اقامت کا لفظ ہے )
1934Sunan Abu Dawood

مزدلفہ میں نماز کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، أَنَّ عَبْدَ الْوَاحِدِ بْنَ زَيَادٍ، وَأَبَا عَوَانَةَ، وَأَبَا مُعَاوِيَةَ حَدَّثُوهُمْ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى صَلَاةً إِلَّا لِوَقْتِهَا، إِلَّا بِجَمْعٍ فَإِنَّهُ جَمَعَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِجَمْعٍ وَصَلَّى صَلَاةَ الصُّبْحِ مِنَ الْغَدِ قَبْلَ وَقْتِهَا.

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو ہمیشہ وقت پر ہی نماز پڑھتے دیکھا سوائے مزدلفہ کے، مزدلفہ میں آپ ﷺ نے مغرب اور عشاء کو جمع کیا اور دوسرے دن فجر وقت معمول سے کچھ پہلے پڑھی ١ ؎۔

Ibn Masud said “ I never saw the Messenger of Allah ﷺ observe a prayer out of its proper time except (two prayers) at Al Muzdalifah. He combined the sunset and night prayers at Al Muzdalifah and he offered the dawn prayer that day before its proper time.

Notes · وضاحت
١ ؎: ترجمہ سے اس حدیث کا صحیح معنی واضح ہوگیا، بعض لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ ” اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ آپ ﷺ ہمیشہ غلس کے بعد اسفار میں نماز پڑھتے تھے صرف اس دن غلس میں پڑھی “، لیکن دیگر صحیح روایات کی روشنی میں اس حدیث کا صحیح مطلب یہ ہے کہ: غلس ہی میں فوراً پڑھ لی، عام حالات کی طرح تھوڑا انتظار نہیں کیا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحج ٩٩ (١٦٨٢)، صحیح مسلم/الحج ٤٨ (١٢٨٩)، سنن النسائی/المواقیت ٤٩ (٦٠٦)، والحج ٢٠٧ (٣٠٣٠)، ٢١٠ (٣٠٤١)، ( تحفة الأشراف: ٩٣٨٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٣٨٤، ٤٢٦، ٤٣٤) (صحیح )
1935Sunan Abu Dawood

مزدلفہ میں نماز کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: فَلَمَّا أَصْبَحَ، يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَوَقَفَ عَلَى قُزَحَ، فَقَالَ: هَذَا قُزَحُ وَهُوَ الْمَوْقِفُ وَ جَمْعٌ كُلُّهَا مَوْقِفٌ، وَنَحَرْتُ هَا هُنَا وَ مِنًى كُلُّهَا مَنْحَرٌ، فَانْحَرُوا فِي رِحَالِكُمْ.

علی ؓ کہتے ہیں کہ (مزدلفہ میں) جب آپ نے یعنی نبی اکرم ﷺ نے صبح کی تو آپ قزح میں کھڑے ہوئے اور فرمایا: یہ قزح ہے اور یہ موقف (ٹھہرنے کی جگہ) ہے، اور مزدلفہ پورا موقف (ٹھہرنے کی جگہ) ہے، میں نے یہاں نحر کیا ہے اور منیٰ پورا نحر کرنے کی جگہ ہے لہٰذا تم اپنے اپنے ٹھکانوں میں نحر کرلو ۔

Narrated Ali ibn Abu Talib: When the morning came, the Prophet ﷺ stood at the mountain Quzah and said: This is Quzah, and this is a place of stationing, and the whole of al-Muzdalifah is a place of stationing. I sacrificed the animals here, and the whole of Mina is a place of sacrifice. So sacrifice in your dwellings.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الحج ٥٤ (٨٨٥)، سنن ابن ماجہ/المناسک ٥٥ (٣٠١٠)، ( تحفة الأشراف: ١٠٢٢٩) (حسن صحیح )
1936Sunan Abu Dawood

مزدلفہ میں نماز کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: وَقَفْتُ هَا هُنَا بِعَرَفَةَ وَ عَرَفَةُ كُلُّهَا مَوْقِفٌ، وَوَقَفْتُ هَا هُنَا بِجَمْعٍ وَ جَمْعٌ كُلُّهَا مَوْقِفٌ، وَنَحَرْتُ هَا هُنَا وَ مِنًى كُلُّهَا مَنْحَرٌ، فَانْحَرُوا فِي رِحَالِكُمْ.

جابر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میں عرفات میں اس جگہ ٹھہرا ہوں لیکن عرفات پورا جائے وقوف ہے، میں مزدلفہ میں یہاں ٹھہرا ہوں لیکن مزدلفہ پورا جائے وقوف ہے، میں نے یہاں پر نحر کیا اور منیٰ پورا جائے نحر ہے لہٰذا تم اپنے ٹھکانوں میں نحر کرو ۔

Jabir reported the Prophet ﷺ as saying “I halted here in ‘Arafah and the whole of ‘Arafah is a place of halting. I halted here in Al Muzdalifah and the whole of Al Muzdalifah is a place of halting. I sacrificed the animals here and the whole of Mina is a place of sacrifice. So sacrifice in your dwellings.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/ الحج ١٩ (١٢١٨)، سنن النسائی/ الحج ٥١ (٢٧٤١)، ( تحفة الأشراف: ٢٥٩٦)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/المناسک ٥٠ (١٩٢١) (صحیح )
1937Sunan Abu Dawood

مزدلفہ میں نماز کا بیان

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: كُلُّ عَرَفَةَ مَوْقِفٌ وَكُلُّ مِنًى مَنْحَرٌ وَكُلُّ الْمُزْدَلِفَةِ مَوْقِفٌ وَكُلُّ فِجَاجِ مَكَّةَ طَرِيقٌ وَمَنْحَرٌ.

جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: پورا عرفات جائے وقوف ہے پورا منیٰ جائے نحر ہے اور پورا مزدلفہ جائے وقوف ہے مکہ کے تمام راستے چلنے کی جگہیں ہیں اور ہر جگہ نحر درست ہے ۔

Jabir bin Abdallah reported the Messenger of Allah ﷺ as saying “The whole of ‘Arafah is a place of halting, the whole of Mina is a place of sacrifice, the whole of Al Muzdalifah is a place of halting and all the passes of Makkah are a thoroughfare and a place of sacrifice.

Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/ المناسک ٧٣ (٣٠٤٨)، ( تحفة الأشراف: ٢٣٩٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣٢٦) (حسن صحیح )
1938Sunan Abu Dawood

مزدلفہ میں نماز کا بیان

حَدَّثَنَا ابْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: كَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ لَا يُفِيضُونَ حَتَّى يَرَوْا الشَّمْسَ عَلَى ثَبِيرٍ، فَخَالَفَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَفَعَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ.

عمر بن خطاب ؓ کہتے ہیں کہ جاہلیت کے لوگ مزدلفہ سے نہیں لوٹتے تھے جب تک کہ سورج کو ثبیر ١ ؎ پر نہ دیکھ لیتے، چناچہ نبی اکرم ﷺ نے ان کی مخالفت کی اور سورج نکلنے سے پہلے ہی (مزدلفہ سے) چل پڑے۔

Narrated Umar ibn al-Khattab (RA) : The Arabs in the pre-Islamic period did not return from al-Muzdalifah till they saw sunlight at the mountain Thabir. The Prophet ﷺ opposed them and returned before the sunrise.

Notes · وضاحت
١ ؎: ” ثبير “: مزدلفہ میں ایک مشہور پہاڑی کا نام ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحج ١٠٠ (١٦٨٤)، ومناقب الأنصار ٢٦ (٣٨٣٨)، سنن الترمذی/الحج ٦٠ (٨٩٦)، سنن النسائی/الحج ٢١٣ (٣٠٥٠)، سنن ابن ماجہ/المناسک ٦١ (٣٠٢٢)، ( تحفة الأشراف: ١٠٦١٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/١٤، ٢٩، ٣٩، ٤٢، ٥٠، ٥٢)، سنن الدارمی/المناسک ٥٥ (١٩٣٢) (صحیح )
1939Sunan Abu Dawood

مزدلفہ سے جلدی لوٹنا

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: أَنَا مِمَّنْ قَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْمُزْدَلِفَةِ فِي ضَعْفَةِ أَهْلِهِ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ میں بھی ان لوگوں میں سے تھا جن کو رسول اللہ ﷺ نے اپنے گھر کے لوگوں میں سے کمزور جان کر مزدلفہ کی رات کو پہلے بھیج دیا تھا ١ ؎۔

Ibn Abbas said I was among the weak members of his family whom the Messenger of Allah ﷺ sent ahead on the night of Al Muzdalifah.

Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے معلوم ہوا کہ عورتوں اور بچوں کو مزدلفہ سے رات ہی میں منیٰ روانہ کردینا جائز ہے، تاکہ وہ بھیڑ بھاڑ سے پہلے کنکریاں مار کر فارغ ہوجائیں، لیکن سورج نکلنے سے پہلے کنکریاں نہ ماریں، جیسا کہ اگلی حدیث میں ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحج ٩٨ (١٦٧٨)، وجزاء الصید ٢٥ (١٨٥٦)، صحیح مسلم/الحج ٤٩ (١٢٩٣)، سنن النسائی/الحج ٢٠٨ (٣٠٣٢)، (تحفة الأشراف: ٥٨٦٤)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الحج ٥٨ (٢٩٢، ٨٩٣)، سنن ابن ماجہ/المناسک ٦٢ (٣٠٢٥)، مسند احمد (١/٢٢١، ٢٢٢، ٢٤٥، ٢٧٢، ٣٣٤، ٣٤٦) (صحیح )
1940Sunan Abu Dawood

مزدلفہ سے جلدی لوٹنا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ، عَنْ الْحَسَنِ الْعُرَنِيِّ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَدَّمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْمُزْدَلِفَةِ أُغَيْلِمَةَ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عَلَى حُمُرَاتٍ فَجَعَلَ يَلْطَخُ أَفْخَاذَنَا، وَيَقُولُ: أُبَيْنِيَّ لَا تَرْمُوا الْجَمْرَةَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ. قَالَ أَبُو دَاوُد: اللَّطْخُ: الضَّرْبُ اللَّيِّنُ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے عبدالمطلب کی اولاد میں سے ہم چھوٹے بچوں کو گدھوں پر سوار کر کے مزدلفہ کی رات پہلے ہی روانہ کردیا تھا، آپ ﷺ ہماری رانوں پر دھیرے سے مارتے تھے اور فرماتے تھے: اے میرے چھوٹے بچو! جمرہ پر کنکریاں نہ مارنا جب تک کہ آفتاب طلوع نہ ہوجائے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: لطح کے معنی آہستہ مارنے کے ہیں۔

Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : The Messenger of Allah ﷺ sent ahead some boys from Banu Abdul Muttalib on donkeys on the night of al-Muzdalifah. He began to pat our thighs (out of love) and said: O young! boys do not throw pebbles at the jamrah till the sun rises. Abu Dawud said: The Arabic word al-lath means to strike softly.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الحج ٢٢٢ (٣٠٦٦)، سنن ابن ماجہ/ المناسک ٦٢ (٣٠٢٥)، ( تحفة الأشراف: ٥٣٩٦)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الحج ٥٨ (٨٩٣)، مسند احمد (١/٢٣٤، ٣١١، ٣٤٣) (صحیح )
1941Sunan Abu Dawood

مزدلفہ سے جلدی لوٹنا

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ عُقْبَةَ، حَدَّثَنَا حَمْزَةُ الزَّيَّاتُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَدِّمُ ضُعَفَاءَ أَهْلِهِ بِغَلَسٍ وَيَأْمُرُهُمْ يَعْنِي لَا يَرْمُونَ الْجَمْرَةَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنے گھر کے کمزور اور ضعیف لوگوں کو اندھیرے ہی میں منیٰ روانہ کردیتے تھے اور انہیں حکم دیتے تھے کہ کنکریاں نہ مارنا جب تک کہ آفتاب نہ نکل آئے۔

Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : The Messenger of Allah ﷺ used to send ahead the weak members of his family in darkness (to Mina), and command them not to throw pebbles at jamrahs until the sun rose.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/ الحج ٢٢٢ (٣٠٦٧)، ( تحفة الأشراف: ٥٨٨٨) (صحیح )